چلیں دیر کوہستان کی سیر کرتے ہیں۔

0 2,647

لفظ سیّاح سب سے پہلے 1772ء میں استعمال ہوا اور سیاحت کی اصطلاح 1811ء میں سامنے آئی۔  1936ء میں  اقوام عالم کی زبانوں میں غیر ملکی سیاح کی تعریف یہ بیان کی گئی کہ کم ازکم 24گھنٹے ملک سے باہر سے سفر کرنے والا مسافر سیاح کہلاتا ہے۔  1945ء میں سیاح کی مذکورہ بالاتعریف میں اقوام متحدہ کی طرف سے ترمیم کی گئی  اور 24گھنٹے کا دورانیہ 6ماہ کی مدت سے بدل دیا گیا۔’’تفریح وسیاحت ‘‘ کا آغاز برطانیہ میں صنعتی انقلاب آنے کے نتیجہ میں ہوا۔

 سیاحت کی کئی اقسام ہیں مثلاًگروہی سیاحت ،انفرادی سیاحت ،زرعی سیاحت ،جغرافیائی سیاحت ،ثقافتی سیاحت ،جنگلی سیاحت ،کوہی سیاحت ،خلائی سیاحت ،مذہبی سیاحت ،طبی سیاحت ،طویل والمدتی سیاحت ،مرحلہ وار سیاحت ،معاشرتی سیاحت، بحری سیاحت ،پسماندہ علاقوں کی سیاحت ،شکاری سیاحت۔ بیسوی اور اکسویں صدی میں سیاحت کے فروغ کے لیے دنیا بھرمیں نہایت تیزی سے کام ہو ا۔  سیاحتی علاقوں کے قریب ہوائی اڈ ے ،رستوران ،اعلی معیار کی اقامت گاہیں ،انٹرنیٹ سمیت تمام جدید سہولتو ں کی فراہمی ،شاہراہوں کی تعمیر ،صاف ماحول ،کھانے پینے کی کم قیمت اور وافر اشیاء کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔

انٹر نیشنل ٹورسٹ آرگنائزیشن کی فہرست کے مطابق پاکستان میں 300 سے زائد مقامات غیر معمولی سیاحتی کشش کے حامل ہیں جو پاکستان کی سیاحتی صنعت کو دنیا بھر میں مقبول ،ممتاز اور ترقی یافتہ بنانے کی غیر معمولی خصوصیات رکھتے ہیں۔ ان مقامات میں سے ایک گمنام سا علاقہ دیر کوہستان بھی ہے ۔ دیر کوہستان جہاں ایک طرف گندھارا آرٹ کے نمونے ، نادر معدنیات، عالی شان سنگ مر مر ، کائل، دیار کے گھنے جنگلات اور نایاب لکڑی کی بنی تاریخی عمارات موجود ہیں تو دوسری طرف دیر کوہستان پاکستان کی خوبصورت ترین علاقوں میں سے ہےجہاں دلفریب وادیاں،محسور کر دینے والی منفرد جھیلیں،دریا ،برف پوش پہاڑی سلسلے ،گنگناتی ندیاں،ابشاریں، جھرنے،شفاف پانی کے چشمے،صنوبر ، کائل اور کنڈل کے درختوں کی سرسراہٹ، جنگلی مرغوں ، مرغ زریں کی چہچہاہٹ سنائی دیتی ہیں ۔دیر کوہستان میں مختلف درد قبائل آباد ہیں جن کو عام طور پر کوہستانی کہا جاتا ہے۔ ان میں گاؤری بولنے والوں کی تعداد سب سے ذیادہ ہے۔  یہ لوگ  اپنی سادگی اور مہمان نوازی کے وجہ سے علاقے بھر میں مشہور ہیں۔ یہاں کے لوگ بہت محنت کش اور جفاکش ہیں۔ رنگت زیادہ تر گورا اور مضبوط جسامت کے ساتھ ساتھ خوش مزاج بھی ہیں۔ دیر کوہستان کی  گھاٹیوں اور دریائے پنجکوڑہ کے کنارے آباد لوگ  گا‌ؤری زبان بولتے ہیں ۔ سلسلہ کوہ ہندو راج کے پیچیدہ دروں اورراحت افزا ہواؤں نے گاؤری زبان بولنے والے دیرکوہستان کے باسیوں کی عادات وخصائل کو عجیب رنگ دیا ہے۔ ان کی زبان میں ندیوں کا شور اورپرندوں کی چھچہاہٹ کا سرور ہے۔ دیرکوہستان کی گھاٹیوں اور ندی نالیوں کے کنارے آباد بولی جانے والی زبان  یہ ماہرین  لسانیت و بشریات کیلئے بڑی کشش رکھتی ہے۔یہ زبان بڑی شستہ اور فطری ہے۔ اس میں پہاڑں کی صلابت اور جھرنوں جیسی تیزی و قراری ہے۔

