مقدمہ گلگت بلتستان : الجہاد ٹرسٹ بنام فیڈریشن آف پاکستان  اور سپریم کورٹ کا فیصلہ

0 36

مقدمہ گلگت بلتستان : الجہاد ٹرسٹ بنام فیڈریشن آف پاکستان  اور سپریم کورٹ کا فیصلہ

تحریر۔ اشفاق احمد ایڈوکیٹ۔

  گلگت بلتستان کے آیئنی حثیت کی تعین اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سال 1994 میں سپریم کورٹ اف پاکستان میں  دو آیئنی پٹیشنز دائر کی گئیں جن کی سماعت کے لئے چیف جسٹس اجمل میاں کی سربراہی میں پانچ ججوں پر مشتمل بنچ تشکیل دے  دیا گیا اور  مورخہ  28 مئ 1999 میں اس مقدمہ کا فیصلہ صادر کیا گیا۔ یہ کیس الجہاد ٹرسٹ بنام فیڈریشن اف پاکستان کے نام سے  SCMR 1379/1999  میں رپورٹ ہوا ہے۔

   گلگت بلتسان کے عوام کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی اور ایک آزاد عدلیہ کے زریعے انصاف تک رسائی کے لیے  سپریم کورٹ نے وفاق پاکستان کو چھ ماہ کی مدت کے اندر اندر اس مقدمے کے فیصلہ پر عمل درامد کرنے کا حکم دیا تھا لیکن بیس سال گزرنے کے باوجود تاحال اس فیصلہ پر عملدرامد نہیں ہوسکا.

افس اف یونایئڈ نیشن نیشنز ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق  کی 14 جون 2018 ء میں جموں اینڈ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر شائع کردہ رپورٹ کےصفحہ نمبر 42 پیرگراف 42 میں اس فیصلے کی بابت لکھا ہے کہ سال 1999 میں پاکستان کے سپریم کورٹ نے اسلام اباد کو حکم دیا تھا کہ وہ بنیادی آزادیوں کو چھ ماہ کے اندر شمالی علاقہ جات تک بڑھائے.

انہوں نے لکھا ہے کہ اگست 2007 میں یورپین پارلیمنٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ناردرن ایریاز میں ائینی شناخت کے ساتھ سول رایئٹس کی بھی مکمل طور پرعدم موجودگی ہے اور لوگوں کو غربت ،ناخواندگی اور پسماندگی میں رکھا گیا ہے.

یورپی یونین کے اس سخت رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد پاکستانی حکام نے گلگت بلتستان میں  (  Gilgit-Baltistan Empowerment and Self Governance Order 2009)

نافذ کیا  اور حکومت پاکستان نے بار بار دعوی کیا کہ اس ارڈر سے گلگت بلتستان کے باشندگان کو داخلی خودمختاری مل جائے گی.

 تاہم حقیقت میں ایسا ممکن نہیں تھا چونکہ  درحقیت 2009 کا ارڈر ایک Disempowerment   ارڈر تھا۔

ہیومن رایئٹس کمشن اف پاکستان کے مطابق ,

According to HRCP, the 2009 order does not guarantee the right to a fair trail, protection against double punishment and self in-crimination, right to education, right to information.

یہ ارڈر درحقیت سپریم کورٹ اف پاکستان کے 1999 کے فیصلہ کی روح کے منافی تھا اس لیے  سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرامد ہونے کی وجوہات پر گلگت بلتستان کے وکلا برادری میں ایک بحث اور جدوجہد جاری تھی کہ اسی اثنا یعنی 17 جنوری 2019ء  کو گلگت بلتستان کی آیئنی حثیت اور بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں سپریم کورٹ اف پاکستان کی سات رکنی بنچ نے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں ایک تاریخی فیصلہ صادر کیا۔

دوسری طرف  گلگت  بلتستان کی قانونی اور آئینی حثیت  کے متعلق  گلگت بلتستان  کے  سیاستدانوں ، دانشوروں اور سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی اکثریت لاعلم ہے اس لیے گزشتہ ستر سالوں سے مسلہ کشمیر سے تعلق کو جواز بنا کر گلگت بلتستان کے عوام کو کامیابی کے ساتھ حق ملکیت اور حق حاکمیت سے محروم رکھا گیا ہے ۔

