وادئ سوات کی قدیم نسلی تاریخ

0 413

وادئ سوات کی قدیم نسلی تاریخ

سوات ہندوکش کے برف پوش پہاڑوں کے دامن میں واقع ایک خوبصورت جادوئی وادی کا نام ہے۔ زمانہ قدیم سے وادی سوات اپنی زرخیزی، فطری حسن  اور جغرافیائی محل وقوع کے وجہ سے دنیا بھر میں مشہور  رہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمانہ قدیم سے یہ علاقے جنگ و جدل کا شکار ہیں۔ ایرانی، یونانی، پارتھین، سیتھین، کشان، سفید ہن، ترک، منگول، عرب اور پشتونوں  نے یکے بعد دیگر یہاں حملے کیے اور اس زرخیز خوبصورت علاقے پر اپنا تسلط جمانے کی کوششیں کیں۔ قدیم تاریخ میں سوات کو ” سواستو، شیوتا اور اُدھیانہ کے ناموں یاد کیا گیا ہے۔ اطالوی ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر Lucca Maria Olivier کے بقول پہلی بار چوتھی صدی عیسوی میں چینی سیاح فاہیان نے سوات کو ادھیانہ کے نام سے یاد کیا ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ قدیم ادھیانہ میں آج کے پورے سوات سمیت دیر، باجوڑ، بونیر اور دیامر تک کے علاقے شامل تھے۔ اج کل اگرچہ اس زرخیز اور خوبصورت علاقے کے میدانوں میں پشتون اکثیریت میں آباد ہیں لیکن  قدیم تاریخ سے لے کر جدید تحقیق تک سوات کے اولین آبادکار ہند آریائی داردی زبانیں بولنے والے قبائل تھے جنہیں مختلف حملہ آوروں نے مختلف وقتوں میں میدانی علاقوں سے بے دخل کیا۔سوات و دیر کے بالائی علاقوں میں آباد ہند آریائی  توروالی اور گاؤری  لوگ ان داردی اقوام کے بچے کچھے لوگ ہیں جو کبھی اس پورے علاقے میں پھیلے ہوئے تھے۔ سوات کے مختلف علاقوں سے ملنے والے آثار قدیمہ سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ہند آریائی داردی قبائل یہاں کے قدیم باشندے ہیں۔ موجودہ مینگورہ کے قریب واقع بت کڑہ سے  اطالوی ماہرین  کو کچھ انسانی ہڈیاں ملیں۔ ان میں سے ایک کھوپڑی کے سائنسی تجزیئے کے بعد پتہ چلا کہ یہ کسی توروالی شخص کی کھوپڑی ہے جو کسی زمانے میں یہاں رہتے تھے۔

توروالی ایک ہند آریائی داردی قوم ہے جو آج کل بالائی سوات یا تحصیل بحرین میں رہتی ہے۔ توروال کے مقامی لوک روایات بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ موجودہ علاقوں میں آنے سے پہلے یہ لوگ سوات کے زرخیز میدانوں میں آباد تھے۔

سوات کے علاقے کاٹیلئی )موجودہ نام آمان کوٹ،( گوگدرہ اور اوڈیگرام سمیت بریکوٹ، لوئے بنڑ وغیرہ سے جو پرانی  قبریں اور دوسرےآثار ملے ہیں ماہرین کے مطابق یہ ہند آریائی داردی لوگوں کے آثار ہیں جو کسی زمانے میں اس پورے علاقے میں پھیلے ہوئے تھے۔ اس قسم کی قبریں آج بھی دیر، سوات اور کوہستان سمیت چترال اور نورستان و کونڑ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان پرانی قبروں کو پروفیسر احسن دانی نے گندھارا گورستانی کلچر کا نام دیا ہے۔سوات ہی کے علاقے کنڈاک اور کوٹہ وادیوں سے ملنے والی قدیم پینٹنگز  سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ اس علاقے کے اولین آبادکار کون تھے۔ سوات کے آثار قدیمہ کے ماہر اور اطالوی آثار قدیمہ مشن کے سربراہ ڈاکٹر لوکا ماریا کے مطابق یہ پینٹنگز جن میں تصویری علامتیں، تصور نگاری اور روح نگاری شامل ہیں، ان قدیم اقوام کی نشانیاں ہیں جو بدھ مت سے پہلے یہاں آباد تھیں۔ جن کا ذکر ویدوں اور یونانی مورخین نے دارد کے نام سے کیا ہے۔ یہ مانا جاتا ہے کہ یہ پینٹگز چودہ سو قبل مسیح سے ایک ہزار قبل مسیح پرانی ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کیونکہ ماہرین کے مطابق دو ہزار قبل مسیح کے آغاز میں بحر الکاہل کے قبائلی علاقے قفقاز کے جنوب میں اپنے آبائی علاقوں سیاہ اور کیسپین سمندر کے درمیان پھیلنا شروع کیا یہاں تک کہ مشرقی وسطی کے  بیشتر حصے شام سے لے کر ایرانی سطح تک پر قابض ہوئے۔ یہ ہند آریائی لوگ مشرق سے ایران اور سیستان بلوچستان تک، جنوب کی طرف سے سندھ تک جبکہ شمال میں مرجینا اور باختریہ تک  پھیل گئے۔ اٹھارہ سو قبل مسیح میں درمیانی یا وسطی راستے کے ذریعے کچھ ہند آریائی قبائل نے ہلمند دریا کے میدانوں سے ہوتے ہوئے دریائے کابل کوپار کیا اور سوات پہنچ گئے۔ یہ ہند آریائی ان  ابتدائی آریائی خانہ بدوشوں میں سے ہیں جنہوں نے دریائے کابل کے میدانوں کو آباد  کیا۔ دوسرے الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ سوات دیر میں آباد داردی قبائل ان ابتدائی ہند آریائی خانہ بدوشوں کے بچے کھچے لوگ ہیں جنہوں نے ہندوستان جانے کے بجائے ہندوکش کے  دروں میں رہنے کا فیصلہ کیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میدانی علاقوں میں آباد ہند آریائی لوگوں نے مقامی اقوام کے مذاہب اور رسوم و رواج اپنائے لیکن پہاڑی دروں میں آباد یہ لوگ دنیا سے الگ تھلگ  اور اپنے قدیم مذاہب اور رسوم و رواج پر عمل کرتے رہیں۔ یوں دونوں کے درمیان فرق پیدا ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ میدانی ہند آریائی قبائل نے پہاڑی آریاوں کو مختلف ناموں سے یاد کیا ہے۔

