ایک رات لاش کے ساتھ

کوہستان جیسے علاقے اب بھی یاغستان ہیں

410

24 دسمبر کو  سحری کا وقت  تها ۔   سحر کے وقت والد محترم کے موبائل پر فون کال آئی ۔  نیم خواب کی حالت میں کچھ ایسی گفتگو کا تبادلہ سنا کہ والدہ ماجدہ کے خالہ زاد بھائی کا قتل ہو گیا ہے۔ تقریباً آٹھ بجے وقت آنکھ کهلی تو  اماں سے تفصیلاً واقعے کے متعلق دریافت کیا تو معلوم پڑا کہ گاؤں میں امی کے خالہ زاد بھائی (مسکین) کو رات کے اندھیرے میں کسی نے قتل کر دیا ہے   اور پوسٹ مارٹم کے لئے ایوب ٹیچنگ اسپتال ایبٹ آباد منتقل کر رہے ہیں۔ کس نے قتل کیا ؟ کیوں کیا؟ ا سطرح کے بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں مگر  یہ سوالات کسی اور موقعے کے لیے فی الحال اصل جو موضوع چپر دھیان دیتے ہیں۔

 ناشتہ کرنے کے بعد میں اپنے روزمّرہ کاموں میں مصروف ہو گیا .3  دوپہر بجے پتا چلا کہ لاش کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ جب اسپتال پہنچا تو  کوہستانی لوگوں کا ہجوم تها ۔ میرے ذہن میں یہ تها کہ اسپتال جا کر دیکھ آؤں گامگر گهر سے مشاورت کے بعد مجهے  کہا کہ آپکو بهی  میت ساتھ جانا  پڑے گا ۔ چونکہ کالج کی بهی چھٹیاں تهیں بغیر کسی ردوکد کے میرا سر تسلیم خم رہا۔  اسپتال اور پولیس کاروائی کے بعد غالباً رات 10 بجے کے قریب فارغ ہوئے۔
ایک  ہائیس کوچ  رینٹ پر لی ہوئی تھی ۔  جس میں ایک طرف لاش کو رکھا گیا تو دوسری سیٹوں پہ دو دو بندے بیٹھ گئے لیکن پهر بهی کچھ لوگ رہ گئے تو ہم نے ایک ٹیکسی رینٹ پر  لی اور اس میں 4آدمی بڑی مشکل سے سمٹ گئے۔  اللہ  کا نام لے کر سفر شروع کی۔
اب میں آپکو اس م گاؤں کے متعلق مختصراً بیان کروں گا جہاں یہ قتل کیا گیا تھا اور وہاں سے لاش ایبٹ اباد لائی گئی تھی۔   ضلع کولئی پالس کوہستان کا علاقہ ہے جہاں یہ واقعہ رونما ہوا اوریہاں  اس  خاسص گاؤں  کا نام ”گبیر“ہے ۔  یہاں  پالس کے تمام علاقے کی طرح   شینا کوہستانی زبان بولی جاتی ہے۔

