اہل ڈنہ کی منفرد زبان –مانکیالی

0 367

اہل ڈنہ کی منفرد زبان —مانکیالی

تحریر و تحقیق- مولانا مفتی عنایت الرّحمان ہزاروی

(نوٹ -مصنف اہل ڈنہ کی منفرد زبان اور انکی تاریخ پر اپنی تصنیف  ”تذکرہ  مانکیال اکوزئی یوسفزئی“ میں  ”مانکیالی“ زبان بولنے والوں کو  یوسفزئی کی ذیلی شاخ اکوزئی سے ملاتے ہیں۔ اہل ڈنہ یعنی مانکیالیوں کے ساتھ وہ ایک دوسرے قبلے ”تراوڑ“ کا ذکر بھی کرتے ہیں جو کہ مصنف کے مطابق مانکیالی قوم کے چچا ذاد بھائی ہیں۔ مفتی صاحب دونوں کو یوسفزئی مانتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق مانکیالی قوم سوات کوہستان یعنی بحرین کے گاؤں ”مانکو“ جس کو وہ ”مانکا، منکر وغیرہ لکھتے ہیں سے ائے ہیں۔ دوسری روایت میں مولانا صاحب ماناکیالی قوم کو بن کھنڈ کوہستان سے جڑتے ہیں۔ وہ تراوڑ قوم کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ غالیگے سوات سے ائے ہیں۔  

اس سلسلے میں عرض ہے کہ توروالی  کے نام سے کئی گھرانے ضلع شانگلہ کے مختلف علاقوں میں پائے جاتے ہیں جو اب توروالی زبان نہیں بول سکتے  لیکن ان کو وہاں ان کے پشتون پڑوسی  توروالی کہتے ہیں۔ الپوری کے قریب پیر خانہ میں کئی گھرانے  ”توروالی “ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اسی طرح کئی گھرانے کابل گرام ضلع شانگلہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔

اگرچہ لفظ تراوڑ کے متعلق مولانا مفتی عنایت الرّحمان ہزاروی صاحب توجیہ پیش کرتے ہیں کہ یہ لفظ  ”تو راڑوہ“ سے مشتق ہے جو کہ پشتو  کا  جملہ ہے اور جس کے معانی ”تو لاؤ“ ہے۔ اس سلسلے میں وہ اپنی کتاب ”تذکرہ مانکیال اکوزئی یوسفزئی“ میں ایک حکایت بھی نقل کرتے ہیں۔

اس مجلّے کے ایڈیٹر کے نزدیک کوئی بات بھی حتمی نہیں۔ اس سلسلے میں مزید تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔

مفتی صاحب اس زبان کو کوئی نام نہیں دیتے اور اسے صرف ایک منفرد زبان کہتے ہیں جس کو ڈنہ کے باشندے بھی کوئی نام نہیں دیتے صرف ”اپنی زبان“ کہہ کر یاد کرتے ہیں۔اس زبان کا مانکیالی نام  حالیہ مہینوں میں  ایتھنولاگ نے شامل کیا ہے اور  اسے ‘nlm’ کا کوڈ دیا ہے جبکہ اسکا ISO کوڈ ISO 639-3  دیا گیا ہے۔ ایتھنولاگ نے اسکے متبادل نام  تراوڑہ، تراوڑی Tarawara, Tarawari, Trawar دیے ہیں۔  ایڈیٹر )

https://www.ethnologue.com/language/nlm

 

وادی تناول یونین کونسل بانڈی شنگلی میں پہاڑ کی چوٹی پر ایک معروف اور خوبصورت گاؤں واقع ہے جس کا نام ڈنہ ہے۔  اس گاؤں کے مکین ایک ایسی دلچسپ زبان بولتے ہیں جو راقم کی تحقیق کے مطابق ان کے علاوہ دنیا میں کہیں نہیں بولی جاتی۔ اس زبان کا نام کیا ہے؟ یہ خود اس زبان کے (Speakers)بولنے والوں کے علم میں بھی نہیں بلکہ یہ حضرات اس زبان کو صرف اپنی زبان کہتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ان لوگوں کو اس زبان کی ابتداء کے بارے میں کچھ خبر نہیں اس زبان کی ابتداء اس گاؤں میں کون سے بزرگ نے کی؟ اور یہ زبان ہمارے اکابر کہاں سے لائے؟ اس قسم کے سوالات سے یہ Speakers بالکل نا واقف ہیں۔ یہ حضرات صرف یہ کہتے ہیں کہ یہ زبان ہمارے آباء و اجداد بولتے تھے۔ اور ہم تک سینہ بہ سینہ بحفاظت منتقل ہوئی ہے اور یہ ہماری مادری زبان ہے۔ اس زبان کا نام کیا ہے ؟ مانکیال اکوزئی کے ان خاندانوں تک کیسے منتقل ہوئی؟ یہ زیادہ تر کس زبان سے مماثلت رکھتی ہے؟ اور اس کو محفوظ رکھنے کے لئے ہم کیا اقدامات کر سکتے ہیں؟ انشااللہ ہم ائندہ سطور میں ان سوالوں کے جوابات دینے کی کوشش کریں گے۔ اس زبان کا نام کیا ہے؟ اہلیان ڈنہ کے پاس یہ کیسے پہنچی؟ سب سے پہلے مذکورہ زبان کو کون بزرگ اس گاؤں میں لائے اور یہ کس طرح پروان چڑھی؟

