پشا ئی کون ہیں اور داردستان کیا ہے؟

پشائی، داردستان، گندھارا، پشاچہ

0 231

پشا ئی کون ہیں اور  داردستان کیا ہے؟

تحریر: قاری عبدالسلام درہ نوری

سرپرست پشائی ادبی جرگہ افغانستان(پرشور)

پشتو سے ترجمہ: جاویداقبال توروالی

جیسا کہ (21) فروری مادری زبانوں کا دن ہے جسے دنیا بھر میں منایا جاتا ہے تو اسی مناسبت سے آج گندھارا ہندکو بورڈ نے  پشاچی اور دردی بھائیوں کے آپسمیں تعارف اور پہچان کی خاطر یہ پروگرام منعقد کیا ہے جو کہ مبارکباد کا مستحق ہے۔  اور اس پروگرام میں میری شمولیت میرے اور پشائی آدبی جرگے  کے لیے باعث فخر ہے کیوں کہ پشائی جیسے غریب بولنے والوں کو بھی دعوت دی گئی ہے۔  میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب ہجرت  کرکے  یہاں آنے کے برکات ہیں کہ گندھارا کے دوسرے بھائیوں کیساتھ آج ہم بیٹھے ہیں۔  چونکہ میرا موضوع ہے پشائی کون اور داردستان کیا ہے؟

 پشاچہ(پشائی) ایک قدیم نام  جو اس  قبیلے کو بولا جاتا ہے۔  اس قوم کی کئی ہزار سالہ تاریخ اس نام کے اندر پوشیدہ ہے کہ ان کا وطن اصلی ماقبل المیلاد مسیح و بعدالمیلاد مسیح   کا زمانہ تھا  جسمیں تقریباً تمام برصغیر  بالخصوص شمالی ہند سے لیکر سندھ، پنجاب، گندھارا  شمالی و مشرقی افغانستان سمیت شامل تھا۔  یہی پشاچی یا داردی زبان (یعنی پشائی) مختلف لہجوں کیساتھ آج بھی بولی جاتی ہے اور سندھی،  پنجابی، ہندکو، کلاشہ، کھوار، شینا ، کوہستانی،  گوری وغیرہ اس کی زندہ مثالیں ہیں۔  بالخصوص پشائی زبان تو آج بھی افغانستان 8 صوبوں کونڑ، ننگرہار، جلال آباد، لغمان، نورستان، کاپیسا، کابل، بغلان، ہرات اور قندوز وغیرہ  میں بولی جاتی ہے۔ لیکن اکثریت ان میں آول الذکر چار صوبوں میں بہ نسبت دیگر صوبوں کے زیادہ ہے۔  جب افغانستان میں انقلاب آیا تو  دیگر افغان بھائیوں کیساتھ پشائی قوم کے لاکھوں بھائیوں نے بھی پاکستان کی جانب ہجرت کی اور مختلف کیمپوں، گاؤں اور شہروں میں آکر رہنے لگے جو آج بھی پشاور کے گرد و نواح میں مقیم ہیں۔

پشائی زبان اور لوگوں کے بارے میں مختصر یہ کہ پشائی خالصتاً ایک آریائی قبیلہ ہے جو پہلی ہجرت میں یہاں باختر اور ہندوکش کے راستوں سے ہوتے ہوئے  سندھ اور ہند کی سرزمیں پر پہنچ گئے تھے۔ یہاں پر وہ بہت بڑے تہذیب و تمدن کے مالک بنے تھے اور ان کی زبان بھی ایک تھی۔ بعدازاں آریاؤں کا دوسرا  جھتہ  جنوبی ایشیاء  ہجرت  کرکے آیا تو ان کو اپنے ہی گھروں سے بے دخل کردیا جیسا کہ انہوں نے اپنے سے پہلے  قوم ”دراوڑ “ کیساتھ کیا تھا۔

اسی طرح تاریخ نویس اور محققین کہتے ہیں کہ موجودہ پشائی قوم پہلی بار جنوبی ہندوکش سے ہوتے ہوئے پہلے گوبھا  (موجودہ کابل) پھر براستہ تگاب، بخراب سروبی لمغانات اور دریائے کونڑ کی اطراف تک پہنچ کر آباد ہوگئی ۔ اس کے بعد براستہ باجوڑ  پشاور، دیر اور سوات تک آ کر سکونت پذیر ہوگئے اور ہزاروں سال سے یہاں پر رہ رہے ہیں۔ اور امر واقعی بھی یہی ہے کہ انہی مناطق میں کسی زمانوں میں بڑے تہذیب و تمدن کے مالک بھی تھے۔ یہاں تک کہ زمانہ اسلام آ پہنچا اور محمود غزنوی سے لڑائیاں بھی لڑیں۔ بہت سارے مشرف بہ اسلام ہوئے اور بعض نے اسلام قبول نہیں کیا۔  بایں ہمہ یہ لوگ کچھ علاقوں تک محدود و محصور ہوگئے۔  آج داردیوں کی اکثریت مسلمان ہیں اور یہ  میرے لیے الحمد للہ باعث فخر ہے  ۔

