کوہستانِ  دیر میں پشتون دراندازی

0 1,784

کوہستانِ  دیر میں پشتون دراندازی

1804ء  میں خان غلام خان کی وفات کے بعد خان ظفر خان اپنے والد کے تخت پر بیٹھ گئے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب  ”داروڑہ خان کس“  سے اوپر کے علاقوں پر غیر مسلم داردی (کوہستانی) حکمران تھے۔ گمنام ریاست کے جلد دوم کے صفحہ نمبر 14 پر سلیمان شاہد صاحب لکھتے ہیں کہ غلام خان کے جانشین خان ظفر خان ہوئے۔ آپ نے تنخواہ دار فوج تشکیل دی۔ سلطان خیل و پائندہ خیل کے جنگجو قبائل کو لے کر آپ نے کوہستان کے کافروں پر حملہ کرکے ان کے ساڑھے تین سو سالہ اقتدار کا خاتمہ کیا۔ فتح پا کر کافروں کا قلعہ مسمار کر دیا۔ ”بیبیوڑ“ سے دیر ہجرت کرکے وہاں ایک نیا قلعہ تعمیر کیا اور اسے اپنی حکومت کا پایہ تخت بنا دیا۔ آگے چل کر موصوف صفحہ نمبر 73 پر اس قلعے کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہ بدھ مت کے آثار پر تعمیر کیا گیا ہے۔ سترہ صدی عیسوی تک یہاں کافرستان کے حکمرانوں کے رعب ناک برج کھڑے تھے۔ یہاں کافرستان کا مطلب آج کا نورستان نہیں ہے بلکہ اس وقت دیر خاص اور آس پاس کے ملحقہ علاقوں میں غیر مسلم آبادی کو بھی کافر کہا گیا  اور یہ پورا علاقہ کافرستان کے نام سے مشہور تھا۔ دیر خاص پر پشتون قبضے اور  مقامی حکمران  خاندان کے قتل کے بعد پنجکوڑہ کے داردی قبائل دیرکوہستان کے پہاڑوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ 1804 ء سے لے کر 1891ء  تک کوہستان دیر حملوں کے زد میں تھا۔ افسوس اس بات کا ہے زن، زر اور زمین کے لئے لڑی جانی والی اس جنگ کو” جہاد“  کا مقدس نام دیا گیا تھا ۔ مقامی لوک کہانیوں کے مطابق” مجاہدین“  آتے،  لوٹ مار کرتے اور واپس چلے جاتے۔  اس لئے دیر کوہستان میں پرانے زمانے کے جتنے بھی گاؤں وغیرہ ہیں وہ اونچی اونچی جگہوں پر بنائے گئے ہیں تاکہ دور سے دشمن کو دیکھا جا سکے۔ بزرگوں سے سنتے ہیں کہ ”مجاہدین “کا لشکر جب بالائی پنجکوڑہ میں داخل ہوتا تو دن کے وقت دھوئیں سے اشارہ دیا جاتا کہ دشمن آرہا ہے اور رات کو آگ جلا کر خبر دی جاتی تھی۔ بیرا قلعہ، جون قلعہ، داراگ، رامشور کین، متول اور جوتل تھل کے قریب پرانی آبادی اس کی مثالیں ہیں۔  جب ریاست دیر پر لکھنے والے مورخین اس جنگ کو” جہاد“  کا مقدس نام دیتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔

اللہ سبحان و تعالیٰ نے قران میں واضح فرمایا ہے ”اور ان کے ساتھ اس حد تک لڑو کہ فسادنہ رہے اور دین (غلبہ)اللہ ہی کا ہوجاوے ۔ اور اگر وہ لوگ (فساد سے)بازآجاویں تو سختی کسی پر نہیں ہواکرتی بجز بے انصافی کرنے والوں کے“(البقرة :۱۹۳) ۔

 

تھل کی پرانی مسجد –تصاویر مصنف

 

کوہستان دیر کے لوگوں نے نہ تو پشتونوں پر حملہ کیا تھا اور نہ وہ فساد پیدا کر رہے تھے تو پھر اتنی خون ریزی کی کیا ضرورت تھی ؟ مگر تاریخ سفّاک ہے اور حال بھی کوئی بہتر نہیں۔ لوگوں کو قبضہ کرنے واسطے مختلف بیانیے اور ٹھپے استعمال کیے جاتے ہیں۔