مولانا عبدلکریم  اور مانکیالی زبان

ان تما م سوالوں کے جوابات دینے سے قبل مولانا عبدلکریم قدس سرہ الّسامی کے اخلاف کے متعلق کچھ تفصیل بیان کرتا ہوں۔ امید واثق ہے کہ میری بیان کردہ تفصیل کی روشنی میں انشااللہ قاری کو جوابات سمجھنے میں اسانی ہوگی۔ مولانا عبد الکریم رحمتہ اللہ علیہ کی طرح اپکی اولاد نے بھی وادی تناول میں دین اسلام کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ موصوف کے وادی تناول سے واپس سوات ہجرت کرنے کے بعد آپ کے بیٹوں ، پھر پوتوں اور پڑپوتوں نے اپنے اپنے دور میں حسب استطاعت اسلام کے علم کو بلند رکھنے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا اور الحمد للہ آج بھی آپ کے اخلاف خدمت دین میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ آپ کے بیٹے قاضی عزیزللہ کے فرزندوں ، علی محمد اور فاروق نے گاؤں چمراسی کو ازسرنو آباد کیا۔ یاد رہے علاقہ شنگل میں پہلے پہل سکھ اور ہندو آباد تھے۔ گاؤں چمراسی میں بھی پہلے سکھوں کی آبادی تھی۔ لیکن اسلام کے غالب انے کے بعد سکھ اور ہندوؤں نے اس علاقے کو خیرباد کہا ان بزرگوں نے گاؤں چمراسی کو اسز سر نوآباد کیا اور بعد میں محمد بابا کی اولاد ضلع اٹک علاقہ حضرو گاؤں چھچھ برہ زئی میں دین اسلام کی خدمت میں مصروف عمل ہوئی جو اب تک اپنے آباء کی روش پر قائم ہے۔ اب تو چند گھر بیرون ملک شفٹ ہوچکے ہیں۔ جبکہ فاروق بابا کی اولاد نے گاؤں رحمکوٹ میں بودوباش رکھتے ہوئے خدمت دین میں اپنا حصہ ڈالا اور اب تک موصوف کی اولاد گاؤں رحمکوٹ میں مقیم ہے۔ جبکہ مذکورہ گاؤں چمراسی میں علی بابا کی اولاد ہی اقامت گزین تھی۔ لیکن کافی عرصے سے علی بابا کی اولاد کے بھی چند خاندان چمراسی سے ہجرت کر کے گاؤں گلی رحمکوٹ ، قلندر آباد اور تحصیل و ضلع مردان کو آپنا مسکن بنا چکے ہیں۔ اور مذکورہ مقام پر اب صرف قاضی عصمت اللہ اور مولانا مطیع اللہ کی اولاد ہی رہتی ہے۔ مولانا عبد الکریم رحمتہ اللہ کے دوسرے فرزند حیات اللہ کے اخلاف میں سے ملا شیر بابا، سیف الدین بابا اور مولاناکے تیسرے فرزند مراداللہ کے لخت جگر رحم الدین بابا نے گاؤں ڈنہ جو پہلے پہل قوم مانکیال اکوزئی کے جانوروں  کی چراہگاہ تھی کو آباد کیا۔ ملا شیر بابا کے دوسرے بھائی شعیب بابا نے اپنے ابائی وجدی گاؤں شوشنی سے ہجرت کرکے گاؤں بیربٹ میں امامت سنبھالی جبکہ تیسرے بھائی شیخ بابا گاؤں شوشنی سے رہائش ترک کر کے کالا ڈھاکہ (موجودہ ضلع تورغر) کے علاقے ٹیگرام میں منصب امامت پر فائز ہوئے۔ مولانا کے دوسرے فرزند حیات اللہ کے ہی ایک بیٹے سیراج الدین بابا نے گاؤں کیلہ میں قال اللہ و قال الرّسول  صلّی اللّہ علیہ والسّلم کی صدا بلند کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ جبکہ حیات اللہ کے ہی ایک پڑپوتے مولانا عبد الحلیم نے قاض صفی اللہ کی معرفت سے گاؤں شنکاری میں لوگوں کو اسلام کی روشنی پہنچانے کے لئے گاؤں چمراسی سے رخت سفر باندھا اور اسلام کی خدمت کرتے ہوئے راہ دار اخرت ہوئے۔ جبکہ موصوف کے دوسرے بھائی مولوی خادم اللہ ، قاضی عبد المستعان کی معرفت سے گاؤں گیدڑئی میں بطور امام مقرر ہوئے۔ جہاں انہوں نے امامت کے فرائض بحسن خوبی نبھائے اور ساری زندگی اسی گاؤں میں گزار کر راہ دار اخرت ہوئے۔ مولانہ عبد الکریم کے تیسرے لخت جگر مراد اللہ بابا کے اخلاف میں سے نجم الدین بابا اپنے آبائی اور جدی گاؤں شوشنی میں ہی مقیم رہے تاہم آپ کی اولاد کچھ عرصہ کے لئے علاقہ غیر ضلع تورغر ہجرت کر کے گئی مگر اہل کلبند شریف کے اکابرین نے انہیں واپس لاکر گاؤں شوشنی میں آباد کیا۔ جبکہ دوسرے فرزند رحم الدین بابا کے متعلق آپ پڑھ ائے کہ وہ گاؤں ڈنہ میں منتقل ہوئے۔ مولانا کے چوتھے بیٹے سلام الدین کے اخلاف نے اولاَد شوشنی سے ہجرت کر کے جبڑ ، ارغاڑیاں،بسنگڑ گلی، بیربٹ اور گاؤں سنج میں سکونت اختیار کی اور پھر سلام الدین بابا کے اخلاف نے سوائے سنج کے مذکورہ علاقوں کو چھوڑ کر گاؤں ڈنہ، اوگی گاؤں تراوڑہ، گاؤں سنبل بوٹ، علاقہ غیر ضلع تورغر اور گاڑ منارہ شاہ بہادر بانڈہ تحصیل و ضلع صوابی کو اپنا مسکن بنایا۔ یاد رہے قوم مانکیال اکوزئی کے زیادہ تر اکابر اس وقت خدمت اسلام کے جذبے کے تحت امامت اور درس و تدریس کے فرائض سرانجام دینے کے لئے مختلف گاؤں ، شہروں اور دیہاتوں کو ہجرت کر کے اپنا مسکن و وطن بناتے تھے۔یہ ایسی حقیقت ہے جو افتاب کی طرح روشن ہے ۔ اور محتاج بیان نہیں۔

