داردستان واقعی پریستان ہے! حصّہ اوّل

0 470

داردستان واقعی پریستان ہے! حصّہ اوّل

شمالی پاکستان بہت خوبصورت ہے۔ ہمالیہ، قراقرم، ہندوکش اور پامیرکے برف پوش پہاڑوں کے دامن میں واقع شمال کی ان گمنام لیکن خوبصورت وادیوں کو اگر جنت بہ زمیں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہاں ایک طرف اگر بلند و بالا برف پوش چوٹیاں ہیں تو دوسری طرف دیودار، چیڑ اور کانڈل، مختلف قسم کا بلوط وغیرہ کے گھنے جنگل، ہرے بھرے سرسبز وسیع میدان، بلندی سے گرتے ابشار اور ٹھنڈے میٹھے پانی کے ابلتے چشمے الغرض یہ قدرت کے صناعی کا بہترین شاہکار ہے۔

 سعد اللہ جان برق صاحب اپنے کتاب ” پشتون اور نسلیات ہندوکش “ میں ہندوکش کے بارے میں بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ  ” دنیا کے تین بڑے مذاہب کے نوشتوں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ جنت اسی سرزمین پر واقع تھی جس کے اثار اب بھی ان سلسلہ ہائے کوہ میں بچے ہوئے علاقوں تبت، نیپال، بھوٹان، لداخ، کشمیر،سوات اور چترال میں پائے جاتے ہیں“۔ آگے چل کر موصوف لکھتے ہیں کہ ” جب ہم سارے مذاہب کے عبادت گاہوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ان سب میں کسی نہ کسی طرح پہاڑوں کی شباہت دکھائی دیتی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے قدیم مثال سومیریوں کی عبادت گاہ کی ہے اس کی شکل ہو بہو ایک پہاڑ کی طرح ہوتی تھی۔ ایک بہت بڑے رقبے میں اس کی بنیاد رکھی جاتی تھی اور پھر آہستہ آہستہ جتنی اونچی ہوتی رہتی تھی، اتنی ہی اطراف سے سمٹتی جاتی تھی آخر میں ایک مخروطی مینار کی شکل اختیار کر لیتی جسے زگورت یا زغورت کہا جاتا ہے۔ لفظ زگورت کے معنی علماء نے اونچے پہاڑوں کے بتائے ہیں “ ۔ ایک دوسری جگہ موصوف ہندوکش اور جنت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ” یہ پہاڑ کوئی اور نہیں بلکہ وہی ”کاس“

کا پہاڑ ہے جسے آج ہندوکش کہا جاتا ہے۔ یہ انسانی نسل کی اولین جنت تھی۔ جہاں سب کچھ وافر تھا“۔ یعنی سعد اللہ جان برق صاحب کے نزدیک جس جنت کے بارے میں مذاہب عالم ہمیں بتاتے ہیں وہ یہی ہندوکش کے علاقے ہیں۔ آج اگر چہ ہم ان علاقوں لداخ، کشمیر، گلگت، انڈس کوہستان، سوات، دیر، چترال اور نورستان و کنڑ وغیرہ کے مختلف ناموں سے جانتے ہیں لیکن زمانہ قدیم میں اس پورے علاقے کو داردستان اور بلورستان کہا جاتا تھا۔ اس پورے علاقے میں لداخ اور گلگت سے لے کر چترال، دیر، سوات، انڈس کوہستان اور نورستان کنڑ تک دار النسل لوگ آباد ہیں۔

سوات کوہستان سے تعلق رکھنے والے مشہور  محقق زبیر توروالی صاحب اپنے ایک مقالے  The ignored Dardic culture of Swat میں داردستان کے بارے میں لکھتے ہیں۔

The Greek historian Herodotus of the fifth century BC used the term “Dadikai” for people now known as Dards or Dardic. He placed the land between Kashmir and Afghanistan as Darada. “Darada” is the Sanskrit term used for the inhabitants of the region. In Pakistan the region is rarely called Dardistan or the people Dard, a Persian word derived from the Sanskrit “darada.”

