داردستان: گھاٹیوں کے لوگ (حصہ اول)

0 27

داردستان: گھاٹیوں کے لوگ

(حصہ اول)

تاریخ فاتح لکھتے ہیں۔ شکست کے صورت میں فاتح نہ صرف مفتوح کے گھر پر قابض ہوجاتے ہیں بلکہ وہ مفتوح کے مذہب، تاریخ، زبان اور ثقافت پر بھی قابض ہوجاتے ہیں۔ فاتح مالک اور مفتوح غلام ہوتے ہیں اس لئے وہ خود کو اعلی اور مفتوح کو کمتر قرار دیتے ہیں۔ اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے وہ مفتوح کو حقارت سے پکارتے ہیں۔ ان کے ماضی کو مٹانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ مفتوح کی زبان، مذہب اور ثقافت کا مذاق اڑا کر، ان سے الٹی سیدھی کہانیاں منسوب کرکے انہیں غیر مہذب اور وحشی ظاہر کرتے ہیں. ہر فاتح یہی کہتا ہے کہ ان کے آنے سے پہلے مذکورہ وطن، علاقے میں کچھ نہیں تھا۔ یہاں غربت، جہالت اور ظلم و جبر کی حکومت تھی۔ ان کے آنے بعد ترقی و خوشحالی کا دور شروع ہوا۔ ترقی کی علامت وہ ہیں جبکہ مفتوح داس، غلام، مسکین، فقیر ہیں۔

ہزاروں سال پہلے آریاؤں نے ہندوستان پر حملہ کرکے مقامی اقوام کو مغلوب کرکے انہیں جنوب کے طرف دھکیلا۔ باقی رہنے والوں کو داس کا نام دے کر غلام بنایا۔ آریاؤں نے مقامی اقوام کو حقارت سے پکارا۔ ان کی تاریخ نوچ کر دیوار پر اپنی تاریخ لگائی۔ اپنے آپ کو مقدس بنایا اور مقامی اقوام کو ملیچھ، داس بنا کر ان کے دیوی دیوتاؤں کا مذاق اڑایا، شکل و صورت پر تبصرے کیئے۔ وید، مہا بہارت وغیرہ اس بات کی گواہ ہے کہ فاتح نے مفتوح سے نہ صرف اس کی آزادی چھینی بلکہ اس کے تاریخ، مذہب،کلچر اور زبانوں پر بھی حملے کئے۔

ہزاروں سال بعد پشتون قبائل نے سوات دیر اور ان سے ملحق دوسرے علاقوں پر حملہ کیا اور مقامی ہند آریائی اقوام جنہیں مورخین نے دارادا داردی، دادیکائی کے نام سے یاد کیا ہے کو جاہل، وحشی اور کافر کہہ کر بالائی علاقوں کے طرف دھکیلا۔ باقی بچ جانے والوں کو نیمچہ، مسکین، فقیر، دہقان کا نام دے کر خود میں ضم کیا۔ ہر حملہ آور کی طرح یہاں بھی حملہ آور نے مقامی اقوام کو تہذیب و تمدن سے دور جاہل، گنوار مشہور کیا اور یہ تاثر پھیلایا کہ ان کے آنے سے پہلے یہاں کچھ بھی نہیں تھا بس کفار رہتے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ مقامی اقوام جاہل گنوار اور غیر مہذب تھے۔ وہ اپنے وقت مہذب متمدن لوگ تھے لیکن فاتح نے جو لکھا اس پر سب نے یقین کیا۔۔۔

“” بہت مشکل جگہوں پر ان کے بنائے ہوئے آب پاشی کی نالیوں کے باقیات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ اعلی درجہ کے زراعت پیشہ تھے۔ بہ نسبت خانہ بدوش یوسفزئ کے جو گلہ بانوں سے زیادہ جنگوو تھے۔ 16 صدی عیسوی میں یہاں آنے کے بعد اس دور کا خاتمہ اور مسلم دور کا حقیقی آغاز ہوا۔ اس وادی میں شہری تہذیب کا خاتمہ ہوگیا۔جس کو ویش کے نظام نے مزید تقویت دی۔ یوسفزئی کی استعماریت نے ماضی کی تاریخ کو بھی ختم کردیا۔ اور اس نظریے کو فروغ دیا کہ ان کے آنے سے پہلے یہاں کچھ بھی موجود نہیں تھا۔ ( ڈاکٹر انعام الرحیم، ایلن ویارو : سوات، سماجی جغرافیہ۔ ترجمہ فضل معبود :102 )”۔