اہلیان ڈنہ اور ان کی زبان

بانڈی شُنگلی

اس تفصیل کے بعد آئیے اصل مقصد کی طرف ۔ ذکر تھا اہلیان ڈنہ کی دلچسپ زبان کا ۔ اس کا نام اور اس کو جنت نظیر وادی گاؤں ڈنہ میں لیکر  انے والے بزرگ کا نام کیا تھا؟ تو سنئے جناب من! بزرگوں کی روایت اور میری تحقیق کا جو ما حصل ہے وہ بیان کرتا ہوں۔ جیسا کہ میں پہلے بیان کرچکا ہوں کہ حیات اللہ کے تیسرے فرزند سیراج الدین نامی بزرگ امامت کروانے گاؤں کیلہ میں منتقل ہوئے۔جہاں امامت کی زمہ داری بحسن خوبی نبھاتے رہے۔کچھ عرصہ بعد گاؤں کیلہ میں ہی آباد کاڑنگہ قوم کی خاتون سے نکاح کیا اور اپکی اولاد نے اپنی مادری زبان پشتو چھوڑ کر گاڑنگہ قبیلہ سے ان کی زبان سیکھی۔ ادھر گاؤں ڈنہ میں ملا شیر بابا اور سیف الدین بابا دونوں کے درمیان اختلاف ہوا اور اختلاف نے جب شدت اختیار کی تو سیف الدین بابا نے ہجرت کرنا ہی مناسب سمجھتے ہوئے گاؤں ڈنہ کو ترک کرکے گاؤں پودنیال کو اپنا مسکن بنایا لیکن وہاں آباد پٹھان قبیلے سے جھگڑے کی وجہ سے بہت جلد پودنیال سے بھی سکونت ترک کرنی پڑی اور گاؤں بائی بجنہ میں بودوباش رکھنی شروع کی۔ پھر اہل کلبند شریف کے اکابرین نے موصوف کی اولاد کو اپنے پاس لاکر گاؤں ڈوگہ اور پھر کچھ مدت کے بعد ڈوگہ سے گاؤں چمراسی میں آباد کیا۔ اس کی تفصیل میں انشا اللہ اہل کلبند کون؟ کے عنوان کے تحت کرونگا۔ چونکہ اس وقت دنیاوی معاملات میں ایک دوسرے کی مدد و اعانت کی زیادہ ضرورت پیش اتی تھی اور ایک دوسرے کے باہمی تعاون سے ہی زندگی کا بسر اوقات ہوتا تھا اسلئے سیف الدین بابا کے گاؤں ڈنہ سے ہجرت کے بعد ملاشیر نے اپنے چچا زاد بھائیوں ( سیراج الدین کے بیٹوں) غلام اللہ اور نور احمد دونوں کو گاؤں کیلہ سے لاکر سیف الدین بابا کی جگہ گاؤں ڈنہ میں آباد کیا۔ چونکہ آپ پہلے پڑھ آئے کہ سراج الدین کی اولاد اپنی مادری زبان پشتو ترک کر کے کاڑنگہ قبیلے کی زبان سیکھ چکی تھی۔ کیونکہ سراج الدین بابا نے نکاح کاڑنگہ قبیلہ کی خاتون سے کیا ہوا تھا۔ جب ملا شیر بابا نے اپنے چچازاد اور سراج الدین کے بیٹون غلام اللہ اور نور احمد کو لاکر سیف الدین بابا کی جگہ آباد کیا تو یہ دونوں( غلام اللہ اور نور احمد) بزرگ مذکورہ زبان بولتے تھے۔ چونکہ اس وقت گاؤں ڈنہ میں صرف دو گھر ( ایک ملاشیربابا اور دوسرا رحم الدین بابا ) کےتھے۔ اور یہ پشتو بولتے تھے۔ لیکن سراج الدین بابا کے بیٹے غلام اللہ اور نور احمد دونوں پشتو سے ناواقف تھے لہذا ملاشیر بابا اور رحم الدین باباب دونوں اور آپ کے گھر والوں کو یہ زبان مجبوری میں سیکھنی پڑی۔ کیونکہ پشتو غلام اللہ، نور احمد اور ان کی اولاد نہیں بول سکتی جبکہ مذکورہ زبان ملاشیر بابا اور رحم الدین بابا اور ان کی اولادیں نہیں جانتیں۔ اخر چچا زاد اپس میں بات کریں تو کس طرح کریں؟ اسلئے مجبوراً میں اس زبان کو سیکھنا پڑا۔ نتیجہ جو ہوا وہ آپ کے سامنے ہے کہ قوم مانکیال اکوزئی کا جو خاندان بھی اس گاؤں میں مقیم ہوتا رہا۔ وہ اپنی مادری زبان پشتو کو ترک کرتا رہا اور مذکورہ زبان سیکھتا رہا۔ اس کی زندہ مثال مراداللہ کے اخلاف میں سے حیات النبی نے شوشنی سے، سلام ادین کے اخلاف میں سے علی زمان اور احمد نے گاؤں بیربٹ سے شیخ بابا کے پڑپوتوں امیر حسین اور احمد نے کالا دھاکا(موجودہ ضلع تورغر) کے علاقے ٹیگرام سے اور ان کے علاوہ باشا بابا کے پوتے حبیب گل نے گاؤں کوٹلہ سے ترک سکونت کرکے گاؤں ڈنہ کو اپنا مسکن بنایا اور مذکورہ زبان سیکھی۔جس کی وجہ سے آج ان تمام برگوں کی اولادیں اس زبان کو اتنی مہارت کے ساتھ بولتی ہیں کہ ان کی مادری زبان بن چکی ہے اور اصل مادری زبان پشتو سے ایسے ناواقف ہیں کہ سوائے بزرگوں کے بہٹ کم نوجوان پشتو کو سمجھنے اور بولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسری طرف کمال دیکھئے کہ اس گاؤں ڈنہ سے دوسرے مقامات پر ہجرت کرنے والے خاندانوں میں سے بعض تو اس دلچسپ زبان کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن بعض خاندان اس کو محفوظ رکھنے میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں اور آج ان خاندانوں کے افراد اس زبان سے با لکل ناواقف ہیں اور ان کی مادری زبان پشتو یا ہندکو ہے۔ تفصیل ملاحظہ فرمائیں  تا کہ اس زبان سے Related ہر بات اظہر من الشمس ہوجائے۔ ملاشیر بابا کے پوتے اور عمران بابا کے بیٹے کا( اصل نام کوشش بسیار کے باوجود معلوم نہیں ہوسکا) نے گاؤں ڈمکہ کو آباد کیا اور اس میں بودو باش رکھی لیکن اس زبان کوضائع ہونے سے بچایا اور محفوظ رکھا۔ بعد میں اس گاؤں (ڈمکہ) کو امیر حسین کے بیٹے غلام نبی نے اپنا مسکن بنایا تو وہ بھی اس زبان کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے اور آج اس گاؤں (ڈمکہ) میں مذکورہ بذرگوں کی اولادیں یہی زبان بولتی ہیں۔ اور ان کی مادری زبان یہی زبان ہے جسے راقم دلچسپ و منفرد زبان کہتا ہے۔ اسی طرح اس زبان کے بانی غلام اللہ کے بیٹے مولانہ محمد عباس گل امامت کروانے کے لئے جب گاؤں ڈنہ سے ہجرت کرکے گاؤں گلدار میں مقیم ہوئے تو وہ بھی اس زبان کو محفوظ رکھنے میں کامیاب و کامران دکھائی دیتے ہیں کیونکہ موصوف کی اولاد بھی گاؤں گلدار میں اس زبان کو بولتی اور سمجھتی ہے اور ان کی مادری زبان بھی یہی دلچسپ و منفرد زبان ہے۔

