مقامی نسلی اور لسانی ناموں کی کہانی اور چترال

0 350

مقامی نسلی اور لسانی ناموں کی کہانی اور چترال

جرمنی کا سرکاری نام وہاں کی جرمن زبان میں Deutscheland ہے لیکن برطانوی انگریزی میں اسے Germany کہا جاتا ہے۔ اسے فرانسیسی میں Allamand ( عربی لہجہ الامان) اور اطالوی زبان میں Tedeschi کہا جاتا ہے۔۔ غیر یورپی دنیا بھی Deutschland کو انگریزی کی تقلید میں جرمنی ہی کے نام سے جانتی ہے۔۔

– India, China, Egyp-

بالترتیب ہندوستان، ژونگو (Zhonggoo) اورمصر کے لئے انگریزی نام ہیں یاد رہے کہ چین کا سرکاری نام Zhonggooہے اور چینی زبان کا سرکاری نام ژونگوین(zhongwen) ہے۔

– Deutsch جرمن زبان کا سرکاری نام ہے لیکن اسے انگریزی میں جرمن کہا جاتا ہے۔۔ وغیرہ

انڈونیشیا کا نام اس ملک کے لوگوں کے لہجے میں Indonesia ہے لیکن ہالینڈ(Netherlands) میں اس کا تلفظ Indonesie ( ای کے اوپر دو نقطے) کیا جاتا ہے۔۔

دوسری طرف ہالینڈ کے لئے انڈونیشیائ نام Negri Bilanda ہے۔۔

ہالینڈ (Netherlands) کے لئے بعض یورپی ممالک میں Dutchland نام معروف اور مستعمل ہے۔

چترال کے لوگ سابق کافرستان کو ایک متحدہ ملک کے طور پر ‘باشگل’ کا نام دیتے تھے اور اب بھی کبھی کبھار بولتے ہیں حالانکہ وہاں کے لوگ اپنے ملک کے لئے یہ نام قدیم زمانے سے استعمال نہیں کرتے تھے نہ ہی انکا ملک کوئ متحدہ ملک تھا۔ البتہ وہاں صرف ایک چھوٹی سی وادی کا نام ‘بازگل’ تھا اور ہے۔۔

موجودہ نورستان کی پراسن وادی کے لوگ خاص چترال کے لئے شیمگل یا شیمیگل نام استعمال کرتے تھے، شاید اب بھی کرتے ہونگے۔۔

چترال کے لوگ سابق کافرستان کے گاوں ‘برگہ مٹال’ کو ‘لوٹ دیہہ’ کا نام دیا کرتے تھے۔۔

نورستان کے’ کام’ قبیلے کے لوگ، پشتون اور چترالی نورستان کی جن وادیوں کو وائگل کا نام دیتے ہیں، وہاں کے باشندے اپنی زبان میں اپنی ان وادیوں کو ‘کلاشم’ کہتے ہیں جسکے معنی کلاشہ کا وطن ہے، جو بگڑ کر یہاں کی کلاش وادیوں کے لئے کھوار میں ‘کلاشگوم’ کی شکل میں کبھی کبھی استعمال ہوتا ہے۔۔

نورستان میں ہزاروں کی تعداد میں موجود کلاشہ باشندے، جو اب مسلمان ہیں، اپنے ملک کو اب بھی کلاشم، خود کو کلاشہ اور اپنی زبان کو کلاشہ آلہ کہتے ہیں۔۔ وہاں کے ایک کلاشہ اسکالر اور مصنف سمیع اللہ تازہ کا کہنا ہے کہ انکی وادیوں کو وائگل کا نام ہمسایہ قبیلہ’کام’ اور بعد میں وہاں آکر آباد پشتونوں نے انکے ایک قبیلے’ وائ’ کی نسبت سے وائگل نام دے رکھا ہے حالانکہ انکے وطن کا کلاشہ نام کلاشم ہے۔۔

Chitral Pakistan

چترال کے باشندے دیر اور سوات کےکوہستانات کو بشقار اور باشندوں کو بشقارک کہتے ہیں مگر کوہستانی لوگ خود اس نام کی بنیاد سے واقف نہیں اور نہ ہی اسے استعمال کرتے ہیں۔ وہ خود کو اور اپنی زبان کو ایک نسلی گروہ کے طور پر گاوری بتاتے ہیں۔۔