انگریز ہمارے آخری غیر ملکی حکمران تھے۔ انہوں نے مقامی اقوام کو جاہل، گنوار اور وحشی کہہ کر خود کو برتر اور مقامی اقوام کو نیچ سمجھا ۔طاقت کے سرچشمے انگریزوں کے ہاتھوں میں تھے۔ انہوں نے جو کہاں ہندوستانیوں نے مان لیا۔ ان کی بنائے ہوئے قانون اور لکھی ہوئی تاریخ آج بھی یہاں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔ ہر دور کے فاتح نے مزاحمت کرنے والوں کو باغی، سرکش اور خود کو حق پرست لکھا۔ اس طرح حملے کو جواز اور مزاحمت کرنے والا ہیرو ولن بن جاتا ہے۔ اور حملہ کرکے گھروں، کھلیانوں کو تباہ کرنے والا بوڑھے بچوں اور خواتین کو قتل کرکے لوٹ مار کرنے والا لٹیرا ولن ہیرو بن جاتا ہے۔ ہمارے آج کے ہیروز میں سے ایک بھی اس مٹی کا نہیں ہے۔ ہمارے تمام ہیروز باہر کے حملہ آور تھے۔ مزاحمت کرنے والوں کا پہلے تو کوئی ذکر نہیں ہوتا اگر ہوتا ہے تو ولن ثابت کرنے کے لیے حقارت سے ذکر کیا جاتا ہے۔ آج بھی یہاں حملہ آور ہیرو اور مزاحمت کرنے والے باغی، سرکش ولن ہیں۔ فاتح جو کچھ مفتوح کے بارے میں لکھتا ہے دنیا اس پر یقین کرتی ہے۔ مقامی اقوام جاہل، گنوار اور وحشی قرار پکارے جاتے ہیں۔ ان کی زبانوں، ثقافتوں اور مذاہب کا مذاق اڑایا جاتا یے۔ خود کو مہذب، برتر لکھ کر نئی تاریخ لکھی جاتی ہے۔ مقامی اقوام کچھ عرصہ مزاحمت کرتے ہیں پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نئے آنے والوں کی پڑھائی گی تاریخ پر یقین کرکے، اونچ نیچ کے نظام سے متاثر ہوکر فاتح کے پرستار بن جاتے ہیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مفتوح فاتح کی زبان اور طور طریقے اپنا کر ان جیسا یا ان جیسے بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ مقامی مفتوح قوم اپنا سب کچھ بھول بھول کر کھو جاتے ہیں۔ پھر احساس کمتری کے شکار شناخت سے محروم لوگ فاتح یا کسی دوسرے طاقتور قوم قبیلے سے تعلق جوڑنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ ہم آج بھی انگریزوں کی نقل کرتے ہیں۔ خود کو برتر ثابت کرنے کے لئے اپنا نسب کسی طاقتور قوم قبیلے سے جوڑتے ہیں۔ ہمارے ہاں میاں، سید، عرب، قریش، یونانی وغیرہ سب اسی کے پیداوار ہیں۔

کوہستان دیر و سوات میں آباد گاوری زبان بولنے والے لوگوں میں سے کچھ آج کل اپنے آپ کو قریش کہتے ہیں۔ صرف گاوری نہیں بلکہ شمال میں آباد داردی زبان بولنے والے دوسرے کئی اقوام یہ دعوی کرتے ہیں۔ یہ لوگ خود کو قریش آلنسل ثابت کرنے کے لئے کئی طرح کی جتن کرتے ہیں۔ لیکن جب ہم لوگ ان کے ماضی کو کھنگالتے ہیں تو ان کا عربوں یا قریش سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ دیر و سوات مین آباد گاوری زبان بولنے والے داردی قبائل کو مختلف وقتوں میں مختلف ناموں سے پکارا گیا ہے۔ جسے ہم آج دریائے پنجکوڑہ کہتے ہیں ماضی میں اسے گوری اور یہاں آباد قبائل گورائے کہلاتے تھے۔