 لیکن یہ تھا تصویر کا ایک رخ اب زرا تصویر کا دوسرا رخ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ بعض ایسے خاندان جنہون نے اس (جنت نظیر وادی) گاؤں ڈنہ کو جب الوداع کہا تو وہ خاندان اس دلچسپ و منفرد زبان کو محفوظ رکھنے میں  بری طرح ناکام ہوئے ہیں کہ آج ان کی اولادیں اس زبان کے متعلق بلکل کچھ کہنے سمجھنے ا ور بولنے کی پوزیشن میں نہیں اور ان کی  مادری زبان یا تو پشتو ہے یا ہندکو۔ وہ اس دلچسپ زبان سے بلکل ناواقف ہیں۔ چنانچہ جب ملا شیر بابا کے پوتے صابر ین اور رحم الدین بابا کے پوتے مہربان کے درمیان کسی وجہ سے چپقلش ہوئی اور معاملے نے طول پکڑلیا تو مہربان بابا نے اس گاؤں ڈنہ کو خدا حافظ کہہ کر گاؤں ارغاڑیاں میں سکونت اختیار کی۔  اسی طرح سراج الدین بابا کے پڑپوتے عبد الحنان نے مجبوری کے تحت اس گاؤں ڈنہ سے سکونت ترک کرکے گاؤں چمراسی میں بودوباش رکھی۔ اور سراج الدین کے ہی دوسرے پوتوں حضرت احمد اور میر احمد نے گاؤں ڈنہ سے ہجرت کرکے گاؤں بسنگڑ گلی کو اپنا مسکن بنایا۔ لیکن مذکورہ بالا تمام بزرگ اور ان کی اولادیں اس دلچسپ و منفرد زبان کو محفوظ نہ رکھ سکیں جس کی وجہ سے آج ان کی اولادوں میں سے بعض کی مادری زبان پشتو اور بعض کی مادری زبان ہندکو ہے۔ ہماری بیان کردہ تفصیل کی روشنی میں یہ بات اظہر من الشمس ہوچکی کہ یہ زبان کا ڈنگہ قبیلہ کی مادری زبان تھی اور اسے سراج الدین بن حیات اللہ کے بیٹے غلام اللہ اور نور احمد نے سیکھ کر قوم مانکیال اکوزئی کےآباد کردہ گاؤں ڈنہ کے مکینوں کو سیکھایا۔اُٹھائے گئے سوالات کے جوابات یا ہماری پیش کردہ تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ زبان اصل میں کاڈنگہ قبیلہ کی مادری زبان تھی اور پھر سیراج الدین بن حیات اللہ کے بیٹوں غلام اللہ اور نور احمد نے گاؤں کیلہ میں سیکھ کر گاؤں ڈنہ میں بولنی شروع کی۔ پھر رفتہ رفتہ یہ گاؤں ڈنہ کی مادری زبان بنتی گئی۔ اور یہ دلچسپ و منفرد زبان گاؤں ڈنہ کے تمام مکینوں کی مادری زبان ہے اور یہ لوگ اس زبان کو اپنی زبان کہتے ہیں۔ اسی زبان کی وجہ سے پورے علاقے میں اس گاؤں کو خاص انفرادیت حاصل ہے۔  حیرت انگیز بات یہ کہ جس قبیلہ کی یہ مادری زبان تھی اس قبیلہ کے چند خاندان آج بھی علاقہ شنگل گاؤں کیلہ وجیور میں آباد ہے۔ لیکن وہ اس زبان کو نہ بول سکتے ہیں اور نہ سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ اوّلاً یہ  انکی مادری زبان تھی ۔ پھر اکرم خان1846ء تا 1907 ء کے علاقہ شنگل پر قبضے کے بعد ہماری قوم یا خاندانوں کے افراد کو مختلف گاؤں ، شہروں یا دیہاتوں میں منتقل کیا گیا۔ اور ظلم و ستم کو روا رکھا گیا۔ اور رفتہ رفتہ ہم اپنی مادری زبان بھولتے گئے اور ہماری زبان کی جگہ ہندکو نے لے لی۔ کاڈنگہ قوم کے موجودہ بزرگوں کے بیان کے علاوہ ہماری تحقیق کی تائید و توثیق مؤلف ارمغان افغان کی تحریر سے بھی ہوتی ہے۔
چنانچہ موصوف رقم طراز ہیں کہ!
