سوات کے توروالی ہند آریائی داردی لوگ

ہزارہ کے تنولی قبائل کی کھوج۔ٹیکسلا کے قریب ترنول قصبے کا تذکرہ

0 192

سوات کے توروالی ہند آریائی داردی لوگ

ہزارہ کے تنولی قبائل کی کھوج۔ٹیکسلا کے قریب ترنول قصبے کا تذکرہ

تحقیق  و تحریر: ڈاکٹر عاطف محمد حسین چودھری

آپ لوگ حیران ہوں گے کہ میں کیا بات کر رہا ہوں۔دنیا تو سوات کو پختونوں کا علاقہ سمجھتی ہے۔ اور سوات ضلع میں اب بھی اکثریت پختون کے یوسفزئ قبائل ہی کی ہے۔لیکن اب بھی سوات کے شمالی علاقے  بحرین  اور گرد و نواح کے اصل باشندے ہند آریا توروالی لوگ ہیں۔اور تو اور سوات کوہستان میں اور بھی ہند آریا قبائل بستے ہیں جیسے گاوری اور گوجر۔یہی صورتحال بالائی دیر کی بھی ہے۔ وہاں گاوری ، گجروں کے علاوہ شینا ( ہند آریائ داردی) بولنے والے کالکوٹی بھائیوں کا مسکن ہے۔

توروالی، گاوری اور کالکوٹی داردی ہند آریائ زبانیں ہیں جس خاندان سے کشمیری زبان کا بھی تعلق ہے۔

بہت بڑے عالم اور ماہر اآثارقدیمہ و ثقافت سر Aurel Stein کے مطابق توروالی لوک موسیقی میں توروالی لوگ اپنا وطن بدخشان اور وسطی ایشیا کو مانتے ہیں۔انہوں نے sand oceans کا ذکر کیا ہے۔یہ sand ocean

Aral seaہے  یا امو دریا۔اس پہ تحقیق نا کافی ہے۔ویسے چترال کے بھی بدخشان سے بہت گہرے روابط تھے۔

دوسری طرف ہند آریا قبائل بھی وسط ایشیا سے ہی براستہ ہندوکش برصغیر داخل ہوئے تھے۔

اس کے بعد چین کے موجودہ صوبے سنکیانگ کی تریم گھاٹی سے ہند آریائ قبائل توخاری ، کشان، کھوٹان ، ساکا نے بھی ہندوکش سے ہوتے ہوئے گندھارا کے علاقے ، سندھ اور پنجاب پہ حکومت کی ہے۔کھوٹانی زبان میں ان قبائل کو thavara کہا گیا ہے۔تریم گھاٹی میں پٹرول کی دریافت کے دوران آثار قدیمہ کے بہت سے نوادرات ملے ہیں۔اور niya script جسمیں گندھاری پراکرت کو خروشتی رسم الخط میں لکھا گیا وہ بھی تریم گھاٹی کا ہی علاقہ ہے۔اور گندھارا سلطنت اور ہند آریاوں کا اس علاقے میں 9ویں صدی سے پہلے کافی اثرورسوخ رہا ہے۔

البتہ یہ مسلمہ حقیقت ہے توروالی ہند آریا لوگ ہیں اور گندھارا تہذیب سے ان کا بہت گہرا تعلق ہے۔ بالکل اگر ہم یوں کہیں کہ گندھارا تہذیب کے اصل والی توروالی ہی تھے تو یہ غلط نہ ہوگا۔

محمود غزنوی کے حملوں اور یوسفزئیوں کی سوات آمد سے پہلے سوات کا علاقہ گندھارا تہذیب کا اہم مرکز ہوا کرتا تھا۔اور سوات ، بونیر، صوابی ، وادی پشاور کے اصل باسی داردی ہند آریا قبائل تھے۔جن میں گبرال اور توروالی سر فہرست ہیں۔

اور گندھارا تہذیب کی زبان گندھاری پراکرت ہوا کرتی تھی۔

چین کے صوبہ سنکیانگ میں niya script کی دریافت کے بعد یہ تو گتھی سلجھ گئی کہ گندھاری پراکرت اور توروالی میں اچھا خاصا اشتراک ہے۔

ہزارہ کے تنولی اور سواتی قبائل

موجودہ ہزارہ جس میں ضلع ہری پور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ شامل ہے۔بہت دلچسپی کا علاقہ ہے۔

یہاں بھی گندھارا دور کے stupa بکھرے ہوئے ہیں۔ساتھ ساتھ اشوکا کے rock edicts بھی موجود ہیں جو گندھاری پراکرت کے خروشتی رسم الخط میں لکھے گئے۔

ہزارہ کے سواتی اور تنولی قبائل کا قصہ بہت دلچسپ ہے۔سواتی اپنے اپ کو پٹھان کہتے ہیں ۔اور تنولی اپنے اپ کو ترک النسل کہتے ہیں۔لیکن تحقیق کچھ اور کہتی ہے۔سواتی سوات کے اصل باسی تھے۔جو ہند آریا تھے۔گندھاری پراکرت بولتے تھے۔یوسفزئیوں کی آمد کے بعد وہ دریائے سندھ پار کرکے ہزارہ کے علاقوں میں اباد ہوگئے۔