دیر کوہستان کی دوسری زبان  کلکوٹی  ہے یہ زبان کلکوٹ میں بولی جاتی ہے جبکہ دیگر علاقوں جیسےراجکوٹ( پاتراک) سے لیکر تھل کمراٹ تک سب لوگ گاؤری زبان بولتے ہیں ۔ کلکوٹ میں کچھ قبیلے جو بیشور یا بیچھور کہلاتے ہیں کلکوٹی زبان بولتے ہیں۔ کلکوٹی زبان کا تعلق دردی  زبان کی شینا شاخ سے ہے۔ کلکوٹی زبان سے ملتی جلتی زبان چترال کے علاقے عشریت اور دیر کوہستان کے علاقوں گماڈن ،  گھوریال اور حیاگے جیسے عرف عام میں یاگے کہا جاتا ہے میں بھی بولی جاتی ہے۔ اسی طرح کلکوٹ میں رہنے والا دارا کی نسل جیسے داراگی کہاجاتاہے گاؤری سے ملتی جلتی زبان  داراگی  بولتے ہیں۔ گاؤری اورکلکوٹی دو الگ الگ زبانیں ہے لیکن ہے دونوں دردی۔گاؤری کا تعلق دردی زبان کی کوہستانی شاخ سے ہے۔ جو کہ دیر کوہستان کے علاوہ سوات کوہستان کے علاقے کلام ، اتروڑ، اوشو وغیرہ میں بھی بولی جاتی ہے۔ گاؤری زبان میں انگریزی ،  پشتو اورسنسکرت کے الفاظ بکثرت ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر انگریزی میں نزدیک کیلئے(Near) کافی الفاظ مستعمل ہیں ۔ ٹھیک اسی طرح گاؤری میں بھی نزدیک کیلئے نئیر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح ہیم سنسکرت میں برف کیلئے استعمال ہوتا ہے ۔  اسی طرح گاؤری میں بھی برف کیلئے ہیم کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً ہیم موچون یعنی برف باری ہو رہی ہے وغیرہ۔ مذکورہ مثالوں سے ان زبانوں کا گاؤری زبان سے تعلق عیاں ہوتا ہے۔