مانکیال واقع کوہستان سوات جو کہ نقشہ ریجن پشاور صراحہ موجود ہے ۔ اس جگہ کی زبان کوہستانی ہے۔ چنانچہ قوم مانکیال ( پوری قوم کی نہیں بلکہ چند خاندانوں ہزاروی عفی عنہ) کی زبان بھی جو کہ کاڈنگہ کی زبان سے ملتی جلتی ہے اور یہ زبان کوہستانی ہے۔ جیسا کہ گل نبی ولد سید احمد کاڈنگہ ساکن کیلہ علاقہ شنگلی نے کہا کہ پاکستان ہندوستان بننے سے پہلے جب میں بمبئی میں تھا ایک آدمی ساکن موضع بنکھڑ کوہستان سے تعارف ہوا تو اس نے کہا کہ تم لوگ ( کاڈنگہ) کوہستانی ہو کیونکہ تمہاری زبان ہماری زبان سے ملتی ہے ۔ دوم یہ کہ 1932ء میں زرین نامی کوہستانی طالب علم ہمارے پاس تعلیم پاتا تھا اور کہتا تھا کہ میں کاڈنگہ زبان سمجھتا ہوں۔ یہ ہماری زبان سے ملتی ہے۔
مؤلف ارمغان افغان کی بیان کردہ دونوں روایات سے روز روشن کی طرح یہ عیاں ہوتا ہے کہ یہ زبان کاڈنگہ قبیلہ کی زبان تھی۔ یہی ہماری تحقیق ہے، جسے ہم پہلے بیان کرچکے۔ لیکن موصوف کی بیان کردہ روایات میں یہ بات کہ یہ کوہستانی زبان سے ملتی ہے۔ میرے لئے باعث تعجب ہے۔ کیونکہ راقم کی تحقیق کے مطابق مذکورہ زبان  75 فیصد کسی بھی زبان کے ساتھ مشابہت یا مماثلت نہیں رکھتی۔ چند الفاظ کا ملنا ایک حقیقت ہے مگر پوری زبان کا کوہستانی زبان سے ملنا یا مماثلت رکھنا بالکل لغو ہے۔ چنانچہ ہماری تحقیق کے مطابق کوہستانی لوگ اس دلچسپ و منفرد زبان کو بالکل نہیں سمجھتے اور نہ اہل ڈنہ کوہستانی سمجھنے یا بولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جنت نظیر وادی گاؤں ڈنہ میں بندہ ناچیز کا انداز   ً19سال آنا جانا لگا رہتا ہے۔ اور راقم کی زندگی کے بعص رفیقوں کا تعلق بھی اسی گاؤں سے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وادی تناول میں کاتب الحروف کو قدرتی طور پر اس گاؤں اور اس کے مکینوں سے انس و محبت ہے۔ اسی وجہ سے بعص اوقات میں اس گاؤں (ڈنہ) میں جاتا ہوں اور یہاں رات بھی بسر کرلیتا ہوں ۔ تو اکثر دوست احباب محفل و مجلس میں اسی مذکورہ زبان کو استعمال کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے میں اس زبان کو کافی حد تک سمجھتا ہوں۔ اس لئے میں بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ مذکورہ زبان کوہستانی زبان سے  75 مماثلت یا مشابہت نہیں رکھتی کیونکہ میرے کوہستانی لوگوں سے بھی بڑے گہرے روابط و مراسم ہیں۔ اور میں نے ان کی کوہستانی زبان بھی سنی ہے۔ لیکن یہ دونوں زبانیں اپس میں کافی مختلف ہیں۔ میری تحقیق کی تائید و توثیق آج بھی گاؤں ڈنہ میں رہائش پزیر بزرگ حضرات کریں گے کہ اس گاؤں ڈنہ میں ستبر یا کوثر نامی ایک کوہستانی بمع اہل و عیال تقریباً دس سال کا عرصہ مسجد میں بطور خادم رہا۔ مگر اتنے عرصے میں نہ موصوف اس دلچسپ و منفرد زبان کو سیکھ اور سمجھ سکا  نہ اہلیان ڈنہ میں سے کوئی فرد کوہستانی بولنے اور سمجھنے میں کامیاب ہوسکا۔ اس ستبر یا کوثر نامی شخص کے بارے میں جو میں نے یہاں بیان کیا۔ اس کی تصدیق کے لئے گاؤں ڈنہ کے بزرگوں سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔کیا اہلیان ڈنہ کی زبان کوہستانی زبان سے ملتی جلتی ہے تو میرا موقف ارمغان افغان کے مؤلف اور ان کی بیان کردہ دونوں روایات کے راویوں سے مختلف ہے میں سمجھتا ہوں کہ اہلیان ڈنہ کی زبان جو اولاً کاڈنگہ کی مادری زبان تھی 75فیصد کسی بھی زبان سے مماثلت یا مشابہت نہیں رکھتی۔