آگے چل کر موصوف سوات اور سوات کے دارد النسل لوگوں کے بارے میں لکھتے ہیں

Today the idyllic valley, Swat, is known all over the world as an Afghan or Pushtun Yousafzai society but fewer know the Dardic origin of Swat.  Archeologists have since long focused their research on the popular Buddhist civilization. Research has usually ignored the Dardic origin of Swat, however, the current Italian Archeological Mission based in Swat has recently pointed towards its Dardic origin. They base their findings on the newly excavated cemeteries in the down valley of Swat, especially, the Gandhara Grave Culture. In main Swat many people think this a totally new discovery of an ‘extinct’ community which was known as Dard or Darada. They probably don’t know that descendants of this unique extinct community still live in upper Swat—in the Kohistan of Swat—with the names of Torwali and Gawri, the two living Dardic communities.

پروفیسر محمد نواز طائر اپنی تصنیف ” نا لیدلے سوات“ میں لکھتے ہیں۔

” داردی قوم زمانہ قدیم میں ملاکنڈ سے اوپر سوات، دیر اور کوہستان میں دور دور تک مقیم تھی۔ انہوں نے اپنے وطن کو ” داردیال“ کا نام رکھا تھا“۔وہ دردیال سوات کے علاقے شاہ ڈھیری اور ٹال کے قریب ایک خوبصورت علاقے کو بتاتے ہیں۔

ڈاکٹر گستاولی بان اپنی کتاب ”تمدن ہند“ میں رقم طراز ہیں ” وہ خطہ جس میں سندھ کی ندی اباسین شمال سے جنوب کی طرف دیو میر )  نانگا پربت کا قدیم نام دیو میر ہے(  سے گھومتی ہوئی گزرتی ہے داردستان کہلاتی ہے“۔

 راج ترنگنی کے مصنف پنڈت کلہن نے شمال کے علاقوں کو دارد دیسا اور یہاں رہنے والوں کو دارد کہا ہے۔

ڈاکٹر لٹنر اپنی تصنیف داردستان میں لکھتے ہیں ” شناکی کے پہاڑی علاقوں کے ساتھ چلاس، استور، گلگت،داریل،ہنزہ، نگر یاسین، چترال اور کافرستان کے علاقے داردستان میں شامل ہیں“۔ یاد رہے 1804ء عیسوی تک دیر کافرستان کا ایک اہم علاقہ تھا۔

مورخین کے مطابق قدیم دآرد قبائل کے جغرآفیائی علاقوں ) داردستان( میں تین علمی یا مذہبی مرآکز قائم تھے جن میں آدیانہ، داریل اور شاردآ کے مقامات شامل تھے جہاں دور دور سے طلباء مذہبی اور علمی تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔ داریل اس وقت دارد تہذیب کا مرکز تھا۔

مشہور محقق اور شینا زبان کے ماہر رازول کوہستانی اپنے کتاب ” شینا کوہستانی اور قدیم، وسطی، جدید سنسکرت کا لسانی و لغوی اشتراک“ میں داردستان اور داردی زبانوں کے بارے میں لکھتے ہیں

”داردی لسانی گروہ جو موجودہ سلسلہ ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش میں پھیلا ہوا ہےقدیم دور میں یہ لسانی گروہ ایک بڑے اور وسیع جغرافیائی رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔ اس کے لسانی اثرات ایک طرف لداخ دوسری طرف گندھارا سے وزیرستان، تیسری طرف پنجاب و سندھ اور چھوتی طرف دریائے چناب سے نیپال کے زیر ہمالیائی سسلسلے تک پھیلا  ہوا تھا“۔

اپنی ایک دوسری تصنیف ” شمالی پاکستان کے  آ ثار قدیم ۔ آیک مختصر جائزہ“ میں موصوف داردستان اور یہاں کے لوگوں کے بارے میں لکھتے ہیں۔

” شمالی پاکستان کی چٹانی تحریروں اور کتبات سے اب تک بعض دارد حکمرانوں کے نام مختلف مقامات کے چٹانوں پر  دریافت ہوئے ہیں۔ان میں گلگت، چلاس، تھلپن داس اور شتیال کے مقامات شامل ہیں۔ تھلپن داس کے ایک براہمی رسم الخط میں لکھا گیا نام جسے  Hinüber نے شاندار ویسرواناسینا، دشمنوں کے ماتحت، زمین کے عظیم بادشاہ سے ترجمہ کیا ہے اور اس بادشاہ کو داردوں کا دوسرا سب سے قدیم بادشاہ مانا گیا ہے۔ دوسرے درد بادشاہ کا نام چلاس کی ایک چٹان پر  براہمی رسم الخط میں پایا گیا ہے جسے احمد حسن دانی ) 1983( اور Hinüber )1989( نے  داران مہاراجہ ” دلوں کے عظیم بادشاہ“ پڑھا ہے۔  خروشتی رسم الخط میں لکھا گیا آیک آور دارد بادشاہ کا نام ”درددرایا“ کا کتبہ گلگت کے عالم پل کے پاس دریافت ہوا تھا۔Fussman )1978( نے اس کے معنی”بادشاہوں کا بادشاہ“ قرار دیا تھا۔ ان کے علاوہ شتیال کے مقام پر ایک ” کھوجا“ بادشاہ اور اس کی مذہب پرست بیٹی کا ذکر بھی پایا جاتا ہے۔ کھوجہ نام کا یہ قبیلہ علاقہ  کولئی انڈس کوہستان میں اب بھی موجود ہے“ ۔

تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ یہاں دوسروں پر بزور طاقت اپنی شناخت اور مذہب ٹھونسے کا سلسلہ دسویں اور پھر شدت سے سولہویں صدی میں پشتونوں کے آنے کے بعد شروع ہوا۔

گیارویں عیسوی صدی کے اوائل میں جب محمود غزنوی کے لشکر نے یہاں حملہ کیا تو جن لوگوں نے اسلام قبول کیا وہ میدانی علاقوں میں رہ گئے البتہ جنہوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا اور اپنے قدیم مذہب پر عمل کرتے رہیں انہوں نے شمال کے برف پوش درّوں میں پناہ لی۔ محمود غزنوی کے لشکر کے جانے کےبعد میدانی علاقوں میں رہنے والے قدیم لوگوں میں سے زیادہ تر نے نئے مذہب کے بجائے اپنے قدیم مذاہب پر دوبارہ عمل شروع کیا اور یہ سلسلہ سولہویں صدی میں یہاں پشتون نمودار ہوئے۔

 محمود غزنوی کے لشکر نے جب سوات اور دیر پر حملہ کیا تو اس وقت آج کے گاؤریوں اور توروالیوں کے آباء و اجداد سوات اور دیر کے میدانی علاقوں میں رہتے تھے۔ سوات و دیر پر راجہ گرا کی حکومت تھی۔ محققین کے مطابق مقامی لوگوں نے  محمود کے لشکر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن  شکست کھا گئے۔ جن لوگوں نے اسلام قبول کیا وہ یہی رہنے لگے۔ جنہوں نے انکار کیا وہ شمال کے پہاڑوں کے طرف گئے۔ محققین کے بقول مسلم لشکر سےشکست کھانے کے بعد راجہ گرا اپنے اہل و عیال کے ساتھ بالائی پنجکوڑہ کے طرف جاتے ہوئے راستے میں مر گیا البتہ اس کا ایک بیٹا ”بیر“دیر کوہستان پہنچنے میں کامیاب ہوا اور وہاں بریکوٹ کے نام سے ایک گاؤں اآباد کیا۔ بیر کی نسل آج دیر  کوہستان کے گاؤں بریکوٹ، کینو لام اور سوات کوہستان کے گاؤں کالام، مٹلتان اور اتروڑ میں آباد ہیں۔

 پندرویں عیسوی صدی میں جب کابل کے حکمران الغ بیگ نے یوسفزیوں کو کابل سے نکالا تو انہوں نے وادی پشاور کا رخ کیا۔ پشاور کے میدانی علاقوں پر اس وقت میر ہندا آرزو کی حکومت تھی جن کا تعلق دھگان قوم کے ذیلی شاخ دودال سے تھا۔ یوسفزیوں نے دلہ زاک کے ساتھ مل کر میر ہندا پر حملہ کرکے اسے شکست دی اور ہشت نگر کے علاقے پر قبضہ کیا۔  ہشت نگر کے میدانی علاقے میں کچھ عرصہ رہنے کےبعد یوسفزیوں نے سوات اور دیر کے خوبصورت علاقوں پر نظریں جمائیں۔ اس وقت اس خوبصورت علاقے پر سلطان اویس کی حکومت تھی۔ سلطان اویس قوم سے گبر تھا۔ گبر نسلاً تاجک تھے اور محمود غزنوی کے سوات پر حملے کے وقت یہاں آئے تھے۔ سولہویں صدی میں جب یوسفزیوں نے سوات اور دیر کے میدانی علاقوں پر حملے کیے تو اس وقت یہاں مختلف النوع ثقافتی، نسلی اور مذہبی پس منظر کے لوگ ایک ساتھ رہتے تھے۔ یوسفزی کے حملوں کے بعد قدیم لوگ اس بات پر مجبور ہوئے کہ وہ میدانی علاقے چھوڑ کر شمال کے دروں میں رہنے والے اپنے بھائیوں کے پاس پناہ لیں جو محمود کے لشکر کے حملے کے وقت شمال کی طرف  گئے تھے۔ مورّخین کے مطابق 1511ء عیسوی کے آس پاس یوسفزیوں نے سوات اور دیر کے میدانی علاقوں پر حملہ کرکے قدیم لوگوں کو شمال کی طرف دھکیلا۔

