داردی لوگوں کی کہانی

0 529

داردی لوگوں کی کہانی

پاکستان کے شمال میں تین عظیم پہاڑی سلسلے ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش آپس میں ملتے ہیں۔ ان کے ملنے سے ایک وسیع پہاڑی خطہ وجود میں اگیا ہے جس کی تنگ وادیوں میں کئی نسلوں کے لوگ آباد ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر نسلیں خاندانوں کی صورت میں باہمی رشتوں میں منسلک ہیں۔ ان خاندانوں میں سے سب سے بڑا خاندان “داردی” (Dardic) کہلاتا ہے۔ اس خاندان سے تعلق رکھنے والے گروہ مشرق میں کشمیر سے لے کر مغرب میں پنجشیر تک اور شمال میں چترال سے لے کر سوات اور انڈس کوہستان تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ گروہ درجنوں زبانیں بولتے ہیں اور مختلف مختلف ثقافتوں کے حامل ہیں۔ تاہم ان کی نسلی خصوصیات، زبانوں اور ثقافتوں میں بہت سے ایسے اجزاء موجود ہیں جو انہیں ایک خاندان کی صورت میں شناخت دینے کا سبب ہیں۔ اس گروہ کی سب سے بڑی شناخت ان کی زبانیں ہیں جن میں میں بنیادی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔

داردی خاندان کا تعلق ہند یورپی (Indo-European) نسل کی اس شاخ سے ہے جسے ہند اریائیِ(Indo-Aryan) کہتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آریائی لوگوں کی ایران کے راستے ہندوستان کی جانب ہجرت کے دوران ان کی ایک لہر شمال کی طرف گئی اور پہاڑوں کے دامن میں آباد ہوگئی، جو رفتہ رفتہ پہاڑی وادیوں میں نفوذ کر گئی۔ جب کہ بڑی لہر دریائے سندھ اور گنگا کی وادیوں میں پھیل گئی جن کی اولاد پاکستان بنگلہ دیش اور شمالی ہند کے موجودہ باشندے ہیں۔

داردی قبائل کے پہلو بہ پہلو پہاڑی خطے میں کچھ اور نسلی گروہ بھی بستے ہیں، جن میں نورستانی تعداد کے لحاظ سے سے زیادہ ہیں۔ نورستانی خاندان جو خود کئی ذیلی گروہوں پر مشتمل ہے، بنیادی طور ہند آریائی لوگوں کی متوازی ہند ایرانی خاندان کی ایک شاخ ہے جو داردیوں سے پہلے اس بڑی لہر سے الگ ہوئی۔ اس کے علاوہ کچھ ایرانی نسل کے گروہ جیسے وخی بھی شمال سے آکر ان وادیوں میں بس گئے ہیں، لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ اس خطے میں داردیوں کے آنے سے پہلے رہنے والی نسلوں میں سے ایک گروہ اب بھی موجود ہے۔ یہ لوگ گلگت بلتستان کی وادیوں ہنزہ نگر اور یاسین میں رہتے ہیں۔ ان کی زبان بروشاسکی کی تعلق ابھی تک دنیا کی کسی اور زبان سے دریافت نہیں کیا جا سکا ہے۔ داردی لوگوں کے اہم گروہ یہ ہی:

۱۔ کشمیری لوگ جو کشمیری زبان بولتے ہیں۔ یہ وادی کشمیر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں رہتے ہیں۔
۲۔ شِن لوگ جو دریائے گلگت کی وادی، گلگت سے نیچے دریائے سندھ اور اس کی ذیلی وادیوں میں رہتے ہِں۔ ان کی زبان شِنا ہے۔ شِن نسل کا ایک چھوٹا گروہ جنوبی چترال میں بھی موجود ہے جو صدیوں پہلے ہجرت کرکے یہاں آیا تھا۔ اس کے علاوہ شن آبادیاں بلتستان، ہندوستانی مقبوضہ کشمیر اور لداخ میں بھی موجود ہیں۔
۳۔ کھو لوگ جو دریائے چترال اور اس کے معاون دریاؤں کی وادیوں کے علاوہ گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں آباد ہیں۔ ان کی زبان کھوار کہلاتی ہے۔
۴۔ کلاش نسل کے لوگ جو کسی زمانے میں جنوبی چترال میں اکثریت رکھتے تھے، اب بہت تھوڑی تعداد میں تین ذیلی وادیوں میں موجود ہیں۔ یہ لوگ اپنے قدیم مذہب اور ثقافت کی وجہ سے بہت نمایاں ہیں۔ چترال میں ان کی اکثریت گذشتہ دو تین صدیوں کے دوران تبدیلی مذہب کی وجہ سے اپنا لسانی اور ثقافتی تشخص ختم کرکے کھو گروہ کا حصہ بن چکی ہے۔
۵۔ کوہستانی گروپ: میدانی علاقوں سے بالکل متصل جو پہاڑی وادیاں ہیں ان کو میدانی علاقے کے لوگ کوہستان کہتے ہیں۔ میدانی علاقوں سے داردی لوگوں کے جو آخری گروہ بے دخل کیے گئے تھے وہ انہی وادیوں میں موجود ہیں۔ اس لیے یہ لوگ کوہستانی کہلاتے ہیں۔ یہ گروہ افغانستان میں کابل کے شمال کی وادیوں سے لے کر مشرق میں دریائے سندھ کے کناروں تک بستے ہیں۔ ان گروہوں میں لسانی قربت کی وجہ سے ان کو دادری خاندان کی ایک ذیلی گروپ میں رکھا جاتا ہے جسے کوہستانی گروپ کہا جاتا ہے۔ اس گروپ میں دریائے سندھ کی بغلی وادیوں میں رہنے والے انڈس کوہستانی، بالائی سوات اور بالائی پنجکورہ میں گاوری، بالائی سوات میں توروالی، افغانستان میں واتاپوری اور تیراہی شامل ہیں۔
۶۔ پاشائی گروپ: آپس میں ملتی جلتی زبانیں بولنے والے کئی گروہ افغانستان کی شمالی پہاڑی وادیوں میں بستے ہیں۔ ان وادیوں میں درہ نور، نرجاو، کُردار، تگاؤ وغیرہ شامل ہیں۔
۷۔ وادئی کنڑ کے دارد: ان میں چترال کے دمیلی، زیریں چترال اور کنڑ کے گواربتی، کنڑ افغانستان کے ننگالامی، گرانگالی اور شماشتی شامل ہیں.

داردی لوگوں کی تاریخ

لسانیاتی اور بشریاتی تحقیقات سے یہ امر تقریباً ثابت شدہ ہے کہ داردی لوگ انڈو آرئین لہر کی ایک شاخ ہیں جو بڑی لہر سے الگ ہوگر شمال میں ہندوکش کے دامن کی طرف مڑ گئی تھی۔ یہ لوگ اس علاقے میں آباد ہوگئے جسے گندھارا کہا جاتا ہے یعنی پھوٹوہار، ہزارہ اور دریائے کابل کی وادی بشمول وادئی پشاور، ننگرہار اور کابل۔ ان کی کچھ تعداد ابتدائی زمانے ہی میں ہندوکش کی وادیوں میں نفوذ کر گئی تھی۔ اس بات کا ثبوت جدید آرکیالوجیکل تحقیقات سے ہوتی ہے جن کے مطابق چترال کے بالائی ودیوں سے لیکر پھوٹوہار تک ایک ہی تہذیب سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد تھے۔ اس تہذیب کے آثار بیشتر قبروں کی صورت میں ملتے ہیں اس لیے اس تہذیب کو Gandhara Grave Culture کا نام دیا گیا ہے۔

اس تہذیب کو یہ نام جدید محققین نے اس وجہ سے دیا ہے کہ بعد میں یہ علاقہ گندھارا تہذیب کا مرکز بنا۔ تقریباً ایک ہزار کے بعد پوٹھوہار سے لے کر کابل تک ایک سلطنت وجود میں آئی جس پر مختلف اوقات میں مختلف خاندانوں نے حکومت کی۔ ان میں مقامی، ہندو، وسط ایشیائی ، یونانی اور ایرانی شامل تھے۔ ان متنوع ثقافت اور نسلی گروہوں کے ملاپ سے یہاں ایک نئی تہذیب وجود میں آئی۔ اندازہ ہے کہ گندھارا تہذیب کے عروج کے زمانے میں اس علاقے کی آبادی کی اکثریت داردی نسل پر مشتمل تھی۔ اس زمانے میں بدھ مت اس علاقے کا غالب مذہب تھا۔ مذہبی اثرات کے تحت سنسکرت علاقے کی علمی زبان تھی اور لکھنے پڑھنے کا کام اسی زبان میں ہوتا تھا۔ تاہم بول چال کے لیے داردی لوگوں کی اپنی زبانیں استعمال ہوتی تھیں۔ یہ گندھارا تہذیب کا زمانہ داردی لوگوں کا زریں عہد تھا اور یہ علاقہ دنیا کے متمدن ترین خطوں میں شمار ہوتا تھا۔

