سیّاحوں کا نیا رومانس وادی کمراٹ

0 397

  حسن کمراٹ

یوں تودیر کوہستان کا چپه چپه حسین,رنگین,دل موه لینے والا اور قدرت کے بےپناه نیرنگیوں سے معمورھےلیکن دیر کوھستان کے حسن کے ماتھے کے جھومر کا نام ”کمراٹ “ہے ۔یقینأً کمراٹ اپنی بے مثال خوبصورتی، دلکشی اور رعنائ کی وجه سے نه صرف پاکستان بلکه پوری دنیا میں یکتا   اور بے مثال ہے۔اگر ایک طرف یه 35 کلو میٹر طویل کشاده،سر سبزوشاداب وادی ہےتو دوسری طرف اس کے دریا کے صاف وشفاف اور نیلگوں پانی نےاس وادی کے حسن و جمال میں بے پناه اضافه کیاہے۔ کمراٹ فلک بوس پہاڑوں، برف پوش  چوٹیوں، دیار،صنوبر اور کائل کے دیوقامت درختوں، آبشاروں، مر غزاروں اور حد نگاه سر سبز چراگاہوں کی روپ میں اپنی طرف ہر آنے والے کو خوش آمدیدکہتا ہےاور انھیں یقین دلاتا ہےکه اگر دنیا میں کوئی جنت ہےتو وه میرے علاوه کوئی اور نظاره نہیں ہوسکتا۔

فطری رعنائیوں سے مالامال یه وادی ضلع دیر بالا کے هیڈ کورٹر، دیر خاص سے 95 کلو میٹر کے فاصلے پر شمالی  کوه ہندوکش کے دامن،دیر کوهستان میں سطح سمندر سے8،100 فٹ کی بلندی پر واقع ہے،  اسکے شمال میں چترال ,مشرق میں مهوڈنڈ کالام، مغرب میں پهر چترال اور جنوب میں اپر اور لوئر دیر کے اضلاع واقع ہیں۔ قدرت نے اس وادی پر اس قدرسخاوت اور فیاضی کی انتہا کر دی ہےکه یه ملک کے کسی بھی سیّاحتی مقام سے کم نہیں ہے۔

کم نہیں جلوہ گری میں تیرے کوچے سے بہشت

یہی نقشہ ہے ولے اس قدر اباد نہیں

دوپہر کے بعد جب اسکے بلند وبالادرخت ہوا  کے جھونکوں کے ساتھ جھومتے ہیں تو معشوق کے پرنم و پرخم زلف کی طرح دل کو  کھینج لیتے ہیں اور فضا میں  موسیقی کے دھن بکھیر دیتے ہیں۔اس میں پاۓ جانے والے پرندوں جیسے بھیگر،چکور،مرغ زریں کی خوبصورت آوازیں اور آبشاروں, میٹھے چشموں ودریا کے پانی کی موسیقی  اورکھلے ہوئے خوش رنگ پھولوں کی بھینی بھینی مہک روح کو معطر، دل کو سکون اور نئی امنگ پیدا کرتی ہے۔

ایسے پرفضا مقامات کا مزا  اس ”مرد کوہستانی“ کے بغیر نامکمل سا ہوتا جس کی زندگی فطرت میں پیوست ہوتی ہے اور اسے ”تہذیب “ سے کوئی غرض نہیں۔ گڈریے کی بانسری کامیٹھا سُراور بکریوں کے ریوڑ کامنظر  فطرت اور انسان کے اس رشتے کی یاد دلاتی ہے جب دونوں  میں ہم اہنگی تھی اور ابھی حضرت انسان نے فطرت کو مسخ کرنا نہیں سیکھا تھا۔مشینی دور  سے اکتائے ہوؤں کے لیے وادی کمراٹ ہی وہ مقام ہے جہاں انسان فطرت  کے اغوش میں جاکر سکون پاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ علامہ اقبال نے نظم ”ایک آرزو“ میں کسی ایسی جگہ کی آرزو کی تھی۔

لذّت سَرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میں۔
چشمے کی شورَشوں میں باجا سا بج رہا ہو۔

گُل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کا۔
ساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نُما ہو۔

ہو ہاتھ کا سَرَھانا، سبزے کا ہو بِچھونا۔
شرمائے جس سے جَلوَت ، خَلوَت میں وہ ادا ہو۔

مانُوس اِس قدر ہو صُورت سے میری بُلبُل۔
ننّھے سے دِل میں اُس کے کھٹکا نہ کُچھ مِرا ہو۔

صف باندھے دونوں جانب بُوٹے ہرے ہرے ہوں۔
ندِّی کا صاف پانی تصوِیر لے رہا ہو۔

ہو دِل فریب ایسا کُہسار کا نظارہ۔
پانی بھی موج بن کر اُٹھ اُٹھ کے دیکھتا ہو۔

آغوش میں زمِیں کی سویا ہوُا ہو سبزہ۔
پھر پھر کے جھاڑِیوں میں پانی چمک رہا ہو۔

کمراٹ ایک خوبصورت سیر گاه، تفریح گاه ہو نے کے ساتھ ساتھ بہترین علاج گاه بھی ہے کیونکه اس کے دریا، آبشاروں اور چشموں کے پانی میں بہت سے قیمتی نمکیات اور جڑی بوٹیوں کی امیزش پائی جاتی ہے جو کہ انسانی بیماریوں کے لیے  اکسیر ہے۔

