بسنوں آیان

جشن نوروز

0 30

جشن نوروز

بسنوں آیان

بسن یاگ موٹو مو اشی جم نماروشا اوچات کن شی

جشکورے لیٹ  کشمو  لئیے بوٹی  لٹووم  ہرہ زم شی

گاوری شاعر کہتا ہے کہ موسم بہار پھر لوٹ آیا، اب میں بلند و بالا پہاڑوں پر چڑھوں گا اے محبوب، کشمالئی جو نرگسیت سے معمور انتہائی خوشنما ایک خوشبودار پھول کا پودا ہے اس کو ہر جگہ تلاش کرتا رہوں گا ۔۔۔

گاوری تقویم کے مطابق بائیس مارچ کو موسم بہار کا پہلا دن ہے۔ بہار کے ان گنت  دلکشیوں میں پھولوں کی خوشبووں اور موسیقی نما نرم و تازہ ہواوں کا ایک نرالا مزہ ہوتا ہے۔ جیسے ہی پھول کھلتے ہیں اور اپنی نازک خوشبوئیں بکھیرتی ہیں انسان کے خون کو تازگی اور روح کو نئی زندگی ملتی ہے۔ ان کھلتے پھولوں کی خوبصورتی سے زمین کی تزئین اور ایک رنگین دنیا کی نمائش کے تمام اسباب مہیا ہو جاتیں ہیں۔ موسم سرما کی خون جما دینے والی ٹھٹھرتی سردیوں کے تند وتیز ہواوں کا نہ رکنے والا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے۔ اس موسم کا آغاز ہوتے ہی جہاں ایک طرف انسانوں کے لئے آسانیاں پیدا ہوتیں ہیں تو وہاں دوسری طرف چرند و پرند کے لئے خوراک کے حصول اور چلنے اڑنے میں درپیش دقتیں ختم ہوجاتی ہیں۔ مجموعی طور پر فارغ البالی کی ابتداء ہوتی ہے اور ہر طرف ہریالی اور سبزہ و شادابی کی شروعات ہوتی ہے۔ ہمارے اس ریجن میں خوبانی، بادام، آلو بخارے، آڑو اور سیب کے درختوں پر خوبصورت کونپلیں اور خوشنما پھول کھلے ہیں جو آنکھوں کو طراوت اور تازگی بخشتے ہیں۔ دل میں نئی امنگیں پیدا کرتی ہیں۔ روح کو معطر اور دماغ کو بیحد سکون دیتی ہیں۔ سماں دلفریب ہوتا ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ خوش نظر آتا ہے۔ فضاء میں مستی کے آثار و چہل پہل نمودار ہوتی ہے۔ انسان کے تمام حواس متحرک ہوجاتے ہیں اور کاہلی و سستی کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔ نیند کی کمی و بیشی معمول پر آجاتی ہے۔ موسم خزاں کی مایوس کن اور تیز و تند ہواؤں سے خلاصی مل جاتی ہے۔ بدن میں نیا خون پیدا ہوجاتا ہے۔ باغ و بہار کی سیر ذہن پر مسحور کن اثرات مرتب کرتے ہیں۔ چرند و پرند سب خوشحال اور تر و تازہ نظر آتے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے پرندے واپس لوٹتے ہیں اور فضاء پرندوں کی سریلی چہچہاہٹ سے گونج اٹھتی ہے ۔۔

جشن نوروز دنیا کے کئی ممالک میں منایا جاتا ہے لیکن اس کی ابتداء ایران میں تین ہزار سال پہلے زرتشتوں کے ہاں ہوئی، نو روز فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی “نیا دن” ہے۔ رومی، یونانی اور مصری تہذیبوں میں بھی باقاعدگی سے جشنِ نوروز منایا جاتا تھا ۔۔۔

گاوری زبان میں نوروز کو ” بسنوں آیان ” کہتے ہیں  جوانوں، بوڑھوں، عورتوں کو اس دن کا شدت سے انتظار ہوتا ہے اور دن بدن مقامی (حساب گوئی) یعنی گاوری کلینڈر کے ماہرین سے اس دن کے حوالے سے پوچھ گچھ کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ اس دن کے آغاز سے ہی ان کی تکالیف جو موسم سرما کی بدولت ہےخاتمہ ہو جائے گا۔ بسنو آیان ہی ان کو خوشحالی کی نوید سناتا ہے۔ہمارے ہاں قدیم عہد میں مقامی طور پر اس دن کو پابندی کے ساتھ  منایا جاتا تھا اور اس تہوار کی بڑی اہمیت تھی۔ برزگوں کے قول کے مطابق اس تہوار کی تیاریاں کچھ عرصے پہلے سے کی جاتی تھی۔ نئے پوشاک تیار کئے جاتے تھے۔ روایتی ڈشز بنانے کے لئے دودھ اور دوسرے لوازمات جمع کئے جاتے تھے۔ اس دن پورا گاوں مل کر ایک جگہ اکٹھے ہوجاتے تھے۔ چھوٹے بچے بچیاں خوبصورت بیل بوٹے والی کڑھائی کندہ لباس زیب تن کئے ہوئے ہوتے تھے۔ بزرگ چوغہ اور پکول پہنے ہوئے ہوتے تھے۔ لوک گیت یعنی ” رو ” اور رقص و سرود کی محفلوں کا انعقاد ہوتا تھا۔ آلات موسیقی میں دف، طبلہ اور بانسری قابل ذکر تھے۔ محفل برخاست ہوتے ہی ثقافتی کھانے پیش کئے جاتے تھے۔ جس میں پنیر، دیسی گھی، ملائی، جوار کی روٹی، مقامی ڈرائی فروٹ اور آٹے کا شیرہ جسے مقامی زبان میں مل کہتے ہیں خصوصی طور پر شامل کیا جاتا تھا۔ اگر ایک طرف یہ تہوار ایک صحت مند تفریح تھی تو دوسری طرف یہ مقامی لوگوں میں یکجہتی، یگانگت اور باہمی تعاون کے مادوں کو بھی فروغ دیتا تھا تاکہ مشکلات اور مصائب کا مل جل کر مقابلہ کیا جا سکے۔ یہ تہوار پورے دردستان بیلٹ یعنی شمالی علاقہ جات میں نمایاں حیثیت رکھتا تھا۔ بعد میں یہ تہوار آہستہ آہستہ متروک ہوتا گیا اور اب یہ “Obsolete  Festival” کہلاتا ہے۔ شاید یہ قبل از اسلام کے باقیات تھے جو مذہبی سرگرمیوں کے نتیجے میں دم توڑ گئے لیکن اب اس کے بجائے صدقات، خیرات، گھروں اور مسجدوں کی لیپائی کا انتظام و انصرام کیا جاتا ہے۔ ہمارے اسلاف بڑے سلیقے سے موسم بہار کا گرم جوشی سے استقبال کرتے تھے

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...