مِٹو/فھنس – گلگت بلتستان کے دیومالا کا ایک پر اسرار کردار

0 214

مِٹو/فھنس – گلگت بلتستان کے دیومالا کا ایک پر اسرار کردار

تحریر۔ عزیز علی داد

ترجمہ ۔ اشفاق احمد ایڈوکیٹ

گلگت بلتستان کی دیومالائی کونیات جہاں بہت ساری خوبصورت، پاک و پاکیزہ اور دوستانہ مخلوقات سے بھری پڑی ہے، وہاں وہ بری مخلوقات اور بدروحوں سے بھی پُر ہے جنہیں بدصورت اور مخفی سمجھا جاتا ہے۔ دیومالائی کونیات میں شامل مخلوقات میں سب سے مشہور کردار مِٹو/ فانیس ہے جسے جادوگری کی سماجیات میں اہم مقام حاصل ہے۔ یہ دراصل ایک مردانہ کردار ہے جو چڑیلیت اور جادو کی رسومات میں چڑیلوں سے رابطہ بنتا ہے۔ شینا زبان میں اس کو مِٹو اور بروششکی میں فھنیس کہا جاتا ہے۔

شینا زبان میں مِٹو کا لفظ مِٹِہ سے نکلا ہے جس سے مراد گوشت کاٹنے والی لکڑی کا ایک تختہ ہے۔ تمام چڑیلیں مونث ہیں جبکہ مِٹو کی جنس مذکر ہے۔ جادوگری کے اس عمل میں وقوع پذیر ہونے والی چڑیلوں کی ان مذموم سرگرمیوں اور رسوم میں مِٹو/ فانیس ان چڑیلوں کا ساتھی ہوتا ہے۔

دیگر دیومالائی و مافوق الفطرت مخلوقات کے برعکس مِٹو ایک انسان ہی ہوتا ہے لیکن اس کا یہ کردار اس کی نفسیاتی کیفیت اور اعمال اسے معاشرے کے دیگر افراد سے منفرد بناتے ہیں۔ان خصوصیات میں اس کی وہ پر اسرار صلاحیت بھی شامل ہے جس کی بدولت وہ اس بات کا پتا چلاتا ہے کہ چڑیل کب کس انسان کا شکار کرنے والی ہیں۔  اُن بچوں، عورتوں اور مردوں اور بزرگ افراد کی موت کا مِٹو کو پہلے سے علم ہوتا ہے ۔ کہا جاتا ہے اس کو عورت ذات کی طرف خصوصی رغبت ہوتی ہے۔

اس کی یہ صفات، کردار، اور خاصیت اسے معاشرے کے دیگر افراد سے منفرد اور بے جوڑ بناتی ہے۔

گلگت ریجن کی لوک ریت مِٹو  سے جڑی ہوئی کہانیوں اور اس کے کردار سے بھری پڑی ہیں۔

چڑیلوں کی خفیہ نشست (بیاک) میں شامل کوئی چڑیل جب کسی انسان پر حملہ کرنے کا ارادہ کرتی ہے تو مِٹو کو اس کی نیت کا پتہ چل جاتا ہے اور سارا دن مِٹو کی طبیعت ناساز رہتی ہے۔ جب میٹو/ فھنیس سو جاتا ہے تو نیند کے عالم میں چڑیلیں اسے اپنے ساتھ انسانی شکار پر لے جاتی  ہیں۔ اس طرح وہ عالم خواب میں چڑیلوں کی شکار کی مہم اور شکار کی تقسیم کی محفل میں حصہ لیتا ہے۔

گلگت بلتستان کے ثقافتی تناظر میں نیند کی حالت انسانی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ جب انسان بہت کمزور حالت میں ہوتا ہے تو اس وقت دشمن یا بد ارواح اس پر آسانی سے حملہ آور ہو سکتی ہیں۔ اس لئے جب مِٹو نیند کی حالت میں ہوتا ہے تو چڑیلیں مِٹو کے لاشعور میں داخل ہوکر اس کے شعور کو قابو کر لیتی ہیں۔ لہٰذا یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ مِٹو دبی ہوئی بنیادی جنسی خواہشات کا ایک مجسم روپ ہے اور معاشرے کی حدود و قیود کو توڑنے کی جبلت اور برے اعمال اور رسومات کی شکل میں سماجی دائرے میں پھٹنے والے آزاد خیالات کا مظہر ہے۔

