گلگت بلتسان کی زبانوں میں ادب کی تخلیق

0 2,756

 

مادری زبانوں کا عالمی دن

21 فروری کو دنیا بھر کی چھوٹی اور بڑی قومیں ”مادر ی زبانوں کے عالمی دن” کے طور پر مناتی ہیں۔ اس کا مقصد دنیا بھر میں بولی جانے والی زبانوں کا تحفظ کرنا اور ان کو معدوم ہونے سے بچاتے ہوئے ان کی ترویج کے لیے کام کرنا ہے۔ اس دن کو سابقہ مشرقی پاکستان موجودہ بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکہ میں بنگالی کو قومی زبان بنانے کے لیے پرامن احتجاج کرنے والے ان طلبہ و طالبات کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے جن پر 1952 میں اپنی زبان کے لیے آواز اٹھانے کی پاداش میں گولیاں برسائی گئیں اور کئی نوجوانوں کو شہید کیا گیا۔

نومبر 1999ء کو یونائٹڈ نیشن ایجوکیشنل سائنٹفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن (UNESCO) نے جنرل کانفرنس میں اس دن کو باقاعدگی سے منانے کا اعلان کیا۔ اور 21 فروری 2000 ء سے باقاعدہ اس دن کو منانے کا عمل شروع ہوگیا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ نے بھی سال 2008 ء کو ”مادری زبانوں کا عالمی سال” کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا اور 16مئی 2009 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تمام ممبرز ممالک کو پابند بنایا گیا کہ وہ تمام چھوٹی بڑی زبانوں کے تحفظ و ترویج کے لیے کام کریں تاکہ مختلف زبانیں بولنے والے ایک دوسرے کی زبانوں کا احترام کرنا سیکھیں اور زبان و ثقافت کے ذریعے دنیا بھر میں  امن و امان قائم کیا جاسکے۔

گلگت بلتستان اور لسانی و ثقافتی تنوع

گلگت بلتستان جس طرح اپنی جغرافیائی حیثیت کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے بالکل اسی طرح مختلف زبانوں، تہذیب و تمدن اور منفرد ثقافت کی بدولت اپنا منفرد مقام رکھتا ہے۔ مختلف زبانیں اس خطے کی اہمیت کو دنیا بھر میں دوبالا کر دیتی ہیں۔ بنیادی طور پر اس خطے میں پانچ بڑی زبانیں بولی جاتی ہیں  جن میں شینا، بلتی، بروشسسکی، کھوار اور وخی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ چھوٹی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں جن میں گوجری،   داودی یعنی ڈوماکی وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

بلتستان کے تمام اضلاع میں تقریباً 90 فیصد بلتی بولی جاتی ہے جب کہ کچھ علاقوں میں شینا بھی بولی جاتی ہے۔ دیامر، استور، گلگت اور غذر کے مختلف علاقوں کے علاوہ ہنزہ نگر کے بعض علاقوں میں بھی شینا بولی جاتی ہے۔ بروشسکی زبان ضلع غذر کے تحصیل یاسین، ہنزہ اور نگر میں اکثریتی طور پر بولی جانے والی زبان ہے۔ اسی طرح کھوار ضلع غذر کے علاقے اشقمن ” اشکومن“، پھنڈر، گوپس اور یاسین میں بولی جاتی ہے۔ گلگت بلتستان کا تاریخی حصہ چترال جو اب  خیبر پختون خوا  میں شامل ہے میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان  کھوارہے  اور وخی زبان ہنزہ کے علاقے گوجال ،شمشال اور ضلع غذر کے علاقے اشقمن میں بولی جاتی ہے۔

یاسین کے بروشو بزرگان کا روایتی چوغہ اور ٹوپیوں کے ساتھ تصویر۔۔فوٹو شیر نادر شاہی

صدیوں سے گھل مل کر آپس میں رہنے کی وجہ سے خطے کے لوگ ایک دوسرے کی زبانیں آسانی سے بولتے اور سمجھتے ہیں اور اس تاریخی روابط کی بدولت کچھ الفاظ مشترکہ طور پر اکثر و بیشتر استعمال ہوتے ہیں اور کچھ ایسے الفاظ بھی مشترکہ بولی کے باعث ایجاد ہوئے ہیں جن کو پڑھنے کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ بنیادی طور پر کس زبان کے الفاظ ہیں۔ اس طرح کے الفاظ خاص کر بروشسکی اور کھوار میں پائے جاتے ہیں۔ جیسے بروشسکی میں تَتی والد، نَنی والدہ کے لیے بولا جاتا ہے جب کہ ان سے ملتے جلتے الفاظ تَت والد، نَن امی کو کھوار میں کہتے ہیں۔ دونوں زبانوں میں اب یہ فرق کرنا مشکل ہے کہ یہ الفاظ بنیادی طور پر کھوار کے ہیں یا بروشسکی کے۔