شاہی قبرستان دیر

اسلام کا قانونِ جنگ جسے اصطلاح شرع میں ”جہادفی سبیل اللہ “ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ،کے مطابق دورانِ جنگ بے قصور ، نہتے اور کمزور لوگوں کے قتل کی سختی سے ممنوعیت ہے لیکن بدقسمتی سے دیر کوہستان میں ”جہاد“ کے نام پر معصوموں کا خون پانی کی طرح بہایا گیا۔ بزرگوں سے سنتے ہیں کے ”مجاہدین“ کے خوف کی وجہ سے جب لوگوں نے گاؤں وغیرہ خالی کرکے جنگلوں میں پناہ لی تو آخون سالاک اور میاں عثمان پنجو نام کا مذہبی مبلغ اپنے لشکر کے ساتھ جنگلوں میں بھی ان کا پیچھا کرنے لگا۔ تنگ آکر مقامی غیر مسلم گاؤریوں نے”  بتوٹ “کے میدان میں  ان مسلمانوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ۔ بتوٹ کے میدان میں گاؤری  دلیری سے لڑے لیکن ایک طرف پرانے زمانے کی کلہاڑیاں، لاٹھیاں اور مقامی درخت کاسندر کے لکڑٰی سے بنے نیزے تھے اور دوسری طرف اپنے وقت کی تیز تلواریں اور ہلکے تیر و کمان ۔ مقامی لوک کہانیوں کے مطابق بتوٹ کے میدان سے دو لڑکیاں اور ایک ان کا باپ بچ نکلا۔  باپ تو چترال کی طرف بچ نکلنے میں کامیاب ہوا لیکن لڑکیاں گھنے جنگل میں کہیں کھوں کر مر گئیں۔ باقی لوگوں میں سے زیادہ تر مارے گئے ۔جو بچ گئے انہیں مسلمان کراکر گاؤں جانے کی اجازت دے دی گئی۔ جن لوگوں نے اسلام قبول کرنے میں ترودد سے کام لیا تو انہیں بے رحمی سے قتل کیا گیا۔  موضع تھل کے ٹیسور خاندان کے دادا کو ان کی فیملی کے ساتھ زندہ جلایا گیا۔  صرف ایک بندہ زندہ بچا  جو بکریوں کے ساتھ جنگل میں رہتا تھا۔ مقامی بزرگوں کے مطابق گاؤریوں کی غالب اکثریت نے بزور طاقت اسلام قبول کیا ہے ۔  اس بات کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پورے دیر کوہستان میں کسی بابا کا مزار نہیں ہے سوائے جنڑیا بابا کے جسے بھی بعد میں گجر اپنے ساتھ لائے تھے۔ بتوٹ کمراٹ کے علاقے خزان کوٹ کے قریب ہے اور مقامی بزرگوں کے مطابق خزان کوٹ میں اس وقت کے غیر مسلم گاؤری لوگوں نے پناہ لی تھی ۔ ماہرین اثار قدیمہ کے مطابق یہ جگہ قدیم بدھ مت کے پیروکاروں کی بستی تھی۔ دراصل اسلام کے مقدس نام پر دیر کوہستان ، دیر میں جو کھیل کھیلا گیا اس سے مقامی لوگ بہت متاثر ہوئے۔ کہنے کی حد تک تو انہوں نے اسلام قبول کیا لیکن اسلام کے بارے میں انہیں کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔  یہاں اسلام کی تبلیغ تو کسی نے کی نہیں۔ بس تلوار سر پر رکھ کر کلمہ پڑھوایا گیا۔  دراصل اسلامی ”مجاہدین“ ہمارے ہاں آئے تو بہت پہلے تھے لیکن ان کی دلچسبی اسلام کی تبلیغ سے زیادہ لوٹ مار میں تھی اس وجہ سے آج سے تیس چالیس سال پہلے تک ہمارے لوگوں کو اسلام کے بارے میں بس اتنا پتہ تھا کہ اللہ ایک ہے، قران مقدس کتاب ہے، محمدﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں اور جنڑیا بابا معتبر بزرگ ہے ۔ نماز، روزہ کیا ہے، حج زکوٰة کس چیز کو کہاجاتا ہے کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ ابھی بھی کئی بزرگ ایسے زندہ ہیں جو اس بات کا اقرار کریں گے کہ انہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا کہ قبر میں سزا جزا کا حساب کتاب ہوگا۔ یہ توحالیہ تبلیغ کی  وجہ سے لوگوں نے اسلام کے بارے میں جانا ورنہ اس سے پہلے تو اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مار رہے تھے۔ مقامی لوک کہانیوں کے مطابق جب آخون سالاک نے اپنے لشکر کے ساتھ بریکوٹ میں سکونت پذیر بیر دادا کے قلعے پر حملہ کیا تو” مجاہدین“ کو واضح حکم دیا گیا کہ بیرا کافر کو مار دیجئے لیکن ان کی کافر بیٹی رانی جس کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ بہت حسین تھی، کو چھوڑ دیجئے کیونکہ امیر مجاھدین اس سے نکاح کے خواہش مند تھا۔  کہتے ہیں کہ جب دوران جنگ غلطی سے ایک مجاہد کے تیر سے وہ لڑکی مرگئی تو آخون سالاک نے اس مجاہد کو بد دعا دی اور کہا جا خدا تجھے غارت کرے تو نے میری  ہونے  والی بیوی کو قتل کیا۔ حیرت ہوتی ہے انتا سب کچھ جاننے کے بعد بھی اہل علم اس جنگ کو” جہاد“  کا مقدس جامہ پہناتے ہیں۔ یہاں نہ صرف بزور طاقت مقامی لوگوں سے ان کی زمینیں چھینی گئیں بلکہ ان کی شناخت مٹانے کی بھی پوری کوشش کی گئی ۔