مِٹو لاشعوری کی حالت میں چڑیلوں کی بیاک/ محفل  میں شامل ہوتا ہے اور جب گاؤں کی تمام چڑیلیں اپنے منتخب کردہ فرد کا شکار کرنے کے بعد اپنے شکار کو ایک خاص جگہے پر لے جاتی ہیں تو  وہ متعلقہ ساتھی مِٹو سے اپنے شکار کو ذبح کرنے کی فرمائش کرتی ہیں۔ مٹو ان کی فرمائش پوری کرتا ہے۔ جب وہ ذبح کرنے کے لیے شکار کی گردن اپنے ہاتھوں میں لیتا ہے تو اسے اپنے سامنے ایک مینڈھا نظر آتا ہے۔ ایک بار جب وہ جسم سے مینڈھے کا سر الگ کرتا ہے تو اسے اچانک ایک انسانی سر اپنے ہاتھ میں دکھائی دیتا ہے۔ تب اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کے پاس اس شخص کی موت کے بارے میں پیش گوئی موجود تھی جسے اس نے ابھی ذبح کیا ہے۔ پھر وہ شکار کا خون چڑیلوں کی کلائی اور انگوٹھے کے درمیان بننے والے گڑھے میں ڈالتا ہے جو اس خون کو بڑے مزے سے پیتی ہیں اور پرجوش ہوجاتی ہیں۔ اس کے بعد وہ انسانی شکار کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے اور ا س کے حصے چڑیلوں میں تقسیم کردیتا ہے۔  گلگت بلتستان کے ضلع غذر کی وادی پونیال میں مشہور ہے کہ چڑیل اپنے شکار کو مِٹو کے پیٹھ پر رکھ کر ٹکڑے ٹکڑے کرکے کھا جاتی ہیں ۔

مشہور افسانوں کے مطابق، جو شخص نیند کی حالت میں ذبح ہوتا ہے وہ کھیل میں نہیں مرتا۔ یہ کردار نفسیاتی طور پر اخذ کیا گیا ہے۔ یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ چڑیلوں اور ان کے ساتھیوں کے گروہ انسانی فیصلے کے خوف کے بغیر اپنے وحشی تخیلات اور جنسی خواہشات کو بے لگام انداز میں بانٹتے ہیں۔

چڑیلیں اپنے شکار کو جہاں ذبح کرتی ہیں اور تقسیم کرتی ہیں، اس مخصوص جگہے کے بارے میں مختلف زبانی روایات پائی جاتی ہیں۔ عام طور پر، اسے ایک ایسی جگہ سمجھا جاتا ہے جہاں انسانوں کی موجودگی نہ ہو، جنگل، غار یا ویران جگہ ہو یا پرانی پن چکی ان کا مسکن سمجھا جاتا ہے جہاں آدھی رات کو چڑیلیں اپنے شکار کو کھا جاتی ہیں ۔ ہنزہ شناکی کے گاؤں میون میں، روئی بار (چڑیل کی وادی) نامی ایک وادی ہے، اس وادی کو چڑیل کی وادی کہا جاتا ہے، کیونکہ کہا جاتا ہے کہ اسی وادی میں ایک بزرگ نے ایک چڑیل کو ( اپنی کرامت سے) پہاڑ میں پیوست کر دیا ہے۔ اس وادی میں پتھر کا ایک بہت بڑا سلیب ہے جسے بٹالی کہتے ہیں۔ مقامی لوگ اسے مِٹو کا چوپِنگ بورڈ سمجھتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں مِٹو اس انسان کو ذبح کرتا ہے جو چڑیلوں کا شکار بنا ہو۔ مِٹو اس شکار کو وہاں رکھ کر کاٹتا ہے اور اس بدقسمت شکار کے خون اور گوشت کے ٹکڑوں کو چڑیلوں میں تقسیم کرتا ہے۔ کچھ کہانیوں میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کٹے ہوئے سلیب پر چڑیلیں مٹو کے ساتھ مل کر خوشی میں رقص کرتی ہیں اور  پرجوش موڈ میں وہ مٹو سے پیار بھی کرتی ہیں۔ یہاں یہ بات نوٹ کرنا ضروری ہے کہ چڑیلوں کے مقابلے میں مِٹو کی تعداد بہت حد تک کم ہوتی ہے۔ عام طور پر چھ یا آٹھ چڑیلوں کے گروپ میں صرف ایک مِٹو یا فانیس ہوتا ہے۔

