آدم کی چوٹی (Adam’s Peak) کی طرف ایک یادگار سفر

سری لنکا میں جبل آدم یعنی آدم پیک کا سفر جو چترال، سوات ، کوہستان اور گلگت کے دوستوں کے ایک گروپ نےکیا

0 80

ملک سری لنکا میں مرکزی سری لنکا  (central Sri Lanka) اپنی خوبصورتی کےلیے مشہور ہے اور ہ سیاحوں کو اپنی طرف  کھینچتاہے۔  ان  سیاحتی مقامات میں سے ایک نہ صرف اپنی خوبصورتی بلکہ اپنی مذہبی شناخت کی وجہ سے سال بھر  زائریں اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتاہے۔ دنیا میں اس سرسبز چوٹی کو  ایڈم پیک یا سری پیدا یا     (Sri Padaya)کے نام سے ایک خاص مقام حاصل ہے۔ یہ ایک ایسی پہاڑی ہے جو دنیا میں چاربڑی مذاہب  کے ماننے والوں کےلیے یکسان طور پرمقدس ہے ،ان مذاہب میں اسلام ،عیسائیت، بدہ مت  اور ہندو مت شامل ہیں۔ مسلمان  اور عسائیوں کےلیے اس چوٹی  کی اہمیت اس لیے ہے کہ روایت کے مطابق جب حضرت آدم علیہ اسلام کو جنت سے نکال کر  دنیا میں بھیجا گیا تو  پہلی بار آدم علیہ سلام کا پاؤں اس پہاڑی کو چھوواتھا  اور آپ حضرت یہاں پر تشریف فرما ہوئے تھے اس لیے دنیا میں یہ چوٹی اڈم پیک (Adam Peak) کے نام سے مشہور ہے۔ بدہ مت  کے پیرو کار اس چوٹی کو “سیری پیدایا” کا نام دیتے ہیں   ان کا عقیدہ ہے  چوٹی کے اوپر یہ پاوں کی نشانی اس کے لارڈ بدھا کی ہے اور ہندو اس کو شیوہ سے منسوب کرتے ہیں۔ اس طرح یہ چوٹی ایک مقدس چوٹی تصور کیاجاتاہے۔یوں توسنٹرل سری لنکا کی سرزمین  پورا سرسبزو شاداب ہے  اور انکھوں کو خیرہ کرنے کےلیے کافی ہے لیکن   جب بندہ ہیٹن سٹی سے آڈم پیک کی طرف روانہ ہوں تویہ خوبصورتی جنت کا نظارہ پیش کرتاہے ۔ ہیٹن سٹی سے  پتلی سی پختہ اور صاف سڑک  جو نالاتھنیا  تک جاتی ہے۔اس پر سفر کرتے ہوئے  ہر تھوڑی دیر بعد چھوٹے چھوٹے جھیل اور سلیقے سے بنے ہوئے ٹاون  شپ  کے ساتھ ساتھ درختوں اور سبزے سے پُر یہ علاقے بندے کو  اپنے حصار میں لے کر کہیں اور جگہ پہنچادیتےہیں۔ یہ علاقے چائے کی فصل کےلیے بھی مشہور ہیں۔  ہزاروں کلومیٹر پر محیط چائے کی  کھیتوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے ایک پاکستانی کی حیثیت سے مودی کی تصویر کئی جگوں پر چسپان دیکھ کر کچھ  کراہت کا احساس ضرور ہوا لیکن بہت جلد یہ حسین نظارے خیالات کو کہاں سے کہاں پہنچادئیے ۔ ہیٹن سے جب بندہ آڈم پیک کی طرف سفر کریں تو یہاں  سے،ٹوڈی،ٹوک ٹوک اور گورنمنٹ  کے انتظام سے چلنے والے عام   بس آڈم پیک کے بیس کیمپ نالاتھنیا تک کےلیے   دستیاب ہیں ۔ہیٹن سے نالاتھنیا  کا فاصلہ تقریباً ایک گھنٹے کا ہے۔یوں تو ہم خیبر پختونخواہ کے پانچ زبانوں پر کام کرنے والے ریسرچر  زبیرتوروالی،حاجی طالب جان،فخرالدین اخونزادہ ،امیرحیدر  اور فرید احمد رضا سنگاپور میں مادری زبانوں پر ہونے والے ایک کانفرنس میں  مدعوتھے۔اس طرح  سنگارپور کےلیے ہمارا (connected flight)  متبادل فلائٹ جانے اور آنے کےلیے دونوں طرف سے    سری لنکا سے  تھی۔ اس لیے دوستوں نے موقع سے  فائدہ اٹھاکر واپسی میں سری لنکا دیکھنے کا پروگرام بنایا تھا۔ سری لنکا کے لیے جب پروگرام بنا   تو حاجی طالب جان صاحب نے زورزبردستی ہم سے یہ منوایا تھا   کہ سری لنکا میں  کچھ دیکھیں  یا نہ  دیکھیں لیکن آڈم پیک ضرور دیکھناہے   اس لیے اڈم پیک جانے کےلیے  حاجی صاحب نے سارے   معلومات بھی پہلے ہی  حاصل کرلیے تھے  ۔ سری لنکا میں پہلا دن ہم  نےدرالحکومت کولمبو کے  جڑوان ساحلی شہر نگامبو میں گزارے۔ نگامبو سے ہم کینڈی پہنچے ایک دن یہاں پر گزارے ۔ کینڈی سے ہیٹن پھر ہیٹن سے عام سی بس کے ذریعے نلاتھنیا کےلیے روانہ ہوئے جو کہ آڈم پیک کا بیس کیمپ ہے  ۔بس لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ جس میں بیٹھے لوگوں کی  زیادہ  تعداد گوروں کی تھی  مقامی لوگ کم تھے ۔ کچھ گورے  تو راستے میں اترگئے اور زیادہ ہمارے ساتھ ہی نلاتھانیا تک اگئیں۔ مزے کی بات یہ تھی کہ ہم سب ہیٹن سے عام سی بس میں سوار ہوئے راستے میں لوگ بس سےا  ترتے گئیں اور سوار ہوتے  رہیں لیکن کسی علاقے کے چیک پوسٹ یا پولیس چوکی میں کسی نے ہمیں روکا اور نہ کسی کو کارڈ دیکھانے کی ضرورت  پیش آئی۔ جو مقامی لوگ کرایہ دیئے وہ ہم نے بھی  ادا کی ۔یہاں کے لوگوں کی ایک خوبی یہ ہے وہ بہت ہلکی آواز سے گفتگو کرتے ہیں۔ بس میں میوزک بھی بہت دھیمی آواز میں لگاتے ہیں۔ گاڑی  میں جاتے ہوئے ہم اپنے  انداز سے آپس میں گفتگو کی تو بس میں بیٹھے لوگ چونک کر ہمیں دیکھنے لگیں۔ اس طرح ہم سفر کا مزہ لیتے ہوئے ہیٹن سے  آڈم پیک  کا  بیس کیمپ نالاتھنیا پہچنے جو  تقریبا ایک گھنٹے کے  فاصلہ پر واقع ہے ۔