بالکل اسی طرح اگر ہم شینا زبان کی بات کریں تو اس میں بھی بہت سارے الفاظ شینا اور بروشسکی میں مشترکہ طور پر ایک ہی مطلب کے لیے استعمال ہوتے ہیں ۔  اس طرح کے بے شمار الفاظ موجود ہیں جن پر بات کی جاسکتی ہے اور بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن بد قسمتی سے ان زبانوں کو تحریری شکل میں زندہ رکھنے کی ضرورت پر بہت کم غور کیا گیا جس کی وجہ سے یہ زبانیں زوال کا شکار ہیں۔

بلتی زبان میں ادب 

بلتستان اور کرگل لداخ میں بولی جانے والی سب سے بڑی زبان بلتی پر کسی حد تک کام کیا گیا ہے۔ اس زبان کا اپنا رسم الخط موجود ہے اور بلتستان کے بڑے بڑے شاعرا غلام حسن حسنی، پروفیسر حشمت کمال الہامی، احسان دانش، میر اسلم سحر اور دیگر ادیبوں نے بلتی ادب و شاعری، گیت، حمد و نعت، سفرنامے اور بلتی لغات پر کام کیا جس کی وجہ سے اس زبان کا مستقبل درخشاں ہے۔ تاہم اس کے تحفظ کے لیے مزید کام کی ضرورت ہے۔

شینا زبان میں علم و ادب کی تدوین وتخلیق

اگر ہم شینا  زبان کی بات کریں تو اس زبان پر بھی ماضی میں بہت زیادہ کام نہیں ہوا۔ البتہ پرانے شعراء رحمت جان ملنگ، فضل الرحمان عالمگیر مرحوم، بابا چیلاسی اور ان کے بعد جان علی جانان، جمشید خان دکھی، عبدالخالق تاج، امین ضیا،  شکیل احمد شکیل، عزیزالرحمان ملنگی، امتیاز حسین شہکی، ظفر وقار تاج جیسے مایہ ناز شعراء، ادیب اور گلوکاروں نے کام کیا۔ جن کی محنت کے باعث اس وقت دیگر چھوٹی زبانوں کے مقابلے میں شینا ادب و شاعری عروج پر ہے۔ جس کی مثال رحمت جان ملنگ اور دیگر کے شینا شعری مجموعے ہیں۔ شاعری کے علاوہ شینا رسم الخط پر بھی کسی حد تک کام ہوچکا ہے۔ تاہم آپس میں بیٹھ کر بحث مباحثے کے بعد کسی ایک انداز میں مل کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ شینا کا حشر بھی وہی ہوگا جو دیگر زبانوں کا ہو رہا ہے۔

بروشسکی زبان میں ادب و علم کی تخلیق

اب آتے بروشسکی کی طرف۔ اس زبان کی بد قسمتی یہ رہی ہے کہ اس کے بولنے والے کسی ایک مخصوص جغرافیے کے اندر نہ ہونے کے باعث ایک ہی زبان بولنے والوں کی آپس میں دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ بروشسکی بولنے والے نگر، ہنزہ اور یاسین میں آباد ہیں اور تینوں جگہوں کی بولی ایک دوسرے سے تھوڑی مختلف ہے۔ جس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان کو دیگر زبانوں نے متاثر کیا اور اس کے تحفظ کے لیے کام نہیں ہوا اور بدقسمتی سے یہ تین حصّوں میں تقسیم ہوئی۔ جن میں نگرے بروشسکی، ہنزہ بروشسکی، اور یسینے بروشسکی مشہور ہیں۔