ٕ ہندوستان کی تاریخ سے شغف رکھنے والے دوست پساچہ کے بارے میں جانتے ہیں۔ ہندی اساطیر میں پساچہ کا مطلب کچا گوشت کھانے والوں کو کہا جاتا ہے۔ پساچہ یعنی دیو اور جن بھوت جو کچا گوشت کھاتے ہیں۔ یہ ایک قسم کا  نیچ نام تھا جو میدانی علاقوں میں آباد ہند آریائی قبائل نے پہاڑی ہند آریائی قبائل کو دیا ہے۔پساچہ چونکہ حقارت انگیز نام تھا اس لئے بعد کے مورخین  نے ان لوگوں کو مقامی قبائلی ناموں کے ساتھ ساتھ داردی  نام سے یاد کیا ہے۔

دارد پشائی زبان کا لفظ ہے جس کی معنی گھاٹیوں کے رہنے والے ہیں۔ پشائی ایک داردی زبان ہے جو آج کل افغانستان کے کئی علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ بعض محققین کے نزدیک پشائی قدیم پساچہ زبان کی ایک شکل ہے اور یہ تمام داردی زبانوں کی ماں ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ بدھ عہد میں پشائی قبائل اس پورے علاقے میں پھیلے ہوئے تھے اور بدھ مت کی تعلیمات پشائی زبان میں ہی دی جاتی تھیں۔ پروفیسر توچی  ( (Giuseppe Tucci مشہور بدھ حکمران آشوکا کے عہد  اور گندھاری زبان پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

The missionaries of Asoka in their apostolic work went up to Afghanistan a few years after his conversion, and found on their way and there too, population of different ethnic extraction and different languages or dialect. Many of them were considered to be outside the pale of Vedic tradition ( see Manu quoted above) though always belonging to the Indo Aryan group. Certainly the dialects which they speak were different from those of central India. The Indians called the majority of these dialects Paisaci, now the name Gandhari or NW dialects has taken its place[i]

ترجمہ۔ آشوکا کے تبدیلی مذہب کے بعد اس کے بدھ مذہبی مبلغین نے افغانستان کا رخ کیا۔ وہاں ان کا مختلف نسلوں اور زبانوں ی اوربولیوں سے واسطہ پڑا۔ ان میں سے زیادہ تر ویدک راوایات سے باہر تھیں)  جیسا کہ مانو نے اوپر لکھا ہے( لیکن تھے ہند آریائی ہی۔ جو بولیاں یہ لوگ بولتے تھے وہ مرکزی ہندستانی سے مختلف تھے۔ ہندوستانی ان بولیوں کو پساچہ پکارتے تھے۔ جس کو ابھی گندھاری یا شمال مغربی بولی بھی کہا جاتا ہے۔

اگے چل کر وہ  ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں

The Chinese have preserved the tradition that many books in Uddiyana were written in Paisaci.[ii]

ترجمہ۔ چینیوں کے نزدیک ادھیانہ میں لکھی گئی اکثر کتابیں پساچہ زبان میں لکھی گئی تھی“۔

یہاں عام طور پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ سوات گندھارا کا حصہ تھا لیکن جب ہم سوات کے قدیم دور پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں  کچھ اور معلوم ہوتا ہے۔

پروفیسر ٹوچی On Swat: The Dard and Connected Problems میں ایک جگہ لکھتے ہیں:

Swat has  no doubt been under the influence of Gandharan culture especially during the Buddhist period even in later time Uddiyana Swat presents itself, in the different periods of history with its own petty rulers ( perhaps many of them) or under the domination of the Kusanas, but it should not be considered as being identical with or included in Gandhara or in Kapisa, Afghanistan ( see below, P.75), though later it lost its independence to the Turki Shahi[iii]

ترجمہ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بدھ عہد بلکہ اس کے بعد بھی ادھیانہ دور میں سوات گندھارا کے زیر نگین رہا ہے جہاں کئی مقامی راجواڑے تھے جن میں بیشتر کشن سلطنت کے ماتحت تھے۔ مگر سوات کو مکمل طور پر گندھارا یا افغانستان میں اس وقت کیپسیا سلطنت کی طرح نہیں گردانا چایئے۔ اگرچہ بعد میں اس نے اپنی آزادی ترک شاہی سلطنت کے سامنے کھو دی تھی۔

پروفیسر G. Tucci ایک دوسرے جگہ سوات اور Achaemenian سلطنت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں

We know from Herodotus III, 91, that the seventh Satrapes comprised four peoples that are separately named: Sattagydai,  Gandharioi, Dadikai and Apartai. Thus, a single satrapy include people of different extraction, belonging to different or may be also related ethnical entities; some were bound to pay tribute to others to supply soldiers. The Dadikai are the Dards, the Daradas of the Puranic geographical list[iv]

ترجمہ:” ہیروڈوٹس کی تاریخ سے ہمیں پتہ چلتا ہے۔ ایخیمینی سلطنت)  (Achaemenian  کا ساتواں صوبہ چار مختلف قسم کے قوموں پر مشتمل تھا: ساتاگیدائی، گندھاریوئی، دادی کائی اور آپارتائی۔  مذکورہ دلائل کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ Achemenid سلطنت کے وقت سوات گندھارا کا حصہ نہیں تھا بلکہ اس کی اپنی اہم حیثیت تھی جہاں دادیکائی قوم آباد تھی جو Achaemenian سلطنت کو خراج ادا کیا کرتی تھی اور ضرورت کے وقت فوجی دستے بھی مہیّا کیے جاتے تھے۔  دادیکائی دارد ہے جن کا ذکر ”پُرانا“ (Puranic) جیوگرافیکل لسٹ میں ”درادا“ کے نام سے ہوا ہے“۔

دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ Achaemenian کا ساتواں صوبہ چار مختلف نسلی اکائیوں پر مشتمل تھا جن میں دادی کائی آج کے داردی ہے جو جنگ کے وقت سلطنت کو فوجی دستے مہیاں کرتے تھے۔ ایک دوسری جگہ The Histories of Herodotus میں یروڈوٹس جس کا اردو ترجمہ یاسر جواد نے کیا ہے  فارس کی لشکر کے بارے میں بتاتے ہوئے دادیکائی کے بارے میں لکھتا ہے:

” پارتھیوں، کورا سمیوں، سوگدیوں، گنداریوں اور دادیکے کے پاس بالکل باکتریوں والے ہتھایر تھے۔ پارتھیوں اور کوراسمیوں کا سالار ارتابازس ابن فارناسیز تھا، سوگدیوں کا ازانیس ابن ارتیئس اور گنداریوں اور دادیکے کا ارتی فیئس ابن ارتا بانس تھا[v]۔

ان سب دلائل کے باجود یہ کہنا کہ سوات میں صرف دارد النسل قبائل آباد تھے غلط ہوگا۔ کیونکہ یہ ایک مشہور اور زرخیز علاقہ تھا اور وقت کے ہر طاقتور نے اس پر قبضہ جمانے کی کوششیں کیں۔ اس لئے یہ کہنا شائد ٹھیک ہوگا کہ سوات میں دارد النسل قبائل کے ساتھ دوسرے چھوٹے نسلی آکائیاں بھی رہتی تھیں لیکن اکثریت داردی قبائل پر مشتمل تھی جس کی شہادت سوات کے قدیم تاریخ اور آثار قدیمہ سے بھی ہوتی ہے۔ معلوم تاریخ کے مطابق سوات کے لوگ بدھ مت سے پہلے اپنے قدیم ہند آریائی مذاہب پر عمل کرتے تھے۔ بدھ مت کے آنے کے بعد قدیم مذاہب اور نیا مذہب ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ بعد میں جب بدھ مت زوال پذیر  ہوااور براہمن ازم کو عروج حاصل ہوا تب بھی قدیم داردی مذاہب اور نئے مذہب کے ماننے والے ایک ہی گاؤں اور علاقے میں رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم سوات میں ہمیں ایک ساتھ کئی مذاہب کے ماننے والے نظر آتے ہیں۔ ہمیں ٹھیک سے نہیں معلوم کہ یہاں آباد داردی قبائل پہلی بار کب میدانی علاقوں سے پہاڑی علاقوں کی طرف دھکیلے گئے لیکن معلوم تاریخ کے مطابق یہاں آباد مقامی لوگوں کو پہلی بار گیارہویں صدی عیسوی میں محمود غزنوی کے لشکر کی وجہ سے گھر بار چھوڑنا پڑا اور دوسری بار پندرہویں صدی میں یوسفزئی یلغار کی وجہ سے مقامی لوگ پہاڑوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ محققین کے بقول جس وقت محمود غزنوی کے لشکر نے ان علاقوں پر حملہ کیا تو  راجہ گیرا نام کا داردی حکمران  سوات کا حکمران تھا۔ بالائی سوات و دیر میں آباد داردی قبائل کے سفید ریشوں کے مطابق خونریز جنگ کے بعد راجہ گرا شکست کھا گیا اور اپنے اہل و عیال سمیت بالائی پنجکوڑہ کی طرف فرار ہوا۔ راستے میں راجہ گرا گھوڑے سے گر کر مر گیا جبکہ اس کا ایک بیٹا بیرا دیر کوہستان کے علاقے پیود لام پہنچا جہاں  اس نے ایک قلعہ بنایا اور حکومت کرنے لگا۔ اس قلعے کی وجہ سے پیود لام کو بریکوٹ یعنی بیر کا قلعہ بھی کہا جاتا ہے اور آج بھی بیرا قلعے کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں۔

انگریز سکالر S. H. Godfrey جس نے 1912ء میں دیر کوہستان کا دورہ کیا تھا، اپنی تصنیف A summer exploration in the Punjkora Kohistan میں لکھتے ہیں:

Above the terrace-built village a steep path leads up a cliff to the remains of an old fort. This, the villagers state, was held by their ancestor, Baria, a Kafir or unbeliever in Islam, who came from Swat when his village, Barikot, there was destroyed by the invading army of the Mohammedans eight generations ago. This story is confirmed by the traditions of the Yusafzais who now hold Barikot, in upper Swat, and who gave me a similar account when I visited them. The site of this old fort, of which the trace is plainly visible, occupies an exactly similar position to that of the now deserted houses and forts on the Malakand and Digar passes which connect lower Swat and Peshawar territory. Those houses and forts the Yusafzais of Swat can only now account for by saying that they were built by ” Kafirs,” and they closely resemble the many similar ruins in the Talash and Dushkhel valleys of Dir. There can be little doubt that the Kohistanis are the lineal descendants of the earlier inhabitants of the lower valleys in Swat and Dir, and it is noticeable that the Dashui Kohistanis still claim the Dushkhel country of Dir, now in possession of the Yusafzais, as part of their ancestral property.[vi]

ترجمہ۔ چبوترا نما گاوں کے اوپر ایک راسہ ڈھلوان پر موجود قلعے کی باقیات کی طرف جاتا ہے۔گاوں والوں نے بتایا کہ ان کے جد امجد بیرا نے یہ قلعہ تعمیر کیا۔ بیرا غیر مسلم تھا، جب اس کے گاوںان کو 8 سو سال پہلے مسلمانوں نے تباہ کیا تو وہ یہاں آکر آباد ہوا۔ اس کہانی کی تصدیق ان یوسفزئیوں کی روایات سے بھی ہوئی جنہوں نے بالائی سوات بریکوٹ پر قبضہ کیا تھا اور انہوں نے مجھے یہی کہانی سنائی جب میں نے بریکوٹ سوات کا دورہ کیا تھا۔ اس قدیم قلعے کے مقام جس کے آثار جو اب بھی نمایا ہے بالکل اس طرح  بنے ہیں جس طرح ملاکنڈ اور ڈگر پاسسز میں تباہ شدہ گھروں اور قلعے بنے تھے۔ یہ گھر اور قلعے جن کے بارے میں سوات کے یوسفزی اب صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ ان کو کافروں نے تعمیر کیا تھا۔ دیر کے وادیوں تالاش اور دش خیل میں کھنڈرات سے مماثل ہیں۔ اس میں اب بہت کم شک کی گنجایش رہ گئی ہے کہ کوہستانی زیریں سوات اور دیر کے  قدیم باشندوں کے نسلوں سے ہیں۔ دش خیل کوہستانی اب بھی دش خیل وطن کو اپنی ملکیت مانتے ہیں۔ جو اب یوسفزیوں کے قبضے میں ہے۔دش خیل ایک مشہور گاوری قبیلہ ہے جو ان حملوں کے وجہ سے دش خیل تالاش زیریں دیر سے بالائی  کوہستان پناہ لینے آئے تھے۔ ماضی قریب تک یہ لوگ گاوری زبان کا ایک لہجہ بولتے تھے جو دشخیل سے تعلق کے وجہ سے دشوا پکاری جاتی تھی۔دشوا یعنی دش لوگوں کی زبان۔ بعد کے زمانے میں دشوا لوگ آس پاس پھیل گئے اور اپنی مادری زبان چھوڑ کر کہی مین گاوری اپنائی تو کہی توروالی اور کہی پشتو بولنے لگے۔ یوں دشوا زبان آہستہ آہستہ ختم ہوئی۔

سوات کے آخری غیر مسلم راجہ گرا کے بارے میں اگرچہ ہم آج اتنا کچھ معلوم نہیں لیکن بالائی پنجکوڑہ اور سوات میں آباد توروالی اور گاؤری  داردی اقوام  ان کو اپنا ہم نسل اور جد امجد مانتے ہیں۔ جس وقت غزنوی لشکر نے یہاں کا رخ کیا تو یہاں کے لوگ غیر مسلم تھے۔ بالائی علاقوں میں آباد داردی سفید ریشوں کے مطابق غزنوی ٕلشکر نے مقامی لوگوں کو مسلمان کرانا چاہا۔جنہوں نے اسلام قبول کیا وہ رہ گئے جبکہ انکار کرنے والوں نے پہاڑوں کا رخ کیا۔ لشکر کے جانے کے بعد مقامی لوگوں میں سے جنہوں نے مذہب تبدیل کیا تھا وہ دوبارہ پرانے مذہب پر عمل کرنے لگے۔ اس بات کی تصدیق سوات میں موجود قدیم غزنوی مسجد سے بھی ہوتی ہے۔آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق غزنوی لشکر نے اوڈیگرام کے مقام پر راجہ گرا کا قلعہ مسمار کرکے یہ مسجد بنائئ لیکن لشکر کے جانے کے بعد مسجد ویران ہوئی۔ جسے بعد میں ماہرین آثار قدیمہ نے دریافت کیا۔ ہم جانتے ہیں کہ مسجد تب ویران ہوتی ہے کہ جب وہاں مسلمان نہ ہو اس لیے یہ بات کہنا کہ مقای لوگوں نے دوبارہ اپنے قدیم مذاہب پر عمل شروع کیا درست لگتاہے۔