فخرالدین اور طالب جان براستہ آدم چوٹی۔۔ فوٹو مصنف

چترال میں تریچمیر کی چوٹی کی طرح  آدم کی چوٹی   بھی ہیٹن سے جاتے ہوئے دور سے  ہی نظر آتی ہے لیکن فرق صرف اتناہے تریچمر کی چوٹی  برف سے ڈھکی ہوئی اور   آڈم پیک سرسبز ہے۔ آڈم پیک کے ساتھ جتنے بھی چوٹیاں ہیں وہ بھی سارے سرسبز ہیں۔ ہم ہیٹن سے دن کے گیارہ بجے ۶دسمبر ۱۹۱۷ءکونلاتھنیا پہچنے ۔ آڈم پیک کا بیس کیمپ نلاتھنیا صاف ستھرا چھوٹا سا خوبصورت ٹاوں ہے۔ ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہے۔ جب ہم   نالاتھانیا   کے بس سٹاب پر اترے    تو پہلے نظر میں مجھے یہ خیال ہوا کہ ہم لاہور میں واقع کسی  مزار کے قرب  وجوار میں اگئے ہوں۔ کیونکہ لاہور میں  جو ڈیکوریشن  مزار کے احاطے میں ہوتاہے  یہاں بھی وہی منظر تھا ۔ لیکن ایک فرق  صاف ظاہرہے یہاں پر صفائی کا خاص انتظام ہے۔ نلاتھنیا   سیاحوں سے آباد ٹاو ں ہے بندہ   یہاں سیاحوں کی تعداد دیکھ کر حیران رہ جاتاہے زیادہ تر سیاح گورے ہیں۔ بہت سارے ہوٹل موجود ہیں  دوکانیں ہیں لیکن شورشرابہ نہیں ،کھانے پینے کی چیزوں کی  وہی عام سی ریٹ جو دوسرے علاقوں میں ہیں ،  دوکانداروں اور ہوٹل والوں کا  رویہ بھی ایسا شاید آپ ہی ان کےلیے خاص مہمان ہوں۔  ہروقت سیاحوں کو خوش اور مطمئن کرنے کی کوشش۔ہم نے بھی ایک چھوٹے  ہوٹل میں  دوکمرے بک کیے ۔ایک بات ذہن میں رکھنے کی ہے سری لنکا میں  چھوٹے ہوٹل کا مطلب گندہ  ہرگز نہیں ہے ۔ سامان  وغیرہ کمرے میں رکھ کر ہوٹل میں کھانے کا آرڈر دیکر جب ہم نے آڈم پیک  جانے کے بارےمیں معلوم کیا تو ہمیں بتایا گیا  چوٹی  تک  جانے کا صحیح وقت تو رات کے ایک بجہ ہے۔  یہ بھی ہمیں بتایا گیا کہ دن کو سیاح یہاں پر پہنچ کر آرام کرتے ہیں ۔ رات کو  ایک بجے اٹھ کر سارے سیاح اور زائرین ایک مہم کی شکل میں چوٹی  کےلیے  نکلتے ہیں اورصبح سویرے  سورج  طلوع ہونےسے پہلے ٹاپ تک پہنچ جاتے ہیں ۔ سورج  طلوع ہونے کے وقت بدہ مت کےپیرو کار  وہاں پر اپنا ایک  مخصوص مذہبی  رسم  ادا کرتے ہیں تو سیاح اس کا بھی لطف اٹھاتے ہیں   اور صبح ہی صبح موسم کو انجوائی کرتے ہوئے نیچے کی طرف واپس  روانہ ہوجاتے ہیں۔ ہماری بدقسمتی کہ ہمارے پاس اس مہم جوئی کےلیے وقت نہیں تھا اگلے دن  شام کو کولامبو سے  پاکستان  کےلیے ہماری فلائٹ  بک تھی ۔ہم نے کھانا کھاتے وقت  آپس میں  مشورہ کیا کہ کیاکیاجائے۔  طالب جان نے کہا کہ ہم ائے  ہی آڈم پیک دیکھنے   ۔اس کے بعد ہم نے ہوٹل سے آدم پیک  کےفاصلے کا پوچھا تو ہمیں بتایا گیا تین گھنٹہ ایک سائیڈ کا ہے پھر ہم نے اندازہ لگایا کہ اب ہم جاکر   چوٹی تک پہنچ  کرشام دیر گئے تک واپس  اپنے ہوٹل اسکتے ہیں۔اب وقت ضائع کیے بے غیر یہ فیصلہ  کرکے کہ سورج غروب ہونے سے پہلے چوٹی تک پہچنے کی کوشش کی کی جائیں۔ہم سب  چوٹی کی طرف چلدیئے