 یوسفزئی چونکہ مسلمان تھے اور قدیم لوگ اپنے آبائی مذاہب کے پیروکار اس لئے انہوں نے اس وقت شمال کو جہاں اس خطے کے سب سے قدیم لوگوں نے پناہ لی تھی کافرستان کا نام دیا۔ سوات اور دیر کے میدانی علاقوں پر قبضے کے بعد یوسفزیوں  نے اسے آپس میں تقسیم کیا۔ 1523ء عیسوی میں شیخ ملی تقسیم کے مطابق سوات اور سمہ خواجو بن آکو بن یوسف کے بیٹوں علاوالدین، شمو، نیکبی اور شمے کو حصے میں ایا جبکہ دیر  میں 1643ء عیسوی کے قریب آخون الیاس نے اپنی مذہبی اثر رسوخ سے ملیزی قوم کو جمع کرکے حکومت کی۔ سوات اور دیر کے پہاڑی علاقے اس وقت پشتون تسلط سے آزاد تھے۔ دیر دسویں صدی  سے پہلے داردستان/ بلورستان کا حصہ تھا۔ دسویں صدی سے لے کر 1804ء عیسوی تک دیر کافرستان کا ایک اہم  حصہ تھا۔ یہاں اس وقت داردیک جنہیں عام طور پر کوہستانی بھی کہا جاتا ہے قوم کی حکومت تھی۔  1804ء عیسوی میں یوسفزیوں نے دیر خاص پر حملہ کرکے اسے کافرستان سے الگ کیا اور اپنی خانی کی داغ بیل ڈالی۔ دیر خاص میں رہنے والے قدیم داردیک لوگ دیر کوہستان سمیت آس پاس  کے پہاڑی علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ 1895ء میں جب برّ صغیر پر انگریزوں کی حکومت تھی تو انہوں نے ملاکنڈ ایجنسی کا قیام عمل میں لا کر ملاکنڈ کو ہیڈکوارٹر کی حیثیت دے دی اور پولیٹیکل ایجنٹ کو ریاست دیر، سوات اور چترال کے حکمرانوں پر حاکم اعلی کی حیثیت میں مقرر کیا۔ 12 دسمبر 1897ء کو چکدرہ میں سابق خان محمد شریف انگریز سرکار نے دیر کے پہلے نواب کا خطاب دیا اور ساتھ میں چار سو رائفلوں اور دس ہزار سالانہ وظیفہ بھی مقرر کرکے دیر کو ریاست کی حیثیت دی۔ 1947ء میں برّ صغیر کی تقسیم کے بعد جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو دیر، سوات اور چترال کی ریاستوں نے پاکستان کو مانا اور ان کی ریاستی حیثیت 1969ء تک قائم رہی۔1969ء میں یہ ریاستیں پاکستان میں ضم کردی گئیں۔ 13 اگست  1996 کو مزید دو حصوں لوئر دیر اور اپر دیر ضلعوں میں تقسیم کیا۔

1917ء میں میاں گل عبدالودود کے اقتدار سنبھالنےسے پہلے سوات میں ہر طرف افراتفری مچی ہوئی تھی۔ 3 مئی 1926 کو انگریز سرکار نے رسمی طور پر میاں گل عبدالودود کو سوات کا حکمران اور سوات کو ریاست تسلیم کیا۔1947 میں ریاست سوات کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہوا اور 28 جولائی 1969 کو ریاست پاکستان نے سوات کی ریاستی حیثیت ختم کرکے اسے بھی دیر کے طرح پاکستان میں ضم کرکے ضلع کا درجہ دیا۔