چترال کے کھو کہلانے والے باشندے چیلاس، داریل، تانگیر وغیرہ علاقوں کے تقریبا شین باشندوں کو ڈانگیریک بولتے ہیں۔ ایک قیاس یہ بھی ہے کہ انہیں ‘تانگیر’ سے آنے کے حوالے سے تانگریک کہا جاتا ہے جو بگڑکر ڈانگیریک بن چکا ہے لیکن خود وہاں کے باشندے اس نام کو اپنے لئے کبھی استعمال نہیں کرتے، نہ ہی اس سے واقف ہیں۔۔

گلگت بلتستان کے شینا بولنے والے اور چیلاس سے آکر چترال میں آباد پھلورا زبان بولنے والےلوگ چترال کے کھووں کو ‘گوکھے، کلاش لوگ کھووں کو’پتو’ اور نورستانی لوگ کھووں کو ‘بلوں’ یا ‘بلیو’ نام دیتے ہیں۔۔

مندرجہ بالا تفصیلات کا علم یا اس بات کی بابت معلومات پہلے سے نہ ہوں کہ دنیا کے ممالک یا چھوٹے بڑے علاقوں کے باشندوں اور انکی زبانوں اور ثقافت کے ناموں کی املا اور تلفظ میں دوسری قوموں اور ممالک میں تبدیلیاں، بولنے اور لکھنے میں غیر مماثلت کیوں آتی ہیں تو واقعی میں مسلہ بنتا ہے، لوگ اس صورت حال کو اپنے ساتھ لسانی، ثقافتی تضحیک اور نہ جانے کیا کیا سمجھتے ہیں اور یہیں سے سوالات بھی اٹھتے ہیں۔۔چترال کے اندر بھی غیر مقامی لوگوں کی طرف سے مقامی مقامات کے ناموں میں لہجے یا املا کے حوالے سے تبدیلیوں کا شکوہ عام طور پر سنا جاتا ہے۔ خاص کر بڑے اعتماد سے یہ گلہ ہوتا ہے کہ چلو غیر زبان والے تو غیر زبان والے ہیں لیکن خود چترال کے اندر سرکاری دستاویزات میں مقامی ناموں کو کیوں تبدیل کرکے لکھا اور بولا جاتا ہے۔۔؟

اگر سچ بولا جائے تو اس طرح کا معاملہ صرف چترال کے خطے کے سلسلے میں ہی نہیں یہ ایک لسانی، ثقافتی، تاریخی اور ایک طرح کا ایک فطری عمل ہے جو ہر جگہ موجود ہے جئسا کہ آرٹیکل کے شروع میں کئ مثالوں کے ساتھ آگاہ کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو ذہنی طور پر مطمئن کیا جاسکے۔

کسی کا یہ خیال ہو کہ دنیا میں اس کی مثالیں موجود ہوں یا نہ ہوں لیکن دنیا نے اس کا نوٹس ہی نہیں لیا ہے، تو انکا وہ خیال مطالعے اور مشاہدے کے بیغیر ایک خیال ہی کہا جاسکتا ہے۔۔

بشریات کے ماہرین نے اس کا باقاعدہ مطالعہ کیا ہے، اسکے لئے اصطلاحات مقرر کئے ہیں اور اقوام عالم کے اندر مختلف اوقات میں اس سلسلے میں متعلقہ عالمی فورم پر ماہرین کی متفقہ آراء کو کاروائیوں کا حصہ بنایا جا چکا ہے۔ کنونشن اور اقوام عالم کے مابین اس بابت معاملات کے لئے روایات اور قانون کی روشنی میں ضابطے بھی ترتیب دئے جاچکے ہیں اور یہ عمل جاری ہے۔۔

ہوتا یوں ہے کہ کسی ایک مخصوص علاقے کے باسی اپنے علاقے، اپنی جغرافیائ شناخت کو اور اپنی زبان کو وقت کے ساتھ ساتھ کوئ نام دیتے ہیں۔ اسے داخلی نام کہا جاتا ہے۔ دوسری طرف اس جغرافیائ علاقے سے باہر کے لوگ یا باقی دنیا کے لوگ اس جغرافیائ علاقے یا اس گروہ یا انکی زبان کو اپنی طرف سے کوئ نام دیتے ہیں جو ایک طرح خارجی نام ہوتا ہے۔ استعمال دونوں کا ہوتا ہے تاہم مقامی طور پر رکھے گئے ناموں کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے اور وہی نام اس علاقے میں افیشل ناموں کی حئثیت رکھتے ہیں۔