   لہذا وقت کے تقاضہ یہ ہے کہ اس فیصلے میں درج قانونی بحث کو عوامی عدالت میں پیش کیا جائے۔

اس اہم فیصلہ کے پیرگراف نمبر 1 میں چیف جسٹس اجمل میاں نے لکھا ہے کہ الجہاد ٹرسٹ اور باشندگان ناردرن ایریاز نے ان پٹیشنز میں کہئ ایک داد رسیوں کی استدعا کی ہے۔

” لہذا یہ فائدہ مندہ ہوگا کہ مندرجہ بالا ایئنی پیٹیشنز میں استدعا کی گئی ان داد رسیوں کو reproduce کیا جائے۔

Reliefs prayed for in CP 11 of 1994.

 اندریں حالات استدعا ہے کہ باشندگان شمالی علاقہ جات کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ فرمایا جائے اور مسئول علیہم کو حکم فرمایا جائے ک

1۔ شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان)  کے باشندگان کا حق حکمرانی بحال کرتے ہوئے پارلیمنٹ  میں ان کی نمایئندگی کا انتظام کیا جائے جس کے لئے ضروری قانون سازی بھی کی جائے_ بصورت دیگر باشندگان علاقہ کو حق رائے دہی کے آزادانہ استعمال کے زریعے اپنی اسمبلی قایم کرنے ،اپنے علاقے کا نظم نسق خود سنبھالنے اور اپنے معاملات خود طے کرنے سے نہ روکا جائے۔

2۔جب تک انہیں اپنےمنتخب نمایندوں کے زریعے فیصلے کرنے کا حق نہیں مل جاتا اس وقت تک ان سے کسی قسم کا ٹیکس، محصول یا ڈیوٹی وغیرہ وصول نہ کی جائے۔

3۔ اگر شمالی علاقہ جات پاکستان کے حدود میں شامل نہیں ہیں تو کسٹم چیک پوسٹ سوست کے مقام سے ختم کرکے پاکستان کی سرحد پر قایم کی جائے اور شمالی علاقہ جات  تجارتی یا زندگی کی ضرورتوں سے متعلق استعمال کی دوسری اشیا کی دوسرے ممالک خصوصا چین سے امدورفت میں مداخلت نہ کی جائے اور نہ ہی کسٹم دیوٹی وصول کی جائے۔

4۔دفاعی مقاصد کے لئے مسلح افواج کے اقدامات کے سوا حکومت پاکستان کے نافذ کردہ نام نہاد قوانین، احکامات،اقدامات، اور نوٹیفیکیشن وغیرہ منسوخ کئے جائیں۔

5۔مسلح افواج کے سوا جملہ پاکستانی حکام واپس بلائے جایئں اور نظم و نسق وغیرہ کے امور باشندہ گان علاقہ کے سپرد کئے جائیں۔

مزید کوئی داد رسی جو حالات مقدمہ کے تحت ضروری خیال فرمائی جائے عطا کی جائے۔“

   جبکہ دوسری آیئنی درخواست نمبر 17/1994 میں استدعا کی گئی کہ انسانی حقوق کے ڈیکلریشن کو مدنظر رکھتے ہوئے آیئن پاکستان کے ارٹیکل  184 (4) تحت بنیادی حقوق نافذ کئے جائیں اور  ناردن ایریاز کے باشندگان کے آیئنی سٹیٹس کو پاکستانی شہری قرار دیکر ان کو فیڈریشن اف پاکستان میں مکمل نمائندگی دی جائے اور سائیلان کو پاکستان کے سپریم کورٹ میں اپیل کرنے، نظر ثانی کرنے اور ریویژن کرنے کا حق دیا جائے اورشمالی علاقہ جات کو صوبائی حکومت کا درجہ عطا کیا جائے ۔

اس کیس کی قانونی پچیدگیوں کو سمجھنے کے لئے کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں چند اہم سوالات پر بحث کی گئی جن میں بنیادی سوال یہ تھا کہ  آیا کیا ناردن ایریاز کے لوگوں کو آیئن پاکستان کے تحت اپنے بنیادی حقوق طلب کرنے کا حق حاصل ہے؟