مانکیالی اور درد زبانیں
اس بارے میں اگر تحقیق کی جائے تو مجھے یقین ہے نہایت بار اور ہوگی۔ جیسا کہ آپ میرا موقوف پڑھ ائے ہیں کہ یہ زبان75 فیصد کسی بھی زبان سے مماثلت یا مشابہت نہیں رکھتی۔ لیکن میں انتہائی تحقیق و جستجو کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس زبان کا تعلق درد زبانوں سے ہے۔ چونکہ کوہستانی زبانیں دردی زبان سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔ کوہستانی کے علاوہ بھی کئی زبانوں کا تعلق درد زبانوں سے ہے مثلاً  اشوجو، گاؤری ، توروالی، کھوار،پالولہ، شینا وغیرہ۔ میرے خیال میں مذکورہ زبان بھی درد زبانوں سے نکلی ہوئی ایک زبان ہے۔ درد زبانیں اور اہل ڈنہ کی زبان ایک ہی تنے سے نکلی ہوئی مختلف شاخیں ہیں۔ میں یہاں درد زبانوں میں سے ، توروالی، گاؤری، راجکوٹی ، کلکوٹی اور مذکورہ زبان کے کچھ ایسے الفاظ لکھتا ہوں جن کا آپس میں بہت زیادہ مماثلت اور مشابہت پائی جاتی ہے اور اس سے مندرجہ بالا میرے موقوف کی تائید ہوتی ہے۔

