The aim of this magazine is to connect the communities of Hindu Kush, Himalaya, Karakorum and Pamir by providing them a common accessible platform for production and dissemination of knowledge.
دیر کوہستان
دیر کوہستان دیر خاص کے شمال میں واقع ہے۔ اللّہ تعالی نے اس وادی کو بے تحاشہ قدرتی وسائل اور حسن کے لازوال خزانوں سے نوازا ہے۔ یقیناً یہ وادی اپنی بے مثال دلکشی ،خوبصورتی اور دلفریبی کی وجہ سے منفرد ہے۔وادی پنجگوڑا بھی اسی وادی سے متعلق ہے۔ مقامی لوگ اس دریا کو دریائے پنجگوڑا کہتے ہیں۔وادی کا سارا سبزہ، شادابی،ہریالی اور خوشحالی اسی دریا کےمرہون منت ہے۔دیر کوہستان کے شمال میں چترال، مشرق میں سوات،جنوب اور مغرب میں دیر اور چترال کے اضلاع واقع ہیں۔

اس وادی کا گیٹ وے خوگے اُبو اور ہیڈ کوارٹر شرینگل ہے۔شرینگل میں دریا کے کنارے ایک پُرسکون مقام پر واقع شہید بے نیظر بھٹو یونیورسٹی ایک عرصے سے علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔شرینگل سے منسلک علاقے ڈوکدرہ واقع ہے جہاں کافی غیر کوہستانی لوگ بھی آباد ہے۔شرینگل کے علاقے شہید نامی جگہ سے اوپر دریائے کے دائیں اور بائیں جانب والے علاقے بھی دیر کوہستان میں شامل ہیں۔ شرینگل سے اٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر دیر کوہستان کا پہلا گاؤں پاتراک آتا ہے جس کو مقامی زبان میں راجکوٹ بھی کہتے ہیں جو حدنگاہ خوبصورت اور شاداب ہے۔ یہ ایک قدیم گاؤں ہے۔اس کے بازار میں روزمرہ زندگی کے استعمال کے تمام اشیاء باآسانی دستیاب ہیں۔پاتراک کے شمال میں گوالرئی وادی واقع ہے۔ جس میں کئی دیہات واقع ہیں۔ اس گاؤں میں رامنور، راجنور، بی لوری اور کئی دیگر غیر کوہستانی اقوام اباد ہیں۔پاتراک سے چھ کلومیٹر کے فاصلے پربیاڑ گاؤں واقع ہے۔ اس گاؤں میں چھتربتور ڈھور، بترور، گینورہ، سندروجی اور ملاخیل رہتے ہیں۔بیاڑ سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر بریکوٹ گاؤں ہے۔ بریکوٹ کا گاؤں دریا کے بائیں طرف واقع ہے۔ اس گاؤں میں چار قبائل رہتے ہیں جس میں کچیر خیل، کاٹنی اور آخونزادگان شامل ہیں۔
دریاکے بائیں جانب بریکوٹ گاؤں کے مشرق کی طرف بالا ڈھلوان پر بیرا کافر کے قلعے کے آثار اور باقیات اب بھی موجود ہے جس کا ذکر 1902 میں ”گارڈ فرے“ نے اپنے مقالے میں کیا ہے اور ان کے مطابق یہ قلعہ نو سال پہلے یہاں پر قائم کیا گیا تھا۔بریکوٹ سے 5کلومیٹر کے فاصلے پر ”کلکوٹ“ گاؤں واقع ہے۔ کلکوٹ میں ہائرسکنڈری سکول، فارسٹ رینج آفس،تھانہ، سب ڈیوژنل ایجوکیشن آفس اور ایک علیشان مسجد واقع ہے۔اس وادی سے پانی کا ایک نالہ نکل کر دریا کوہسان میں ضم ہوجاتا ہے۔اس گاؤں میں کھندپور، کھیدپور،وزیرور،آپازور،چوداخیل،بورور اور ملاخیل رہتے ہیں۔اس گاؤں میں گاؤری اور کلکوٹی دونوں زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔
کلکوٹ سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر لاموتی اور سات کلومیٹر کے فاصلے پر کوہستان کا کیپٹل گاؤں” تھل“ موجود ہے۔ دریاکے بائیں طرف لاموتی اور دائیں طرف تھل گاؤں واقع ہے۔لاموتی گاؤں میں بوائزمیڈل،بوائز پرائمری اور گرلز پرائمری سکول موجود ہیں۔ اسی گاؤں میں ایک شاندار مسجد بھی واقع ہے جو جدید و قدیم طرز تعمیر کے امتزاج کا حسین شاہکار ہے۔ اس گاؤں میں آٹھ قبائل رہتے ہیں جن میں کوشالور،صدیکور، جنگرور،دوکنور،ملاخیل،رامچور،منجور،ملیکور،کھوٹور شامل ہیں۔

لاموتی گاؤں کے جنوب مشرق میں چار کلومیٹر کے کے فاصلے پر وادی جندرئی واقع ہے۔ اس وادی کے دندر نامی دیہات میں ایک نجی عجائب گھر واقع ہے جوکہ ایک سماجی کارکن راجا تاج محمد نے قائم کیا ہے۔اس عجائب گھرکے قیام کا بنیادی مقصد مقامی ثقافت کو محفوظ بنانا ہے۔اسی جندرئی وادی کے شمال میں ایک گھنٹے کے پیدل سفر پر جاز بانڈہ واقع ہے۔ جاز بانڈہ علاقے میں انتہائی بلندی پر ایک وسیع، کشادہ اور سرسبز ورنگین چراگاہ ہے جو فطرت یخ بستہ ہواؤں، پھولوں کی بھینی بھینی مہک کی شکل میں انسان کو خوش آمدید کہتا ہے۔جاز بانڈہ کے شمال میں ایک ابی نالے کے ساتھ سپین بانڈہ واقع ہے جہاں سیاحوں کے قیام کیلئے ایک ریسٹ ہاوس تعمیر کیا گیاہے۔
جاز بانڈہ سے مشرق کی طرف آدھے گھنٹے کے پیدل فاصلے پر دلکش اور حسین ”کٹورا جھیل“ واقع ہے۔ یہ جھیل اپنی دلفریب مناظر کی وجہ سے کافی مشہور ہے۔
تھل گاؤں کے شمال میں ایشاء کا مشہور سیاحتی مقام ”کمراٹ“ واقع ہے جوکہ 35 کلومیٹر پر مشتمل ایک کشادہ اور طویل وادی ہے۔
اس وادی کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فارسٹ ڈپارٹمنٹ نے یہاں ایک بہترین اور جدید قسم کا فارسٹ ریسٹ ہاوس قائم کیا ہے جہاں دنیا بھر سے وفود اتے رہتے ہیں۔ اس وادی میں موسم گرما میں جگہ جگہ خیمے ہوٹل بنائیں جاتے ہیں جہاں ٹورسٹ کیلئے قیام و طعام کا بھی بندوبست کیا جاتا ہے۔
دیر کوہستان کے لوگ مجموعی طورپر مہمان نواز،جفاکش اور محنتی ہیں۔یہاں کے لوگ زیادہ تر کاشتکار ہیں اور بعض افراد ملازم پیشہ ہیں۔ جنگلات کی رائلٹی،جڑی بوٹیاں، مشروم اور گلہ بانی یہاں کے مشہور پیشے ہیں۔