پہلے تو لفظ کوہستانی کو ہماری شناخت بنایا گیا اگرچہ ہم نے کبھی بھی ایک دوسرے کے لئے کوہستانی کا لفظ استعمال نہیں کیا تھا۔  ہم ابھی بھی ایک دوسرے کو قدیم داردی قبائلی ناموں  سے  پکارتے ہیں۔ سوات کوہستان کے توروالی ہمیں گوؤ اور ہم انہیں توروالی کہتے ہیں۔ اسی طرح چترالی ہمیں بشقاریک یا بشکاریک کہتے ہیں (گاوری زبان کو بشکاریک یا بشقاریک بھی  کہا گیا ہے اور دیر کوہستان کو بشقار ) اور ہم چترالیوں کو گھیکی کہتے ہیں۔

گاؤری بچے

 جب یہ نام کوہستان کافرستان کی طرح  ہم پر مسلط کیا گیا تو پھر اسے اتنا بدنام کیا کہ لوگ لفظ کوہستانی سے دور بھاگنے لگے۔ لفظ کوہستانی کا مطلب جاہل لیا گیا اور ہر گاؤری کو جاہل سمجھا گیا۔ گاؤری زبان کا مذاق اڑایاگیا جس کی وجہ سے لوگ گاؤری چھوڑ کر پشتو بولنے لگے اور پشتونوں میں ضم ہونے کی کوشش کرنے لگے۔  ”ہایاگے“ سے لے کر ”جٹکوٹ “ تک اور پھر صادق بانڈہ سے لے شرینگل اور دوسری طرف گوالدی سے لے کر گماڈن میں آباد قدیم  لوگ  اس کی سب سے بڑی مثالیں ہیں۔ یہاں رہنے والے زیادہ تر بوٹاسور، سندرجی، خالد خیل، مالد خیل، جرندہ گڑی اور پنجکوڑ دادا کے بیٹوں آمان کوڑ، جیکوڑ، ممد کوڑ کی اولاد آباد ہیں مگر اپنی زبان چھوڑ کر پشتو بولتے ہیں اور خود کو پشتون کہہ کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ گاؤری جو کسی وقت دیر کے ایک وسیع علاقے پر قابض تھے انہیں اتنا مجبور کیا گیا کہ وہ کوہستان دیر کے چھ گاؤں تک محدود ر ہوگئے۔ ان چھ گاوں سے باہر جو بھی  داردی گاؤری  رہتا تھا  اس نے پشتون بننے کی کوشش کی اور یوں اس کی شناخت مٹ گئی۔ یہاں بھی انہیں ان چھ گاوں میں آرام سے رہنے نہیں دیا گیا بلکہ مذہبی رہنماء اور نوابان دیر کبھی سیری کے نام پر زرخیز زمین ہڑپ کرنے لگےاور کبھی لونگی کے نام پر۔ پالام بابا مزار والے ایک مشہور پشتون بزرگ گزرے ہیں وہ تھل کے لوگوں سے اس لئے ناراض ہوکر گئے تھے کہ انہوں نے کلکوٹ کی طرح کمراٹ میں انہیں سیری نہیں دی۔ (سیری وہ مخصوص علاقہ ہوتا تھا جو یہ مذہبی بزرگ اپنے نان و نفقہ کےلئے مانگتے تھے)۔  بیبوڑ سیری، پاتراک سیری، کلکوٹ سیری اور ڈانکار سیری وغیرہ ایسے ہی مذہبی بزرگوں کو دی گئیں تھیں۔ کوہستان دیر میں موجود پرانے کھنڈرات جو یہاں آباد گاؤریوں  کے آبا واجداد نے بنائے تھے انہیں کافروں کی نشانیاں قرار دے کر مسمار کیا گیا۔ قدیم دور سے کوہستان دیر کے لوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر لکڑی سے بنے جنگلہ لگایا کرتے تھے جس پر کندہ کاری سے خوبصورت نقش و نگار بناتے تھے ،۔ یہ جنگلے جنگلی جانوروں سے قبروں کا تحفظ کیا کرتے تھے ۔  بعد میں انہیں بھی غیر اسلامی کہا گیا اور لوگوں کو اس سے منع کیا گیا۔