ایبٹ آباد سے 10 بجے روانہ ہوئے اور  ہم رات کے تین بجے بخیر و عافیت پالس سے پہنچ گئے۔ یہاں تک تو میری حالت بہتر  تهی کیونکہ پہلے بهی میں یہاں تک آ چکا ہوں ۔ بحر حال ٹیکسی سے اتر کر اس بیابان علاقے میں ٹھہرایا گیا جہاں  اس وقت نہ کوئی بندہ نہ بندے کی ذات ۔  ہر طرف کتوں کے بھونکنے کی آوازیں،   اردگرد درختوں کے جھنڈ اور نیچے دریائے سندھ کے رات کے اس پہر ٹھاٹھیں مارنا  ایک خوف  ناک منظر لگ رہا تها ۔ وہاں ہم ایک زیرِ تعمیر  چهوٹے سے مکان میں ٹھہرے وہ اس لیے کہ ہم لاش والی گاڑی سے تھوڑا پہلے پہنچ گئے تھے۔  4 بجے صبح  کے قریب ہائیس  کوچ بھی پہنچ  گئی جس میں لاش تهی ۔ وہاں سے لاش کو  اس ہائس  کوچ سے اتار کر جیپ کی چهت پر کس کر بندها گیا ۔  اب یہاں سے آگے سارا کچا  تھا۔ راستہ  نام کا ہے بس پہاڑوں کو سائیڈ سے تهوڑا تهوڑا کاٹ کر  ایک ٹریک بنایا گیا ہے۔ جیپ کی جانب بڑها تو اس میں مجھے بیٹھنے کی کوئی جگہ نظر نہ آئی ، نہ فرنٹ سیٹ  خالی ہے نہ ہی پیچھے کوئی جگہ ہے۔ خود کو کوسنے لگا یا خدائے پاک کہاں پهنس گیا۔   اس لمحے مجھے پہلی مرتبہ اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہو رہا تها۔  اب آگے آگے دیکھ ہوتا ہے کیا ۔ کبهی دل کر رہا تها کہ چهوڑو یہاں رک جاتے ہیں اور واپسی کا راستہ لیتے ہیں لیکن  پهر یک دم یہ خیال آتا کہ ادهر بهی رات کے اس پہر درختوں کے علاوہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔  ڈرتے ڈرتے اللہ کا نام لے کر جیپ کے سائیڈ والے جنگلے سے لٹک گیا ۔ سامنے والی طرف اندر کی سائیڈ پہ تین آدمی کهڑے تهے اور جہاں میں لٹکا ہوا تھا مجھ سے آگے بهی ایک شخص جنگلے کو پکڑے کھڑا تها۔  میں داد دیتا ہوں اس شخص کو جو جیپ کے دروازے کے پاس جدهر پاؤں رکهنے کی جگہ ہوتی ہے وہاں منہ پر رومال باندهےٹکا ہوا ہے اور اس داد دینے کی وجہ آپکو آگے چل کر سمجھ آئے گی۔ سامنے کهڑے آدمی مجھے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے تهے کیونکہ میں ان کے لیے اجنبی تها ۔ اس پورے علاقے میں ہر آدمی دوسرے آدمی کو  شجرِ نسب سمیت جانتا ہے ۔ ابهی جیپ روانہ نہیں ہوئی تھی ۔میں بهی منہ پر سفید چادر لپیٹے انکی طرف دیکھ رہا تها کہ  اتنے میں میری نظر  جیپ کے چهت پر چارپائی پر باندهے لاش کی طرف گئی .یک لخت دل دہکنے لگا کہ یا اللہ یہ کس جهمبیلے میں پهنسا دیا۔ یا رب کریم یہ مجهے کس گناہ کی سزا دے رہا ہے کہ دسمبر کی رات کے 4 بجے گهپ اندهیری رات ، کچی سڑک ، نیچے دریا ، برفیلی  ہوائیں اور اوپر لاش ۔ گاڑی  اس کچی سڑک پر چلتی چلتی کافی آگے  گئی ۔ اس وقت تو میری حالت قدرے   بہتر تهی مگر اچانک  ڈرائیور گاڑی کهڑی کر کے سیدھی جانے والی سڑک سے موڑ کاٹنے لگا اور جیپ کو بائیں جانب اوپر جانے والی گهاٹی پہ استوار کر دی ۔ یا مشکل کشا  یہ کیا   ہورہا ہے! یہاں سے اگے میری جو حالت ہوئی وہ میں اور کندھوں پہ بیٹھے میری نیکی اور بدی لکهنے والے  کاتبین بہتر جانتے ہیں۔  سامنے کهڑے آدمی کبهی آپس میں بات چیت کر رہے ہیں تو کبهی میری طرف انکی نگاہ ہوتی ہے۔ میں دل ہی دل میں پشیمان ہو رہا  تھا۔ . پتهریلی سڑک اور جیپ کی کچھ ایسی حالت کہ اگر ٹائر کے نیچے کوئی بڑا سا پتهر آ جائے تو  خوفناک  ہچکولے لینے لگتی ہے ۔ میرے ڈر کے مارے منہ سے اف تک نہیں نکل رہی تھی اور  میں مسلسل آیت الکرسی کا ورد کر رہا تھا۔    جیپ میں بیٹھے اور کهڑے لوگوں کی  ذرا بر پرواہ نہیں تهی ۔ اپنی باتوں میں مصروف تھے ۔ ایک کے بعد ایک موڑ آتا تھا۔ موڑ بهی ایسے خطرناک کہ نازک دل والوں کو دل کا دورہ پڑ جائے۔  جیپ کا  ڈرائیور موڑ کاٹنے کے وقت سامنے والی گهاٹی پہ تهوڑا سا چڑها کر واپس پیچھے لاتا  اور جنگلے پہ لٹکے آدمی اسے پیچھے کی جگہ کا تعین کرواتے تھے۔  اگر خدا نخواستہ تهوڑا سا بهی پیچھے ہو جائے تو نیچے کهائی میں گر جائے۔ ادهر ادهر گهنے جنگلات تهے۔ میں کبهی ان لوگوں کو دیکھتا  تو کبهی ان خوفناک درختوں کو تو کبھی چاند کو ۔ ایک وقت ایسا آیا کہ جنگلے پہ کهڑے کهڑے میری کمر  میں شدید درد ہونے لگا تو بڑی مشکل سے جنگلے پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ ہر موڑ پہ کلمہ پڑهتا تها کہ نہ جانے کب کس موڑ پہ آخری سانس ہواور میرا یہ خوف اس وقت شدت اختیار کر گیا جب جیپ میں بیٹھے لوگ اس تذکرے کو چهیڑ رہے تھے کہ چند دنوں پہلے یہاں سے ایک جیپ لڑھک کر کهائی میں جا گری تهی اور اتنے  لوگزخمی ہوئے تھے تو اتنے فو۔ اس سے پہلے بهی ایک جیپ اسی طرح کهائی میں گری تهی۔ان لوگوں کی ایسی باتیں سننے کے بعد میرے دل کی دھڑکنیں اور تیز ہو جاتیں۔ مگرمجال ہے کہ وہ لوگ کسی موڑ پہ ٹس سے مس بهی ہوئے ہوں یا  ان کو  کوئی خوف ہو ا ہو۔