اسی طرح بعض تاریخی شواہد  ”ریگ وید و مہابھارت“ وغیرہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دریا راوی کے کنارے جن دس بادشاہوں کی لڑائی کا ذکر ملتا ہے ان میں ایک قبیلہ ”الینا“ کے نام پشائی بادشاہ بھی شریک تھا۔ اور ان کے ساتھ اس اتحاد میں ویشانا جیسا قبیلہ بھی شامل تھا جو بعد میں جا کر گندھارا میں آباد ہوا تھا۔ جس کی زندہ مثال  وادی پشاور میں ہندکوان ہیں۔ اسی لیے اس قوم کو الینائی، گندھاری، دادیکی(دیگان) یا داردی بھی کہتے ہیں۔

الینائی، گندھاری، دادیکی اور داردی کی تفصیل:                   

الینائی : پشائی قوم کے باسی بہت سارے  ایسی جگہوں پر رہتے ہیں جن کے نام آج انہی ناموں سے موسوم ہیں۔ الینگار، الیشنگ، السائی ان تینوں ناموں سے لغمان اور کاپیسا کے صوبوں میں  بڑے بڑے ضلعے موسوم ہیں۔

2۔ گندھاری :   کہا جاتا ہے کہ پشائی قوم کسی زمانے میں پشاور اور گردونواح میں آباد تھی جن کے اثار آج بھی موجود ہیں۔  ایک رومانوی داستان(ماروبئی دا تہ خانہ) کے نام سے مشہور و معروف ہے۔ یہ جگہ پشاور میں گنج گیٹ سے باہر قبرستان سے ملحقہ بتایا جارہاہے۔ بعض مؤرخین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ موجودہ پشاور اسی قبیلے نے آباد کیا تھا  اور پشائی کی نسبت سے یہ پر شاور ، پشور، پرشور، بشکپور، پشکپور وغیرہ ناموں سے ہوتے ہوئے بالآخر پشاور ہوگیا۔ اسی طرح گندھارا کے علاقے میں بہت سارے نام ایسے ہیں جو پشائی سے مطابقت رکھتے ہیں۔  جیسے کہ پشکلاوتی موجودہ چارسدہ،  ضلع پشین کوئٹہ، پشین گاؤں کالام اور پشیان ناد درہ پیرپنجال پنجاب سرحد سے متصل کشمیر میں اور افغانستان میں جہاں یہ قوم رہتی ہے بہت سے ایسے نام پائے جاتے ہیں جن کا ذکر یہاں پر ضروری نہیں۔

دادیک یا دیگان: دادیک یا دیگان بھی پشائی قوم کو  اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ دادیک کے نام سے یہ قبیلہ گندھارا میں رہائش پذیر تھی۔ جس کا تذکیرہ ہیروڈٹس نے بھی کیا ہے کہ گندھارا کا علاقہ دارا اعظم کا ساتواں اقلیم یا صوبہ تھا۔ ہیروڈٹس نے یہاں چار قبیلوں گندھاری، ستاگودے،  اپرتے یا پھگت اور دادیکے کے نام لیے ہیں ۔  لہٰذا یہ دادیک قبیلہ پشائی ہے  کیوں کہ اسی نام سے آج بھی دریائے کونڑ کے اطراف میں پشائی قوم کی ایک شاخ آباد ہے اور وہ لوگ  خود کو دہقان، دیگان یا دیکان کہتے ہیں۔ بعض لوگ جو دادیک سے تاجک مراد لیتے ہیں تاریخ سے نابلد یا اس کو اپنی مرضی سے بیان کرتے ہیں ۔ دراصل یہ دادیک دیگان ہی ہے جو گندھارا سرزمین پر ان کی موجودگی کا عین ثبوت ہے اور دیگانی پشائیوں کا ایک لہجہ ہے۔