گیارہویں صدی سے پندرہویں صدی تک سوات مختلف حملہ آوروں کا شکار رہا۔ غزنویوں کے بعد غوریوں نے یہاں حملے کیے۔  اس کے بعد قلیل عرصے کے لیے یہاں منگلول قابض ہوئے۔ پندرہویں صدی عیسوی کے آخری نصف میں یوسفزی اور اتمانخیل قبائل نے جب ان علاقوں پر حملے کیے تو اس وقت یہاں کے حکمران گبری کہلاتے تھے۔ محققن کے بقول یوسفزی گاڑہ ) گڑ کویہ( اور نشکی میں اور غوریا خیل خصوصا خلیل ترنک، مقر اور قرہ باغ میں آباد تھے۔ یہ علاقے جنوبی افغانستان یعنی آج کے قندھار کے قریب واقع ہیں۔ وہاں ان دونوں کے درمیان چراگاہوں کے وجہ سے جنگ چھڑ گئی۔ محققین کے بقول غوریا خیل نے خاخی یا خشی کو شکست دی اور علاقے سے باہر نکال پھینکا۔ چنانچہ خاخی یا خشی قبائل جن میں یوسفزی، ترکلانی اور گگیانی وغیرہ قبائل شامل ہیں، نے نشیب کی طرف وادی کبل کا رخ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس ہجرت میں اتمانخیل بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔ کابل میں آباد ہونے کے بعد خاخی قبیلے کے تین گروپ بن گئے۔ یوسفزی، ترکلانی اور گگیانی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی طاقت میں اضافہ ہوا یہاں تک کہ انہوں نے کھلے عام مغل حکمران الغ بیگ سے بغاوت کی۔ الغ بیگ نے دھوکے سے کام لیا اور کئی سو یوسفزی سرداروں کو قتل کرکے انہیں کابل سے بے دخل کیا۔ یوسفزی نے کابل سے  نکلنے کے بعد وادی پش ناور کا رخ کیا۔ پشاور کے میدانوں میں اس وقت دلہ زاک نام سے ایک قوم رہتی تھی۔ پشتون بزرگوں کے نزدیک دلہ زاک کرلانی پشتون ہیں لیکن محققین کے نزدیک ان کے اصل کے بارے میں کوئی نہیں جانتا  کہ یہ کون ہیں۔ پشاور کے میدانوں میں اس وقت دلہ زاک آباد تھے۔ دلہ زاک نے یوسفزئیوں کو پناہ دی لیکن کچھ عرصہ بعد دونوں کے درمیان جنگیں چھڑ گئیں۔ یوسفزئی نے لگاتار لڑائیوں کے ذریعے دلہ زاک کو دریائے سندھ سے پرے دھکیلا اور خود پشاور پر قابض ہوئے۔ دلہ زاک پہلا پشتون قبیلہ ہے جو غزنوی لشکر کے ساتھ یہاں آیا اور اباد ہوا تھا۔ ان سے پہلے ان علاقوں میں پشتون نہیں تھے۔ پشاور کے میدانوں پر قبضہ کرنے کے بعد یوسفزئیوں نے سوات کے زرخیز علاقے پر نظریں گاڑ دیں۔

سوات اور باجوڑ پر اس وقت گبری سلاطین حکمران تھے۔ گبری سلاطین کو کسی نے آتش پرست کہا ہے تو کوئی اسے تاجک سمجھتا ہے لیکن درحقیقت ان کا تعلق یہاں آباد قدیم داردی اقوام سے تھا۔ یہ کہنا کہ وہ کونڑ کے علاقے پیچ سے آئے تھے درست ہے لیکن پیچ درہ زمانہ قدیم سے داردی پشائی اقوام کا مرکز ہے۔ جہاں تک تاجک کی بات ہے تو اس وقت کے مورخین اور عرض نویسوں نے غلط فہمی کے وجہ سے پہاڑوں میں آباد داردی اقوام کو بھی تاجک لکھا ہے۔ میجر راورٹی نے سوات کے گبری سلاطین بشمول توروالی اور گاؤری کو  تاجک لکھا ہے اور کہا ہے کہ بالائی سوات و دیر میں آباد توروالی اور گاؤری گبری سلاطین کے ہم نسل ہیں۔ اپنی کتاب  Notes on Afghanistan and Baluchistan  میں ایک جگہ گبری، توروالی اور گاؤریوں  پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں

These tribes are evidently portions of one of the three Tajzik tribes namely Gibari, Matrawi or Mumilai[vii]“۔

ترجمہ یہ قبائل واقعی طور پر تین تاجک قبائل کا حصہ ہیں۔ جن کو گبری، متراوی یا مومیالی کہا جاتا ہے۔

ایک دوسری جگہ چترال میں آباد گوار بیتی زبان بولنے والے داردی لوگوں کے بارے میں لکھتے ہیں

Five kuroh farther on from thence, having proceeded in the same direction as before you reach Sa-wa ( on one copy Sa-u) and seven kuroh farther on as the large village of Narisat. Belonging to the Tajziks[viii]

ترجمہ۔ پانچ کروہ اسی سمت آگے ساوی پہنچنے سے پہلے سات کروہ آگے ناری سات آتا ہے جہاں کے لوگ تاجک ہیں۔

اسی طرح ایک دوسری جگہ چترال کے بارے میں لکھتے ہیں

This is an extensive tract of territory inhabited almost exclusively by the Tajzik race.[ix]

ترجمہ۔ یہ ایک لمبا چوڑا علاقہ ہے جہاں تاجک نسل کے لوگ رہتے ہیں۔

حالییہ تحقیق کے مطابق چترال میں کھوار بولنے والوں سمیت گوار بیتی زبان بولنے والوں کے ساتھ ساتھ توروالی اور گاؤری تاجک نہیں ہیں  بلکہ یہاں کے قدیم باسی داردی ہیں۔ میجرراورٹی کی طرح دوسرے مورخین اور انساب  نویس بھی اس غلط فہمی کا شکار ہوئے  اور انہوں نے پہاڑی علاقوں میں آباد لوگوں کو بھی تاجک سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مورخین اور پشتون عرض نویسوں نے انہیں تاجک لکھا ہے لیکن درحقیقت ان لوگوں کا تاجک سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن شناخت کھونے  کی وجہ سے بعض لوگوں نے انہیں تاجک لکھا ہے۔ آج کل بعض پشتون دوست گبری کو پشتون کہتے ہیں لیکن درحقیقت گبری پشتون نہیں داردی تھے۔ سوات اور باجوڑ میں آباد گبریوں کے بچے کچھے لوگ آج بھی بالائی پنجکوڑہ اور بالائی سوات میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