“The predecessors of the Gawri-speaking people are perhaps the same as the Gauraioi (Gawri),who inhabited the lower, more fertile parts of Dir from as early as the days of Panini andAlexander the Great, as mentioned above. In the 11th century AD, the area was conquered byAfghan troops under Mahmood of Ghazni and the original population was forced to flee to theremote, mountainous parts of the Panjkora valley. Local traditions confirm that from there,groups of Gawri settlers passed over across the mountain passes into the Utrot, Kalam, and Ushu valleys in what is now district Swat, while others stayed in the upper Panjkora valley. ( Joan L.G. Baart and Muhammad Zaman Sagar:THE GAWRI LANGUAGE OF KALAM AND DIR KOHISTAN:3).

327 قبل مسیح سکندر اعظم ہندوستان پر حملہ آور ہوتا ہے۔ دریائے کونڑ ( Khoes ) کے اس طرف آج کے پنجکوڑہ تک اس پورے علاقے کو گورائے کا مسکن بتاتے ہیں۔

” He passed through the country of the Gourains. Where he had to cross to the Gourains. The Gouraios is the river Panjkora, witch unites with river of Swat to from the Landai, a large affluent of the Kabul river. It appears under the name of Gouri in the sexth book of the Mahabaharata, where it is mention along with the Suvasta.( J.W Macridle: The invasion of India: 66).

گاوری کئی ناموں جیسے بشقاریک، سرخ، سفید پوش، سیاہ پوش کافر، کلاش اور کوہستانی وغیرہ سے بھی پکارے گیے لیکن اج تک یہ لوگ ایک دوسرے کو انہیں قدیم ناموں سے پکارتے ہیں۔ بالائی پنجکوڑہ میں آباد گاوریوں کو توروالی زبان والے توروالی گوو اور گجری زبان بولنے والے گودیا کہتے ہیں۔ گجر نا صرف دیر و سوات کے گاوری کو گودیا کہتے ہیں بلکہ چترال میں گوار بیتی بولنے والے گاوریوں کو بھی گودیا کہتے ہیں۔ سرخ، سیاہ، سفید پوش کافر، کلش، تاجک، کوہستانی، شاڑے، وغیرہ کے نام باہر کے لوگوں نے مقامی اقوام پر تھوپنے ہیں۔

گاوری اور دوسرے داردی اقوام گیارہویں صدی عیسوی میں پہلی بار غزنوی لشکر کے حملوں اور پھر پندرہویں صدی عیسوی میں یوسفزئی قبائل کے حملوں کے وجہ سے میدانی سوات اور دیر باجوڑ سے بالائی پنجکوڑہ اور شمال کے دوسرے علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔ گیارویں صدی عیسوی سے انیسوی صدی تک مقامی داردی اقوام پر بیرونی حملے جاری رہیں۔ اس دوران میدانی علاقوں سے ایک ایک کرکے مقامی لوگ پہاڑی علاقوں میں منتقل ہوئے۔ نئے والوں نے ان علاقوں کا رخ کیا جہاں پہلے ان کے بھائی رہتے تھے۔ یہاں سے بعد میں کئی گروپ اس پاس آباد دوسروں علاقوں کے طرف گئے، کئی گروپ ان علاقوں سے یہاں آئے۔ زیادہ تر مہاجرت چاہیے وہ کسی بھی وجہ سے ہو انفرادی ہو یا اجتماعی مقامی اقوام کے درمیان ہوئی جن کا آپس میں نسلی، لسانی اور ثقافتی تعلق تھا۔ کوہستان دیر کے مقامی روایات کے مطابق یہاں اسلام زیادہ تر تلوار کے زور پر پھیلایا گیا، آخون سالاک کے لشکری آتے لوگوں کو مسلمان کرتے۔ جو انکار کرتے انہیں قتل کرتے۔ خوبصورت لڑکیاں، لڑکے اور مال مویشی جو بھی ہاتھ لگتا اٹھا کر واپس جاتے۔ ان کے جانے کے بعد مقامی لوگ پھر اپنے قدیم مذہب پر عمل کرتے۔ پھر لشکری آتے یوںسولویں صدی عیسوی سے اٹھارہویں صدی کے آخر تک یہاں اسلام پھیلایا گیا ۔ چراگلی شرینگل سے تھوڑا نیچے مشرق کے طرف اس قدیم راستے کے نشان اب بھی موجود ہے جہاں سے لشکری بالائی پنجکوڑہ پر حملے کرتے تھے۔ 1804 میں دیر خاص پر یوسفزئی کے قبضے کے بعد کوہستان دیر پر حملوں میں تیزی آئی۔ اس وقت کوہستان دیر کے تمام آبادی بلند چگہوں پر تھی۔ حملہ آوروں کے خوف سے میدانی علاقوں میں لوگ نہیں رہتے بلکہ بلند پہاڑوں رہتے۔ لوگ زیادہ تر مال مویشی پالتے اور یہی ان کا واحد زریعہ معاش ہوا کرتا تھا۔ پہاڑوں سے نیچے ڈھلوانوں پر لو، بھرو اور دوسرے قدیم فصلیں کاشت کرتے لیکن بہت کم تعداد میں۔ امریکی ماہر بشریات لنکن کائزر مقامی قبائل اور حملہ آوروں کے لڑائیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں

” The reconstruction is speculative, to be sure, but it does agree with what we know of the ethnography and history of the area. Local traditions hint at the general political unrest endemic in Kohistan during the time prior to the Yusufzai invasions. To protect against raiders seeking plunder and avaricious neighbors seeking land and animals, settlements were scattered high in the mountains in inaccessible hollows, ravines, ridges, and small plateaus, the occasional remains of which can still be seen today. Each community was responsible for its own defense, but formed political alliances with neighbors for mutual protection. The mountain villages on either side of the valley above present-day Thull signaled impending danger with smoke signals and joined to fight off approaching attackers” ( Death Enmity in Thull : 10 )۔

حملہ آور جب پہلی بار یہاں آیے تو مقامی لوگ اپنے قدیم مذاہب پر عمل کرتے تھے۔ انہوں نے اس پورے خطے کو کافرستان اور یہاں آباد داردی اقوام کو ان کے شکل و صورت اور پوشاکوں کو دیکھ کر سرخ، سیاہ اور سفید پوش کافر کے نام دیئے میجر راورٹی بالائی پنجکوڑہ اور سوات توروال میں آباد داری اقوام گاوری اور توروالیوں کے بارے میں لکھتا ہے۔

From Kala Kot you proceed another eight kuroh north, inclining north east as before to Dawarikha, which is inhabited by Kohistani, and from this place upwards the race of people called Spin Kafirs or white clad Unbelievers dwell. Major Raverty; Notes on Afghanistan and Baluchistn.

Setting out from Natthaur ( or Shahur or Tathur) you for six kuroh in direction of north to Bashkar , which they also called Patrak a large village, giving name to the darah belonging to race of people known Kohistanis, which race before their conversation of Islam, used to be styled Spin Kafirs or white clad Unbelievers.( Major Raverty; Notes on Afghanistan and Baluchistan :Page 228)۔

کالاکوٹ توروال سوات کے علاقے مدین بحرین سے نیچے ایک علاقے کا نام ہے۔ اور شہور دیر شرینگل کے سامنے واقع ہے۔ آج بھی شہور میں گاوری یا کوہستانی قبائل کے لوگ رہتے ہیں لیکن مادری زبان چھوڑنے کے وجہ سے اکثرہت پشتونائز ہوگئ ہیں البتہ کچھ گھرانے ابھی بھی دعوی کرتے ہیں کہ وہ گاوری ہے۔

