شمالی پاکستان کے آثار قدیمہ ۔ ایک مختصر جائزہ

0 278

شمالی پاکستان کے آثار قدیمہ ۔ ایک مختصر جائزہ

شمالی پاکستان کے آثار قدیمہ میں مُٹھ دار کلہاڑے بعض دوسری اشیاء، چٹانی تحریریں اور انسانی و حیوانی اشکال خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ ان چٹانی کتبات و اشکال کا کئی اہم محققین اور ماہرین نے ایک عرصہ تک باریک بین مطالعہ کیا ہے۔ ان میں جناب کارل جٹمار اور احمد حسن دانی نے کئی سال تک اس خطہ کا مطالعہ کیا اور کئی کُتب مرتب کیں۔ ان کے علاوہ Stien, Francke 1907, John Monk 2013, Hauptman 1997, Chin Hu 2017, Jason Neelis 1995، محمد عارف 2001، ڈاکٹر محمد رفیق مغل (1985)، اشرف خان اور سندس اسلم خان، معیز الدین 2015، نسیم خان 1999 اور Rogers Kolachi Khan اور کئی دوسرے ماہرین و جامعات شامل ہیں۔ ارضیاتی ماہرین نے شمالی پاکستان کے قدیم ترین انسان کا دور 15000 سے 150000 سال قبل ٹھہرایا ہے جب وہ غاروں اور چٹانوں کی کھوہوں میں رہا کرتا تھا۔ بعد کے دور کے انسان کا زمانہ قدیم طرز کی چٹانی اشکال کی بنیاد پر 3000 سے 6000 سال قرار دیا جاتا ہے جس کے شواہد مختلف قدیم چٹانی اشکال سے ثابت ہوتا ہے۔

اس خطے سے دریافت ہونے والی اشیاء اور اُن کی نوعیت، اشیاء کی ساخت اور سامان، ان کا استعمال، مُٹھ دار کلہاڑے، چاقو چھریاں، برچھیاں، زیورات، منکے، بٹّن، کنگن، بھوج پتر کی تحریریں، قبروں کے مدفن اور قبروں سے ملنے والی آشیاء وغیرہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس خطے کے قدیم لوگ ایک مہذب معاشرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اب تک جتنی بھی اثری دریافتیں ہوئی ہیں وہ اس حد تک نہیں جس کی توقع کی جارہی ہے۔ ان علاقوں میں اثری دریافتوں کی تلاش تسلی بخش حد تک نہیں کی جا رہی۔ اگر بڑے پیمانے پر آثار قدیمہ کی تحقیق اور دریافتیں ہوئیں تو اس علاقہ کے قدیم ماضی کے متعلق مزید واضع اور درست نتائج سامنے آئیں گے۔

 شمالی پاکستان میں دریافت ہونے والی بعد کے ادوار سے تعلق رکھنے والی چٹانی اشکال اور تحریروں سے اس خطے میں وارد ہونے والی اقوام یا لوگوں کا پتہ چلتا ہے جن میں چینی، تبتی، سیتھین، ساسانی، تورانی، کُشان، ہُن وغیرہ شامل ہیں۔ یہ چٹانی اشکال اور کتبات انڈس کوہستان اور اس سے اوپر تمام شمالی علاقہ جات میں پائے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر کارل جٹمار اور احمد حسن دانی نے ان آثار قدیمہ پر ایک طویل عرصہ تک تحقیقی کام کیا ہے۔ اور اس تحقیقی کام کا نچوڑ “History of Northern Areas of Pakistan” میں پایا جاتا ہے۔

Rock carving in Ghizer district Gilgit-Baltistan—photo provided by the author
Rock carving in Wakhan–photo by the author
Rock carving in Diamer (Deomeer)–Gilgit Baltistan: photo provided by the author

 

لداخ، بلتستان، استور، گلگت، ہنزہ، چلاس، غذر، اشکومن اور درّہ واخان سے دریافت ہونے والی چٹانی اشکال (انسان، حیوان، شکار، کلہاڑے) میں ایک تسلسل کی یکسانیت پائی جاتی ہے۔ وادی داریل میں قبروں سے دریافت ہونے والے مُردوں کی تدفین میں مُردے بائیں ہاتھ پر اور اُن کا سر مشرق کی سمت میں پایا گیا۔ مردوں کی قبروں سے کلہاڑی، چاقو وغیرہ جبکہ عورتوں کی قبروں سے گلے کے زیور، منکے اور بٹّن وغیرہ دریافت ہوئے ہیں اور وسط ایشائی اثر غالب ہے تا ہم گندھارا کی قبروں سے ممثالت بھی پائی جاتی ہے۔ (محمد نسیم، داریل میں آثار قدیمہ کی دریافتیں، 1999)۔