قدیم داردی موسمی تہواروں شاری آیان، بسنو آیان اور سی داگ وغیرہ کافروں کے تہوار ڈکلیر کئے گئے۔ مقامی  اور  دیہات کے نام تک تبدیل کئے گئے۔ لوگوں کے ذہنوں میں پرانے آثار اور اپنے کافر  اباواجداد کے خلاف اتنا زہر بھرا گیا کہ مقامی لوگ باپ دادا کے نام پر شرمانے لگے۔ دریائے پنجکوڑہ کو یہاں آباد پانچ داردی گاؤری قبائل آمان کوڑ، جیکوڑ، ممد کوڑ، رامکوڑ اور راجکوڑ کی وجہ سے پنجکوڑہ کہتے ہیں لیکن اسے پانچ ندیوں کا چغا پہنایا گیا۔

لفظ دیر کے کئی معانی نکالے گئے کسی نے اسے خانقا کہا تو کسی نے اسے بت خانہ لیکن یہاں کی قدیم زبان گاؤری میں کسی نے اس کے معانی ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی۔ دیر صد فیصد گاؤری زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہے ڈھلوانی منڈھیر۔ ڈاکٹر بلال اپنی کتاب”  دیر کوہستان ایک تعارف” میں لکھتے ہیں کہ قدیم عہد میں جب موجودہ دیر پر کوہستانی اقوام آباد تھی تو راجہ کا محل اسی جگہ تھا جہاں آج کا شاہی محل ہے۔ محل کے اس پاس راجا کی رعایا چبوترا نما گاؤں میں آباد تھے۔ کوہستانی راجہ کا قلعہ جونکہ ڈھلوانی منڈھیر پر واقع تھا اس لئے اسے دیر کہا گیا۔

دیر کا قصبہ

یہ بات قرین قیاس بھی لگتی ہے کیونکہ لفظ دیر کے نام پر کوہستان دیر میں اور بھی کئی علاقے موجود ہیں۔ گاؤری لوگ جب جنگ کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری ہجرت کرتے تو نئے جگہ کو پرانے جگہ کے نسبت سے پرانا نام دیتے تھے۔  اس لئے آج کوہستان دیر اور سوات کے کئی پہاڑوں اور علاقوں کے نام ایک جیسے ہیں۔  یہاں تک کہ باجوڑ کے کئی علاقوں کے نام بھی ہمیں دیر کوہستان میں ملتے ہیں ۔ غرض ہر وہ چیز جس سے مقامیوں کے ماضی کے بارے میں کچھ پتہ چلے مٹا دی گئیں۔ 1891 ء تک خان لوگوں کا دائرہ اقتدار صرف شرینگل تک تھا اوپر کا علاقہ اس وقت یاغستان تھا۔ 1891 ء تک نہ تو دیر کوہستان کے لوگوں نے ریاست دیر کو جزیہ دیا  اور نہ خانان آف دیر کوہستان دیر کے جنگلات سے فائدہ اٹھا سکے ہیں۔ 1890 ءکے آس پاس جندول کے عمراخان نے دیر خاص پر حملہ کرکے یہاں مقیم نواب شریف خان کو معزول کرکے سوات میں پناہ لینے پر مجبور کیا اور خود ریاست دیر کا اقتدار سنبھال لیا۔ دیر خاص پر قبضہ کرنے کے بعد عمراخان کی نظر کوہستان دیر کے زرخیز زمین اور گھنے جنگلات پر تھی اس لئے ایک سال بعد یعنی 1891 ء کو عمراخان نے کوہستان دیر پر حملہ کیا۔ راجکوٹ (پاتراک) کے مغربی محلے جٹکوٹ میں گاؤریوں نے عمراخان کوروکنے کی کوشش کی ۔ مقامی لوک کہانیوں کے مطابق یہاں گاؤریوں کا مقابلہ عمرا خان کے بھائی محمدشاہ خان سے ہوا جس میں مقامی لوگوں کو شکست ہوئی اور عمراخان کا لشکر راستے میں آنے والے ہر گاؤں کو اس کے مسجد سمیت جلاتا ہوا پنجکوڑہ کوہستان کے آخری گاوں تھل کی طرف بڑھنے لگا۔ ڈاکٹر بلال صاحب اپنے کتاب “دیر کوہستان ایک تعارف” میں لکھتے ہیں کہ 1891ء عیسوی میں عمرا خان نے دیر کوہستان کو اپنی ریاست میں شامل کرنے کےلئے اسلحہ سے لیس گھڑ سواروں کا لشکر لے کر کوہستان پر دھاوا بول دیا، دیر کوہستان کے گاوں جلا کر خاکستر کر دیئے گئے،( دیر کوہستان ایک تعارف” صفحہ نمبر 41) ۔

