داردستان کا تعارف

0 81

  داردستان کا تعارف

تحریر: Sviatoslav Kaverin

ترجمہ؛ عمران خان آذاد

دارد کچھ لوگوں کا گروپ ہے جو داردی زبان بولتے ہیں جس کا تعلق ہند آریائی زبانوں سے ہیں۔ یہ لوگ کابل، چترال، لداخ اور جنوبی کشمیر کے درمیانی علاقوں میں رہتے ہیں جس کی سرحدیں افغانستان، پاکستان اور ہندوستان سے ملی ہوئی ہیں۔

لفظ دارد سنسکرت زبان کا لفظ ہے اور ہیرودیت (Herodotus) نے اسے ” تاریخ “ میں استعمال کیا ہے۔ انگریز ماہر نسلیات Gottilieb William Leitner  پہلے شخص نہیں تھے جنہوں نے لفظ دارد اور داردستان استعمال کیا  البتہ انہوں نے یہ نام اپنے تحریروں اور کتاب Dardistan 1866-1886 and ء1893ء میں ہمالیہ کے مغرب میں رہنے والے پہاڑی قبائل کے لئے مختص کیا۔ Leitner لکھتے ہیں۔  ”روڈ جیسا کہ یہ ہے۔ یہ انڈس کو عبور کرتا ہے اور کوہستان اور دارد ملک کے حد تک پہنچتا ہے۔جہاں اسے شیناکی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں شین ذات کے لوگ آباد ہیں۔ دوسرے الفاظ میں داردستان اس علاقے کو کہا جاتا ہے جہاں شین لوگ حکمران ہے اس لئے اسے شیناکی کہا جاتا ہے“۔   شین لوگ خاص اپنے لیے دارد استعمال کرتے ہیں جبکہ ان کے پڑوسی یہ نام دوسروں گروپوں کو بھی دیتے ہیں۔ G.E Clark نے ” دارد کون تھے“ کے عنوان سے نو آبادیاتی نسلیاتی ادب کے جائزے میں دارد کے اصل کے بارے میں نظریات کی اصطلاح اور ارتقاء کی تاریخ کو واضح کیا۔ انہوں نے قوموں کی تعمیر کے بارے میں دلچسب خیالات بھی پیش کیے۔ داردیک لوگوں کے پڑوس میں رہنے والے دوسرے لوگ جیسا کہ گجر اور پشتون ان کے لئے کوہستانی یعنی پہاڑی لوگوں کا نام استعمال کرتے ہیں۔ ماہرین لسانیات نے کوہستانی نام دارد زبانوں کے ایک گروپ کے لئے بھی استعمال کیا ہے۔

اپنے ایک مضمون Dardic and Kafir Languages  میں Georg Morgenstierne  نے دارد کی اصطلاح کے بارے میں لکھا ہے۔ ” دارد درجن بھر متفرق ہند آریائی زبانوں کے ایک گروپ کا نام ہے جو  پشتون قبائل کے حملوں اور ہند آریائی  کے بڑھتے ہوئے اثرات سے الگ تھلگ ترقی پذیر ہے“۔

Richard Strand  نے ہند آریائی زبانوں کی لسانی وضاحت کی ہے۔

”ہند یورپی لسانی خاندان میں ہند آریائی زبانیں  اور نورستانی زبانیں ہند ایرانی گروپ کا ایک ذیلی گروپ ہے