گندھارا تہذیب کی تباہی شمال سے آنے والے وحشی حملہ آوروں کے ہاتھوں ہوئی جیسے ہن اور سیتھئیں وغیرہ۔ ان حملوں کے نتیجے میں گندھارا تہزیب کے مراکز جیسے پرشاپورا (پشاور) اور ٹیکسلا وغیرہ تباہ ہوگئے۔ حملوں کے نتیجے میں آبادی کی وسیع نقل مکانی ہوئی اور غالباً ہندو کش کی وادیوں میں داردیوں کا اولین نفوذ اسی زمانے میں ہوا۔ اس سے پہلے ان وادیوں میں انسانی آبادیاں بہت کم تھیں اس لیے یہاں کی آبادی تقریباً خالص داردی بن گئی۔

اس انتقال ابادی کے باوجود گندھارا کے بیشتر حصوں میں قابل قدر تعداد میں داردی آبادی موجود رہی۔ عیسوی سنہ کے پہلے ہزار سال کے اختتام کے زمانے میں جنوب مغرب کی طرف سے ایک اور انتقال آبادی گندھارا کی طرف ہوئی۔ یہ لوگ ایرانی نسل سے تعلق رکھتے تھے جو خود کو افغان، پشتون یا پختون کہتے تھے۔ ان کا اصل وطن ہلمند سے لے کر کوہ سلیمان تک کا پہاڑی علاقہ تھا۔ یہ لوگ خانہ بدوش قبائل تھے جن کا پیشہ گلہ بانی تھا۔ یہ قبائل قندھار، کابل اور دامان (موجودہ کے پی کے جنوبی اضلاع) سے ہوتے ہوئے وادی پشاور پہنچے۔ ان کی پہلی لہر جو بیشتر دلہ زاک قبیلے پر مشتمل تھی، دریائے کابل کے جنوب کی طرف پھیل گئی۔

اسی زمانے میں دریائے کابل کے شمال کی طرف کے سارے علاقے میں دارد لوگ آباد تھے۔ پشتونوں کے تذکروں میں ان لوگوں کو دیہگان کے نام سے پکارا گیا ہے۔ دیہگان کا مطلب گاؤں کے لوگ ہیں یعنی مستقل آبادیاں بنا کر رہنے والے زراعت پیشہ لوگ۔ خود پشتون خانہ بدوش تھے اس لیے مقامی لوگوں کو انہوں نے یہ نام دیا۔ دیہگان کے علاوہ پشتون تذکروں مقامی قبائل کے جو نام ملتے ہیں وہ متراوی، ممیالی، سواتی، گبراوی، شلمانی، ارابی وغیرہ ہیں۔ پشتون تذکرہ نویسوں نے پہاڑی نسلوں کو غلطی سے تاجک بھی لکھا ہے حالانکہ تاجک نسلی طور پر ان سے بالکل الگ گروہ ہیں جو خود پشتونوں سے قربت رکھتے ہیں۔

پشتون قبائل رفتہ رفتہ شمال کی طرف بڑھتے گئے۔ ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ یہ نمک وغیرہ کی تجارت کے لیے ان علاقوں میں جاتے اور آہستہ آہستہ ان علاقوں بستے جاتے۔ جب کسی وادی میں ان کی اچھی خاصی تعداد ہوجاتی تو اپنے دوسرے ساتھیوں کی بلا کر مقامی لوگوں کو بیدخل کرتے۔ اس طرح چند سو سالوں کے اندر کابل اور اس کے گرد و نواح، ننگرہار، وادی پشاور، سوات، باجوڑ اور دیر وغیرہ میں داردی لوگوں کو نکال کر پشتون قابض ہوگئے۔ داردی لوگوں کی اکثریت ان علاقوں سے نکل کر شمال اور مشرق کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئی اور بچے کچھے داردی لوگ پشتونوں کے مزارعین کے طور پر رہنے لگے۔ ان لوگوں کو پشتون “فقیر” کے نام سے پکارتے ہیں۔