یه وادی بیش بہا نایاب جڑی بوٹیوں کا مسکن بھی ہے ۔  جن پر اگر میڈیکل سائنس کے جدید طریقه کار کے مطابق ریسرچ کی جائے تو یه بہت سے انسانی بیماریوں کے علاج معالجے اور روک تھام میں بے حد مفیدثابت ہوسکتے ہیں۔

یہ وادی عام سیّاح اور پاکستانیوں سے عموماً اوجھل رہی ہے اور اسی وجہ سے شائد  سوات کے ملم جبہ ، مہوڈنڈ اور گلگت کے نلتر وادی  سے ذیادہ فطری لگتی ہے۔

1998 ء میں پاکستان کے اس وقت کے  وزیر اعظم میاں محمد نوزشریف بھی  وادی کمراٹ کی خوبصورتی اور قدرتی حسن کے سحر کا گرویده ہوکر,دن بھر اس وادی میں گھومتے  پھر تے اور اس کےیخ بسته ہواؤں سے خوب محظوظ ہونے کے لیے  یہاں ایک رات قیام بھی کر چکے ہیں۔

وادی کمراِٹ کی سیر 

وادی کمراٹ   اس وقت پاکستان اور عالمی توجه کا مرکز بنی جب 30 مئ  2016 کوپاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اچانک اس وادی کا فضائ جائزه لینے کے بعد اپنا ہیلی کاپٹر اسی وادی میں اتارا، پورا دن کمراٹ کے فطری حسن کا نظاره ومشاہده کرنے کے بعد پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کو وادی کمراٹ کے حوالے سے انٹر ویئو دیتے ہوئے حسب معمول   کہا که  وہ  پوری دنیا میں گهومے پھرے ہیں لیکن جو حسن اور خوبصورتی کمراٹ میں دیکھی  وه کہیں بھی نہیں ہے۔  اس کے بعد سوشل میڈیا پر  وادی کمراٹ کے قدرتی حسن کی دھوم مچ گئی  اور نتہجتاً  اس وقت سے وادی کمراٹ میں سیّاحوں کی تعداد بڑھ گئی۔   اس سال ابتک چار لاکھ کے لگ بھگ سیاحوں کی آنے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی لوگوں نے پوری وادی میں سہولیات سے آراسته عمده ٹینٹس ھوٹلز بھی قائم کئے ہیں۔جہاں مناسب قیمت پر قیام   کا بندو بست موجود ہے۔

کمراٹ کا وجہ تسمیہ

کمراٹ اس وادی میں بولی جانے والی زبان  گاؤری  کے  دو الفاظ ”کوئی “ اور  ”باٹ “ کا مجموعه ہے۔ ”کوئی“   کے معنی وادی   یا درّہ   ہے اور ”باٹ “پتھر کو کہتے ہیں۔ تغیر زمانه کے ساتھ ساتھ,کوئ باٹ کمراٹ ہوگیا ۔ اس وادی میں بڑے بڑے پتھر پائے جا تے ہیں۔

وادی کمراٹ میں چراگائیں 

اس کے دریا کے دائیں بائیں دونوں اطراف میں نہایت خوبصورت چراگاہیں، جھیلیں،گلیشیئرز ،آبشاریں اور گھنے جنگلات اس وادی کی خوبصورتی اور دلکشی کے  امین ہیں۔ دریا کی دونوں اطراف کو بعض مقامات پر دیوقامت درخت کے تنے کے پل سے مربوط کیا گیا ہے۔یه مناظر یقیناً دل موه لینے والے ہیں۔ اس کے گھنے جنگلات میں بعض جگہوں پر سورج کی روشنی بھی نہیں پڑ تی ہے۔