آثار قدیمہ کی حالیہ اور جدید تحقیق کے مطابق دو ہزار ملین قبل مسیح کے آغاز میں گھڑ سوار قبائل بحر الکاہل کے قبائلی علاقے قفقاز کے جنوب میں اپنے آبائی علاقوں سیاہ اور کیسپین سمندر کے درمیان پھیلنا شروع ہوئے یہاں تک کہ مشرقی وسطی کے  بیشتر حصے شام سے لے کر ایرانی سطح تک پر قابض ہوئے۔ یہ ہند آریائی لوگ مشرق سے ایران اور سیستان بلوچستان تک، جنوب کے طرف سے سندھ تک جبکہ شمال میں مرجینا اور باختریہ تک  پھیل گئے۔ اٹھارہ سو قبل مسیح میں درمیانی یا وسطی راستے کے ذریعے کچھ ہند آریائی قبائل نے ہلمند دریا کے میدانوں سے ہوتے ہوئے دریائے کابل کو کراس کیا اور سوات پہنچ گئے۔ دو ہزار  ملین قبل مسیح کے اختتام تک مرجینا اور باختریہ کے شمالی ہند آریائی ایرانی شاخ کے آریا سے مغلوب ہوئے۔ اس خطے کے جدید ہند آریائی زبان بولنے والے مغرب کے ہند آریائی زبان بولنے والوں میں سے بچ جانے والے قبائل ہیں۔ یہ ہند آریائی ان  ابتدائی آریائی خانہ بدوشوں میں سے ہیں جنہوں نے دریائے کابل کے میدانوں کو آباد  کیا۔اس خطے کے ہند آریائی زبانوں کی مشترکہ لسانی ثقافتی ورثہ قدیم ہند آریائیوں کے ابتدائی دور سے متعلق ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی زبان کابل اور سندھ کے علاقائی بولیوں کے جھرمٹ میں مختلف ہوگئی۔ گزشتہ ہزار سالوں کے دوران افغان حملہ آوروں کے وجہ سے پشتو میدانی علاقوں میں ہند آریائی زبانوں پر غالب آچکی ہے جبکہ پہاڑی علاقوں میں ہنوز ہند آریائی زبانیں زندہ ہیں۔ پندرہویں اور سولویں صدی میں دیر اور سوات میں افغان توسیع پسندی کی وجہ سے مقامی لوگ  جنہیں اب کوہستانی کہا جاتا ہے سوات، دیر اور انڈس  کوہستان جانے پر مجبور ہوئے۔  لغمان، کابل اور سندھ کے زیریں علاقوں میں پشتو زبان نورستانی اور ہند آریائی زبانوں کی جگہ لے رہی ہے۔ پشتو کی غالب آنے کی سب سے بڑی وجہ مقامی سودیسی لوگوں کا پشتون عورتوں سے شادیاں ہیں۔ ان شادیوں کے نتیجے میں جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ پشتو کو مادری زبان  کے طور پر بولتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں۔ داردیک لوگ اپنے پورے گروپ کے لیے کوئی مخصوص نام استعمال نہیں کرتے۔ سوات کے توروالی اور گاؤری لوگ اپنی شناخت کے لئے روایاتی مخصوص نام استعمال کرتے ہیں التبہ دوسروں کو تاریخی طور پر لا علمی ہوسکتی ہے۔

شینا بولنے والے ذیلی گروپوں میں تقسیم ہے۔ شین، یشکن، رونو اور دوسرے نچلے ذات جیسے ڈوم۔ یہ یقینی طور پر مختلف نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے داردی لوگ ہے۔ یا جیسا کہ عام طور پر دنیا کے زیادہ تر لوگ جو مشترکہ زبان کے وجہ سے متحد ہوتے ہیں جبکہ نسب مختلف ہوتا ہے۔

شینا بولنے والے بنیادی طور پر شناخت کے لئے پہلے ذات کا نام استعمال کرتے ہیں پھر علاقے کا، مثال کے طور پر گلگتی، استوری وغیرہ۔ آج کل زبان کا نام شینا پورے گروپ نے نسلی طور پر قبول  کیا ہے۔ مشرقی افغانستان کے پشائی لوگ اپنے ذیلی گروپ کے ناموں کو ترجیح دیتے ہیں۔ جدید دور میں کچھ برادریوں کو  چھوڑ کر  سب نے اس نام  کو قبول کیاہے۔ مثال کے طور ماہر لسانیات نے ننگا راچ میں رہنے والوں  کو پشائی شناخت کیا ہے لیکن وہ لوگ  تذکرے میں اپنے آپ کو نورستانی کہتے ہیں حالانکہ وہ نورستانی شاخ کی کوئی زبان نہیں بولتے۔ کچھ چھوٹے نسلی گروہ گاوں کے ناموں کو پہچان کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر گنگل کے گنگالی، شمششت کے شمشتی۔