کیا وفاق پاکستان شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان) کے لوگوں کے بنیادی حقوق مہیا کرنے سے انکار کر کے اپنی آیئنی زمہ داریاں پوری  کررہا ہے؟

ان سوالات کے جوابات تلاش کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ یہ بات سمجھ نہ آنے والی ہے کہ کن بنیادوں پر شمالی علاقہ جات کے لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق دینے سے انکار کیا جاتا ہےجن حقوق کی ضمانت آیئن دیتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اس فیصلے میں لکھا کہ بنیادی حقوق کے دو اقسام ہیں۔  یہلی قسم کے حقوق میں  شخصی حقوق شامل ہیں۔

 آیین پاکستان1973 کے تحت ارٹیکل 14،13،12،11،10،9 اور ارٹیکلز 24،22،21   وہ ارٹیلز ہیں جو شہری اور غیر شہری کے درمیان تفریق نہیں کرتے ہیں بلکہ یہ ارٹیکلز شخص کی بات کرتے ہیں۔  حقوق کےدوسری قسم جو کہ صرف ملک کے شہریوں سے متعلق ہیں جن میں آئین کے ارٹیکل نمبر 15تا 20  اور ارٹیکل 23، 25   شامل ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے پیرگراف نمبر 14 میں لکھا کہ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ناردرن ایریاز میں ادارے بحثیت defacto Executive, defacto legislature اور Defacto judiciary کام کرتے ہیں اس لیے ان ارداروں کے Acts قانوناً درست ہیں۔

وفاق نے دلیل دی کہ ان علاقوں پر

Doctrine Of De-Facto Administration

لاگو ہوتا ہے۔اور پاکستان ناردن ایریاز پر گزشتہ پچاس سالوں سے موثر طریقے سے کنٹرول جاری رکھا ہے اور بحثیت فرما رواں کام کر رہا ہے۔اور وفاق نے یہ بھی کہا کہ اس پوزیشین کو  بین الاقوامی برادری خاص کر اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کیا ہے۔

  وفاق پاکستان کے جواب دعوئ کے مطالعے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شمالی علاقہ جات ( گلگت بلتستان ) کے لوگوں کے پاس پاکستان کی شہریت اس حد تک ہے کہ ان کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کئے گیے ہیں اور ان کے لیے پاکستانی تعلعمی اداروں وفاقی حکومت میں ملازمتوں کا کوٹہ مختص ہے۔

پاکستان کے پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے زیادہ تر قوانین کا اطلاق  پاکستان  شمالی علاقہ جات پر سال 1947سے1999 تک بزریعہ  مختلف نوٹیفیکشنز وقتا فوقتا کرتا رہا ہے۔

پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951ء    بذریعہ Adoptation Order 1981 کو شمالی علاقہ جات میں  20 جون 1979ء اور 30 ستمبر 1981ء کو  بزریعہ نوٹیفیکشن ڈپٹی سیکریٹری کشمیر افیرز /ناردرن ایریاز کے ذریعے لاگو کیا گیا۔

سپریم کورٹ اف پاکستان نے لکھا کہ چونکہ پاکستان کے زیادہ تر قوانین ناردرن ایریاز میں لاگو ہیں بشمول سٹیزن شپ ایکٹ اف پاکستان اس لیے ناردرن ایریاز کے لوگ پاکستان کے دیگر شہریوں کی طرح بنیادی حقوق مانگ سکتے ہیں اور ساتھ ہی وہ ٹیکس ادا کرنے اور دیگر محصولات مکمل طور پر لاگو ہو تو ادا کرنے کے پابند ہیں۔

سپریم کورٹ نے لکھا کہ ہم یہ بھی مشاہدہ کرتے ہیں یہاں تک کہ یونیورسل ڈیکلیریشن آف ہیومن رایٹس جس کا پاکستان Signatory ہے  کے تحت بھی انسانوں کے نسل ، حثیت اور بنیاد کے بنا ہی انسانوں کے کچھ بنیادی حقوق ہوتے ہیں۔ جس بارے میں  ارٹیکل 1 تا 10 اور 13، 15 اور 21کے بابت یونیورسل ڈیکلریشن کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔

پاکستان کے آئین میں درج بنیادی حقوق یونیورسل ڈیکلیریشن میں درج مندرجہ بالا حقوق کی عکاسی کرتے ہیں، جو کہ انٹرنیشنل کنونشن اف سول اینڈ پولیٹیکل رایئٹس ، یورپین کنونشن برائے انسانی حقوق اور امریکی کنونشن برائے انسانی حقوق کے مطابق ہیں۔

 سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ کسی ملک میں بنیادی حقوق کو اس وقت معطل کیا جاتا ہے جب بیرونی جارحیت اور بیرونی خطرے کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کر کے بنیادی حقوق کو معطل کیا جاتا ہے۔

ایسی صورتحال کے متعلق ایک لاطنی محاورہ ہے کہWhen there is an armed conflict , the law remain silent .  قومی جنگ میں کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے تاکہ لوٹ مار اور غلامی سے بچایا جاسکے، یہاں تک کہ اس کے حصول کے لئے افراد کی آزادیوں اور شہریوں کے دیگر حقوق کو  سلب کیا جاسکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اس فیصلے میں بہت واضح طور پر  لکھا ہے کہ یونیورسل ڈیکلریشن اف ہیومن رایٹس کے مندرجہ بالا ارٹیکلز اور  موجودہ مقدمے میں بہت مطابقت ہے۔

اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ریاست جموں وکشمیر کے بارے میں فیصلہ اقوام متحدہ کی نگرانی اور تحفظ میں بذریعہ استسصواب رائے ہونی ہے اور اقوام متحدہ نے ہی یونیورسل ڈیکلیریشن اف ہیومین رایئٹس کی سرپرستی کی ہے۔

اس لیے یہ بات طے ہے کہ شمالی علاقہ جات کے لوگوں کا حق ہے کہ وہ پاکستان کے دوسرے شہریوں کی طرح ائین پاکستان میں درج  بنیادی حقوق کا مطالبہ کریں۔اس کورٹ کا یہ ماننا ہے کہ انصاف تک رسائی بنیادی حقوق میں شامل ہے۔

اور یہ حق ایک آزاد عدلیہ کی غیرموجودگی میں جاری نہیں رکھا جاسکتا ہے۔

آزاد عدلیہ جو غیر جانبدار ، منصفانہ اور Adjudicatory frame work انصاف اور عدل ہو

یعنی ایک جوڈیشل درجہ بندی موجود ہو۔

ایسی عدالیتں اور ٹرابیونلز جنہیں افراد اور ایگزیکٹیو کے زدیعے چلائی جاتی ہو مشکل سے ہی کہا جاسکتا ہے کہ عدلیہ آزاد ہے۔

آیین پاکستان کے ارٹیکل2A میں بیان کیا گیا ہے کہ ریاست عوام کے منتخب نمایندوں  کے ذریعے اپنے پاور اور اتھارٹی کو استمال کرتی ہے۔

 جہاں جمہوریت کے اصول آزادی،مساوات،برابری،صبر، عدل اور سماجی انصاف جنہیں  اسلام نے صاف  طور پر بیان  کیا ہے جن پر مکمل طور پر عمل کیا جاۓ.

آئین پاکستان کے ارٹیکل 2A اور 17 کے تحت شمالی علاقہ جات کے لوگ اپنے علاقے پر حکومت کرنے میں شمولیت کے حقدار ہہیں اور ایک آزاد عدلیہ کے زریعے اپنے بنادی حقوق کو لاگو کرنے کے حقدار ہیں۔

اس فیصلے کے پیراگراف نمبر 26 میں لکھا گیا ہے کہ چونکہ ناردرن ایریاز (گلگت بلتستان) کی جغرافیائی حدود بہت حساس ہیں اور اس علاقے کے بارڈرز انڈیا، چین، تبت اور USSRسے ملتی  ہیں اور اس علاقے کو ماضی میں بھی مختلف طریقے   سلوک کیا گیا ہے لہذا یہ کورٹ یہ فیصلہ نہیں کرسکتی ہے کہ کس طرح کا نظام حکومت اس علاقے کو مہیا کر کے  آئین کے مندرجہ بالا منڈیٹ کو تعمیل کیا جا سکتا ہے۔