محقق رشید اختر ندوی کا کہنا ہے کہ شمالی پاکستان کی قدیم چٹانی اشکال یا تصویری رسم الخط کی کُھدائی بہت کہنہ ہے جو وادی ژوب کے آخری ہجری دور سے بے حد مشابہ ہے۔  ان علاقوں سے دریافت ہونے والے آثار قدیمہ میں شامل مُٹھ دار کُلہاڑے، جانوروں کے بعض مُجسمے، دیگیں، تانبے و کانسی کے کلہاڑے، چِمٹے، چمچوں کی ساخت، بناوٹ، وضع اور نوعیت موہنجوداڑو اور وادی ژوب کے کلہاڑوں اور اس عہد کی ہے جو تین سے چار ہزار سال قبل مسیح کا دور تھا۔ گویا شمالی پاکستان میں بھی موہنجوداڑو اور وادی ژوب کے عہد سے ملتی جُلتی ایک دارد تہذیب موجود تھی۔ (شمالی پاکستان، صص: 28، 29)

چِلاس کے علاقہ کی نئی دریافتوں کے متعلق ماہر آثار قدیمہ جناب احمد حس دانی کا کہنا ہے کہ:

The grave material from Northern area of Pakistan and the grave types that are known are unique of their kind. the graves, which witch have stone circle around them or sometime lined with huge blocks of stone are not megaliths in the sense the we understand them. they are graves of the Aryans who came here in the second millennium B. C. The material objects both in bronze and iron aw well as ornaments of conchshell distinguish these people from the Aryans who build their graves in Swat, Dir, Bajaur valleys. The saucer shaped conch-shells are the most distinctive and localize them to the northern part of Pakistan. Many links have been pointed out for connection with the people in the trans-pamir region. the preference for ibex and lion again point to the trans-himalayan region of NA. allthough the study is mostly based on starry finds, they are very telling and lead to only on conclusion that the builders of these graves can be no other than the ancestors of the Dards people of th NAs of Pakistan. However, they must be distinguished from the prehistoric Rock Engravers whose carvings are known from this very region. These Rocks Engravers were in the hunting stage of life but the grave builders were settled people and were familiar with the art of agriculture and carpentry. They appear to have migrated here from the trans-pamir region and hence they appear to have connection with the Aryan speaking people of the North. Perhaps the may have some historical connection with Turkistan speaking people of the trans-Pamir region”. Dani, History of Northern Areas of Pakistan, PP: 427-428

شمالی پاکستان کی چٹانی تحریروں اور کتبات سے اب تک بعض دارد حکمرانوں کے نام مختلف مقامات کی چٹانوں پر دریافت ہوئے ہیں ان میں گلگت، چلاس، تھلپن داس اور شتیال کے مقامات شامل ہیں۔ تھلپن داس کے ایک براہمی رسم الخط میں لکھا گیا نام جسے  Hinüber نے ”شاندار ویسرواناسینا، دشمنوں کے ماتحت، زمین کے عظیم بادشاہ“ سے ترجمہ کیا ہے اور اس بادشاہ کو داردوں کا دوسرا سب سے قدیم بادشاہ مانا گیا ہے۔ دوسرے دارد بادشاہ کا نام چلاس کی ایک چٹان پر  براہمی رسم الخط میں پایا گیا ہے جسے احمد حسن دانی (1983) اور Hinüber (1989) نے داران مہاراجہ ”دلوں کا عظیم بادشاہ“ پڑھا ہے۔ خروشتی رسم الخط میں لکھا گیا ایک اور دارد بادشاہ کا نام  ”درددرایا“ کا کتبہ گلگت کے عالم پل کے پاس دریافت ہوا تھا۔ Fussman (1978) نے اس کے معنی ”بادشاہوں کا بادشاہ“ قرار دیا تھا۔ ان کے علاوہ شتیال کے مقام پر ایک “کھوجا“ بادشاہ اور اس کی مذہب پرست بیٹی کا زکر بھی پایا جاتا ہے۔ “کھوجہ“ کے نام سے ایک قبیلہ علاقہ کولئی میں اب بھی پایا جاتا ہے۔