مصنف چوٹی پر۔۔ فوٹو مصنف

 دن کے ایک بجے کاوقت تھا۔موسم ابرالود تھا  ۔ دسمبر کے چھوٹے دن تھے      اور ہمیں دن کی روشنی میں ٹاپ تک  پہنچنا تھا۔راستے صاف تھے  ساتھ ساتھ سبزجنگل اور جہان بھی نظردوڑائیں سبز درختوں کے جھنڈ اورسر سبز چوٹی نظر ارہے تھے۔ کہیں کہیں راستے کے اس پاس چھوٹے بڑے بت رکھے ہوئے تھے۔ سردی بھی محسوس ہورہی تھی موسم ابرالوداور سفر چڑھائی کا تھا۔ لیکن اچھی بات یہ تھی راستے کے دونوں طرف  جنگلے لگے ہوئے تھے ۔ کہیں کہیں زیادہ چڑھائی میں اس کو پکڑ کر چڑھتے گئے۔ شروع میں ہی ہمیں بتایا گیا تھا ہمیں ۵۰۰۰ ہزار سیڑھیاں چڑھنے ہونگے ۔ ہم ان سب کےلیے تیار ہوکر گئے تھے۔ ہمارے ہوٹل سے تھوڑا  اگے جاتے ہی سیڑھیاں شروع ہوگئیں۔

شروع شروع میں ہم سب دوست  ایک ساتھ گپ شب لگاتے ہوئے  چلدیئے لیکن بیچ میں پہنچ کر ہمیں احساس ہوا کہ ہمارے دوبڑے یعنی کہ حاجی طالب جان اور فخرالدین اخوندازہ صاحب چلنے میں سستی کرنے لگیں  ہیں اگر اس طرح چلا جائیں تو دن کی روشنی میں چوٹی تک پہنچنا مشکل ہے ۔ اس لیےان سے  مشورہ کیے  بے غیر ہم تینوںاپنے سیپڈبڑھادیئے کچھ فاصلے تک تو وہ بھی ہمارے مقابلے کی ٹھانی   لیکن  ہم ان کو چھوڑ کر کافی اگے نکل گئے ۔ بیچ بیچ میں کافی چڑھائی چڑھنا پڑھتاتھا اور ہم پیچھلے  کافی دنوں سے مسلسل سفر بھی کررہے تھے ۔

 اس لیے تھکاوٹ کا احسا س ہونے کے باوجود  چلتے گئے ۔ امیر حیدر ہماری ہمت بڑھارہے تھے ۔ تیز چلنے کی وجہ سے جسم پیسنے سے شرابور تھے ہم اپنے بنیان  اتاردیئے اور پینٹ کے استین بھی اوپر چڑھادیئے تھے اور ساتھ ساتھ ہلکی ہلکی بارش بھی ہورہی تھی۔ لیکن منظر ایسا سہانا تھا کہ تھکنے کے باوجود بھی واپس جانے کو دل نہیں کررہاتھا۔ ٹریک صاف تھا ساتھ  مدد کےلیے جنگلے کے پائب بھی لگے ہوئے تھے اس کو پکڑ کر اگے بڑھنا آسان تھا۔ ہمارے دو دوست پیچھے رہ گئے تھَے لوگ اس وقت نہ ہونے کے برابر تھے کیونکہ یہ وقت ٹریکنگ کا نہیں تھا۔