دیر کا نواب محمد شریف خان

تھل کے مقام پر عمراخان کا مقابلہ صرف پنجکوڑہ کے گاؤریوں کے ساتھ نہیں تھا بلکہ یہاں ان کی مدد کے لئے ان کے سوات کوہستان کے بھائی بھی آئے تھے۔ تھل کے مقام پر ان  داردی  گاؤریوں  نے عمراخان کے لشکر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔  لیکن ایک طرف قدیم تھوڑے دار بندوقیں، تلواریں اور کلہاڑیاں تھیں تو دوسری طرف عمراخان کے لشکر کے پاس برٹش سکاچ کمپنی کی جدید رئفلیں تھیں۔ اس لئے مقامی لوگوں کو شکست ہوئی ۔ مقامی بزرگوں کے مطابق یہاں عمراخان کا بہت نقصان ہوا۔ وہ خود بھی زخمی ہوا اور اس کی گھوڑی بھی زخمی ہوئی۔ مقامی لوگوں کے دو ڈھائی سو لوگ شہید ہوئے۔ بزرگ کہتے ہیں کہہ یہی وہ مقام تھا جب عمران خان کے منہ سے نکلا کہ

”سل دا ہندوستان آو یو دا کوہستان“

یعنی لڑائی میں سو بندے ہندوستان کے اور ایک بندہ کوہستان کا برابر ہے۔۔۔۔

ریاست دیر کا دربار

ڈاکٹر بلال نے اس پورے واقعے کو اپنے کتاب دیر کوہستان ایک تعارف میں تفصیل سے ذکر کیا ہے۔

اس لڑائی کے بارے میں امریکی ماہر نسلیات لنکن کائزر لکھتے ہیں کہ۔۔۔

He attacked the Kohistani communities in the upper Panjkora valley in about 1891, according to local tradition the Kohistani of Dir were aided by their brethren in Swat, but armed with sling and ancient matchlocks they could not stand before the modern Rifles of Umra Khan forces, Rifles purchased with british consent in India. From that time forward Thull and the other villages of Dir Kohistan were part of Dir state. (Enmity in Thul)

..مقامی سفید ریشوں کے مطابق دو ڈھائی سوسےزیادہ مسلمان داردی گاؤری شہید کرکے کہ عمراخان غازی بن گیا اور کوہستان ریاست دیر میں شامل ہوا۔ اس سے پہلے یہ علاقہ یاغستان کے نام سے مشہور تھا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عمراخان سے ہارنے کے بعد بھی مقامی لوگوں نے پشتون لشکر کو کمراٹ میں داخل نہیں ہونے دیا ۔ 1912 ء میں کوہستان دیر آنے والے امریکی سکالر ایس- ایچ گاڈ فرے کمراٹ کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں ۔۔

After an hour’s ride from Thal the hamlets of Dhano Chand are met on the left bank of the river. There is extensive wheat cultivation all round, and some twenty huts are scattered among the fields. Near the northern end of this village the right bank track is shut in by precipitous deodar-clad cliffs on one hand and the river on the other. The people have here constructed a stone wall and a gate.” The object is twofold. It prevents cattle sent to the grazing fields from finding their way back to the cultivation, and enables a guard to dispose of thieves and travelers. At this point ” hostis,” the enemy or the stranger, are both turned back. The pasture lands and neighboring forests have been kept sacred from Pathan and timber merchant alike.

(A SUMMER EXPLORATION IN THE PANJRORA KOHISTAN page No 53)

آگے چل کر گاڈ فرے کمراٹ کے بارے میں لکھتا ہے ۔۔

No European or Pathan had ever looked on this quiet scene. Even the great Umra Khan of Jandul could not do so”.

(A SUMMER EXPLORATION IN THE PANJRORA KOHISTAN page No 55)

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...