توروالی گاؤری راجکوٹی کلکوٹی مانکیالی اردو
مو مکھے مکھ مکھ مو منہ
کان کیان کن کن کان کان
أنگی اُنگیر أنگیر انگر انگیڑ انگلی
سی سیر سیر سر سور سورج
یُن یسون یُن یُون ژان چاند
تا تار تار تار تارے ستارے
باٹ بٹ بٹ باٹ باٹ پتھر
باپ بوپ بنب بوب ملا باپ
جیِب جب جب جب ذیب زبان
ییئ ییئ یئے یے مأل ماں

اہلیان ڈنہ کی زبان میں صدہا ایسے الفاظ موجود ہیں جو درد زبانوں سے گہری مماثلت اور مشابہت رکھتے ہیں۔ کئی سال گزرنے کے باوجود بھی ان زبانون میں مماثلت کے کئی پہلو موجود ہیں۔ اور ان میں کچھ الفاظ ایسے ملتے ہیں ۔ جو ان تمام زبانوں میں مماثل ہیں۔ اور معمولی تغیر کے ہوتے ہوئے  بھی ایک جیسے معلوم ہوتے ہیں اور اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔ اسلئے میں اس سے یہ نتیجہ اخذکرتا ہوں کہ یہ تمام یعنی مذکورہ دلچسپ و منفرد زبان اور درد زبانیں ایک ہی تنے کی مختلف شاخیں ہیں۔ یہاں قارئین کے ذہنوں میں یہ سوال اسکتا ہے کہ جب مذکورہ زبان کا تعلق درد زبانوں سے ہے تو پھر یہ زبان 75 فیصد تک ان سے مماثلت کیوں نہیں رکھتی؟ اور درد زبانیں بولنے والے افراد اس زبان اور اس زبان کے بولنے والے درد زبانوں کو سمجھنے کی صلاحیت کیوں نہیں رکھتے؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ کاڈنگہ قبیلہ کے نقد متواتر میں یہ روایت چلی آرہی ہے کہ ہمارے اجداد میں سے کسی نے قتل کیا تھا جس کی وجہ سے اپنے اصلی علاقے کوہستان سے ہجرت کرکے بائی پائیں میں آباد ہواتھا۔ شروع شروع میں تو یہ زبان درد زبانوں سے مماثلت رکھتی تھی مگر جو جو اپنی وطن سے مہاجرت کا زمانہ طویل ہوتا گیا اپنے اجداد اور قوم سے دوری پیدا ہوتی گئی تو نتیجہ یہ ہوا کہ اس زبان میں تغیر ہوتا گیا۔ اور جب قوم مانکیال اکوزئی کی وادی تناول میں تین نسلیں گزرنے کے بعد غلام اللہ اور نور احمد کی یہ دلچسپ و منفرد زبان مادری زبان بنی تو آپ بھائیوں نے اس زبان کو صرف محفوظ ہی نہیں رکھا بلکہ ملاشیر بابا اور رحم الدین بابادونوں بزرگوں اور ان کی اولاد کو بھی یہ زبان سکھائی۔ مگر محفوظ رکھنے کے باوجود اس زبان کے بولنے والے باشندوں اور اس کے اصل مرکز کے ساتھ ربط و تعلق نہیں رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس زبان کے معدودے چند الفاظ ہندکو، اردو اور پشتو کے ساتھ مماثلت رکھتے ہیں۔ ہندکو، اردو اور پشتو زبان کے کچھ الفاط اس دلچسپ و منفرد زبان کے ساتھ مماثلت اور مشابہت رکھتے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب کاڈنگہ قبیلہ اپنی مادری زبان کو بھول گئے۔ اور قوم مانکیال اکوزئی یوسفزئی کے مذکورہ بزرگوں نے اس زبان کو سیکھا تواس وقت وادی تناول میں ہندکو، اردو اور پشتو کا سکہ چلتا تھا۔
غلام اللہ اور نو احمد پسران سیراج الدین کے رحلت فرمانے کے بعد اس زبان میں کافی حد تک الفاظ کا تغیر ہوا۔ ( جس کی وجہ میں پہلے بیان کرچکا ہوں) ان کے یعنی غلام اللہ اور نور احمد اور رحم الدین بابا اور ملاشیر بابا کے اخلاف نے زیادہ تر درد زبانوں کے الفاظ کا زخیرہ اور کچھ آس پاس کی پڑوسی ہندکو، اردو اور پشتو زبانوں سے لیکر اپنے لئے ایک دوسرے کو سمجھانے کی خاطر اس دلچسپ و منفرد زبان کی بنیاد ڈالی۔ جو آج ایک منفرد زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس زبان کی اصل درد زبانیں ہی ہیں لیکن مرور زمانہ اور کوہستان سوات سے باہمی تعلق نہ رکھنے کیوجہ سے یہ اپنی اصلی حالت میں نہیں بلکہ ایک نئی اور منفرد زبان بن چکی ہے۔