اس زبان پر انفرادی طور پر کسی حد تک کام کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اجتماعی طور پر اس پر کام نہیں ہو سکا۔ ہنزہ میں بابائے بروشسکی علامہ نصیرالدین نصیر ہنزائی نے اپنے انداز میں ہنزہ بروشسکی کے لیے بہت زیادہ کام کیا اور ان کی بروشسکی لغات اور شاعری کی تصانیف قابلِ ذکر ہیں۔ جب کہ وہاں زبانی شعر و ادب پر شیر باز ہنزائی، شاہد اختر قلندر، محسن اسیر، ڈیرو اقبال اور دیگر شعراء نے کام کیا۔ اسی طرح نگر میں سید یحیٰ شاہ، اسماعیل ناشاد و دیگر کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔

اسی طرح یسینے بروشسکی پر بہت بعد میں کام شروع ہوا بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہاں پرانے شاعر مچھی بپ ”دادامچھی“  اور جمائیل خان کے بعد شاعری میں ایک جنریشن کا گیپ آیا اور ان کے بعد کے جنریشن نے شعر و ادب پر کام نہیں کیا اور جنہوں نے کیا ان کی شاعری میں بروشسکی سے زیادہ اردو الفاظ شامل ہوگئے اور شاعری کا معیار نہ ہونے کے باعث عوام میں سوائے چند ایک کے کسی کو پذیرائی نہیں ملی لیکن پھر بھی عبدالمالک، شکورمن کلیم، علی مدد بائے اور دیگر نے اس علم کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ یسینے بروشسکی میں پہلی بروشسکی ڈکشنری ”بروشاسکی رژون” کے نام سے منظر عام پر آئی جس کا مصنف نوجوان اسکالر ایڈوکیٹ وزیر شفیع ہے۔

اس ڈکشنری کے آنے کے بعد بھی ایک طویل عرصہ گزر گیا مگرکوئی اشاعت نہیں ہوئی۔ لیکن بعد میں اچانک یسینے بروشسکی کے  نام سے ایک شاندار کتاب لکھی گئی۔ اس کتاب کے مصنف کا نام عبدالحمید خان ہے جس نے اپنی طویل جلاوطنی کے دوران کتاب کی طباعت و اشاعت کو ممکن بنایا۔ اس کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد بروشسکی زبان پر کام آب و تاب کے ساتھ شروع ہوا۔ ایک دو سال بعد اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن بھی منظر عام پر آیا  جس سے نوجوان قلم کاروں  اورشاعروں کے لیے نیا راستہ مل گیا اور اب ”لوظینگے پوٹالو” کے نام سے معروف بروشسکی محقق و ادیب عبدالحمید خان کی لکھی گئی بروشسکی ڈکشنری طباعت و اشاعت کے مراحل میں ہے۔

یاسین کی پہلی بروشاسکی کتاب یسنِ بروشاسکی۔۔فوٹو شیر نادر شاہی

اگر یسنے بروشسکی کے شعر و ادب کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس میں استاد بلبل مراد کا نام اولین فہرست میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ جدید شاعری میں نوجوان شاعر بشارت شفیع اپنی مثال آپ ہیں۔ بشارت شفیع کو یاسین کا پہلا شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ جس نے بروشسکی شاعری کے جمود کو توڑا۔ اس کا پہلا البم خالص بروشسکی میں تھا۔ جس میں کسی اور زبان کا لفظ شامل نہیں تھا۔ ان کی شاعری کے معیار اور محبوب جان یاسینی کی آواز نے بروشسکی شاعری کے ادب میں انقلاب برپا کر دیا اور نوجوانوں کو یہ باور کرایا کہ بروشسکی میں میٹھے الفاظ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اس کے بعد بروشسکی شاعری میں عبدالمجید خان متلاشی قابلِ ذکر ہے۔ عبدالمجید متلاشی کو ضلع غذر کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر ہونے کا بھی اعزاز کم عمری میں حاصل ہوا اور بروشسکی زبان میں بھی ان کی شاعری خالص بروشسکی الفاظ پر مشتمل ہے۔ انہوں نے معدوم ہونے والے الفاظ کو اپنی شاعری کے ذریعےدوبارہ زندہ کر دیا۔ اس کے بعد بروشسکی ادب و شاعری پر آب و تاب سے کام جاری ہے۔ دیگر نامور شعرا ء میں محبوب جان یاسینی، ریاض ساقی، آصف علی اشرف، پنین رونق، عابد علی شاہ، گل نیاب قیصر، علی احمد جان، شکیل سنجیل، وجاہت عالمی، نیت شاہ قلندر، ریاض یاسینی، اور شیرنادر شاہی و دیگر شامل ہیں جو بروشسکی ادب کا علم ہاتھ میں تھامے جانب منزل رواں دواں ہیں۔