گیارہویں صدی عیسوی میں شروع ہونی والی جنگ انیسویں صدی میں مشرقی داردستان یا اج کے نورستان پر قبضہ تک جاری رہی۔ انیسویں صدی میں امیر کابل نے کافرستان کے آخری حصے پر بھی قبضہ کرکے وہاں آباد قدیم لوگوں کے ساتھ وہی کیا جو داردستان کے دوسرے علاقوں میں ہوا۔ مقامی اقوام کو مختلف نام دیئے گئے۔ انہیں نئی تاریخ پڑھائی گئی۔انہیں نئے نام اور مقام دیئے گئے۔ جب تک کافر تھے تو سیاہ، سرخ، سفید پوش کافر، کلش وغیرہ کے نام سے یاد کرتے تھے۔ مسلمان ہونے کے بعد تاجک، کوہستانی اور شاڑی وغیرہ کے نام دیئے گئے۔۔

Kohisttani a name also used by the Afghans in the valleys to the westward as for as Cabul, to denote the districts inhabited by an older race whom they have displace۔ (John Biddulph ; Tribes of Hindoo Koosh: Page 8)۔

وقت گزرنے کے ساتھ مقامی مفتوح اقوام فاتح کے رنگ میں رنگ کر احساس کمتری کے شکار ہوکر اپنے قدیم مذہب، کلچر اور تاریخ پر شرمانے لگے۔ فاتح نے جو کچھ لکھا، انہیں پڑھایا دنیا اور انہوں نے یقین کیا۔ یوں ایک وقت ایسا آیا کہ حملہ آور ہیرو اور دفاع کرنے والا ولن بن گیا۔ ایسے میں اگر مفتوح سے کوئی اٹھ کر فاتح کی لکھی تاریخ کو چیلنج کرتا ہے تو فاتح تو چھوڑئے ذہنی غلامی کے شکار مقامی اقوام خود ہی آگے بڑھ کر اسے روکتے ہے۔ مرنے مارنے کی باتیں ہوتی ہیں۔ اسے غلط اور اپنا تعلق فاتح یا باہر کے کسی دوسرے طاقتور قوم سے جوڑتے ہیں۔ فتوی لگاتے ہیں۔ طرح طرح کے نام دیتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ تاریخ، زبان اور کلچر جھوٹ نہیں بولتے ۔ آج اگرچہ داردی زبان بولنے والے گاوری لوگوں میں سے کچھ لوگ قریش النسل ہونے کا دعوی کرتے ہیں لیکن ان کے جسمانی خدوخال، زبان، تاریخ اور کلچر اس بات کا شاہد ہے کہ یہ ان قدیم ہند آریائی اقوام کے خاندان کا حصہ ہے جنہیں محققین نے داردی کا نام دیا ہے۔۔

Social organization during the pre-lslamic period centered on the exchange of women among exogamous lineages. Leadership institutions probably reflected the general insecurity in the region. Leaders were drawn from lineage elders chosen ad hoc for the specific problem at hand. The maintenance of village peace through the nonviolent resolution of internal disputes was one of their most important tasks, since factionalism dangerously weakened the community’s ability to deal effectively with external threats. Because the sexual purity of women was generally considered unimportant, relationships between the sexes were relatively open, and women were not secluded. Discreet sexual encounters between nonmarried partners were thought to be relatively innocent, and even when extramarital liaisons became public, they were never a legitimate reason for murder. (Death Enmity in Thull : 11)۔

یہ سب قدیم آریائی مذاہب یا دستور کی نشانیاں ہیں جن میں سے کچھ پر یہ لوگ آج بھی عمل کرتے ہیں۔ صرف دیر کوہستان میں ہی نہیں بلکہ اگر ہم شمال پر نظر دوڑائے تو اسلام کے ظہور سے پہلے ہمیں لام گھان ( لمغان) مہتر لام سے لے کر کونڑ، نورستان، چترال، دیر، سوات، انڈس، گلگت بلتستان اور آگے لداخ تک نئے مذاہب سمیت قدیم آریائی مذاہب کی نشانیاں ملتی ہیں۔ اس پورے علاقے میں آباد لوگوں کی اکثریت ہند آریائی زبان بولنے والے اقوام پر مشتمل ہیں جو نسلی لسانی، تاریخی اور ثقافتی طور پر ایک خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ محققین نے اس علاقے کو داردستان اور لوگوں کو داردی یا داردیک نام دیا ہے۔ داردی یعنی بلند گھاٹیوں کے رہنے والے۔

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...