دیر کوہستان کے جنگلات سینکڑوں اقسام کے چرند و پرند کا مسکن ہیں جہاں پر مارخور،برفانی ہمالیاتی چیتے سے لیکر راموش تک کے جنگلی جانور ملتے ہیں۔ مرغ زریں ،بیگور اور دوسری اقسام کے پرندے بھی بکثرت ملتے ہیں۔ ہمارے دریاوں اور ندی نالوں میں مچھلیوں کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں۔ساری دنیا میں اپنی لذت کیلئے مشہور ٹراﺅٹ مچھلی دیر کوہستان میں بکثرت پائی جاتی ہے۔ اپنی جڑوں میں خوفناک سانپ لئے رات کو جگنو کی طرح چمکنے والا پودا  بنگ سادپونڈ بھی دیر کوہستان کے گھنے اور پر شکوہ جنگلات میں پایا جاتا ہے۔ دیر کوہستان میں موسم گرما میں بھی نسبتاً زیادہ ٹھنڈک ہوتی ہے۔ لہٰذا گرم کپڑے ہمراہ رکھنا اشد ضروری ہے۔ مئی، جون، جولائی،اگست اور ستمبر  اِس وادی میں کوہ نوردی ، خیمہ بستیاں بسانے اور کوہساروں کے ذیلی راستوں پر سفروں کا اصل موسم ہے اور اس موسم میں سیاحت بھی اپنی عروج پر ہوتی ہے۔دیر کوہستان کے تقریباً تمام قابل دید گاؤں دریائے پنجکوڑہ ہی کے کنارے آباد ہیں۔ دریائے پنجکوڑہ کوہندوکش کے برفیلے پہاڑں سے نکل کر دیر بالا اور پھر دیر زیریں سے بہتے ہوئے چکدره، ضلع مالاکنڈ، کے قریب دریائے سوات میں شامل ہو جاتا ہے۔اس دوران یہ وسیع و عریض علاقے کو سیراب کرکے اس کی شادابی اور رعنائی کا باعث بنتا ہے۔دریائے پنجکوڑہ کا منبع ایک نہیں ہے بلکہ اس کے کئی منبعے ہیں۔ یہ دریا کوہِ ہندوکش کی اوٹ میں واقع وادی کمراٹ کے شاہ زوراور کونڈل( وادی کمراٹ سے چترال جانے کا قدیم راستہ بھی یہی ہے) جھیل سے نکل کر متول کینہ لام ( لاموتی ) کے مقام پر دریائے جندرری ،جس کا منبع کٹورا جھیل ہے، میں شامل ہوکر بڑی بڑی چٹانوں کو پھلانگتا ،کہیں گنگناتا اور کہیں دھاڑتا ہوا اپنا راستہ طے کرتا ہے۔ مختلف مقامات پر اس کے ساتھ ندی نالے شامل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ کلکوٹ کے مقام پر اس میں جونکی ندی ( خوڑ) شامل ہو جاتی ہے۔ راستے میں بہت ساری ندی نالوں کو اپنے دامن میں سمیٹ کر راجکوٹ کے مقام پر دریائے گوالدی میں شامل ہوجاتا ہے۔ دریائے گوالدئی کا منبع صمد شاہی اور کوڑماہی کی جھیلیں ہیں۔ صمد شاہی سے ہی پیدل باآسانی چترال پہنچا جا سکتا ہے۔ زمانہ قدیم سے یہ راستہ زیر استعمال ہے۔ صمد شاہی اور کوڑ ماہی کی ندیاں بمقام دو جنگا ایک دوسرے سے مل کر دریائے گوالدئی بن جاتی ہیں ۔ یہ حسین دریا اپنا سفر طے کرتے ہوئے کہیں تو محجوب ہو کر سکڑ سمٹ جاتا ہے اور کہیں فخر سے سینہ پُھلا کربہنے لگتا ہے۔ شرینگل کے مقام پر دریائے ڈوگدرہ اس میں شامل ہوکر کسی منہ زور گھوڑے کے طرح جھاگ اڑاتا ہوا چکیاتن کے مقام پر خواگو اوبہ اور دریائے براول سے مل جاتاہے۔ بعض تاریخی کتب میں اسے تریشاما، دریائے گوری، بھی کہا گیا ہے۔ مؤرخین کےمطابق ارین قبائل جب ان  علاقوں میں نمودار ہوۓ تو کچھ عرصہ بعد ان کے دس قبائل کے درمیان مشہور جنگ ایک دریا کے کنارے لڑی گئ تھی۔ ارین قبائل ماتا دیوی کی پرستش کرتے تھے۔ جمیل یوسفزئی اپنی  کتاب  ”دیر کی مختصر تاریخ “ میں دیر میں چکیاتن ( جگیہ استین) کا علاقہ جو تین دریاؤوں کا نقطہ اتصال ہے، کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہی مقام ارین کے ہاں بہت مقدس تھا۔ پنجکوڑه کے کنارے آرین قبائل ایک خاص وقت یہاں جمع ہوکرقربانی کےساتھ ساتھ مذہبی گیت گایا کرتے تھے۔ اس کے علاوه اس موقع پر ان کے مذہبی پیشوا جمع ہوکر مذہبی قانون بھی کرتے تھے۔ ان دلائل کی روشنی میں یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ 900 ق م میں لکھی گئی  آرین کی مشہور مقدس کتاب رگ وید کے بعض حصّے اس مقدس زیارت چکیاتن ( جگیہ آستین ) میں تخلیق ہو چکے ہونگے۔

 