جب پشتون قبائل سوات اور دیر کے زیرین علاقوں میں مستحکم ہوئے تو انہوں نے بالائی وادیوں پر یلغار کی۔ چونکہ بالائی وادیوں میں داردی قبائل کی اکثریت ابھی مسلمان نہیں ہوئی تھی، اس لیے نئی مہم کو جہاد کا رنگ دے دیا گیا۔ اس سلسلے میں مغرب میں کنڑ سے لے کر مشرق میں ہزارے تک ایک کئی محاذوں پر حملے شروع ہوئے۔ ان کے نتیجے میں بہت سے داردی لوگ مارے گئے اور بے شمار قبائل کو اپنا وطن چھور کر مزید بالائی علاقوں کی طرف بھاگنا پڑا۔ اس طرح ہندو کش کی وادیوں میں نقل مکانی کی نئی لہر آئی۔ ان حملوں کے نتیجے میں داردی لوگوں کی اکثریت مسلمان ہوگئی۔ چونکہ انہوں نے پشتونوں کے ہاتھوں اسلام قبول کیا تھا اس لیے انہیں پشتون طرز معاشرت کو بھی اپنانا پڑا۔ پشتون اثرات کی وجہ سے ان علاقوں میں بیشتر علاقوں جیسے انڈس کوہستان اور پاشائی بیلٹ میں ریاستوں کا وجود ختم ہوگیا۔ ان کی جگہ خالص پشتون طرز کا قبائلی نظام اگیا جس میں کسی مرکزیت اور حکمرانی کا تصور موجود نہیں تھا۔ اس کے علاوہ یوسفزئی پشتونوں میں رائج زمینات کی اجتماعی ملکیت کا طریقہ بھی رائج ہوگیا جسے “ویش” کہتے ہیں۔ ان اثرات کی وجہ سے ان علاقوں میں امن و امان اور معیشت کی صورت حال پہلے کی نسبت خراب ہوگئی۔ انڈس کوہستان، داریل تانگیر، جنوبی چترال اور پاشائی بیلٹ کی “یاغستانی” صورت حال بڑی حد تک پشتون اثرات کا نتیجہ تھی۔

داردی ریاستیں

۱۔ کشمیر: گندھارا کی بادشاہتیں مختلف نسل کے حکمرانوں کے زیر اقتدار رہیں لیکن ان کی آبادی کی اکثریت داردی لوگوں پر مشتمل تھی۔ گندھارا تہذیب کی تباہی کے بعد اس علاقے میں مقامی ریاستیں قائم ہوگئیں۔ دارد راستوں میں سب سے اہم کشمیر تھی۔ کشمیری لوگ دارد نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور تاریخ میں یہ علاقہ ہمیشہ ہندوستان سے ایک الگ شناخت کا حامل رہا ہے۔ چودھویں صدی عیسوی میں وادئی سوات سے تعلق رکھنے والے شاہ میر نام کے ایک شخص نے کشمیر میں حکومت قائم کی جو اس ملک کی پہلی مسلم بادشاہت تھی۔ قرین قیاس یہ ہے ان کا تعلق دارد نسل سے تھا کیونکہ اس زمانے میں سوات میں پشتونون کا نفوذ ابھی نہیں ہوا تھا۔ کشمیر پر اس خاندان نے کئی صدیوں تک حکومت کی اور یہ اس ملک کو عہد زرین کہلاتا ہے۔

۲۔ سوات: گندھارا کے بودھ دور میں وادئی سوات اس تہذیب کا اہم مرکز تھا۔ اس تہذیب کی تباہی کے بعد اس پر مختلف فاتحین نے حملہ کیا لیکن اسے کسی سلطنت کا مستقل حصہ نہیں بنایا گیا۔ سوات کی واحد قابل ذکر ریاست جہانگیری یا گبری سلاطین کی تھی۔ اس ریاست کے قیام کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں لیکن اپنے عروج کے زمانے میں یہ وادئی سوات، زیرین وادئی پنجکورہ، ملاکنڈ، مردان، چارسدہ اور صوابی کے علاقوں پر مشتمل تھا۔ پشتون تذکروں میں ان سلاطین کو نسلاً تاجک یا ترک بھی کہا گیا ہے لیکن یہ اسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے جس کے سبب وہ تمام پہاڑی نسلوں کو تاجک سمجھتے تھے۔