کشمیریوں کو چھوڑ کر جو بہت پہلے ہندو مذہب میں تبدیل ہوئے تھے اور ہندوستانی قرار پائے تھے داردیک لوگ حالیہ دنوں تک اپنے قدیم عقائد کو مان رہے تھے۔ ان میں سے پیشتر نے پچھلے پانچ سو سالوں کے دوران  دوسرے مذاہب قبول کیے۔ نورستانی لوگوں کے آباء و اجداد سمیت داردیک قبائل مسلم  دنیا میں ہندوکش کے کافر کے نام سے جانے جاتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے اسلام قبول کیا۔ جس کے بعد  انہیں جدیدی، شیخ اور نیمچہ کے لیبل دیئے گئے۔ جبکہ اس پورے علاقے کو کافرستان، بولور، یاغستان اور  کوہستان کے نام سے جانا جاتا تھا، تاہم یہ نام ایک ہی علاقے کا حوالہ نہیں دیتے تھے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی سرحدیں بھی تبدیل ہوتی رہتی تھی۔ اکیسویں صدی میں صرف دو داردیک نسلی گروپ چترال کے کلاشہ اور لداخ کے بروکپا اپنے قدیم روایتی مذہب پر عمل کر رہے ہیں۔چترال کے مہتر  غیر مسلوں کے معاملے میں رواداری سے کام لیتے تھے اس لیے کلاش زبردستی تبدیلی مذہب سے بچ گئے۔ بروکپا شینا گروپ کے ذیلی شاخ مینارو کا تبتی نام ہے جو صدیوں پہلے لداخ ہجرت کر گئے تھے۔ یہ لوگ بدھ مت کے ساتھ ساتھ اب بھی اپنی قبائلی مذہب کے پیروکار ہیں جو لوک عقائد کے روادار ہے اور مقامی دیوتاوں اور روحوں کو آسانی سے مربوط کرتا ہے۔ داردیک لوگوں کے قبل از اسلام اور بدھ مت کے عقائد متنوع تھے۔ ہمارے پاس صرف شینا اور کلاش لوگوں کے  مذہبی نظام کے بارے میں درست اعداد و شمار موجود ہیں۔ دوسروں کے بارے میں معلومات  صرف بالواسطہ اعداد و شمار یا کمزور ثبوتوں کے مدد سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم کچھ محقیقن اس کی کوششیں کر رہے ہیں۔ شینا مذہب میں چار اہم عنصر شامل ہیں۔ دیوتاوں کی پوجا، شکاری مسلک، شمن پرستی، پاکی ناپاکی اور دھوئی۔ شینا دیوتاوں کا تعلق خطوں کے لحاظ سے مختلف تھا لیکن ان میں سے بیشتر ہندوستانی غیر یورپی النسل تھے۔ غالبا یہ مشرقی ہندوکش میں رہنے والے لوگوں کے دیوتا تھے جنہیں  نئے آنے والے ہند یورپی بولنے والوں نے اپنا لیئے۔ مخصوص پہاڑوں اور چٹانوں سے جڑے ہوئے ان کے گھروں کے قریب مقدس مقامات پر دیوتاوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ بروکپا لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ان کی دیوی ”شیرنگ مو“ نے ان کے ساتھ لداخ ہجرت کی۔ ہم زیادہ تر خواتین دیویوں کے نام جانتے ہیں۔وادی استور میں گلگت بلتستان کے اندرونی گروپوں میں خواتین ” سرپرستوں“ کا گروپ انیسویں صدی  کے وسط تک موجود تھا۔ سب سے اہم مرد دیوتا کا نام بابا لاشین ہے ہمیلنگ، گیاگام اور ریمالا گاوں میں بروکپا کا خدائے اعلی۔ اور شری بادات گلگت بلتستان کا ایک افسانوی بادشاہ۔ بروکپا کے علاقے اور گلگت بلتستان کے  دیوتاوں کے مندروں کے یادگاروں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے اندر بھی روحانی دنیا کی نمائندگی کرنے اور رسومات میں بہت مماثلث پائی جاتی ہے۔ اسٹریلوی ماہر نسلیات کارل جیٹمار شینا عقائد کے مختلف درجوں کے بارے میں لکھتے ہیں۔