گبری سلاطین کے رعایا سوادی کہلاتے تھے۔ بعض پشتون گبری کے ساتھ ساتھ قدیم سواتیوں کو بھی پشتون لکھتے ہیں اور انہیں سواتی پھٹان کہتےہیں لیکن جس طرح گبریوں کا پشتونوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اسی طرح قدیم سوادی کسی بھی لحاظ سے پشتون نہیں تھے۔ پشتون یہاں پہلی بار غزنوی لشکر کے ساتھ آئے اور ان میں سے بھی زیادہ تر واپس چلے گئے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت غزنوی مسجد ہے کیونکہ مسلمانوں کے جانے کے بعد مقامی لوگوں نے اپنے قدیم مذاہب پر دوبارہ عمل شروع کیا تھا اور پشتون اس وقت مسلمان تھے۔

تواریخ حافظ رحمت خانی کے بقول سوادی یا سواتیوں کو یہ نام یوسفزیوں نے دیا تھا۔ یوسفزئی جب یہاں آئے تو سوات کے سلاطین گبری زبان بولتے تھے اور رعایا دری زبان بولتےتھے۔  تواریخ حافظ رحمت خانی لکھتا ہے

” اس زمانے میں سوات کے سلاطین اور جہانگیری گبری زبان بولتے تھے جبکہ رعایا دری زبان بولتے تھے۔ اس زمانے میں سوات کے لوگ انہی دو زبانوں میں بات کرتے تھے[x]۔

مشہور محقق اور ماہر ہندوستانیات پروفیسر ٹوچی قدیم سواتیوں پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں

The language of Swatis being Dardic. They were not separately named. But comprised in the denomination of Dards, generically though the Dards were spread over a very large territory[xi]

ترجمہ۔ سواتیوں کی زبان داردی تھی۔ ان کی الگ کوئی پہچان نہیں تھی لیکن یہ وہ دارد تھے جو وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے تھے۔

اگر گبری یا سوادی پشتون تھے تو انہیں پشتو بولنا چاہے تھا نا کہ دری یا گبری زبان۔ یہ کیسا ممکن ہے کہ یہاں پشتون تو آباد تھے لیکن پشتون زبان نہیں بولی جاتی تھی۔ گبری اور دری/داردی دونوں داردی زبانیں ہیں۔ گبری آج بھی انڈس کوہستان کے دروں میں بولی جاتی ہے جبکہ ان کی نسل سوات، دیر سمیت چترال اور انڈس میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہی حال سوادی پٹھانوں کا ہے۔ اگر وہ پشتون ہوتے تو پشتون بولتے نا کہ دری۔ دری داردی ہی ہے لیکن تاجک کی طرح یہاں بھی یہ غلط فہمی کا شکار ہوگئے۔ انہوں نے داردی کو تاجک اور داردی زبان کو دری لکھا ہے۔

باجوڑ کی مثال سے وضاحت کرتے ہیں۔ آج کل باجوڑ پشتون علاقہ ہے لیکن ماضی قریب تک یہ علاقے گبریوں کا مرکز تھا۔ بابر بادشاہ نے گبریوں کے خلاف جنگیں لڑیں اور یہاں دلہ زاک آباد کیے۔ یہ کہنا کہ یہاں ترکلانی رہتے تھے غلط ہے۔ دلہ زاک کی طرح یہاں ترکلانی بھی بعد میں  آئے ہیں۔ باجوڑ کے قدیم لوگ خود کو عرب کہتے تھے جن کے بچے کچھے لوگ آج بھی بالائی پنجکوڑہ ، سوات، انڈس اور چترال میں آباد ہیں۔ بابر بادشاہ کے خلاف لڑنے والے گبری تھے نا کہ دلہ زاک یا ترکالانی پشتون۔ اگر پشتون یہاں آباد تھے تو بابر کا مقابلہ باجوڑ کے گبری کیوں کرتے؟۔ دوسری اہم بات اگر گبری یا سوادی پٹھان تھے تو آخری گبری سلطان آویس بالائی پنجکوڑہ میں  داردی لوگوں کے ہاں پناہ کیوں لیتا؟۔ یوسفزئی کے سوات پر قبضے کے بعد آخری گبری سلطان آویس نہاگ درہ بالائی پنجکوڑہ آیا جہاں اس وقت داردی آباد تھے۔ یہ داردی اپنے قدیم مذاہب پر عمل کرتے تھے۔ سلطان  آویس نے نہاگ درہ میں ایک قلعہ لہور کے نام سے بنایا اور لہوری ٹاپ تک اس پورے علاقے پر حکمرانی کرتا تھا۔ بعد میں یوسفزیوں نے اسے بسنو آیان کے تہوار کے موقع پر قتل کیا۔ بسنو آیان قدیم گاؤری موسمی تہوار ہے جو ماضی قریب تک گاؤری لوگ مناتے تھے۔ یوسفزئی نے حملہ کرکے عین تہوار کے موقع پر اسے قتل کیا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا قزن شاہ حکمران ہوا۔ قزن شاہ نے آس پاس موجود داردی قبائل کو ساتھ ملا کر یوسفزیوں پر کئی حملے کیے۔ تواریخ حافظ رحمت خانی میں صاف صاف لکھا ہے کہ جب یوسفزی غوریا خیل کے خلاف لشکر جمع کر رہے تھے تو ملک جوکا اور کریم داد الیاسزئی سالار زئی نے خان کجو جو اس وقت یوسفزی کے سردار تھے اور ملک سرابدال سے عرض کرتے ہوئے کہا:

” آپ دونوں کو الیاسزئی کے حالات کا علم ہے کہ ابھی اسی سردی کے موسم میں قزن شاہ بن سلطان اویس نے ہم پر لشکر کشی کی تھی اور ہمارے تین چار دیہاتوں کو تاراج کیا تھا۔ اور باقی گاؤں بمشکل ہم نے اور ملی زئی نے مل کر تلوار کے زور سے بچائے۔ قزان شاہ ہمارے قریب تر ہے اور وہ  داؤ لگائے بیٹھا ہے۔ اگر ہم لشکر کے ساتھ چلے تو وہ اسی موقع سے فائدہ اٹھاکر ہمارے دیہاتوں پر چھڑ دوڑے گا اور انہیں تاراج کرے گا۔ اس لئے ہم امیدوار ہیں کہ ہمیں لشکر سے معاف کیا جائے[xii] ۔

اگر قزن شاہ پشتون ہوتا تو وہ کبھی بھی داردی لوگوں کے ہاں پناہ نہیں لیتا اور نہ داردی لوگ کسی پشتون کا ساتھ دے کر پشتونوں پر حملہ کرتے۔ داردی اور پشتون دو متحارب اقوام تھیں۔  ایسے میں حریف قوم سے تعلق رکھنے والے پر بھروسہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

یوسفزئیوں نے سوات میں سواتیوں کے خلاف دہائیوں تک جنگ لڑی۔ ان کی اکثریت بلند پہاڑوں پر منتقل ہوئی تھی۔ وطن کی محبت میں سواتیوں نے سالوں تک یوسفزئیوں کا مقابلہ کیا لیکن بعد میں بارشوں میں کمی کے باعث قحط کی وجہ سے یہ لوگ مجبور ہوکر بلند پہاڑوں سے نیچے اتر گے۔ جن میں سے کچھ نے دوسرے علاقوں میں ہجرت کی جبکہ باقی ماندہ بچ جانے والے کو فقیر مسکین کہہ کر انہیں کھیت و کاشتکاری کی مزدوری پر لگایا گیا۔ جو سوات ہزارہ کے طرف گئے انہوں نے وہاں کی مقامی زبانیں اپنائیں۔ لیکن سوات سے تعلق رکھنے کی وجہ سے سواتی کہلائے۔ یہ کہنا کہ یہ لوگ سواتی پشتون  ہیں غلط ہے۔ ان میں سے جن لوگوں نے پشتو زبان اپنائی یا پشتونائز ہوگئے وہ خود کو پشتون کہتے ہیں باقی اپنی پہچان سواتی کے نام سے کرتے ہیں نا کہ پشتون کے نام سے۔ یہ صرف سواتیوں کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ ہر اس مقامی کے ساتھ ہوا جس نے مذہب اور ثقافت چھوڑ دیا ۔ یوسفزئی جس وقت سوات آئے تو یہاں کی اکثریت  قدیم مذہب پر عمل پیرا تھی۔ علم بشریات کے رو سے مذہب ان عقائد و اعمال پر مشتمل ہوتا ہے جو انسانوں کا روحانی ہستیوں یا قوتوں سے رشتہ قائم کرکے انسانی زندگی کو منظم بناتے ہیں۔ ہر مذہبی نظام اعتقاد، رسوم و رواج اور انفرادی تجربات پر مشتمل ہوتا ہے، اس لئے مذہب تبدیلی صرف عقائد کی نہیں بلکہ کلچر کی بھی تبدیلی ہوتی ہے۔ مذہب تبدیلی کے وقت فرد کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اس بات پر ایمان لائے کہ قدیم مذہب، دستور غلط اور نیا صحیح ہے۔ تبدیلی مذہب کے بعد فرد کو نہ صرف اپنے قدیم عقائد چھوڑنا پڑتے ہیں بلکہ وہ اپنے کلچر اور شناخت  سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔ اسے اپنے لوگوں، معاشرے سے نکل کر نئے انے والوں کے ساتھ زندگی گزارنی ہوتی ہے۔ فرد اور اس کے قوم قبیلےاور  علاقے کے نام بدلے جاتے ہیں۔ رہن سہن اور اقدار میں تبدیلیاں آجاتی ہیں۔  حرام و حلال اور پاک و ناپاک کے نئے تصّورات رائج ہوجاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہندوکش میں آباد داردی اقوام کے قدیم آریائی مذہب میں ریچھ کا گوشت کھانے کی ممانعت نہیں تھی۔ مقامی اقوام دوسرے جنگلی جانوروں کی طرح جنگلی ریچھوں کا بھی شکار کرتے تھے۔ اسلام میں چونکہ ریچھ حرام ہے اس لیے قبول اسلام کے ساتھ ہی ریچھ  کا گوشت کھانے پر پابندی لگی۔ یہ ایک قسم کا پیمانہ ہوتا تھا کہ اگر آپ نے ریچھ کھایا تو آپ مسلمان نہیں نیمچہ ( وہ لوگ جو اسلام قبول کرنے کے بعد بھی اپنے قدیم رسوم و رواج پر عمل کرتے تھے انہیں نیمچہ یعنی آدھے مسلمان کہتے تھے) ہے۔ آج بھی اس قسم کے امتحانات ہوتے رہتے ہیں۔ اسی طرح جب کوئی ہندو مسلمان ہوجائے تو اسے گائے کا گوشت کھلاتے ہیں۔ اسی طرح چترال میں آباد قدیم داردی مذہب پر عمل کرنے والے کلاش قوم میں سے اگر کوئی مسلمان ہوجائے تو اسے مرغی کا گوشت کھلایا جاتا ہے کیونکہ کلاشہ دستور میں مرغی اور انڈا کھانا منع ہے۔ اس قسم کے تجربات کا مطلب مقامی لوگوں میں قدیم مذاہب سے نفرت اور نئے مذاہب کی محبت پیدا کرنا ہوتا ہے۔ یہی کچھ یہاں سوات و دیر میں بھی ہوا۔ یہاں نہ صرف مقامی لوگوں کے قدیم مذاہب تبدیل کیے گئے بلکہ مذہب کے ساتھ ساتھ یہ لوگ اپنے کلچرز اور  شناخت سے بھی محروم ہوئے۔