کھوار زبان میں ادب و علم

اگر ہم کھوار زبان کی بات کریں تو فخر سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس زبان کے والی وارثوں نے بڑی دلجمعی کے ساتھ فکر و سخن اور ادب و شاعری کے علم کو تھامے رکھا ہے۔ اس کا کریڈٹ چترال کے شعرا، ادیب اور فن کاروں کو جاتا ہے کیوں کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے فن کاروں کی عزت کی اور اپنی زبان کو تحریری شکل میں بھی زندہ رکھنے کے لیے اقدامات کیے۔ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ چترال تعمیر و ترقی اور سیاسی طور پر باشعور اور امیر نہ سہی لیکن ثقافت ، تہذیب و تمدن اور شعر و ادب کے میدان میں مالامال ہے۔ اس سرزمین اور زبان سے ربط کے باعث غذر میں بھی کھوار زبان پر کام جاری ہے بلکہ جو کام اپنے عہد کے نامور شاعر و گلوکار مظفر الدین بیگانہ شہید کے حصے سے بچ گیا تھا  اس کا بیڑا فدا علی شاہ غذری، ممتاز علی انداز، رحمت علی، صابر شاہ صابر اور دیگر دوستوں نے اٹھایا ہے۔ تاہم اس زبان پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

وخی زبان میں ادب و علم کی تخلیق

وخی زبان گلگت بلتستان میں بولی جانے والی سب سے چھوٹی مگر میٹھی زبان ہے۔ اس زبان پر کام کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس زبان کے معروف شاعر و گلوکار ڈی ڈبلیو بیگ (D.W Baig) نہ صرف وخی کے تحفظ و ترویج بلکہ گلگت بلتستان کی تمام زبانوں کی موسیقی  کے لیے دن رات کوشش میں مگن ہیں۔ ان کی ادبی و ثقافتی تنظیم (IPPAC) اسلام آباد میں لوک ورثہ کے تعاون سے پروگرامز کا انعقاد کرتی رہتی ہے جس میں گلگت بلتستان بھر سے شعرا ء، ادباء، گلوکار، فنکار، ماہرین لسانیات کو اپنی زبانوں کو دنیا تک پہنچانے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محترم دوست نور پامیری کی وخی زبان کے لیے خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ وہ وخی زبان کے تحفظ اور ترویج کے لیے ویب سائٹ اور جدید سوشل میڈیا کے ذریعے کوشاں ہیں جس کا ذکر انہوں نے خود بھی حالیہ دنوں ایک ٹی وی انٹرویو دیتے ہوئے کیا تھا۔ تاہم اس زبان کو تحریری شکل دینے، ادب کو پروان چڑھانے اور اس کے تحفظ کے لیے مزید اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے۔

تمام زبانوں اور ان سے جڑے شعر و ادب، نثر، شاعری، گلوکاری کے تمام شہسواروں کا مختصر تعارف کے بعد اربابِ اختیار اور صاحبِ قلم دوستوں کی توجہ ان عوامل کی طرف مبذول کروانا مناسب سمجھتا ہوں جن کی وجہ سے ان زبانوں کو مستقبل قریب میں خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان کی زبانوں کو لاحق خطرات  و سفارشات

اوّل یہ کہ مقامی زبانوں کو بولنے والے بالخصوص نوجوان جو ملک کے مختلف شہروں میں زیر تعلیم ہیں، زیادہ تر اپنی مادری زبانوں میں بات کرنے کی بجائے اردو اور انگریزی پر زیادہ زور دیتے ہیں اور مادری زبان بولتے بھی ہیں تو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ مادری زبان بول رہےہیں۔  بلکہ ایسا لگتا ہے جیسے انگریزی یا اردو بول رہے ہیں کیوں کہ وہ زیادہ تر الفاظ اردو یا انگریزی بول لیتے ہیں اور ایک دو الفاظ اپنی مادری زبان چاہے وہ شینا، بلتی بروشسکی میں ہوکے علاوہ  سب ہی اردو  سےالفاظ مستعار لیے لیتے ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو شہروں میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم ہیں وہ اپنے بچوں سے اپنی مادری زبان میں بات کرنے کی بجائے اردو یا انگریزی میں بات کرتے ہیں تاکہ بچے اردو اور انگریزی پر عبور حاصل کر سکیں۔ ایسے لوگوں کے نزدیک مادری زبان ایک مذاق سے کم نہیں اور میں نے خود ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو اپنی مادری زبان کو گالیاں بھی دیتے ہیں۔