” شمانیزم کے ساتھ ساتھ شکاری فرقہ بھی شینا مذہب کا ایم عنصر ہے۔ یہ ابھی ابھی بیسویں صدی کے وسط تک یہاں رائج تھا اور آج بھی موجود ہے۔ شکار میں کامیابی کے لئے انسان کو پہاڑی پریوں کو خوش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ان کے قبضے میں جنگلی بکریوں کے ریوڑ ہوتے ہیں۔ شکار سے ایک دن پہلے انسان کو گائے سے بنئی مصنوعات سے پرہیز کرنی چاہے۔ جنسی احتلام سے گریز کرنا چاہئے اور صنوبر کے دھوئیں سے اپنے گھر کو صاف کرنا چاہئے“۔

شمانیزم کا تعلق ان پریوں سے بھی ہے جو مراقبے کے دوران شمن کو مستقبل کے بارے میں بتاتے ہیں۔ انہیں شفایابی کی طاقت عطا کرتے ہیں اور لوگوں کو  بھوتوں اور چڑیلوں سے بچاتے ہیں۔ پریوں کا بنیادی نام ” پری “ ہے جو فارسی زبان سے نکلا ہے جبکہ دوسرا نام ” راچی “ ہے جو سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ پاکیزگی اور ناپاکی کی اقسام واضح طور پر غیر یورپی نژاد ہے۔ انتہائی ناپاک چیزوں کا تعلق نشیبی علاقوں اور گائیوں سے ہیں۔ یہ گائیوں کی رتھ اور دیوتاوں کے عزت کے ساتھ ویدک سے متصادم یعنی I E سے پہلے کے باشندے ہیں۔ ایک اور ناپاک چیز عورت کی جنسیت ہے۔ماہواری کے دوران خواتین خاص طور پر ناپاک سمجھی جاتی ہے اور مردوں کو ان سے ملنے سے گریز کرنا چاہئے۔ ایسی خواتین کو مقدس مقامات اور قربان گاہوں پر نگاہ بھی نہیں ڈالنی چاہئے۔عمومی طور پر سب سے زیادہ خالص جانور  بکرے ہیں خاص کر پہاڑی بکرے اور مارخور۔ پہاڑی چوٹیوں اور گلیشئرز کے بعد اونچے چراگاہیں جہاں یہ رہتے ہیں دوسرے خالص ترین مقامات سمجھے جاتے ہیں۔  بکری کا گوشت اور گھی مکھن دیوتاوں اور پریوں کے بھینٹ چڑھایا جاتا ہے۔ شا بلوط اور صنوبر مقامی نباتات میں پاکیزگی کی  علامت ہیں۔ کلاشہ مذہب شینا عقائد اور نورستانی کافر مذہب کے عناصر کو یکجا کرتا ہے۔کچھ دیوتاوں کے تصویر واضح نورستانی ہے، ساگا دیوتا مہاندیو ۔ مثال کے طور پر یہ نورستانی ماندی کے برابر ہے اور ساتھ ساتھ مہادیوا ہندو دیوتا شیو کا خاکہ بھی ہے۔ جنگ کے دیوتا سجیگور نورستانی دیوتا گیش سے ملتا جلتا ہے لیکن شینمو نام کی دیوی واضح طور پر شینا مندروں سے تعلق رکھتی ہے۔ شینا بروکپا دیوی شیرنگ مو کے طرح ہی شکار کا مسلک کلاشا لوگوں میں بھی موجود ہے تاہم شمانیزم کچھ دہائیاں قبل معدوم ہوگیا تھا۔ مزید معلومات کے لئے  Alberto اور  Augusto Cacopordo کے کام کو دیکھا جا سکتا ہے جو آن لائین دستیاب ہے، انہوں نے پرستان کا تصور بھی دیا ہے۔ کھو لوگوں کے قبل از اسلام مذہب کے بارے میں ہم صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ اس میں شکار کی ایسی ہی روایات تھی اور غالبا اس کا شین مذہب سے بہت قریبی تعلق تھا کیونکہ کھو اور شینا ثقافت بالکل ایک جیسی ہے۔ کلاشا، کھو اور شینا مذہبی نظام کے بارے میں کارل جیٹمار نے اپنی کتاب ” ہندوکش کے مذاہب “ میں تفصیل بیان کیا ہے۔ اس کا انگریزی ورژن  افغان نورستان کے سابقہ کافروں تک محدود تھا البتہ روسی اور جرمن ایڈیشن زیادہ مکمل ہیں۔

