کلاݰ برادری کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ جب بھی اس برادری کا کوئی فرد اپنا روایتی عقیدہ یا ثقافت چھوڑ کر اسلام قبول کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہی وہ اپنے لباس، زبان، ادب اور ثقافتی روایات کو بھی بھلانے کی کوشش کرتا ہے۔ یوں وہ ایک نئی شناخت کی…
توروالی سمیت داردی زبانوں میں ”موسیقی“ اور ”شاعری“ ان زبانوں میں”شاعری“ نہیں ہوتی، ”نغمے“ ہوتے ہیں۔ ان زبانوں میں ”موسیقی/میوزک“ کے لئے کوئی لفظ نہیں ہوتا ہے۔ یہاں ”موسیقیت“ ہوتی ہے اور اس کا تعلق رسم یا ثقافتی تقریب سے ہوتا ہے۔ بیشتر داردی…
پشا ئی کون ہیں اور داردستان کیا ہے؟ تحریر: قاری عبدالسلام درہ نوری سرپرست پشائی ادبی جرگہ افغانستان(پرشور) پشتو سے ترجمہ: جاویداقبال توروالی جیسا کہ (21) فروری مادری زبانوں کا دن ہے جسے دنیا بھر میں منایا جاتا ہے تو اسی مناسبت سے آج…
مِٹو/فھنس - گلگت بلتستان کے دیومالا کا ایک پر اسرار کردار تحریر۔ عزیز علی داد ترجمہ ۔ اشفاق احمد ایڈوکیٹ گلگت بلتستان کی دیومالائی کونیات جہاں بہت ساری خوبصورت، پاک و پاکیزہ اور دوستانہ مخلوقات سے بھری پڑی ہے، وہاں وہ بری مخلوقات اور…
البتہ یہ مسلمہ حقیقت ہے توروالی ہند آریا لوگ ہیں اور گندھارا تہذیب سے ان کا بہت گہرا تعلق ہے۔ بالکل اگر ہم یوں کہیں کہ گندھارا تہذیب کے اصل والی توروالی ہی تھے تو یہ غلط نہ ہوگا۔
زبانوں کے خاندان اور نام : توروالی زبان و لوگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر: زبیرتوروالی جس طرح حیاتیات (biology) میں حیوانات اور نباتات کو چند مشترک خصوصیات میں یکسانیت کی بنا پر مختلف خاندانوں مثلاً فقاریہ، غیر فقاریہ، پھلدار، غیر…
داردستان اور اسکا لسانی گلدستہ ہندوستان کی برطانوی حکومت سے منسلک کئی پڑھے لکھے اہلکاروں اور محققین نے پہاڑی سلسلوں ہندو کش، قراقرم اور مغربی ہمالیہ پر مشتمل وادیوں اور آبادیوں کو” داردستان“ کا نام دیا ہے۔ اس علاقے کو داردستان اس میں مقیم…
۔۔اخری حصّہ؛ گزشتہ سے پیوستہ جولائی 2020ء کے اخری عشرے میں مجھے سوات کے علاقے ”توروال” کے ایک مسحورکن وادی میں گھومنے پھرنے کا موقع ملا جب آفتاب بھائی اور زبیر توروالی صاحب نے بیلہ ڈھان سے ہوتے ہوئے گیدر جھیل، گیل کمل پاس) کیدام پاس( اور سر…
داردستان واقعی پریستان ہے! حصّہ اوّل شمالی پاکستان بہت خوبصورت ہے۔ ہمالیہ، قراقرم، ہندوکش اور پامیرکے برف پوش پہاڑوں کے دامن میں واقع شمال کی ان گمنام لیکن خوبصورت وادیوں کو اگر جنت بہ زمیں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہاں ایک طرف اگر بلند و…
کوہستانِ دیر میں پشتون دراندازی 1804ء میں خان غلام خان کی وفات کے بعد خان ظفر خان اپنے والد کے تخت پر بیٹھ گئے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ”داروڑہ خان کس“ سے اوپر کے علاقوں پر غیر مسلم داردی (کوہستانی) حکمران تھے۔ گمنام ریاست کے جلد دوم کے…