جہانگیری سلاطین کا پائہ تخت مینگورہ کے شمال میں منگلور کے مقام پر تھا جو ایک شاندار شہر تھا۔ ان کا سرمائی دارالحکومت تھانہ کے مقام پر تھا۔ میدانی علاقوں کے لیے ان کا نائب یا حاکم اشنغر (چارسدہ) میں قیام کرتا تھا۔اس علاقے کا آخری حاکم میر ہندا تھا۔

پندرھویں صدی عیسوی کے دوران پشتون وادی پشاور میں دریائے کابل کے شمال کی طرف نفوذ کرنے لگے۔ یہ خانہ بدوش لوگ تھے اس لیے یہ رفتہ رفتہ ان علاقوں میں پھیلتے گئے۔ یہ علاقہ نہایت زرخیز تھا اور یہاں پہنچ کر انہوں نے گلہ بانی کا پیشہ چھوڑ کر کھیتی باڑی کی طرف توجہ کی۔ اس کے نتیجے میں ان کے حالات بہتر ہوئے اور ان کی آبادی تیزی سے بڑھی۔ پندرھویں صدی کے اواخر میں کابل کے مغل بادشاہ الغ بیگ نے پشتون قبیلے یوسفزئی کو وہاں سے نکال دیا تو وہ بھی یہاں آکر بس گیا۔ یوسفزئ بہت جنگجو لوگ تھے اور انہوں نے بہت جلد دیگر پشتونوں سے لڑ بھڑ کر کافی علاقے چھین لیے۔ اس کے بعد وہ شمال میں جہانگیریوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کئی سالوں تک ان سے جنگ و جدل میں مصروف رہے۔ بابر بادشاہ کے ساتھ یوسفزئ قبیلے نے رشتے داری کی جس سے ان کی طاقت میں اضافہ ہوگیا۔ ان کے مسلسل حملوں کے نتیجے میں جہانگیری سلاطین آخر کار شکست کھا گئے اور سوات پر یوسفزئیوں کا قبضہ ہوگیا۔ آخری جہانگیری سلطان اویس سوات سے فرار ہوکر دیر کی وادی نہاگ درہ میں چلا گیا اور وہاں پر قلعہ بنا کر اردگرد کے دارد قبایل پر حکومت کرنے لگا۔ تاہم پشتونوں نے ان کو یہاں بھی چین سے رہنے نہ دیا اور 1542 میں جب سلطان اور اس کے ساتھی جشن بہاراں منانے میں مصروف تھے تو یوسفزئی حملہ آوروں نے سلطان اویس کو قتل کرکے اس خاندان کا خاتمہ کردیا۔ ایسی روایات موجود ہیں کہ آخری سلطان کا ایک بیٹا جان بچا کر چترال کی طرف چلا گیا۔ یہ خیال بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ شاید چترال کا آخری حکمران خاندان اسی نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ جہانگیری سلاطین کے چترال سے تعلقات کے بارے میں کافی اشارے ملتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ پشتونوں کا ان پر دباؤ جب بہت بڑھا تو انہوں نے ایک چترالی لشکر کی مدد سے ان کو پیچھے دھکیل دیا۔

جہانگیری سلاطین میں سے سب سے مشہور سلطان پکھل کہلاتا تھا۔ سوات پر پشتونوں کے قبضے کے نتیجے میں اس علاقے کے بہت سے لوگ دریائے سندھ کر پار کرکے ہزارہ کے علاقے میں بس گئے جو ان کی وجہ سے پکھلی کہلایا۔ اسی طرح ہزارہ کے جو قبائل سواتی کہلاتے ہیں وہ بھی اسی زمانے میں سوات سے نکل کر دریائے سندھ کے مشرق کی طرف چلے گئے تھے۔