دریائے پنجکوڑہ انسانوں کے لئے طرح طرح کی نعمتیں لے کر آتا ہے۔ اس کے پانی سے متعدد فصلیں سیراب ہوتی ہیں جن میں مکئی، دھان اور گندم شامل ہیں۔ کئی طرح کی سبزیاں مثلاً آلو، مٹر، شلجم، گوبھی، ٹماٹر وغیرہ اس دریا کی بدولت انسان کو نصیب ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد خوش ذائقہ پھل مثلاً خوبانی، آلوچہ، لوکاٹ، سیب، ناشپاتی، مالٹا، انگور، اخروٹ، شفتالو(آڑو) اور جاپانی پھل کے درختوں کے لئے حیات بخش پانی دریائے پنجکوڑہ ہی لے کر آتا ہے۔ ساتھ ساتھ دریائے پنجکوڑہ کے کنارے گلاب، گلِ نرگس، غانٹول، بنفشہ، پھلواری، ریحان اور دیگر طرح طرح کے خوشبودار اور دھنک رنگ پھول بھی کھلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دریائے پنجکوڑہ میں جو مچھلیاں پیدا کی ہیں ان میں ٹراؤٹ مچھلی سب سے زیادہ مشہور ہے۔ ٹراؤٹ مچھلی بہت سرد پانی میں ملتی ہے۔ اس کا ذائقہ نہایت لذیذ اور بے مثال ہوتا ہے۔ ان مچھلیوں کا شکار کانٹے، جال، بجلی کے اور کرنٹ کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔

 دیر کوہستان کے مقامی لوگوں نے کئی مقامات پر دریائے پنجکوڑہ پر  چھوٹے پن بجلی گھر  بنائے ہیں۔ یہ بجلی گھر عرصہ دراز سے دیر کوہستان کو مقدور بھر بجلی فراہم کرنے کے باعث بنے ہوئے ہیں۔ یو ں تو دیر کوہستان کا کونا کونا   قدرت کی صناعی کا شاہکار ہیں لیکن کچھ علاقے ایسے ہیں جنہیں دیکھ کر انسان بے  اختیار یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اگر یہ دینا اتنی خوبصورت ہے تو جنت کیسی ہوگی ۔

وادی کمراٹ

اپنے قدرتی حسن کی بدولت ملکہ حسن کہلانی والی پاکستان کی خوبصورت ترین وادی کمراٹ دیر کوہستان کے ماتھے کا جھومر ہے۔  دیر کوہستان کے گاؤں تھل سے دریا کے ساتھ ساتھ کچھ پختہ اور بیشترکچا راستہ ایک ایسی وادی کی طرف راہنمائی کرتا ہے جہاں صرف اور صرف سکون ہے ۔دیار کے گھنے درخت، دونوں اطراف کے گھنے جنگل سے گھرے پہاڑوں کے سائے، قدرتی چشموں اور جگہ جگہ رواں شفاف پانی کے باعث اس علاقے کو پاکستان کے خوبصورت ترین علاقوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ کوہ ہندوکش کے دامن میں واقع ملکہ حسن وادی کمراٹ کا شمار دیر کوہستان کی خوبصورت ترین وادیوں میں ہوتا ہے جہاں دریا، ابشا، لاتعداد جھرنیں،  ٹھنڈے پانی کے بڑے بڑے نالے، چشمے اور سرسبز پہاڑ ہیں۔ گھنے جنگلات، جنگلی گلابوں اور سرسبز مخملی گھاس کے وسیع و عریض میدان ہیں۔  جہاں تک نظر جاتی ہے سبزہ ہی سبزہ ہے جیسے سبز رنگ ان پہاڑوں پہ انڈیل دیا گیا ہو یا انہوں نے خود ہی سبزے کی چادر اوڑھ لی ہو۔ قدرت کے اس حسین شاہکار کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ کسی جادوئی دنیا کی سیر کر رہے ہیں اور اس بات پر یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ پاکستان میں بھی کوئی ایسی خوبصورت اور حسین جگہ موجود ہوسکتی ہے۔

شندور جھیل

 

 