چنانچہ ماہرین علوم بشریات نے ائسے ناموں کے لئے باقاعدہ طور پر اصطلاحات کا تعین کیا ہے اور انکی ذیلی تفصیلات کا بھی تعین کیا ہوا ہے۔ جو کہ حسب ذیل ہیں:

Ethnonyms

یہ لفظ دو یونانی الفاظ کا مجموعہ ہے۔ ethnos کے معنی قوم اور onoma کے معنی’ نام’ کے ہیں۔ یہ نام کسی جغرافیائ نسلی گروہ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ (بشریات کے ماہرین کے مطابق یہاں لفظ ‘نسلی گروہ’ سے مراد صرف کسی ایک جد کی اولاد نہیں بلکہ ایک زبان اور ایک ثقافت کے حامل مختلف لوگوں کا گروہ مراد ہے- راقم)

امریکہ میں ethnonym کی مثالیں لاطینی، سیاہ فام، افریقی، ہسپانوی وغیرہ سے دی جاسکتی ہیں یعنی کسی ملک کے اندر لسانی، جغرافیائ اور ثقافتی گروہوں کے نام شامل ہوتے ہیں۔ لیکن یہ نام بھی دو ذیلی حصوں میں endonym اور Exonym میں تقسیم ہے۔۔

علم بشریات پر عبور رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ethnonyms یعنی ناموں میں تبدیلیاں بھی بسا اوقات آتی رہتی ہیں۔ کوئ پہلے سے رکھا ہوا نام رائج ہونے کے باوجود بھی خفگان اور ناپسندیدگی کا باعث قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں وہ gypsy کی مثال دیتے ہیں جس کے معنی ‘خانہ بدوش’ کے ہیں جو رومانی گروہ کے لئے استعمال تھا۔۔دیگر مثالیں vandal, Bushman, barbarian اور philistine کی پیش کرتے ہیں۔ افریقی نسل امریکیوں کے لئے پہلے پہل مستعمل اصطلاح “colored” (سیاہ فام) منفی تاثر کا حامل تھا اس لئے تبدیل کرکے انکے لئے ‘افریقی امریکن’ کا نام دیا گیا۔ یعنی کسی انڈونم یا اکزونم سے کوئ برا تاثر ابھرتا ہو تو اسے تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے ۔

ماہر بشریات Ronald Cohen نے 1978 میں یہ دعوی کیا

کہ “نسلی گروپوں کی نشاندہی کے عمل میں سوشل سائینٹسسوں نے مقامی زمینی حقائق کے برعکس نسلی گروپوں کے ناموں کا اکثر غلط تعین کیا ہوا ہوتا ہے۔”

Endonyms

کسی جغرافیائ علاقے کے باشندوں اور انکی زبان کے لئے وہاں کے باشندوں کے اپنے رکھے ہوئے ناموں کو کہا جاتا ہے۔

یونانی الفاظ endo ( اندرونی) اور nymo ( نام) کا مرکب ہے۔ یعنی اندورنی طور پر رکھا گیا نام۔۔

Exonym

کسی جغرافیائ مقام/ علاقے اور کسی نسلی گروہ اور انکی زبان کے لئے رکھے گئے نام جو اس جغرافیائ علاقے سے باہر کے لوگوں نے اس کے لئے رکھا ہوتا ہے۔ اس کی مثال جرمنی کی دی جاسکتی ہے، وہاں سب سے بڑا نسلی گروہ جرمنوں کا ہے جنہیں یہ نام لاطینی زبان کے لفظ ‘جرمن’ سے اخذ کرکے انگریزی زبان میں دیا گیا ہے حالانکہ خود جرمن اپنے آپ کو Deutsche ( ڈیوچے) بولتے ہیں۔

Dymonym

ماہرین بشریات ایک نام dymonym کا بھی اضافہ کرتے ہیں اس کی تعریف وہ کچھ یوں کرتے ہیں:

” اس اصطلاح کا اطلاق کسی ایک علاقے میں موجود تمام باشندوں پر انکی نسلی وابستگی، مذاہب، زبان یا کسی دیگر خصوصیات کے قطع نظر ہوتا ہے’۔ یعنی ایک متحدہ قومی یا علاقائ نام، جئسے چترال، چترالی اور سوات، سواتی وغیرہ۔۔

Toponyms

کسی جگہ کا نام، خاص کر اس کی طبعی خصوصیات کے حوالے سے دیا گیا نام۔۔ یہ نام بھی انڈونم اور ایکزونم کے طرز پر مقامی اور بیرونی دونوں لوگوں کی طرف سے دیا گیا ہوتا ہے۔

علم بشریات کے مطابق topographical ناموں کے رکھنے کا بھی رواج ہوتا ہے ، یعنی کسی جگہے کی جسمانی ہئیت و ترتیب کی روشنی میں رکھے گئے نام۔ تاہم ائسے جغرافیائ ناموں کے سلسلے میں کہا جاتا ہے کہ یہ نام مقامی طور پر مرکب ( compound) صورت میں ہوتے ہیں’ یعنی دو الفاظ سے بنے ہوتے ہیں۔۔۔

جئسا کہ ایکزونم کی تعریف اوپر کی گئ، دنیا میں ان کے استعمال ہونے، مروج ہونے اور انہیں قبولیت حاصل ہونے کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ جن کا ذکر پہلے بھی کیا گیا ہے تاہم یہاں پر مزید ممالک کے انڈونمز اور اکزونمز کی مثالیں پیش کی جاتی ہیں جن میں مختلف ممالک کی زبانوں، شہروں اور ممالک کے ناموں میں قابل غور حد تک فرق کو دیکھا جاسکتا ہے :

Vienna انگریزی۔۔

Wein….جرمن

Veinne.. فرانسیسی

Becs..ہنگری زبان

Veina.. ہسپانوی

Wenin..ہالینڈ کی زبان

Norway..انگریزی

Norge ناروے کی

Norrege.فرانسیسی

Norregiaہنگری کی

Venice.. انگریزی

Venezia.. اطالوی

Venise..فرانسیسی

Velence.ہنگری

Venecia. ہسپانوی

Venetie..ہالینڈ کی زبان

ایکزونمز کا مطالعہ دنیا اور خطوں کے نقشے بنانے والوں کے لئے ضروری ہوتا ہے اور انکی اہمیت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب بیرونی دنیا کی نمائندگی کرنی ہوتی ہے۔۔

اوپر دئے گئے ویانا، ناروے اور وینس کے شہروں کے مختلف ممالک میں مروج ناموں ( exonyms) کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان تینوں ناموں میں انگریزی ایکزونمز ہی ہمیں دنیا میں معروف نظر آتے ہیں یعنی ویانا، وینس اور ناروے۔۔ حالانکہ ان شہروں کے اصل باشندے انہیں اپنی زبان میں دوسرے ناموں اور تلفظ سے پکارتے ہیں۔۔کیوں۔؟؟؟

کیونکہ ہمارا ذریعہ تعلیم۔انگریزی ہے، دفتری زبان انگریزی ہے۔ ہمیں جرمنی کے اصل نام جاننے کی کیا ضرورت پڑتی ہے۔ انگریزی نام جرمنی اتنا معروف ہے کہ جرمن خود بھی اپنی مصنوعات اور بیرونی تجارت کی ساری مصنوعات میں made in Germany لکھا کرتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں جس زبان میں تعلیم میسر ہو انسان کا رجحان دنیا کے ممالک، شہروں اور انکی زبانوں کے نام بھی اسی زبان میں لینے کا خوگر یا پابند ہو جاتا ہے ۔ائسے میں مقامی لوگ بھی اپنے ملک، زبان اور ثقافت وغیرہ کے نام لکھنے اور بولنے میں بھی اس زبان کا لہجہ اختیار کرتے ہیں جس میں انہوں نے پڑھا ہوتا ہے۔ مثلا ایک چترالی فون پر دوسرے چترالی کو کہیگا کہ “اوا چھترارو بی اسیتم” لیکن اس بات کو وہ کسی چترالی یا دیگر کے نام خط میں اردو میں لکھے یا زبان سے بولے تو کہیگا کہ ” میں چترال گیا ہوا تھا”۔۔ اور اسی جملے کو انگریزی میں لکھے یا بولے تو کہیگا یا لکھیگا کہ ” I had

gone to Chitral.”