مانکیالی کا تحفظ کیسے ہو؟
میری تحقیق کے مطابق مذکورہ منفرد و دلچسپ زبان کو بولنے والوں(مرد وزن، بوڑھے،بچے،جوان)کی کل تعداد تقریباً418کے لگ بھگ ہے۔ راقم کے خیال میں اس زبان کو دو طریقوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ ایک اس کو اسی طرح گھروں میں بطور مادری زبان بولتے رہنے سے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس زبان کو جاننے والے صاحب علم افراد اس دلچسپ و منفرد زبان کے مشکل الفاظ کو اسان بنانے، قاعدے اور علامات مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ الفاظ کی آواز اور اشکال ترتیب دیں۔ میں نے اپنی تحقیق پیش کی ہے۔ ہوسکتا ہے میری تحقیق سے بعض   دوست اور میرے اپنے  بھی اتفاق نہ کریں۔ لیکن اختلاف رائے کو ئی بری بات نہیں مجھے خوشی ہوگی وہ اپنی تحقیق منصہ شہود پر لائیں۔ اہلیان ڈنہ، ڈمکہ اور گلدار کے ان افراد کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں جن کی یہ دلچسپ و منفرد زبان مادری زبان ہے اور وہ عصری و دینی تعلیم سے روشناس ہیں۔ وہ حضرات اس زبان کو سیکھنے اور سیکھانے کے لئے ایک قاعدہ ترتیب دیں۔ اس سلسلے میں مجھے جو بھی حکم کریں گے ۔ میں ان کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اس موضوع کو سمیٹتے ہوئے اخر میں عصر حاضر کے ماہرین  لسانیات کی بارگاہ میں بھی یہی عرص کرتا ہوں کے آپ حضرات اس زبان کے متعلق اپنی اقلام کو حرکت دیں اور اس بارے میں اپنی اپنی تحقیقات صفہ قرطاس فرماکر منصہ شہود پر لانے کا بندوبست فرمائیں۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ وما توفیقی الا بااللہ۔
چونکہ کاڈنگہ قبیلے کے بزرگوں کی روایات اور میری تحقیق کا ماحاصل یہ ہے کہ مذکورہ دلچسپ و منفرد زبان قوم کاڈنگہ کی مادری زبان تھی۔ اور اس کی تائید مؤلف ارمغان افغان بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بہر حال اس بارے میں جو حضرات تصدیق کرنا چاہیں وہ کاڈنگہ قبیلہ کے موجودہ بزرگوں کے پاس جا کر کرسکتے ہیں۔ ان حضرات کی آسانی کے لئے میں یہاں مناسب سمجھتا ہوں کہ قوم کاڈنگہ کاکچھ حال اور شجرہ یہاں صفہ قرطاس کردوں تاکہ تصدیق و تحقیق کرنے والوں کے لئے آسانی ہو۔

مولانا مفتی عنایت الرّحمان ہزاروی کی کتاب جو 2017ء میں شائع ہوئی ہے
Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...