اس علاقہ میں پائی گئی چٹانی اشکال کے متعلق عام خیال یہ تھا کہ یہ محض جانوروں اور شکار کی اشکال ہیں لیکن کئی محققین کا خیال ہے کہ یہ اشکال محض تصاویر نہیں بلکہ یہ چٹانی اشکال عہد قدیم کا تصویری رسم الخط ہیں جو موہنجوداڑو اور ہڑپہ سے بھی پہلے کے دور کا ہے۔ اس علاقہ میں بھی موہنجوداڑو اور ہڑپہ سے پہلے کے ہجری دور کا زمانہ آیا ہے۔ (شمالی پاکستان، ص: 39)

وادی دَرِیل سے سے ملنے والے مٹھ دار کلہاڑے اور مٹی کی بنی ہوئی مُورتیوں کے متعلق ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر محمد رفیق مغل (1985) کا کہنا ہے کہ مٹی کی بنی ہوئی پختہ مُورتیاں وادی سندھ کے علاقوں  Mature Flarrappan سے ملنے والی مٹی کی موتیوں کے مشابہ ہیں جبکہ دَرِیل سے ملنے والے مُٹھ دار کُلہاڑوں کے

متعلق ان کا کہنا ہے کہ دَرِیل کے مُٹھ دار کلہاڑے وادی کُرم کے مُٹھ دار کُلہاڑوں سے ملتے جلتے ہیں جو کہ دوہزار سال  قبل مسیح کے اختتام پر آریائی زبان بولنے والے لوگوں کی نقل و حمل کے سلسلے میں ماہرین کے زیر بحث رہے ہیں۔ تکونی خاکوں کی چٹانی اشکال کے متعلق جٹمار اور دانی کا کہنا ہے یہ چٹانی اشکال مغربی ترکستان اور وسطی ایشیا کے علاقے سائبیریا، مشرقی ترکستان اور منگولیا کے آخری دور حجراور کانسی کی کوزہ گری کی تصاویر سے بے حد مشابہ ہیں۔ اس کے علاوہ دو ہزار سال قبل مسیح کی مٹی کی پکی ہوئی مُورتیاں  اورظروف بھی اس خطے سے ملے ہیں۔ اس قسم کی اشکال اور نقوش ایشیا کے کئی علاقوں میں پائے گئے ہیں۔ (ڈاکٹر محمد رفیق مغل، 1985)۔ 

بھوج پتّر کے مخطوطات

شینا زُبان کے لسانی علاقے سے دریافت ہونے والا بھوج پتّر کا تحریری مخطوطہ Gilgit Manuscript کے نام سے مشہور ہے جو گلگت کے ایک گاؤں نورپورہ کے ایک چرواہے کو 1931 میں ملا۔ پانچویں یا

 

 

 

 

 

چٹّھی عیسوی کا یہ مخطوطہ غالباً بُدھی سنسکرت یا بُدھی پالی میں لکھا ہوا ہے۔ اس قسم کے کچھ مخطوطات Auril Stein نے وسط ایشیاء سے بھی دریافت کیے تھے۔ 1938 میں آثار قدیمہ کی باقاعدہ کُھدائی کے بعد اس مقام سے کچھ اور مخطوطات بھی دریافت ہوئے ہیں۔ بھوج پتّر پر لکھے یہ مخطوطات برصغیر کے قدیم تحریری نمونے سمجھے جاتے ہیں۔ اس قسم کے کئی اور مخطوطات بھی مقامی لوگوں کو ملے ہیں جو یا تو انہوں نے فروخت کر دیے ہیں یا ابھی تک اُن کے پاس ہیں۔ بیس صفحات پر مشتمل بھوج پتّر کا ایک مخطوطہ وادی داریل کی ایک رہائشی کو بھی دریافت ہوا تھا۔

یہ مخطوطات خطہ گلگت کی زمین سے دریافت ہوئے ہیں۔ ان مخطوطوں میں مختلف موضوعات پر لکھا گیا ہے۔ اس خطے سے دریافت ہونے والے چٹانی کتبات اور بھوج پَتّر کی تحریروں کو مقامی شینا زبان کی اولین تحریریں قرار دیا جاتا ہے کیونکہ بعض دارد بادشاہوں کے کتبے اور ان کے نام بھی اس قسم کی چٹانی تحریروں میں پائے گئے ہیں۔