غرض بات یہ ہے کہ کسی زبان کے لہجے کو اورکسی زبان کی علامات کو استعمال کرکے اس زبان کے ساتھ انصاف کرنا ہوگا جس میں بات ہورہی ہو یا کچھ لکھا جا رہا ہو۔۔۔غیر مقامی لوگ تو ہیں ہی غیر مقامی، خود چترال کے مقامی سرکاری ملازمین کمپیوٹر/ ٹائپ رائٹر پر کوئ سرکاری چھٹی لکھنے بیٹھیں تو وہ جب انگریزی میں لکھ رہے ہوں تو اس زبان کے تلفظ میں۔ اور اگر اردو میں لکھ رہے ہوں تو اردو تلفظ میں چترال کے مقامی ناموں کو لکھیگا یا بولیگا مقامی زبان میں نہیں، کیونکہ دفتری اور قومی زبانوں کی حئثیت سے انگریزی اور اردو ہی ملک میں رائج ہیں اس لئے بلوچ، پشتو، پنجابی، سندھی اور دیگر چھوٹی چھوٹی مقامی زبانوں میں مستعمل ناموں کو اسی شکل میں لکھنا پھر ممکن نہیں ہوتا۔۔ یہاں پر اصل معاملہ

ذریعہ تعلیم اور قومی اور دفتری زبانوں کا ہے جن میں لہجہ، تلفظ اور زبانوں کی علامات کا اہم کردار ہوتا ہے جو بالترتیب اردو اور انگریزی ہیں۔

دوسری بات مقامی زبان کھوار کی بعض مخصوص علامات کا باہر کی دنیا اور خود ملک کی دوسری تمام اکثریتی زبانوں کے بولنے اور لکھنے والوں کے لئے مشکل پڑنا ایک اہم وجہ ہے کیونکہ چترالی کھوار اور اسی طرح دیگر مقامی زبانوں کے ناموں کا انکی اصل علامات اور تلفظ کے ساتھ ادائیگی کا کوئ قائدہ کلیہ یا انتظام سرکاری تعلیمی اداروں کے نظام کا حصہ نہیں ہے۔

Exonyms کے بارے میں اقوام متحدہ کے متعلقہ شعبے کے ذمہداروں کا کہنا ہے کہ اس میں شک نہیں کہ یونائٹڈ نیشنز کسی بھی زبان کے استعمال میں مداخلت نہیں کرسکتی، کسی بھی لسانی گروہ کو حق حاصل ہے کہ اپنی زبان کے الفاظ دنیا میں استعمال کرے جسے کسی بھی بیرونی اتھارٹی کو منع کرنے کا اختیار نہیں لیکن دنیا کے ممالک کے اندر بہتر رابطہ کاری کے سلسلے میں طریقہ کار/ گائڈ لائن ہی وضع کرسکتا ہے تاکہ exonyms کے استعمال میں کمی آسکے۔۔۔

Exonym کے بننے اور انکے استعمال کی بھی کئ وجوہات ہوتی ہیں وہ نام وئسے شوقیہ نہیں رکھے جاتے۔ چنانچہ ایکزونمز ناموں کے پڑنے کے سلسلے میں ماہرین ذیل وجوہات کا ذکر کرتے ہیں

1- الفاظ کا آپس میں کوئ تاریخی جوڑ یا تعلق ہوتا ہے،جئسے کہ جرمنی اور ڈیوچ لینڈ کا ہے۔۔

2- کچھ الفاظ علمی ہوتے ہیں یعنی آپس میں ایک دوسرے سے معرفت کا عمل کار فرما ہوتا ہے, جو صرف تلفظ اور املا کے شعبے میں تبدیل ہوتے ہیں۔

3- ایکزونمز نہ صرف تاریخی اور جغرافیائ وجوہات کی بنیاد پر بنتے ہیں بلکہ خارجی زبان کے الفاظ کی لکھائ، ادائگی اور تلفظ میں مشکلات بھی وجوہات میں شامل ہوتی ہیں۔۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...