دیر کوہستان کی سب سے بڑی اور خوبصور ت جھیل شندور جھیل ہے جو کہ ابھی تک گمنامی کے پردے میں پڑی ہے۔  وادی شندور کا شمار دیر کوہستان کی ان وادیوں میں ہوتا ہے جسے ابھی تک بہت ہی کم لوگوں نے دیکھا ہے۔  حسین سبزہ زاروں، گرتے ابشاروں اور برف کی سفید فرغل پہنی ہوئی فلک بوس چوٹیوں کے دامن میں واقع وادی شندور دیر کوہستان کا ایک مشہور اور خوبصورت تفریحی مقام ہے۔ سر سبز گھاس سے مزین میدانوں، ہزارہا رنگ کے پھولوں، شفاف پانی کی ندیوں اور گھنے دیودار کے جنگلات پر مشتمل وادی شندور ایک پہاڑی چرا گاہ ہے جہاں فطرت اپنے اصل رنگ و روپ میں نمایاں ہے۔ شندور وادی ہی میں دیر کوہستان کے مشہور اور سب سے بڑی جھیل شندور جھیل واقع ہے۔  وادی شندور جانے کیلئے سب سے پہلے دیرکوہستان کے گاؤں بیاڑ (جار) آنا پڑیگا۔ بیاڑ سے شندور تک کم سے کم چار سے پانچ گھنٹوں کا پیدل راستہ ہے۔  بیاڑ بازار کے سامنے دریا پنجکوڑہ کو کراس کرکے ڈیٹکن تک پیدل چلنے کے بعد ایک راستہ لنڈے درے تک جاتا ہے اور ایک شندور تک۔ راستے میں اپ بانلوٹ بانال ، مولیٹ بانال اور چاچو بانال سے گزر کر تقریبا تین گھنٹوں میں آپ شندور کی پہلی جھیل تک پہنچ جائینگے۔ راستے میں مولیٹ بانال کی ابشار واقع ہے۔  اس کے بعد شندور کی دوسری جھیل اور پھر شندور بانڈہ ہے۔  شندور بانال جھیل کے کنارے پر واقع ہے۔  شندور جھیل دیر کوہستان کی سب سے بڑی جھیل ہے۔  رفیع صاحب( ایک سیاح جنہوں نے شندور کا سفر کیا ہے) کے بقول شندور جھیل کی لمبائی تقریبا 1.3 کلومیٹر ہے۔ شندور جھیل قدرت کا ایک حسین شاہکار ہے۔  اس کی خوبصورتی کے زیرِ اثر کوئی بھی انسان خود سے بولنے لگے، سب کچھ اگلنے لگے۔ انسان کم بلڈ پریشر کے مریض کی طرح ایک جگہ ساکت ٹکٹکی باندھے بیٹھا رہ جاتا ہے اور سننے والا بھی دل پر یوں دستِ تسلی رکھتا ہے کہ روح تک مسیحائی کی تاثیر اترتی محسوس ہوتی ہے۔ شندور میں کئی چھوٹی بڑی گمنام جھیلیں ہیں۔  شندور بانال سے تقریبا 45 منٹ کے فاصلے پر شیٹاک کی مشہور جھیل واقع ہے۔  یہاں فطرت اپنے اصل رنگ و روپ میں نمایاں ہے لیکن یہاں تک رسائی کا سہل ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے حسن و جمال کا یہ مرقع  سرسبز و شاداب علاقہ سیاحوں کی نظروں سے پوشیدہ ہے۔

جاز بانال

دیر کوہستان کا ایک اور مشہور تفریحی مقام کا نام جاز بانال ہے جسے جاز بانڈا بھی کہتے ہیں۔   سر سبز گھاس سے مزین میدانوں، ہزار ہا رنگ کے پھولوں، شفاف پانی کی ندیوں اور گھنے دیودار کے جنگلات پر مشتمل ساڑھے گیارہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع جاز بانال ایک پہاڑی چرا گاہ ہے ۔  جاز بانال ہی میں مشہور چیمیرین ابشار ہے۔ جاز بانال کی یہ خوب صورت ابشار دلوں میں نئی