نہ ہی یہ عدالت یہ حکم دے سکتی ہے کہ کہ شمالی علاقہ جات کے لوگوں کو پاکستان کی پارلیمنٹ میں نمایندگی دی جائے۔

اس مرحلے پر یہ ملک کے وسعی طر مفاد میں بھی نہیں ہے۔

چونکہ حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی تحفظ اور نگرانی میں استصواب رائے ہونی ہے۔

اس لیے مندرجہ بالا سوالات کا فیصلہ پارلیمنٹ اور ایگزیٹو نے کرنا ہے۔

یہ عدالت زیادہ سے زیادہ یہ حکم دے سکتی ہے کہ  پراپر ایکزیکٹو اور لیجسیٹو اقدامات کئےجائیں تاکہ شمالی علاقہ جات کے لوگ آیئن کے تحت اپنے مندرجہ بالا حقوق سے لطف اندوز ہوسکے۔

آیک ازاد عدلیہ کے زدیعے انصاف تک رسائی کے لیے ناردرن ایریاذ میں چیف کورٹ کو جسے ہائی کورٹ کے برابر لایا جاسکتا ہے جس میں پاکستان کے ہائی کورٹ میں تعینات ہونے لایق افراد کو بھرتی کیا جائے۔

آور چیف کورٹ کی اختیار سماعت کو بٹرھا کر ائنیی پٹیشنز کو سننے کو بھی شامل کیا جائے تاکہ وہ بنیادی حقوق جو ائین میں درج ہیں کو لاگو کرسکے۔

اور ایک اعلی عدلیہ ہو جہاں چیف کورٹ کے احکامات اور فیصلوں کو جیلنچ کیا جاسکے۔

اس لئے ہم ان مندرجہ بالا اپیلوں کو قبول کرتے ہوئے  فیڈریشن کو حکم دیتے ہیں کہ وہ چھ ماہ کے اندر مناسب انتظامی اور قانون سازی کے اقدامات اٹھائے اور معتلقہ قانون ارڈرز ، رولز ،نوٹیفیکشنز میں ضروری ترامیم کرے اور یقین دہانی کروائے تاکہ شمالی علاقہ جات کے عوام اپنےبنیادی حقوق یعنی اپنے منتخب نمایندوں کے زریعے حکومت کرسکے اور ایک ازاد عدلیہ کے تحت انصاف تک رسائی حاصل کر یں اور آیین کی گرانٹی کے تحت ان کے بنیادی حقوق کو نافذ کیا جاسکے”۔

اس فیصلے پر گزستہ بیس سالوں عملددامد نہیں ہو سکا ہے البتہ سال 2009 ء میں گلگت بلتستان سلف گورنیس اہنڈ امپاورمنٹ ارڑر گلگت بلتستان میں نافذ کیا گیا مگر وقت کے ساتھ علاقے کے عوام میں بڑھتی بے چینی کو ختم کرنے کے لہے ارڑر 2018 لاگو کیا گیا جس پر سخت عوامی ردعمل ایا تو PTI نے ایک ریفارم ارڈر لایا جسے بھی عوام نے رد کیا اسی اثنا سپریم کورٹ اف پاکستان نے گلگت بلتستان کی آیئنی حثیت پر سترہ جنوری 2019ء  کو ایک اور تاریخی فیصلہ دیکر گلگت بلتستان کو ریاست جموں اینڈ کشمیر کا حصہ اور متنازعہ علاقہ قرار دیا جبکہ  دوران سماعت مقدمہ  وفاقی حکومت پاکستان نے گلگت بلتستان کے لیے ایک اور ارڈر 2019ء  بنا کر سپریم کورٹ میں پیش کیا جس سے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں تسلیم کرتے ہوئے چودہ دنوں کے اندر گکگت بلتستان میں نافذ کرنے کا حکم دیا مگر دریں اثنا وفاقی حکومت پاکستان نے  اس ارڈد کو لاگو کرنے سے قبل ہی اس  میں ترمیم کرکے لاگو کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں ایک درخواست گزاری ہے اور ان دنوں گلگت بلتستان میں ایک اور ارڈر 2020 ء نافذ کرنے کی خبریں گردش میں ہیں یوں ارڈرز پر آرڈرز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری وساری ہے.

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...