کھو شناخت کی تلاش میں گمشدہ کلاݰ ماضی

0 102

کلاݰ برادری کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ جب بھی اس برادری کا کوئی فرد اپنا روایتی عقیدہ یا ثقافت چھوڑ کر اسلام قبول کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہی وہ اپنے لباس، زبان، ادب اور ثقافتی روایات کو بھی بھلانے کی کوشش کرتا ہے۔ یوں وہ ایک نئی شناخت کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتا ہے۔ ایسے افراد عموماً کھوار زبان سیکھتے ہیں اور اپنی مادری زبان کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔

یہ رویہ دراصل چترال کے کلاݰ ثقافت سے وابستہ لوگوں کا ایک دیرینہ تاریخی مسئلہ رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج چترال کا  دانشور طبقہ اپنے ماضی سے دوری اختیار کرتے ہوئے ایک نئی شناخت کی تلاش میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ اس نئی شناخت کو ادبی اور علمی حلقوں میں زیادہ تر ”کھو“ شناخت کے نام سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس نظریے کے مطابق چترال میں کھوار بولنے والے لوگ تاریخی طور پر”کھو“ کہلاتے تھے جبکہ کلاݰہ بولنے والے ”کلاݰ“ کہلاتے تھے۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ کھوار بولنے والوں کی اکثریت کی کوئی واضح لسانی یا نسلی شناخت تاریخی طور پر متعین نہیں رہی۔ ہمارے اجداد کے طرزِ زندگی اور اقدار بھی بڑی حد تک کلاݰ کمیونٹی سے مشابہ تھے مگر اسلام قبول کرنے کے بعد ہم میں سے بہت سے لوگ خود کو کلاݰ نسل سے منسوب کرنے میں جھجک محسوس کرتے ہیں۔ اسی احساس کے تحت ”کھو“کے نام سے ایک نئی شناخت اپنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لیکن یہ نئی شناخت عملی زندگی میں پوری طرح قابلِ عمل نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ ”کھو“ کی اصطلاح زیادہ تر تحریری مباحث، ادبی حلقوں اور اکیڈمک تحقیق میں تو استعمال ہوتی ہے مگر عام بول چال میں اس کا استعمال محدود ہے۔ عمومی طور پر ”کھو“ کا لفظ صرف ایک مخصوص جغرافیائی علاقے کے لوگوں کے لیے بولا جاتا ہے جبکہ دیگر کھوار بولنے والے خود کو کھو کہلانا پسند نہیں کرتے۔ اس صورتِ حال میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ آخر اپر چترال کے کھوار بولنے والے باشندوں کا تاریخی پس منظر کیا تھا؟

default

اس حوالے سے نامور محقق اور ماہرِ تعلیم مرحوم گل مراد خان حسرت نے اپنے مضمون ”چترال میں اسلام کی آمد“ (محرکہ ڈاٹ کام) میں لکھا ہے:

”چترال میں جب اسلام آیا تو اس کا واسطہ کھو اور کلاݰ ثقافتوں سے پڑا۔ ان دونوں ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اس وقت اپنے قدیم کافر طریقوں پر عمل پیرا تھے۔ چترالی روایات میں ان دونوں ثقافتوں کو ملا کر ”کلاݰ دور“کہا جاتا ہے۔ بالائی چترال میں ہمیں جگہ جگہ کافر دور سے منسوب قلعوں اور دیہات کے نام ملتے ہیں۔ ریری اویر میں گاؤں کے اوپر ٹیلے پر کھنڈرات ہیں جن کے بارے میں مقامی روایات ہیں کہ یہ کلاݰ سردار ژونگ کے قلعے کے آثار ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قلعے سے نیچے ندی تک ایک سرنگ موجود تھی۔“

اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ لوٹ اویر کے علاقے میں کلاݰ لوگوں کی آبادکاری موجود تھی اور وہاں کلاݰ سردار ژونگ کے قلعے کے آثار بھی پائے جاتے ہیں۔

اسی مضمون میں حسرت صاحب مزید لکھتے ہیں:

”لولیمی (لوڑیمی) تریچ میں ایک گاؤں کا نام کلاݰاندہ ہے اور سہرت موڑکھو میں ایک گاؤں کلاݰاندور کہلاتا ہے۔“

یہ بیان بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تریچ اور موڑکھو کے قدیم آباد علاقوں میں کلاݰ لوگ رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تریچ میں کلاݰاندہ (یعنی کلاݰوں کا گاؤں) اور سہت میں کلاݰاندور (یعنی کلاݰ لوگوں کا گھر) جیسے نام آج بھی موجود ہیں۔

میری معلومات کے مطابق موڑکھو کے علاقے وریجون میں بھی ایک مقام کلاݰاندور کے نام سے آج تک معروف ہے۔

حسرت صاحب نے اسی مضمون میں بیار (مستوچ) کے تاریخی گاؤں سنوغور اور پرواک کے حوالے سے بھی روایات نقل کی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

