داردستان کا تعارف

  داردستان کا تعارف تحریر: Sviatoslav Kaverin ترجمہ؛ عمران خان آذاد دارد کچھ لوگوں کا گروپ ہے جو داردی زبان بولتے ہیں جس کا تعلق ہند آریائی زبانوں سے ہیں۔ یہ لوگ کابل، چترال، لداخ اور جنوبی کشمیر کے درمیانی علاقوں میں رہتے ہیں جس کی سرحدیں…

پریوں کے تعاقب میں؛ داردستان واقعی پریستان ہے! حصّہ دوم

۔۔اخری حصّہ؛ گزشتہ سے پیوستہ جولائی 2020ء کے اخری عشرے میں مجھے سوات کے علاقے ”توروال” کے ایک مسحورکن وادی میں گھومنے پھرنے کا موقع ملا جب آفتاب بھائی اور زبیر توروالی صاحب نے بیلہ ڈھان سے ہوتے ہوئے گیدر جھیل، گیل کمل پاس) کیدام پاس( اور سر…

داردستان واقعی پریستان ہے! حصّہ اوّل

داردستان واقعی پریستان ہے! حصّہ اوّل شمالی پاکستان بہت خوبصورت ہے۔ ہمالیہ، قراقرم، ہندوکش اور پامیرکے برف پوش پہاڑوں کے دامن میں واقع شمال کی ان گمنام لیکن خوبصورت وادیوں کو اگر جنت بہ زمیں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہاں ایک طرف اگر بلند و…

کوہستانِ  دیر میں پشتون دراندازی

کوہستانِ  دیر میں پشتون دراندازی 1804ء  میں خان غلام خان کی وفات کے بعد خان ظفر خان اپنے والد کے تخت پر بیٹھ گئے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب  ”داروڑہ خان کس“  سے اوپر کے علاقوں پر غیر مسلم داردی (کوہستانی) حکمران تھے۔ گمنام ریاست کے جلد دوم کے…

توروالی موسیقی کے البم ” منجُورا“ کا ایک تعارف

 اہل علم سے سنا ہے کہ موسیقی ایسی با ترتیب اور باقاعدہ آوازوں کو کہتے ہیں جو انسانی کانوں اور طبیعت  خوشگوار اثر چھوڑے۔  موسیقی نا صرف گلوکار کے گلے یا سازوں سے نکلنے والی آواز ہے بلکہ فطرت میں بھی اسے جا بجا محسوس کیا جا سکتا ہے۔ جیسے بارش…

کمراٹ نیشنل پارک – بے بس لوگوں کے وسائل پر قبضے کی کوشش

 نوٹ۔( اس مضمون میں ایک تاریخی کردار راج میر کو دیر کوہستان کے پورے لوگوں کے لیے جز بطور کل کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔راج میر دیر کوہستان کی تاریخ میں ایک اساطیری مقام رکھتے ہیں۔  مضمون میں تاریخ کو کہانی کی صورت میں بیان کرکے یہ دیکھانے…

دیر کوہستان کا سماجی ادارہ ”داراہ“

داراہ کو ہمارے ہاں وہ مقام حاصل ہے جو پشتونوں کے ہاں  ہجرہ کو یا پھر سندھیوں کے ہاں اوطاق کو حاصل ہے ـ یا پھر یوں کہنا ٹھیک رہےگا کہ ہم ہجرے کو گاؤری زبان، جوکہ  کوہستانی کے نام سے بھی مشہور ہے ، میں داراہ کہتے ہیں۔  پہلے زمانے میں چونکہ…

چلیں دیر کوہستان کی سیر کرتے ہیں۔

لفظ سیّاح سب سے پہلے 1772ء میں استعمال ہوا اور سیاحت کی اصطلاح 1811ء میں سامنے آئی۔  1936ء میں  اقوام عالم کی زبانوں میں غیر ملکی سیاح کی تعریف یہ بیان کی گئی کہ کم ازکم 24گھنٹے ملک سے باہر سے سفر کرنے والا مسافر سیاح کہلاتا ہے۔  1945ء میں…