پندرہویں صدی میں جب پشتونوں نے زیریں دیر اور سوات پر حملہ کرکے قبضہ کرکے قدیمی لوگوں کو شمال کے طرف دھکیلا اس وقت شمال کے یہ خوبصورت علاقے کسی سرد جہنم سے کم نہیں تھے۔ سردی اتنی تھی کی مکئی کی فصل نہیں پکتی تھی اس لئے مقامی لوگ لو اور بھرو (جو اور مکئی) نام کی دو فصل کاشت کیا کرتے تھے جن کو سردیوں میں لوبیا اور دودھ سے بنی چیزوں کے ساتھ کھایا جاتا تھا۔ دیر کوہستان کے مقامی داردیک قبائل کے مطالعے سے  پتہ چلتا ہے کہ اس وقت یہاں آباد داردیک قبائل میں سے زیادہ تر آج کے کیلاش مذہب سے ملتے جلتے کسی مذہب کے پیروکار تھے اور ان کے قدیمی مذہب میں اونچے برف پوش پہاڑوں اور ان میں رہنے والی پریوں اور دیوں وغیرہ کو اہم مقام حاصل تھا۔

شاید ہی دیر اور سوات کے بہت کم پہاڑ اور جھیلیں ایسی ہوگی جس سے کوئی کہانی منسوب نہ ہو۔ بچپن میں بزرگوں سے گھان سر اور مقتول عاشق کی کہانی سنی تھی۔ گھان سر کو  آج کل کٹورہ جھیل بھی کہتے ہیں۔ بچپن میں کئی بار یہ کہانی سنی تھی اس لئے بڑے ہوئے تو کئی بار یہاں گئے لیکن نہ وہ پری ملی جس نے مقتول عاشق کی مدد کی تھی اور نہ اس مقتول عاشق معشوق کا پتہ چل سکا۔ تلاش بسیار کے بعد اتنا پتہ چلا کہ مقتول عاشق کا تعلق فلاں قبیلے  تھا  لیکن اب اس بارے میں بات کرنے کا مطلب پورے قبیلے سے دشمنی مول لینا ہے۔ کیونکہ جس وقت کٹورہ جھیل  کے نیلگو پانی کے کنارے پیار محبت کی یہ خوبصورت داستان تخلیق ہو رہی تھی اس وقت یہاں دیر کوہستان میں پیار جیسا خوبصورت جذبہ ممنوع نہیں تھا۔ البتہ آج کل یہاں کسی سے پیار کرنے کا مطلب خود کو غیرت دیوتا کے سامنے قربان کرنے کے برابر ہے۔ بچپن میں جو کچھ بزرگوں سے ان پہاڑوں، جھیلوں اور سرسبز دروں کے بارے میں سنا بڑے ہوئے تو اس کی تلاش شروع کی وہ الگ بات ہے کہ ہم نے نہ تو آج تک کسی پری کو دیکھا ہے اور نہ کبھی کسی دیو وغیرہ سے ملاقات ہوئی ہے البتہ جھیلیں، پہاڑ اور آبشار اسی طرح نظر آئے جیسے بچپن میں بزرگوں سے سنا تھا۔ جستجو کے اس چکر کے وجہ سے ہم نے  ایک دنیا دیکھی ہے۔ میں شائد دیر  کوہستان کا پہلا شخص ہوں جس نے دیر کوہستان کا چپہ چپہ دیکھا ہے سوائے کاشکین بانال اور سمن شئی کے میدانوں کے۔ سمن  شئی کو آج کل سمت شاہی کہا جاتا ہے اور یہ دیر کوہستان اور چترال کے سرحد پر واقع ایک خوبصورت دنیا ہے۔ البتہ سوات کےجھیلیں اور پہاڑ ہنوز میرے نگاہوں سے اوجھل تھے۔ کچھ میری مجبوریاں اور کچھ دنیا کے مسائل۔ اس لیے سوات کے اونچے پہاڑوں میں گھومنے پھرنے کا موقع نہیں ملا تھا حالانکہ سوات اور دیر کوہستان دونوں ایک ہی علاقہ ہے اور دونوں طرف داردالنسل لوگ اباد ہیں۔ میں بچپن  سے سوات آتا رہا ہوں یہ میرا دوسرا گھر ہے لیکن کبھی  یہاں کے بلند پہاڑوں میں گھومنے پھرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔تفصیل مضمون کے دوسرے حصّے میں۔

(جاری)

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...