عام طور پر معاشرے میں مٹو کو عورتوں کا خوبرو یار یا جادوگر سمجھا جاتا ہے۔ وہ اپنی مکاری اور جادو کے ذریعے عورتوں کو بہکا سکتا ہے۔ گلگت کے مردانہ ذیلی ثقافت میں، عورت باز کو مِٹو کا نام دیا جاتا ہے۔ مِٹو سماج میں چڑیل کی طرح امتیازی سلوک کا شکار نہیں ہوتا ہے۔ عام طور پر، ڈائن کے ساتھ تعلق کو معاشرے میں ایک بدنما داغ سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ انسانی ساکھ کو داغدار کرتا ہے، جبکہ مٹو کے معاملے میں ایسا کوئی بدنما داغ نہیں لگایا جاتا۔ بعض اوقات معاشرے کے مرد اپنے خاندان میں مٹو ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ دوسری طرف چڑیل کے لیے یہ ایک عمدہ طریقہ کار ہے کہ وہ اپنی شناخت چھپانے کے لیے رات کو شکار کے لیے نکلتی ہے اور اپنے بالوں کو انسان کی اونی ٹوپی میں چھپا کر چہرے پر کالک لگاتی ہے۔ دوسری طرف مِٹو / فانیس اپنی شناخت نہیں چھپاتا۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دیوانگی کی حالت میں ایک سیاہ رات میں وحشیانہ طور پر دوڑتا ہوا نظر آتا ہے۔

 مٹو کی خصلتوں والے مردوں کے مطابق ان سے جڑی ہوئی تمام برائیاں نیند کی حالت میں سرزد ہوتی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، یہ ایک نفسیاتی رجحان ہے. اس نفسیاتی کیفیت سے گزرنے کے بعد ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کے دماغ کے اندر جو کچھ ہوا ہے وہ دراصل ان کے دماغ سے باہر کی دنیا میں ہو رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، خواب میں ان کے خواب اس وقت سچ ہوتے ہیں جب وہ نیند سے بیدار ہوتے ہیں۔ ان کی اس  خوفناک وضاحت اور رویے کی وجہ سے عام لوگوں کو شک ہے کہ مٹو/فھنیس دراصل چڑیلوں کی مدد کر کے لوگوں کی جانیں لے رہا ہے۔ جب کوئی مِٹو بیمار پڑتا ہے تو لوگوں خبر ہو جاتی ہے کہ گاؤں یا محلے میں کسی شخص کی موت ہونے والی ہے۔ مِٹو/ فھنیس کا اپنا رویہ ان کے اس شک کی تصدیق کرتا ہے کیونکہ وہ کسی متوفی کے گھر جانے سے گریز کرتا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس سے اس  کے ذہن پر پریشان کن اثر پڑتا ہے۔

کبھی کبھی مٹو اپنی جسمانی کیفیت میں بے چینی  محسوس کرتا ہے جب اس کے دائرے میں موجود ایک چڑیل اپنے اندر عجیب سی خواہش محسوس کرتی ہے۔ مٹو اور چڑیلیں دونوں ہی اس پیرا سائکک رابطہ کو بنانے کے قابل ہیں کیونکہ دونوں ایک ہی بد روح سے مستفید ہوتے ہیں۔ یہ شیطانی روح کی مشترکات ہیں جو انہیں غیر معمولی اور رات کے خوفناک کاموں میں ملوث ہونے پر مجبور کرتی ہیں۔چڑیلوں کا یہ عمل گلگت بلتستان کے معاشرے میں ناپاک اور  بہت بڑی برائی سمجھی جاتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ بدروح مِٹو/فھنیس کی روح کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ نتیجے کے طور پر اس کا رویہ اور بھی خوفناک ہو جاتا ہے اور وہ رات کی ان سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتا ہے۔ گلگت کے روایتی معاشرے میں غروب آفتاب کے بعد گھر سے باہر رہنے کے عمل کو برائی سمجھا جاتا ہے کیونکہ رات کے وقت صرف بد روحیں اور شیطانی مخلوق باہر گھومتی ہیں۔

مِٹو/فھنیس کی حالت بدلتی ہے اور اس کے قد کی اونچائی اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ وہ  تبدیلئ ہیئت کی صورت میں ایک ساتھی ڈائن یا چڑیل مِٹو کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس کے بعد اس کا وجود ڈائن اور میٹو/فھنیس کی خصوصیات کو یکجا کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ محسوس کر سکتا ہے کہ اس کے مردانہ احساسات کے علاوہ خواتین کیا محسوس کرتی ہیں۔ عورتوں کے احساس میں مقید ہونے سے وہ خواتین کے دل و دماغ کو آسانی سے پڑھ سکتا ہے اور انہیں مائل کر سکتا ہے۔ وہ عورت کی نفسیات کو خوب جانتا ہے اور ان کی نفسیانی اور جسمانی تشفی بھی کرتا ہے۔