”کلاݰ آبادی کے بارے میں سنوغور اور پرواک میں بھی روایات موجود ہیں۔ پرواک کے متعلق کہا جاتا ہے کہ کافر دور میں یہ ایک سرسبز خطہ تھا۔ روایت کے مطابق پرواک تین بھائیوں کی ملکیت تھا۔ ان میں سے ایک دربتو ݰالی تھا جو پرواک لشٹ میں رہتا تھا اور اس کے قلعے کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ دوسرا سک کہلاتا تھا جو نصرگول میں رہتا تھا، اسی نسبت سے یہ جگہ سکولشت کہلاتی ہے۔ جبکہ تیسرے بھائی شپیر کی جائے رہائش زرین پرواک تھی اور یہ علاقہ شپیرو لشٹ کہلاتا ہے۔“

اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوٹ اویر، موڑکھو اور تریچ کے علاوہ پرواک اور سنوغور میں بھی کلاݰ دور سے متعلق روایات موجود ہیں۔ پرواک اور نصرگول کے تین نیم افسانوی بھائیوں کا ذکر بھی اسی دور سے منسوب کیا جاتا ہے۔

ان میں سے دربتو ݰالی اپنی کنجوسی کے باعث مشہور تھا۔ آج بھی جب کسی شخص کی کنجوسی کا ذکر کیا جاتا ہے تو طنزاً کہا جاتا ہے کہ “یہ تو دربتو شالی اور کلاݰ بن گیا ہے۔” اس مثال سے بھی واضح ہوتا ہے کہ دربتو ݰالی کو کلاݰ شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے اور قدیم آبادی کا تعلق بھی کلاݰ برادری سے جوڑا جاتا ہے۔

آثارِ قدیمہ سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ بالائی چترال میں قدیم ترین انسانی آبادی پرواک اور توری لشٹ و نصرگول کے علاقوں میں دریافت ہوئی ہے۔ غالباً سنوغور بعد میں آباد ہوا ہوگا، یا پھر اگر وہاں آثارِ قدیمہ کی باقاعدہ کھدائی کی جائے تو انسانی آبادکاری کی قدامت کے بارے میں مزید معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔ اس بنیاد پر پرواک، توری لشٹ اور نصرگول کے قدیم باشندوں کو کلاݰ قرار دینا زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے۔

مستوج جو کہ گلگت اور واخان کی جانب جانے والی وادیوں کے سنگم پر واقع ہے۔ یہاں پر دریائے یارخون اور دریائے ڑاسپور ملتے ہیں

اسی طرح یہ روایت بھی ملتی ہے کہ ایک طویل عرصے تک سنوغور میں کلاݰ لوگ مقیم رہے، تاہم بعد میں ان کا کیا بنا اس بارے میں واضح تاریخی معلومات دستیاب نہیں۔

حسرت صاحب اپنے مضمون میں آگے چل کر کافر دور کے معاشرتی نظام کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”چترال میں کافر دور کے معاشرے کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ عورت کو مخصوص ایام کے دوران آبادی سے دور ایک مکان میں رکھا جاتا تھا۔ کھوار میں اس مکان کو بشالینی کہتے ہیں جبکہ کلاݰ اسے بشالی کہتے ہیں۔ بالائی چترال میں کئی مقامات آج بھی بشالینی کے نام سے جانے جاتے ہیں، جیسے بونی میں دریا کے کنارے، پھار گام کوشٹ میں ندی کے کنارے، ݰونخار میں ٹیلے کے اوپر اور تریچ میں دریا کے کنارے۔ کسی زمانے میں ان مقامات پر بشالینی موجود رہے ہوں گے، مگر اب صرف ان کے نام باقی رہ گئے ہیں۔“

اس بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بالائی چترال میں نہ صرف کلاݰ آبادیوں کے آثار موجود ہیں بلکہ ان کی معاشرتی روایات کے نشانات بھی مختلف مقامات کے ناموں کی صورت میں آج تک باقی ہیں۔ بونی، کوشٹ، ݰونخار، تورکھو اور تریچ جیسے علاقوں میں بشالینی کے نام اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہاں کبھی کلاݰ ثقافت کے اثرات موجود تھے۔

اسی طرح ریݰن کے پشتنی باشندوں کو بھی بعض روایات میں کلاݰ نسل سے جوڑا جاتا ہے۔ ان تمام شواہد سے یہ بات کافی حد تک واضح ہو جاتی ہے کہ قبل از اسلام بالائی چترال کے  باشندے کلاݰ ثقافت سے وابستہ تھے۔

اس کے باوجود جدید دور کے بعض دانشور یا تو دانستہ یا کسی مصلحت کے تحت اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے یہاں ”کھو“ شناخت کو نسلی اور تاریخی شناخت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ تاریخی شواہد کے مطابق ”کھو“ زیادہ تر ایک جغرافیائی شناخت ہے، جو مخصوص علاقے کے لوگوں کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے، نہ کہ کوئی مستقل نسلی یا لسانی شناخت۔

اگر بالائی چترال میں کلاݰ دور اور کلاݰ کمیونٹی کی موجودگی کے اتنے واضح شواہد موجود ہیں تو پھر اپنے ماضی پر پردہ ڈالنے اور ایک نئی مسلط شدہ شناخت کی تلاش کرنے کی آخر کیا ضرورت ہے؟

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...