بھوج پتّر کے اِن مخطوطات کے علاوہ شینا زبان کے لسانی علاقوں میں دنیا کے  سب سے زیادہ چٹانی کتبات پائے جاتے ہیں۔ ان کُتبات سے اس خطے کے قدیم انسان، ثقافت، سماج، مذہب اور تاریخ پر روشنی پڑتی ہے۔ ان چٹانوں پر کُنندہ جو کتبات یا اشکال پائی گئی ہیں اِن میں بُدھی سنسکرت، خروشتی، براہمی، پروٹو شاردا، شاردا، سوغیدین، وسطی ایرانی، پارتھین، بکتیرین، چینی، عبرانی، سیرین، تبتی، آرامی، ناگری اور یونانی تحریریں شامل ہیں جو اس علاقہ کی قدیم تہذیب و تمدن کی عکاسی کرتی ہیں۔ قدیم دارد قبائل کے جغرافیائی علاقوں میں تین علمی یا مذہبی مراکز قائم تھے جن میں ادیانہ، داریل اور شاردا کے مقامات شامل تھے جہاں مذہبی اور علمی تعلیم دی جاتی تھی اور جہاں دُور دُور کے طلباء حصول علم کے لیے آیا کرتے تھے۔ چینی سیاح فاہیان اور ہوانگ سانگ نے اپنے سفرناموں میں اس کا زکر کیا ہے۔ شمالی پاکستان کے چٹانی کُتبات اور چٹانی تحریروں میں جو سب سے سادہ چٹانی اشکال پائی جاتی ہیں ان کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ قدیم تصویری رسم الخط ہے جو موہنجوداڑو اور ہڑپہ کے ہم پلہ دور سے تعلق رکھتا ہے۔ بعض سادہ اشکال میں حیوانات، سانپ، انسان، انسانی ہاتھ، پاؤں، چاند دیوتا، شکار وغیرہ پائے جاتے ہیں۔

 

 جرمن ماہر آثار قدیمہ اور ثقافتی سماجیات جناب ڈاکٹر کارل جٹمار نے دریائے سندھ کے  آس پاس پائے گئے چٹانی کتبات کے شواہد کی بنیاد پر کہا ہے کہ پانچویں اور آٹھویں صدی کے دوران چھلاس کا علاقہ نیلم وادی/کشن گنگا کے دارادا پایہ تخت کا ایک سرحدی علاقہ یا ضلع تھا۔ ایک براہمی چٹانی تحریر جسے جناب Hinuber نے پڑھا کے مطابق چھلاس گلگت کا علاقہ کی پٹولا یا پلولا حکومت کے ساتھ شامل تھا۔ ڈاکٹر جٹمار کا خیال ہے کہ دسویں صدی یا اس سے کچھ قبل دارادا اور پٹولا حکومت ایک ہو گئی تھی  اور انہوں نے مل کر کشمیری دباؤ کو کم کیا تھا۔

گیارویں صدی عیسوی میں البیرونی نے اپنے سفر نامے میں شلتاس (چھلاس) کا زکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ کشمیر کے بٹّھا شاہ کی حکومت میں شامل ہے۔ بھٹّا یا بَھٹّاراکا نام کئی براہمی چٹانی کُتبات میں بھی پایا گیا ہے۔ (رُتھ شمٹ/رازول کوہستانی، ، 2008، ص 1)

آآثار قدیمہ کی متزکرہ تصاویر میں اس خطے میں داخل ہونے والی مختلف اقوام کا پتہ چلتا ہے۔ چٹانی اشکال میں آئی بیکس (کِل)، مارخور اور شیر کی جو اشکال ملتی ہیں ان کے متعلق ڈاکٹر کارل جٹمار اور پروفیسر دانی (2001، صص: 427،428) کا کہنا ہے یہ اس خطے کا تعلق پامیر کے علاقہ سے بھی ظاہر کرتے ہیں۔ اس خطے میں دریافت ہونے والی دو ہزار سال قبل مسیح سے تعلق رکھنے والی قبریں، لوہے، کانسی اور زیورات کی اشیاء اور مُٹھ دار کُلہاڑوں کے آثار دارد آریاؤں کے اجداد کی قرار دی جاتی ہیں اور یہ انہیں سوات، دیر اور باجوڑ کے آریاؤں سے ممتاز کرتے ہیں۔

چٹانوں پر کنندہ مختلف ادوار کے مختلف رسم الخطوط

(Ref: Rock Art in the Upper Indus Valley, Edited by Harald Huaptmann, 1997)

بعض چٹانی کتبات و اشکال کی تصاویر

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...