اُمنگ پیدا کرتی ہے۔ جو لوگ اس وادی کا رُخ کرتے ہیں وہ اس ابشار کے دل فریب مناظر میں کھو کر رہ جاتے ہیں۔ قدرتی حالت میں موجود آبشاروں،  چشموں اور جھیلوں کی سرزمین جازبانال میں  کٹورا جھیل واقع ہے جس کا نظارہ کسی پر بھی جادو کرسکتا ہے۔ ساڑھے گیارہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع اس جھیل کے ارگرد برف پوش پہاڑ ہیں تاہم جون سے ستمبر تک یہاں جایا جاسکتا ہے۔ جاز بانال جانے کیلئے مرکزی سڑک ( خاص دیر ) سے سیدھے دروازو ( ایک چوٹا سا گاؤں ) میں اک راستہ کمراٹ کی طرف اور دوسرا لاموتی گاؤں کی طرف جاتا ہے۔ وہاں سے وادی جندری تک روڈ ہے۔ جندری کے بعد پھر پیدل جانا پڑتا ہے۔ جاز بانڈہ میں سیاحوں کیلئے ایک ریسٹ ہاوس ہے لیکن کھانے کا انتظام آپ کو خود کرنا پڑیگا۔ پکانے کا سامان برتن وغیرہ ہے لیکن روڈ نہ ہونے کے وجہ سے راشن پورا کرنا مشکل ہے۔

باڈگوئی پاس

اس پاس کو اتروڑ پاس بھی کہا جاتا ہے۔ جب آپ کالام  سوات سے سفر شروع کرتے ہیں تو اتروڑ گاؤں تک جیپ کاٹریک دریا کے ساتھ ساتھ ایک ہموار راستہ کی صورت چلتاہے۔ جونہی اتروڑ گاؤں سے آگے سفر شروع ہوتا ہے تو لکڑی کا پل کراس کرتے ہی بائیں جانب راستہ باڈگوئی پاس کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور اس پل سے دائیں جانب سیدھا راستہ گبرال اور خڑخڑی جھیل جسے کنڈول جھیل بھی کہا جاتا ہے کی طرف جاتا ہے۔  باڈگوئی پاس کی طرف مڑتے ہی جیپ ٹریک دشوار گزار ہوجاتا ہے۔  پاس کی چڑھائی شروع ہوتے ہی گھنا جنگل شروع ہو جاتا ہے اور راستہ انتہائی ناہموار ہے چونکہ یہاں سے مسلسل چڑھائی ہے اس لیے ڈرائیونگ کرنے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔  جوں جوں آپ اونچائی کی طرف فاصلہ طے کرتے جاتے ہیں اس کی خوبصورتی میں بے پناہ اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اس جنگل میں بڑے بڑے تنوں والے قدیم ترین درخت دیکھے جا سکتے ہیں۔ ٹاپ کے قریب سے پیچھے مڑ کے دیکھیں تو اتروڑ اور گبرال گاؤں کی طرف سے چاروں طرف جہاں بھی نظر جاتی ہے گھنا جنگل ہی دکھائی دیتا ہے ۔ٹاپ کے پہاڑ انتہائی خوبصورت  اورسرسبز گھاس سے اٹے ہوئے ہیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے قدرت نے کوئی سبز قالین تہہ در تہہ بچھا دیا ہو۔ پاس کے ٹاپ پر پہنچنے کے لیے جتنی چڑھائی مشکل ہے اتنی ہی اترائی بھی خطرناک ہے۔ تھوڑی سی بے احتیاطی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ راستے میں بہتے جھرنے اس روڈ کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ لاموتئی گاؤں آنے سے کافی پہلے لاموتئی جنگل شروع ہو جاتا ہے ۔ لاموتئی گاؤں کی حدود شروع ہوتے ہی پولیس کی چیک پوسٹ ہے۔ پوسٹ کراس کرتے ہی  ساتھ  دائیں جانب سڑک وادی کے خوصبورت گاؤں تھل کی طرف چلی جاتی ہے اور بائیں طرف وادی جندری کو جاتی ہے۔ تھل کی طرف رخ کرتے ہی کمراٹ کی خوبصورت وادی اپنا دامن پھیلاتے آپ کا استقبال کرتی ہے۔ وادی میں پھیلے خوبصورت کھیت کھلیان اور درمیان سے گزرتا ہوا بل کھاتا ہوا دریا خراماں خراماں محو سفر ہے۔ یہی دریا وادی کمراٹ کے ماتھے کا جھومر ہے ۔سیاحت کے لیے بہترین موسم اپریل سے نومبر تک ہے۔ سال بھر میں چار ماہ یہ پاس برف کی سفید چادر اوڑھے سیاحوں کی نظر سے اوجھل رہتا ہے۔  برف سے ڈھکے پہاڑ بھی چار ماہ تک اداس رہتے ہیں۔اس کے علاوہ کونڈل، جارکھور، چھاروٹ، گورشئی، ایزگلو، شڑمارو، گیدر، رامالیٹ، سالیٹ، گوڈیگ، شابانال، باٹاوار، وادی شڑ، وادی گوالدئی، کوڑماہی ، صمد شاہی، کاشکن پاس جو زمانہ قدیم سے چترال اور دیر کوہستان کے درمیان آمد و رفت کے لئے استعمال ہوتا ہے، اور وادی شڑ کی گمنام اور انگنت خوبصورت جھیلیں جو کہ ابھی تک سیاحوں کی پہنچ سے دور ہے قابل ذکر تفریحی مقامات ہیں۔ ان مقامات میں سے صرف کمراٹ تک بذریعہ روڈ جایا جا سکتا ہے باقی علاقے دیکھنے کے لئے پیدال جانا پڑتا ہے ۔