داردستان یا داردی :  داردی بھی بالعموم پشائیوں کو دوسرے داردی بھائیوں کیساتھ داردستان علاقے کی نسبت سے کہا جاتا ہے جیسا کہ آج ہم داردی و پشاچی بھائی اس کانفرنس میں ایکساتھ بیٹھے ہیں۔  مگر یہاں پر مشکل یہ ہے کہ دارد اصل میں ہے کیا چیز؟ حتی کہ خود داردی بھائی آپسمیں یہ نہیں سمجھ پاتے کہ دارد کسے کہتے ہیں؟ اور ہمیں داردی کیوں کہتے ہیں؟  اس کی پشائی زبان میں ذرا تفصیل دیکیئے  تاکہ سبھی شرکاء کو سمجھنے میں آسانی ہوجائے۔

دارد: دار دراصل ایک خالص پشائی لفظ ہے جس کی معنی کوہ یا پہاڑی کی ہے۔ جو کہ اس کی اصل معنی کیساتھ استعمال ہوتا ہے۔  یعنی وہ لوگ جو پہاڑوں سمت، یا شہروں سے دور پہاڑوں کے دامن یا دروں و جھیلوں کے نزدیک زندگی بسر کرتے ہیں  انہیں داردی یا دارد کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہرگز (درد یا غم) نہیں جو کہ پشتون مطلب اخذ کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ دارد یا داردی ایک خاص پشائی زبان کی اصطلاح ہے جو پہاڑی یا کوہ  کےمعنی  میں مستعمل ہے ۔ داردستان کا ترجمہ کوہستان کیا گیا ہے اور داردی کو کوہستانی قرار دیا گیا ہے جو کہ ان کی زبانوں کی طرف منسوب ہے۔  یہ اصطلاح آج بھی پشائی زبان میں بعینہ انہی معنوں میں  انہی الفاظ کے ساتھ استعمال ہوتاہے۔ مثلاً پشائی قبیلے کا کوئی شخص  پہاڑ کیطرف جارہا ہے اور آپ اس سے پوچھتے ہیں کہ بھائی کدھر جارہے ہو؟  تو جواب یہ ہوگا کہ (من دار بَل یا داری کہ باکم)۔  یعنی میں پہاڑی یا اس پہاڑ کیطرف جا رہا ہوں۔  اس مثال سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام خالص پشائی ہے اور دیگر پشاچی بھائیوں  کے ہاں مکمل  طور پر مستعمل ہے۔ جس طرح پشاچہ اور پشائی مشترک ہے اسی طرح دار ایا درد بھی ہمارا قدیم  ورثہ ہے۔

اسی لیے پشاچہ کے ذیلی شاخوں کو داردی اور لوگوں کو داردستانی اور اس منقطعے کو داردستان کہتے ہیں۔ بایں ہمہ پشائی آدبی جرگہ افغانستان (پرشور) نے اپنے مجلّے کے نام کو بھی داردستان سے موسوم کیا ہے۔

آخر میں پشائی اور ہندکو لغات کے چند ناموں کا آپسمیں موازنہ کرتاہوں تاکہ دونوں زبانوں کا آپسمیں مماثلت معلوم ہوجائے۔ ساتھ داردی گندھاروی زبان توروالی کے الفاظ بھی موازنہ کے لئے پیش خدمت ہیں۔

پشائی ہندکو توروالی پشائی ہندکو توروالی پشائی ہندکو توروالی
ای ھک ایک آنچ اکھی أݜی جدو/بیل جدو گو
دو دو دُو انگوڑ انگل أنگی اڑا ادھ ار
ترے ترے ڇا دانت دانت دان/دن چیک چھلکا چیِگ
چار چار چؤ کاڑ کن کن/کان پٹک/پٹا پتہ پتا
پنج پنجہ پائں نام ناں نام ناٹ ناجدا نات
شے چھ ݜو مول مل مل کودن کدی کھأدے
 ست ستہ سات شکا سکا ساک میشی مچ میݜی
آشت اٹھ آڑ کوچہ/کوچ وچ کُوسا پیڑی/نسل پیڑی پیڑی
نو نو نوم پتر پتر پو آنگار آگ آنگا
دے دس دش سینگ سینگ ݜیِنگ کجل کجل کشل
لغا لمبا ڙیِگ شیر سس میِنگ لیکان لکھ لیکھأن

اسی طرح ہزاروں ایسے الفاط ہیں جو پشائی اور دیگر ہند اریائی زبانوں میں مشترکہ مستعمل ہیں۔ والسلام

قاری عبدالسلام درہ نوری

سرپرست پشائی ادبی جرگہ افغانستان(پرشور)

21 فروری 2005 ء

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...