دیر کوہستان کےکیپٹل تھل سے وادی کمراٹ چار کلو میٹر کے فاصلے پر شمال کی جانب واقع ہے۔ اس وادی کے گیٹ وے پر محکمه  جنگلات  نے ایک اعلی ریسٹ ہاؤس بهی قائم کیا ہے جہاں سیّاح حضرات محکمے کی اجازت سے قیام کر سکتے ہیں۔ اس فارسٹ ریسٹ ہاؤس سے”سیاہ چشمے“ تک 12 کلو میٹر کا راسته ہے۔ یه راسته اس قدر رنگین اور قدرتی رعنائیوں سے  مالامال ہےکه انسان خود کو خیالی دنیا  میں  پاتا ہے۔  وادی کمراٹ کے گیٹ وے سے دریا کے بائیں طرف کچھ فاصلے پر سر سبز چراگاه  ”سر میوئی“ ہے۔ مقامی سفید ریشوں کے مطابق قدیم عہد میں یہاں ایک تالاب پایا جاتا تھاجس میں مقامی افراد دیار کے درخت کے تنے   پربیٹھ کراس تالاب میں تیرتے تھے۔  یہاں سے اگے ”پیر دن“ ، ” ریوشئ“  اور” لال گاه“ اتے ہیں۔ اس لال گاه میں پر کشش آبشار بهی واقع ہےجو سیاحوں کو اپنی پرکیف دلکشی کی وجه سے کھنچتا ہے۔ پهر”بھتوٹ “اور اس کے بعد  ”سیاہ چشمہ “پڑتا ہے۔ یہاںسے   اگے  چراگائیں ”گمان شاٹ”، ”کنڈیل شئ“ ،”سک بانال“ ، ”کفر کن“، ”جار کھور“ اور ”خزان کوٹ“ جس میں قبل ازمسیح کے کھنڈرات کے نشانات ہیں، اتے ہیں۔ اگے پھر  کے بعد” دو جنگا“، ”کنڈول“ اور” کنڈول جھیل اتے ہیں جو یقیناً قابل دید ه ہیں۔ اسی جگہ سے چترال اور کالام کی طرف ٹریکس جاتے ہیں جو ٹریکرز کے لیے نہایت اہم راستے ہیں۔

گیٹ وے سے  دریا کے بائیں طرف حسین و دلفریب چراگاه ”رومن گال“، ”ڈب شئ“، ”ڈوکور بانال“،”نبل“ ، ”جشن  تین“، ”گور شئ“ اور نہایت خوبصورت وصحت افزا چراگاه، ”شازور“ ہے۔ اس کے ساتھ بے انتہادلکش وحسین جهیل بھی واقع ہے جو اپنی بیش بہا رعنائ,ہیئت اور  پراسرایت   کی وجه سے دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

دریاۓ کمراٹ میں ٹراوٹ,راھو اور مھاشیر مچھلیوں کی وافر مقدار پائی جاتی ہے ان میں ٹراوٹ مچھلی ذائقے اور لذت کے حوالے سے منفرد ہے ۔ دریاۓ کمراٹ آ گے جاکر,چکیاتن کے مقام پر,دریاۓ پنجکوڑه, میں شامل هوجاتا ہے۔ اسی طرح شرین گل اور آگے کے علاقوں میں اس دریا کو دریائے کوہستان کا نام دیتے ہیں۔

کمراٹ اپنی گونا گوں خوبیوں اور فطری رعنائ ,دلفریبی اور دلکشی کی وجه سے انتہائی  اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے بلند وبالا پپاڑوں میں کیل ، مارخور، جنگلی بیل, جنگلی گائے اور دوسری قسم کے بے شمار نایاب وقیمتی جانورپائے جا تے ہیں۔ ان میں کچھ  جانور نایاب ہوتے جارہے ہیں۔

مقامی لوگ

یہاں کے لوگ پر امن اور مہمان نواز ہیں۔ اس لئے  یہاں غیر خوشگور واقعات رونما نہیں ہوتے۔ یہاں کے ملنسار باسیوں کا رویه انتہائی  مشفقانه اور دوستانه هے۔ یه سیدهے سادے لوگ سختی سےاپنی روایات اور ثقافت کی پاسدرای کرنے کے ساتھ بغیر کسی لا لچ وحرص کے سیّاحوں واجنبیوں کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہیں۔ سیاح کو اپنا هی مہمان سمجھتے اوران کے لیے  کھا نے اور قیام کا بندوبست کر تے ہیں۔  یھاں کی مہمانوازی بے مثال ہےجس کا اعتراف کمراٹ میں آنے ولا ہر سیاح اور صحافی کرتا ہے۔

کمراٹ جانے کے راستے

کمراٹ جانے میں دشواری سڑکوں کی بدحالی کی وجہ سے ہے۔ یہاں تک دو راستے ہیں۔ ایک سوات کے علاقے کالام و اتڑور کی طرف سے سُوجُن پاس سے ہوکر اتا ہے اور دسرا دیر خاص سے پنجکوڑہ درّے سے ہوتے ہوئے شیرنگل،  ککوٹ ،بریکوٹ اور تھل سے ہوکر جاتا ہے۔ سوات کی طرف سے راستہ مختصر اور خوب صورت ہے لیکن  بلندی پر ہونے کی وجہ  چند مہنے کھلا رہتا ہے۔ سوات  بحرین، کالام اور اتڑوڑ کی طرف سے اتے ہوئے سیّاح ایک ہی ٹرپ میں دو مقامات کی سیر کرسکتے ہیں۔ دوسرا راستہ دیرخاص سے اتا ہے۔ اگر کوئی سیّاح اس راستے سے اتا ہے تو وہ پھر یہاں سے اتروڑ اور کالام کی طرف بھی بذریعہ جیپ جاسکتا ہے اسی راستے پر سے جو سُوجُن پاس سے پوکر اتڑوڑ گرتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...