ٹھیک ڈهائی گھنٹوں کے بعد ہم اس مقام پر پہنچے جہاں ہمیں جانا تها  ۔ جیپ سے اتر کر تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا پهر جو حالت تھی  وہ ناگفتہ بہہ تھی۔ کچھ سستانے کے بعد کیا دیکھتا ہوں وہاں میں تنہا کهڑا ہوں اور ساتھ  جیپ ڈرائیور ۔ ادهر ادهر دیکها تو آگے ایک راستے پر ٹارچ لیے قطار بنی ہوئی ہے۔  میں  نے بهی فٹ سے موبائل کی ٹارچ لگائی اور انکے پیچھے تیز تیز قدم اٹهانے لگا ۔ میرے ذہن میں یہ تها کہ شاید چند قدم آگے متاثرہ خاندان کا مکان ہو گا  مگر نہ جی ڈهائی گهنٹے جیپ پر خجل  ہونے کے بعد آدها گهنٹہ پیدل خواری بهی تهی۔ بالآخر صبح کی اذانوں سے دس بیس منٹ پہلے وہاں پہنچے جہاں ست دریائے سندھ سراب کی مانند نظر آتا تها اردگر ہلکی  برف پڑی ہوئی تهی۔میرے تو چودہ طبق روشن ہو گئے ۔ یہاں اس جنگل سے لاش کو اٹهائے ایبٹ آباد لایا گیا تها۔

مجهے یہ کوئی اور ہی  سیّارہ  لگ رہا تها جہاں پورے علاقے میں یعنی کوہلی پالس میں  ایک اسپتال  بھی نہیں تھا کہ جہاں زندوں کا علاج نہیں تو مردوں کا پوسٹ مارٹم تو کم از کم ہو۔

مجهے  یہ ساری باتیں یاد انے لگتی ہیں تو اکثر دوستوں  سے پوچھتا پھرتا ہوں کہ ایا کوہستان جہاں  سے میرا بھی  تعلق ہے  پاکستان میں ہے یا اسی طرح یاغستان ہے جو ایک صدی پہلے ہوا کرتا تھا۔
یاغستان کیا ہوتا ہے؟ وہی نہ جہاں نہ ریاست ہوتی ہے نہ اس کا قانون ۔ جہاں نہ کوئی اسکول ہوتا ہے نہ اسپتال۔ جہاں   کوئی سڑک ہوتی ہے  نہ  بجلی ۔ جہاں  لوگ پتھر کے زمانے میں رہ رہے ہو۔

کوہستان ایسا علاقہ ہے جہاں  زندہ رہنا ہی ایک کارنامہ ہے۔ لوگ بس زندہ رہنے کے لیے جتن کر رہے ہیں ۔ ایسے  میں یہاں اسائشات اور سہولیات کی ساری خواہشیں دم توڑ دیتی ہیں اور انسان کی بڑی کوشش بس محض زندہ رہنا ہوتا ہے اور وہ بھی   یاغستانی زمانے کے سماجی سانچے اور  ظالم روایات  کے مسلسل خوف  کے سایے میں۔

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...