قبل از اسلام پشائی دور کو سولویں صدی میں درویش محمد نے فارسی تصنیف”  صفت نامہ“ میں یاد کیا ہے جسے G. Scarcia  نے 1965ء میں شئر کیا تھا۔ اس کتاب کے تحریروں سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ پشائیوں کے آباء و اجداد شمانیزم کے پیروکار تھے، شراب پیتے تھے اور بکریوں کی قربانیاں دیتے تھے۔ان کے پاس کھلے محفوظ ٹھکانے، قبائلی مکانات اور بت بھی تھے۔کتاب کے متن میں تین دیوتاوں ” پن داد، شروے اور لامندے“ کے نام ملتے ہیں۔ G. J. Daushvili  نے متعد مضامین میں قدیم پشائی مذہبی نظام کے تعمیر نو کا جائزہ لیا ہے ) یہ روسی زبان میں دستیاب ہیں (۔ Daushvili  کے مطابق” پشائی اور دوسرے مغربی داردیوں میں ہم آہنگی کا مذہب تھا جس میں شکاری فرقے، نورستانی کافر مذہب اور شیویت، ہندومت کے عناصر شامل ہیں“۔آج کل داردیوں کی اکثیرت مسلمان ہیں لیکن  کچھ پرانے عقائد اور رسومات کو اسلام میں ضم کیا گیا ہے۔ پہاڑی پریوں کی قربانی، شمانیزم کے عناصر، قربانی کی جگہوں پر شکار جنگلی جانوروں کے سینگ رکھنا یہ خصوصیات پامیر کے لوگوں میں بھی عام ہے۔ لیکن پچھلے دہائیوں کے دوران مقامی عقائد کو پاک کیا جا رہا ہے اس لیے یہ خصوصیات ختم ہوتی جا رہی ہے۔

سوات اور انڈس کے دارد لوگوں کے قدیم مذہب نے بہت کم نشان چھوڑے ہیں لیکن ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ یہ کلاشا اور نورستانی مذہب کے قریب تھا۔ Fredrik Barth  کے ذریعے کچھ اعداد و شمار  ”Indus and Swat Kohistan- an ethnography survey “ میں شایع ہوئے تھے۔ ماضی میں کوہستانی لوگ انتھروپومورفک شخصیات اور شراب بنانے کے ماہر تھے۔ صرف ایک کوہستانی دارد دیوی کا نام محفوظ ہے۔ ایک توروالی دیوی دارا کا۔