سری لنکا میں چائے کے باغات۔ فوٹو مصنف

 ہم  سورج غروب ہونے سے پہلے چوٹی تک پہچنے کی کوشش میں اپنے  دوست بھول چکے تھے۔ شروع میں دیکھنے سے تویہ  چوٹی بہت قریب نظر اتی تھی لیکن چلنے سے   کافی دور ہے اور چوٹی تک پہنچنے کےلیے تقریبا ۵۰۰۰ سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہے۔ سورج غروب ہونےکو تھی مقابلہ سخت اور وقت کم تھا لیکن ہم بھی تقریبا پہچنے کے قریب تھے۔ چوٹی تک پہچنےسے  پہلے جو سیڑھیاں آتی ہے وہ بہت اوپر کی طرف سیدھائی پر ہیں ۔لیکن اچھا تھا سیڑھیاں چڑھنے کےلیے ساتھ ساتھ جنگلے بنے ہوئے تھےان کو پکڑکر اوپر چڑھنا آسان تھا۔  میرا سانس پھولا ہواتھا۔ لیکن منزل قریب ہونے کی وجہ سے حوصلہ  جوان تھا۔ امیر حیدر ہم سے چند قدم اگے تھا اس کے بعد زبیرتیسرا نمبر میرا تھا۔ آخر کر جان مارکر چوٹی پر قدم رکھا اور سورج غروب ہونے کو کچھ منٹ باقی تھے ہم نے چوٹی پر کچھ تصویر بنوائی اور سورج غروب ہوا۔ چوٹی پر پہنچ کر ہماری خوشی دیدنی تھی۔ کچھ لوگ اوپر موجود تھے ان میں دیکھنے سے کچھ مذہبی لوگ بھی تھے ۔ چوٹی کے اوپر دو کمرے بنے ہوئے ہیں سامنے چھوٹا سا صحن ہے ۔ اس میں داخل ہونے کےلیے جوتےاترنے  پڑتےہیں۔ ۔ایک کمرے میں وہ مبارک پاوں کی نشانی ہے جو پانج فٹ  اا  انچ لمبی ہے۔

جبل آدم کا علاقہ –فوٹو مصنف

 اس کو دیکھنے کی اجازت تو ہے لیکن تصویر نکالنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہاں پر حفاظت کےلیے کوئی گارڈکوئی گارڈ موجود نہیں تھے۔حقیقت کیاہے  نہیں پتہ لیکن وہ پاوں کی نشان کو دیکھ کریوں لکھتاہے کہ کسی نے نرم جگے میں پاوں رکھاہوں۔ پاوں پڑھنے کی وجہ سے  انگلیوں کے نشان واضح نظر اتے ہیں۔

چوٹی سے  ذرا نیچے کے فاصلے پر کچھ اور کمرے بنے ہوئے ہیں ان کمروں سے ہلکی سی تقریر کی آوازیں  ارہی تھی یون لگتاتھا کہ مذہبی وعظ   ہورہی ہے۔ ادھر ادھر نظر دوڑانے سے یوں لگ ارہاتھا  اس علاقے میں اڈم کی چوٹی سب سے اونچی چوٹی ہے۔ ہم نے ادھر ادھر کا نظارہ کیا ۔ہلکی سی بارش ہورہی تھی اس چوٹی سے جہاں بھی نظر دوڑائی سبز چوٹی اور جنگل ہی نظر آئیں۔ کچھ دیر ہم اس چوٹی کے اوپر رہے سورج غروب ہونے کی وجہ سے اندھیرا چھا جانے کوتھا۔

 یوں ہم  یہ تاریخی مذہبی طور پر مقدس چوٹی کی سیرکرکے نیچے کی طرف روانہ ہوئے۔ کچھ سیڑھیاں ہی اترے تھے سامنے سے ہمارے  دو ست بزرگوار (طالب جان اور فخرالدین) بھی اتے ہوئے دیکھائی دیئے۔ہم نے خوشی سے نعرہ لگایا کہ اولڈ از گولڈ۔

جبل آدم کا راستہ –فوٹو مصنف

 مل کر کچھ ناراضگی کا اظہار بھی ہوا لیکن خیر وہ بھی ہار نہیں مانے تھے ۔ وہ اوپر چوٹی کی طرف چلے گئے ہم نے سیڑھیوں میں بیٹھ کر ان کا انتظار کیا۔ وہ بھی تھوڑی دیر میں واپس اگئے یوں ہم نے جو پروگرام بنایا تھا اس پر عمل کرکے دیکھایا۔ سیڑھیوں سے تھوڑے نیچے اکر نیچے کیبن طرز کے ہوٹل بیٹھ کر چائے کا مزہ لیا اور پھروہاں سے واپس ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے۔ رات دیر گئے ہم ہوٹل پہنچے ۔یہ زندگی کا  ایک یادگار سفر تھا   کافی عرصہ گزرنے کے بعد بھی ابھی تک یاد ہے۔

پاکستانی وفد۔۔ فوٹو مصنف
Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...