ایک مشہور کہانی مرد چڑیل (روئی مِٹو/ہیر بلاس) کی ہے جو خواتین کو لبھانے کا ماہر بن گیا تھا ۔ ایک بار اس نے ایک عورت کو پسند کیا، لیکن اس کا شوہر اس کی راہ  میں بڑی رکاوٹ تھا کیونکہ وہ ایک اچھا شکاری تھا۔ اس کی حفاظت اس کی سرپرست دیوی (رچھالی) کرتی ہے۔ چونکہ مِٹو/فھنیس صرف رات کے وقت یا دوپہر کو شکار کی روح لے سکتے ہیں جسے شینا زبان میں پشین کا وقت ( دوپہر )کہتے ہیں۔ گرمیوں میں تیز دوپہر کا وقت لوگوں کے لیے خوفناک ہوتا ہے کیونکہ پہاڑوں پر چلچلاتی دھوپ لوگوں کو گھروں میں یا درختوں کے نیچے پناہ لینے پر مجبور کرتی ہے۔ عام طور پر اس وقت کے دوران کوئی انسانی سرگرمی نہیں ہوتی ہے۔ گلگت میں والدین اب بھی بچوں کو منع کرتے ہیں کہ وہ دوپہر کے اوقات میں اکیلے باہر نہ نکلیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ مِٹو/فھنیس رات کے وقت ان کی تلاش میں ہے اس عورت کا شوہر شام کے بعد گھر سے باہر رہنے سے گریز کرتا ہے۔

ایک دفعہ وہ شخص پہاڑوں میں شکار سے واپس گاؤں آرہا تھا۔ چلچلاتی گرمی اور تھکن کی وجہ سے وہ ندی کے کنارے ایک درخت کے نیچے سویا تھا ۔ مٹو/ فانیس اسے ڈھونڈ لیتا ہے اور اسے نیند سے بیدار کیے بغیر اس کے جسم کے قریب جاتا ہے۔ پھر وہ اپنے شکار کےجسم کی گرمی کو اپنی سانس کے ذریعے اپنے اندر جذب کرتا ہے اور خاموشی سے منظر سے ہٹ جاتا ہے۔ چند دنوں کے بعد اس عورت کا شوہر وفات پا جاتا ہے۔ شوہر کی وفات کے بعد ہی مِٹو/ فانیس اس شکاری کی جوان بیوی سے شادی کرلیتا ہے۔ کچھ عرصہ بعد بیوی اُسے بدنام کرتی ہے کہ وہ فحش رسومات منا رہا ہے اور وادی کی مشہور چڑیلوں کو بلانے کا الزام لگاتی ہے۔ کہانی مشہور ہے کہ ایک رات جب چڑیلوں اور مِٹو / فھنیس مل کر فحش رسومات منا رہے تھے تو اس کی بیوی گھر سے باہر نکلی اور  تاریکی سے فائدہ اٹھا کر بھاگ گئی۔

 روایت کے مطابق گلگت میں لوگوں کو عام طور پر یہ یقین ہے کہ چڑیل روایتی گھر کے اندر آٹا ذخیرہ کرنے کے لیے لکڑی کے بڑے صندوق کے تختے پر اڑتی پھرتی ہے ۔ یہ باتیں لوگوں سے سننے میں آئی ہے کہ جب چڑیلوں کو اس مٹو کی بیوی کے فرار ہونے کا علم ہوا تو انہوں نے بجلی کی سی تیز رفتاری سے پرواز کی اور اسے اس وقت پکڑ لیا جب وہ پل عبور کر رہی تھی۔ پھر وہ اسے پہاڑوں کی گہری وادیوں میں ذبح کرنے والے سلیب پر لے گئیں اور انہوں نے اس کے شوہر کو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کو کہا اور اس نے ٹکڑے کئے۔

کہا جاتا ہے کہ مِٹو کے بیج انسان کے دل میں تب بوئے جاتے ہیں جب وہ شیطانی روح کے ساتھ جماع/ مباشرت کرتا ہے۔ اس صورت میں یہ چڑیل ہی ہے۔ ایک بار جب یہ بیج بوئے جاتے ہیں تو وہ بے لگام برائی کی شکل میں پھل پھول جاتے ہیں۔ اس طرح کی برائی کو عام معاشرے کی خاص حدود اور رسومات کے اندر پورا نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا، مِٹو/فانیس بے لگام جذبے اور شیطان کے لیے انسانی خواہش کا استعارہ معلوم ہوتا ہے جو ہر عام رویے اور انسان کو کھا جانے کی کوشش کرتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...