تاریخی طور پر دارد لوگ اونچے پہاڑوں میں مال مویشیوں کے ساتھ رہتے تھے تو اس وجہ سے انہیں کوہستانی کہا جانے لگا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے داردی برادریوں کو حملہ آوروں نے اونچے پہاڑوں کے طرف دھکیلا۔ اس وقت اس طرح نسلی  طور پر الگ تھلگ رہنے کے وجہ سے داردی بولیاں اور ثقافت آج تک زندہ ہے۔ ناقص مٹی اور قابل کاشت رقبے میں کمی کے وجہ سے  داردیک علاقوں میں زراعت بہت مشکل تھی اس لئےزراعت  دریاوں کے دھار تک محدود تھی۔ ایسے میں لوگ پہاڑوں اور جنگلوں میں مویشی پالنے اور شکار پر زندہ رہ سکتے تھے۔ رہائش کے روایاتی اقسام ایک علاقے کے دوسرے علاقے سے مختلف ہیں۔ مشرقی داردستان کے لوگ شینا بشمول بروکپا اور کھو گاوں میں قلعے بناکر رہتے تھے جسے کوٹ کہا جاتا تھا۔ اب وہ ” چہار ہانہ“ قسم کے گھروں میں رہتے ہیں جو پامیر میں بھی عام طور پر ہے۔ بروکپا لکڑی کے دو منزلہ مکانوں میں رہتے تھے۔ کلاشہ اور پشائی لکڑی اور پتھروں سے بنے نورستانی قسم کے گھروں میں رہتے تھے جو پہاڑی  ڈھلوانوں پر سیڑی نما شکل میں بنائے جاتے تھے۔ کوہستان کے دارد برادریاں مٹی، پھتروں اور لکڑی سے بنے گھروں میں رہتے تھے۔ کنڑ کے دارد پھتروں اور مٹی سے بنے تین منزلہ بڑے بڑے مکانوں میں رہتے تھے۔ کوہستانیوں اور کلاش لوگوں کے گھروں میں دروازوں اور ستونوں پر نورستانیوں کے طرح نقش و نگار پائے جاتے تھے۔ داردیک مردوں کا روایتی لباس اونی تھا جبکہ عورتیں روئی سے بنے لباس پہنتی تھی۔بکریوں کی کھال سے بنے لباس کو بھی مرد و خواتین دونوں استعمال کر رہے تھے۔ بین القوامی  سطح پر مشہور پکول ٹوپی، جو  زیادہ تر مشرقی افغانستان اور تاجک پشتون اکثیریت سے وابستہ ہے دراصل داردیک روایتی ٹوپی ہے۔یہ بہت پہلے شینا اور کھو لوگوں کے زیر استعمال تھا۔ افغانستان میں تو یہ 1980 کہ دہائی میں پھیل گیا، لیکن کچھ پرانے تصاویر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ 1885 کے شروعات میں باشگالی کافر مشرقی کاٹا قبیلہ پکول استعمال کرتے تھے۔ وہ اپنی مادری زبان میں اسے شوکوکور کہتے ہیں جبکہ پکول دراصل پامیری لفظ ہے۔ تاریخی طور پر تمام داردیک لوگوں کی کوئی مشترکہ شناخت نہیں تھی۔ اب بہت سے پڑھے لکھے قبائلی ممبران اور چترال اور گلگت کے طلباء اپنے آپ کو دارد اور اپنے علاقے کو داردستان کا حصہ سمجھتے ہیں، یعنی دارد دیس۔ داردستان تحریک اس کا سیاسی اظہار ہے۔ متحرک داردیک لوگوں کو شمالی پاکستان میں رہنے والے دیگر لوگوں بلتی، واخی اور بروشو کے شکل میں اتحادی مل گئے ہیں۔ بلورستان ) بلور( کا نام بھی اس علاقے میں مشہور ہے۔ مشرقی افغانستان کے پہاڑی علاقوں کے دانشوروں اور  اشرافیہ میں استحکام کا رجحان پایا جاتا ہے۔ لیکن وہ داردیک اصطلاح کو بہت کم استعمال  کرتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اور نورستانیوں کو ہندوکش کے اصل باشندوں کی نسل سمھجتے ہیں۔ نورستانی دانشوروں نے وسطی ہندوکش میں کالاش شناخت کو بھی تقسیم کیا ہے۔ عام طور پر جنوبی نورستان کے وائی گالی، اشکون اور چترال میں داردی زبان بولنے والے سیاہ پوش کافروں کو کلاش کہا جاتا ہے۔ دانشوروں کے نزدیک تمام نورستانی قبائل، پشائی اور دریائے کنڑ کے میدانوں میں رہنے والے چھوٹی داردیک برادریاں یہاں تک کہ افغانستان کے کوہستان اور پنجیر میں فارسی بولنے والوں کو بھی کلاش سمجھنا چاہئے کیونکہ یہ سب کم و پیش ہندوکش کے قدیمی آبادی سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ اس نسب کا مطلب اس خطے میں پہلے ہند یورپی آباد کار )1800 قبل مسیح کے ابتدائی آریائی باشندے( ہیں یا اس سے پہلے کے یعنی pre-IE aborigines ہے۔ عرب کافروں اور یونانی فوجیوں کے  آنے کے بارے میں مخصوص خرابات آہستہ آہستہ ختم ہو رہے ہیں۔۔

For English version please click this link: https://wemountains.com/02/05/400/

Further reading, available online:

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...