سواتی برادری کی چار بڑی شاخیں ہیں

1۔گبری

2-متراوی

3-ممیالی

4-ٹوڑ یا  تور۔

ٹوڑ، تور اور توروالی میں اشتراک عیاں ہے

مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں ۔

اسی طرح تنولی لفظ بھی توروالی سے ہی نکلا ہوا لگتا ہے۔تنولی قبیلے کی دو شاخیں ہیں : پل آل  اور ہند آل۔

تنولی قبائل اپنے اپ کو ترک النسل کہتے ہیں۔کچھ اپنے اپ کو پختون کہتے ہیں۔لیکن ہزارہ یونیورسٹی کی 2017 میں محمد طارق کی سربراہی میں تحقیق کے مطابق کچھ اور نتائج نکلے ہیں۔دانتوں کی ساخت اور DNA کی analysis کے مطابق Y Chromosome

R1A1 اور R1B1 HALPOGROUP

کی کثیر تعداد پائ گئی ہے۔جو خالصتا آریا جینز ہیں۔

یہ نہ پختون GENES ہیں نہ ہی ترک۔

اور انہی جینز کی پنجاب کی راجپوت، جٹ ، گجر اور ارائیں برادریوں میں بھی بہتات ہے۔

اسی طرح ٹیکسلا سے 10 کلومیٹر جنوب میں قومی شاہراہ پہ ترنول نامی قصبہ کی وجہ تسمیہ بھی باعث دلچسپی ہے۔

ٹیکسلا بھی گندھارا تہذیب کا جنوبی مرکز تھا۔اور توروالی قوم تحقیق کے مطابق گندھارا کے مشہور قبائل میں سے ایک قبیلہ ہے۔ترنول ، تنولی اور توروالی کی وجہ تسمیہ دلچسپ بھی ہے ۔اور ان کے تانے جانے آپس میں ملنے کیلئے ہمارے پاس کافی ٹھوس شواہد اکٹھے ہوگئے ہیں۔البتہ مزید تحقیق کی بھی ضرورت ہے۔

اختتامیہ

کسی بھی قوم ، قبیلے یا لسانی گروہ کی تاریخ اور ORIGIN کی جانچ کیلئے اس قوم کی بولی جانے والی زبان ماضی کو اپنے اندر محفوظ کر کے رکھتی ہے۔

لوک داستانیں سونے پہ سہاگا۔

اور ساتھ میں ان علاقوں میں آثار قدیمہ کا درست سمت میں تحقیق کا پایہ تکمیل کو پہنچنا بہت سی گتھیوں کو سلجھا دیتا ہے۔

توروالی قبائل کا مسکن صرف شمالی سوات نہیں ہے۔یہ قبیلہ ایک بہت بڑے علاقے میں اباد تھا۔اب بھی ہزارہ میں اوگی اور دربند کیطرف کچھ گاوں میں منکیالی زبان جو extinct ہونے کو ہے کہ توروالی سے بہت مماثلت ہے۔جس سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے ہزارہ میں بھی گندھاری پراکرت کا راج ہوا کرتا تھا۔تنولی اور سواتی قبائل کا توروالی بھائیوں سے اشتراک اس بات کو واضح کرتا ہے کہ داردی قبائل نہ صرف ہندوکش ، ہمالیہ اور قراقرم میں اباد تھے بلکہ گندھارا تہذیب کی وجہ سے وسطی ایشیا اور پنجاب و سندھ میں بھی ان کا گہرا اثر رسوخ تھا۔

شاید یہی وجہ ہے جارج گریرسن نے پنجابی اور سندھی کو داردی اور وسطی ہندوستان کی زبانوں کے امتزاج کیوجہ سے outer circle گروپ میں رکھا ہے۔

ہزارہ میں پنجابی کے variant ہندکو کا اکثریتی زبان کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔

ایک تو راولپنڈی اور ہزارہ کے درمیان کوئی بڑا دریا نہیں ۔عین ممکن ہے گندھارا تہذیب کے خاتمے کے بعد شمالی پنجاب سے قبائل ہزارہ ایبٹ آباد آکر اباد ہوگئے ہوں۔

یا 1800 کے بعد سکھ حکومت کی وجہ سے Punjabization ہوگئی ہے۔جو ایک فطری عمل ہے۔

اور گندھاری پراکرت سے نکلی ہو زبانوں اور شمالی پنجابی کے امتزاج سے ہزارہ ہندکو وجود میں ائی ہو۔

کیونکہ جہاں جہاں سکھ کی حکومت تھی وہاں پنجابی کی varieties بولی جاتی ہیں ۔اور جہاں سکھ نہیں پہنچ سکے وہاں داردی زبانیں ہی مروج ہیں

Ref

Tariq, Muhammad (2017). Genetic Analysis of the Major Tribes of Buner and Swabi Areas through Dental Morphology and DNA Analysis (PDF) (Ph. D. thesis). Hazara University, Mansehra.

Linguistic survey of India by George GREARSON

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...