بالائئی سوات و دیر میں آباد داردی اقوام توروالی، گاؤری قبل از اسلام سیاہ پوش و سفید پوش کافر کہلاتے تھے۔ مسلمان ہونے کے بعد انہیں کوہستانی کہا جانے لگا۔ مسجد مدرسے پر چونکہ پشتون تاجک قابض تھے اس لئے انہوں نے جو کچھ ان لوگوں کو سمجھایا  یا پڑھایا لوگوں نے من و عن عمل کیا۔ ایک دو  نسلوں تک تو ماضی کی یادیں تازہ تھیں لیکن کئی نسلیں گزرنے کے بعد مقامی لوگ سب کچھ بھول گئے۔ بس وہی یاد رہا جو ان ابادکاروں نے ان لوگوں کو پڑھایا۔ یوں ایک وقت ایسا آیا کہ مقامی لوگ اپنی شناخت کھو کر کبھی عربوں سے اپنا تعلق جوڑنے لگے تو کبھی خود کو یونانی کہنے لگے۔ یہ لوگ اپھی تک اپنی مادری زبانیں توروالی اور گاؤری بولتے ہیں اور ان زبانوں کی بولیوں کی حدتک بچنے کی وجہ ان کا مخصوص دشوار گزار علاقے اور اس کے ساتھ ان لوگوں کی جدید تعلیم سے دوری تھی ۔

یوں آج یہ لوگ خود کو پشتون نہیں بولتے باقی جن لوگوں نے پشتو اپنائی وہ پشتون بن گئے۔ دیر کوہستان میں آباد گاؤری قبائل اس کی سب سے بڑی مثال  ہے۔جہاں یہ لوگ مادری زبان بولتے ہیں وہاں خود کو گاؤری کہتے ہیں لیکن جن لوگوں نے زبان چھوڑی ہے وہ اب پشتون بن گئے حالانکہ یہ لوگ نسلی طور پر داردی گاؤری ہیں۔ یہی سب کچھ سوات کے قدیم سواتیوں کے ساتھ ہوا۔مرکز سے بکھر جانے کے بعد انہوں نے اپنی مادری زبان چھوڑی اور دوسری زبانیں اپنائیں۔ یوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں میں ضم ہوگئے۔ دیر کوہستان آنے والے داردی دریا گورایا کی وجہ سے گاؤری ہوئے، توروال جانے والے توروال کی وجہ سے توروالی ہوئے اور انڈس، ہزارہ جانے والوں وہاں کے مقامی لوگوں میں ضم ہوئے۔ جنہوں نے پشتو اپنائی وہ پشتون کہلائے۔ یہی وجہ ہے کہ اج ان لوگوں میں سےکچھ اپنے آپ کو پشتون کہتے ہیں ورنہ ان لوگوں کا پشتونوں کے ساتھ کوئی نسلی نہیں ہے۔ بعض پشتون دوست انہیں پھٹان سمجھتے ہیں لیکن تاریخی طور پر ہمارے پاس ایک بھی ایسی دلیل نہیں ہے جس سے ثابت ہو کہ یہ لوگ پشتون تھے۔ قدیم تاریخ سے لے کر جدید تحقیق تک یہ لوگ سوات کے قدیم باشندے اور داردی  زبان بولنے والےتھے لیکن  زیرتسلط رہنے  کی وجہ سے  ثقافت اور زبان کے ساتھ وطن سے بھی محروم ہوئے۔

 

حوالہ جات

 

[i] On Swat: The Dard and Connected Problems: 212

[ii] On Swat: The Dard and Connected Problems: 215

[iii] On Swat: The Dard and Connected Problems:169

[iv] On Swat: The Dard and Connected Problems: 168

[v] دنیا کی قدیم ترین تاریخ۔ بابائے تاریخ ہیروڈوڑس:  516

[vi] S. H. Godfrey; A summer exploration in the Punjkora Kohistan: 50

[vii] Notes on Afghanistan and Baluchistan: 237

[viii] Notes on Afghanistan and Baluchistan: 173

[ix] Notes on Afghanistan and Baluchistan: 152

[x] تواریخ حافظ رحمت خانی: 122

[xi] On Swat: The Dard and Connected Problems

[xii] تواریخ حافظ رحمت خانی:219

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...