۳۔ باجوڑ کی ارابی یا گبری ریاست: اس علاقے میں ایک اور ریاست باجوڑ کی تھی جس کا حکمران خاندان ارابی یا گبری کہلاتا تھا۔ شروع میں یہ کافی وسیع ملک تھا لیکن پشتونوں کی دست دارازیوں نے رفتہ رفتہ اس کو گبر کوٹ کے علاقے تک محدود کر دیا۔ بابر کےحملے کے وقت یہاں کا حکمران حیدر علی گبری تھا۔ بابر بادشاہ نے گبر کوٹ کے قلعے کا محاصرہ کرلیا تو اس کے کچھ ساتھیوں نے بابر کے ساتھ ساز باز شروع کی۔ جب حیدر علی کو اپنی شکست کا یقین ہوگیا تو خود کشی کرلی اور بابر نے ان کے ایک رشتے دار کو ان کی جگہ اپنی طرف سے حاکم مقرر کردیا۔ اس طرح اس آزاد دارد ریاست کا خاتمہ ہوگیا۔

۴۔ گلگت اور انڈس کوہستان کی ریاستیں: گلگت کے ارد گرد اور اس سے نیچے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ بدھ دور کے بے شمار چٹانی کتبات اور مجسمے ملتے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ گندھارا کے علاقے خصوصاً سوات میں بودھ مذہب کے عروج کے زمانے میں اس علاقے میں کئی چھوٹی بڑی ریاستیں وجود میں آئی تھیں جن کے حکمران بدھ مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ ممکن ہے ان ریاستوں کی آبادی کا کچھ حصہ بھی بودھ مذہب کے پیروکار ہوں لیکن اکثریت غالباً اپنے قدیم عقاید پر ہی قائم رہی۔ گندھارا سے بودھ مذہب کے خاتمے کے بعد گلگت میں بھی بودھ ریاستیں ختم ہوگئیں۔ انڈس کوہستان کی وادیاں قبائلیت کی طرف لوت گئیں تاہم گلگت میں ایک ریاست کا وجود قائم رہا۔ گلگت کے قدیم باشندے جنہیں بورش کہتے ہیں (اور جن کی زبان کا نام بروشسکی ہے) کا تعلق انڈو آرئین نسل سے ثابت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان کی زبان کسی بھی دوسری زبان سے نہیں ملتی۔ بورش لوگوں کو جنوب کی طرف سے آنے والے شِن قبائل نے بے دخل کرکے بالائی وادیوں ہنزہ نگر اور یاسین میں دھکیل دیا۔ شِن دارد نسل سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا اصل وطن ہزارہ میں تھا اور یہ غالباً بیرونی حملوں کی نتیجے میں ہونے والے انتقال آبادی کے سلسلے میں شمال کی طرف چلے گئے۔ گلگت کی ریاست انیسویں صدی کے اواخر میں اس علاقے پر کشمیری قبضے تک قائم رہی۔ گلگت سے نیچے دریائے سندھ کی بغلی وادیوں میں مقامی دارد سرداریوں کی روایات بھی ملتی ہیں جو پشتونوں کے زیر اثر ختم ہوگئیں اور یہ علاقے بے ریاست قبائلیت کی حالت میں چلے گئے۔

۵۔ چترال: چترال کی وادی میں جنوب کی طرف سے انڈو آرئین نسل کے لوگوں کی آمد کے شواہد بہت پرانے ہیں۔ کئی مقامات پر ایسے مقبرے دریافت ہوئے ہیں جن کا تعلق Aryan Grave Culture سے بتایا جاتا ہے اور ان کی قدامت ساڑھے تین ہزار سال تک ہے۔ تاہم اس وادی کے موجودہ باشندے نسبتاً بعد میں یہاں آ کر بس گئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ گندھارا کے علاقے میں وقتاً فوقتاً ہونے والے بیرونی حملوں کے نتیجے میں انتقال ابدی کی جو لہریں اُٹھتی رہیں، ان کا کچھ حسہ پہاری وادیوں میں شمال کی طرف نفوذ کرتی گئی۔ اس طرح کی کئی چھوٹی چھوٹی لہریں چترال کی وادی میں بھی پہنچیں۔ اس وادی کی وجودہ آبادی انہیں لہروں کی باقیات پر مشتمل ہے جنہیں یہاں کے متعدد لسانی گروہوں کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے۔

ان گروہوں میں سے سب سے بڑا گروہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو آج کل کھو اور کلاش کہلاتے ہیں۔ یہ لوگ جنوب سے اس وادی میں داخل ہوئے اور کسی زمانے میں پوری وادی اور اس کی ذیلی وادیوں میں پھیل گئے۔ ان کے نفوذ کے نتیجے میں یہاں کی سابقہ نسلوں کے کوئی قابل ذکر اثرات موجود نہیں رہے۔