قدیم تاریخی مسجد

دیر کوہستان کی سب  سےبڑی اور مشہور مسجد جامعہ مسجد دارالسلام تھل وادی کمراٹ ایک تاریخی مسجد ہے ۔ اسے1865ء میں تعمیر کیاگیا ۔    1953 ءمیں آتشزدگی کی وجہ سے اس کا ایک حصہ متاثر ہوا ۔ جس کو مقامی لوگوں نے دوبارہ تعمیر کیا ۔ یاد رہے اس وقت لکڑی کاٹنے کی مشین آری وغیرہ نہیں تھے ۔ مقامی لوگو ں نے اسے کلہاڑیوں کی مدد سے تعمیر کیا   اور کلہاڑیوں سےہی  لکڑیوں پہ ایسے نقش و نگار بنائے کہ آج کہ مشینی دور کا انسان حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس کے علاوہ دیر کوہستان اپنے علاقائی رقص، لوک گیت، میلے ٹھیلے اور ثقافتی تہوار، انتہائی لذیذ اور اشتہا انگیز مہک والے کھانے مہمان نواز لوگ اور دلچسپ رسوم و رواج کیلئے بھی مشہور ہیں۔  ہمارے یہ خوبصورت علاقے سیاحوں کے لیے موثر ترغیبات کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن روڈ نہ ہونے کے وجہ سے سیاح یہاں آنےسے کتراتے ہیں۔  کسی بھی سیاح سے دیرکوہستان کے بارے میں سوال کرنےے پر سب سے پہلے روڈ کے خراب ہونے کا شکوہ کیا جاتاہے۔  ریاست دیر پر حکومت پاکستان کے قبضے کو کئی عشرے گذرگئے لیکن دیر کے سیاحتی مقام دیر کوہستان کا روڈ وہی نوابی دور والا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ دیرکوہستان کا روڈ بنایا جائے  اور دیر کوہستان کو ملک کے دوسرے سیاحتی مقامات کی طرح جدید سیاحتی مقام بنایاجائے جہاں پر اعلیٰ ریستوران، اعلی معیار کی اقامت گاہیں، انٹرنیٹ سمیت تمام جدید سہولتو ں کی فراہمی، شاہراہوں کی تعمیر، صاف ماحول، کھانے پینے اشیاء کی کم قیمت اور اشیاء خوردونوش کی فراہمی یقینی بنائ جائے۔  نئے ریسٹ ہاﺅسز کی تعمیر ، جنگلی حیات و قدرتی وسائل کو درپیش خطرات کو دور کرنے، علماء کے سیاحت دوست کردارمیں تیزی، سڑکوں کی حالت بہتر بنانے، تعلیم کے فروغ، حکومتی اداروں کی مزید دلچسپی،  جنگلات کی کٹائی پر مکمل پابندی اور مزید جنگلات لگانے وغیرہ جیسے اقدامات کے بعد ہی توقع کی جا سکتی ہے کہ اس وادی میں سیاحت کے فروغ کے بعد دیگر سیاحتی علاقوں کی طرح مثبت تبدیلیاں رو نما ہو نگی جن سے ایک طرف اگر علاقے کے غریب عوام کو روزگار ملے گا تو دوسری طرف فطرتی حسن کے عشاق  کو ایک نئی دنیا دیکھنی کو مل جائی گی۔

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...