تیسری بات ہمارے گھروں میں اکثر و بیشتر اپنے بچوں کو پاپا، ڈیڈی، انکل، آنٹی، خالہ، بھائی، باجی سکھایا ہے جس کس کی وجہ سے پڑھے لکھے طبقے کے علاوہ ناخواندہ والدین بھی اپنے بچوں کو یہی سکھاتے ہیں جس سے بابو، تَتی، آجی، لَل، ککا جیسے خوب صورت الفاظ کا استعمال روز بروز کم ہوتا جا رہا ہے۔

چوتھی بات یہ کہ ہمارے آباواجداد کے دور کے پرانی تاریخی اور قدیمی ناموں سے مختلف علاقے مشہور تھے اور ان ناموں سے ان کو پکارا جاتا تھا۔ مثلاً سرِگن کو ہم نے گلگت کہا، یسن کو یاسین، اشقمن کو اشکومن، چکیداس کو رحیم آباد، علی آباد وغیرہ کے ناموں سے پکارنے سے پرانے اور قدیمی نام اور ان سے وابستہ واقعات اور شناخت کا روز بروز خاتمہ ہوتا جارہا ہے۔

اس کے علاوہ راتوں کو لوک کہانیاں سننے اور سنانے کی جگہ اب فیس بک نے لے لی ہے اور خاص کر سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ان زبانوں پر مشتمل نصاب نہ ہونے کے باعث پرائمری سے پی ایچ ڈی تک طلبہ و طالبات کو اپنی زبانوں کے حوالے سے پڑھنے کو کچھ نہیں ملتا ۔ اس کمی   کی وجہ سے وہ اپنی ثقافت زبان اور تاریخ سے دور ہو جاتے ہیں اور مقامی زبانوں میں گرائمرز، قاعدہ یا رسم الخط نہ ہونے کے باعث لکھنے کے لیے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آخر میں تحریر کو سمٹتے ہوئے اہلِ قلم، شعراء، ادباء ، ماہرِلسانیات اور نوجوانوں سے گزارش کروں گا کہ خدارا وہ اپنی مادری زبانوں کو ماں کا درجہ دیتے ہوئے فخر سے اپنی زبان بولیں، لکھیں  اور اس کے تحفظ کا ذمہ اٹھائیں۔  گلگت بلتستان کی تمام زبانیں بولنے والے لسانی تعصب کے بغیر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر تمام زبانوں، تاریخ و ثقافت کو یونیورسٹی سمیت کالجوں اور سکولوں کے نصاب میں شامل کرنے کے علاوہ ہر زبان پر مشتمل شعبہ جات قائم کرنے کے لیے حکومت وقت کو راضی کرنے میں کردار ادا کریں۔

اس کے علاوہ بلتی زبان بولنے والے نہ صرف بلتستان کے اندر بلکہ کرگل لداخ سے بھی ماہرین لسانیات و ادب سب مل کر ایک پلیٹ فارم پر اکھٹے ہوکر کام کریں۔ اسی طرح  د یامر، غذر، استور، گلگت سےشینا بولنے والے ماہرین  لسانیات، شعرا ء اور ادباء مل کر ریسرچ کریں اور گرامر تشکیل دیں۔ اسی طرح بروشسکی بولنے والے ہنزہ، نگر، یسن کے ماہرینِ لسانیات، شعرا، ادبا پر مشتمل فورم تشکیل دیں اور مل کر کسی ایک گرامر پر اتفاق کریں۔

بالکل اسی طرح کھوار اور وخی کے ماہرین  لسانیات پر مشتمل فورمز ہو اور ان تمام ریسرچ فورمز کو حکومت ں کومالی سپورٹ فراہم کرے اور سالانہ بجٹ میں بھی مقامی زبانوں کے لیے فنڈز مختص کرے۔  شعراءاور فن کارو گلوکاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور نوجوانوں کی یہ ذمہ داری ہونی چائیےکہ وہ اپنے شعراء  اور ادیبوں کی قدر کرنا سیکھیں تاکہ وہ زبان اور شعروادب کی آبیاری کھلے دل سے کریں۔ اگر ایسا نہیں کیا تو مستقبل قریب میں ہماری زبانیں ختم ہوجائیں گی اور بغیر زبان و ثقافت کے قومیں زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتیں۔

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...