چترال میں جنوب سے ہونے والی داردی انتقال آبادی کے علاوہ شمال سے ترک اور تاجک حملہ آور اور تارکین وطن بھی آتے رہے۔ اس کی بالائی وادیوں کی نسلی اور لسانی تشکیل میں ان اثرات کو کھو نسل اور کھوار زبان کی صورت میں دیکھا جاسکتا ہے۔ کھوار زبان کا بنیادی ڈھانچہ داردی ہی ہے لیکن اس میں بڑی مقدار میں فارسی اور ترکی الاصل الفاط شامل ہیں۔

وادی چترال میں چھوٹی چھوٹی مقامی ریاستوں کی تاریخ بہت پرانی لگتی ہے۔ جنوب کلاش اور شمال میں کھو لوگوں کی زبانی رویات میں بہت سے مقامی حکمرانوں کے نام ملتے ہیں۔ جیسے کلاشوں میں بلے سنگھ، نگر شاہ اور کھو لوگوں میں بہمن، سو ملک،یاری بیگ وغیرہ۔ لیکن پوری وادی کو ایک مرکزی اقتدار کے تحت لانے کا کام بیرونی حملہ اوروں کے ہاتھوں ہوا۔ چترال (اور گلگت کے کچھ حصوں) پر پہلے کاشغر کے ترکوں کا قبضہ رہا اور پھر بدخشان کے تاجکوں کا (جو رئیس کے نام سے جانے جاتے ہیں)۔ ان ادوار میں چترال اور گلگت کی بالائی وادیوں کو بڑی حد تک ایک سیاسی اکائی میں تبدیل کیا گیا جس کا گہرا اثر ان علاقوں کی تاریخ پر پڑا۔ تاجک نسل کے رئیس خاندان کی جگہ اقتدار ایک مقامی خاندان نے سنبھالی۔ اس خاندان کے بارے عام روایت یہ ہے کہ یہ ہرات کے تیموری بادشاہوں کی نسل سے تھا، لیکن ایسے اشارے بھی ملتے ہیں کہ شاید یہ جنوب کی سمت سے آیا تھا (یعنی اس کی اصل داردی تھی)۔ جو بھی ہو، یہ بات حقیقت ہے کہ کئی پشتوں تک یہاں رہنے کی بنا پر یہ خاندان مقامی بن چکا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ یہاں کی پہلی مقامی ریاست کا بانی خاندان تھا۔ اسی خاندان کی ایک شاخ گلگت کے بالائی وادیوں غذر، یاسین اور اشقمن پر حکمران رہی۔ اس کی وجہ سے اس علاقے میں شمال مغرب سے بھی داردی اثرات پہنچے اور کھوار ان وادیوں کی ایک بڑی زبان بن گئی۔

داردی لوگوں کی موجودہ حیثیت

موجودہ زمانے میں داردی لوگ پاکستان اور افغانستان کی قومی ریاستوں کے شہری ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا دادری گروہ کشمیری لوگوں کے وطن پر انڈیا کا غاضبانہ قبضہ ہے، جس کے خلاف وہ آزادی کی جد و جہد میں مصروف ہیں۔ پاکستان کے دارد ان کے دو صوبوں خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان میں رہتے ہیں۔ ان علاقوں سے پاکستان کے بڑے شہروں میں کافی نقل مانی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ان شہروں میں بھی دارد آبادیاں وجود میں آئی ہیں۔

دارد لوگ دنیا کے دشوار ترین جعرافیائی خطے میں رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کی بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی کی بڑی وجہ اس خطے میں معاشی وسائل کی قلت ہے۔ دیگر گروہوں سے بڑھتے ہوئے رابطوں کی وجہ سے دارد لوگوں کی ثقافتوں اور زبانوں کو تیز رفتار تبدیلیوں کا سامنا ہے۔ بہت سے علاقوں میں چھوٹے گروہوں کی ثقافت کور زبانوں کے مٹنے کا حقیقی خطرہ موجود ہے۔ کئی زبانیں پہلے ہی صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں۔ ان جیسے چھوٹے نسلی اور لسانی گروہوں کے تحفط میں ریاست کی بنیادی ذمے داری بنتی ہے۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کو خود بھی اپنا تشخص برقرار رکھنے کے لیے قدم اُٹھانے کی ضرورت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...