بروشسکی، تنہا اور منفرد زبان: بروشسکی شاعری کا ارتقائی دور

0 5,077
بروشسکی کا شمار گلگت میں بولی جانے والی قدیم ترین زبانوں میں ہوتاہے۔ یہ زبان ہنزہ،نگر اور یاسین میں مختلف لب و لہجے کے ساتھ بولی جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان علاقوں میں بروشسکی زبان بولنے والوں کی تعداد 90000 ہے اس کے علاوہ سری نگر میں بھی 300 بروشسکی بولنے والے بستے ہیں۔ روایات کے مطابق سب سے پہلے اس زبان پر کام 1870کی دہائی میں کپتان بڈلف نے کیاپھر وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ادوار میں مختلف لوگوں نے اس زبان پر کام کیا۔ ان میں لفٹنٹ کرنل لاریمر، جرمن پروفیسر جارج برگر(1962)، علامہ نصیر الدین و دیگر قابل ذکر ہیں۔
جامعہ کراچی کے شعبہ تصنیف و تالیف کے تحقیقی جریدہ کے مطابق جارج مورنسٹننی نے اپنے رپورٹ‘Report on a Linguistic Mission to North West India’(Oslo, 1932) میں لکھا ہے ڈیوڈ ایل آر Lorimer نے بروشسکی پر سب سے پہلے تحقیقی کام کیا تھا۔
جارج مورنسٹننی نے خود بھی بروشسکی زبان کی فونولوجی کو دیگر پڑوسی زبانوں کے ساتھ موازنہ کرایا ہے لیکن اس تنہا اور منفرد زبان پر باقاعدہ تحقیق اور کام 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں ہوا۔ انہی خصوصیات کی وجہ سے جرمن محقق پروفیسر جارج برگر نے بروشسکی کو دنیا کی منفرد اور تنہا زبان قرار دیا ہے۔ انھوں نے 1974 میں بروشسکی گرامر پر ایک کتاب شائع کی جس میں بروشسکی تلفظ اور گلگت۔ہنزا کے تلفظ پر وسیع تحقیق کی گئی ہے. اس کے علاوہ برگر اور علامہ نصیرالدین نصیر نے اپنے نوعیت کی اولین بروشسکی جرمن ڈکشنری بھی ترتیب دی جو 50000 الفاظ پر مشتمل ہے۔
بروشسکی زبان و ادب پر جن مقامی محقیقین نے کام کیا ہے ان میں سب سے پہلا نام علامہ نصیرالدین نصیر صاحب کا ہے۔ انھوں نے رسم الخط اور حروف تہجی پر بنیادی کام کیا تھا۔ علامہ کے کلام کے کئی مجموعے منظرعام آئے اور خوب مقبولیت حاصل کی۔ ان میں بہشت اسقرنگ، دیوان نصیری و دیگر کتب شامل ہیں۔ ہنزائی علامہ سے پہلے بھی ہنزہ میں بولی جانے والی بروشسکی میں نظمیں اور گانے لکھے گئے ہیں لیکن عوام میں اتنی مقبولیت حاصل نہیں کر پائے مگر التت ہنزہ سے تعلق رکھنے والے نمبردار عیسی خان کا ایک گانا ”جئے سرچے داواسابا” آج بھی مقبول ہے۔ جہاں تک نثر کی بات ہے اب تک کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا ہے سوائے قرآن پاک کے ترجمے کا۔۔ بروشسکی میں قرآن کا بروشسکی ترجمہ غلام الیدین ہنزائی صاحب نے کیا ہے۔ انھوں نے شاعری بھی لکھی ہے لیکن عوام میں مقبولیت حاصل نہیں کر سکی ہے۔
ہنزائی بروشسکی ادب میں ایک اور اہم نام شیرباز علی خان کا ہے۔ شاعری کے ساتھ ان کا اہم ترین کام اپنی شاعری کے ذریعے معدوم ہوتی روایتی دھنوں کو محفوظ کرنا ہے۔ انہی کے ہم عصروں میں غلام حسن آبادی صاحب کا نام آتا ہے۔
ہنزہ میں نوجوان شاعروں میں سب سے پہلا نام شاہد اختر قلندر کا ہے۔ سن 2000 کی دہائی میں ان کا شمار پروشسکی کے مقبول ترین شاعروں اور گلوکاروں کی فہرست میں سب سے اوپر نظر آتا تھا۔ اس عہد کے نوجوان شاعروں میں ذوالفقار برچہ، وسیم عباس حیدری اور عرفان و دیگر شامل ہیں۔ ان کا کلام عمدہ اور قابل تعریف ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ان نوجوانوں کا مطالعہ وسیع ہے اور اردو میں بھی لکھتے ہیں۔
بروشسکی زبان و ادب خصوصاً شاعری کا ذکرعلامہ نصیرالدین نصیر کے نام کے بغیر ہمیشہ ادھورا رہتا ہے۔ بروشسکی شاعری بالاخصوص صوفیانہ کلام کا اغاز بھی علامہ نے ہی کیا تھا۔ وہی بروشسکی کے اولین صاحب دیوان شاعر ہیں۔
یہاں میرا مقصد بروشسکی کی تاریخ بیان کرنا نہیں بلکہ یاسین میں بولی جانے والی بروشسکی شاعری کا ارتقاء ہے۔ مشہور محقق اور نقاد ڈاکٹر رام بابو سکیسنہ کے مطابق ’’دنیا کے تمام ادبوں کی ابتدا شاعری سے ہوئی۔ شعر ایک زندہ قوت ہے جس کا وجود نثر سے بہت پیشتر معلوم ہوتا ہے۔ قافیہ بندی اور تک بندی انسان میں ایک فطری چیزہے۔
انسان کوسب سے پہلے جذبات کی حس عطا کی گئی ہے اوریہہ سے وہ اپنے وجود کا اغاز کرتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ شاعری ہر زبان کی وسعت، جدّت، تازگی اور نئے پن سے اس زبان کو نکھارتی ہے۔ یاسین میں بولی جانے والی بروشسکی غزل کی عمر چھوٹی اور معیار بالکل سطحی تھی۔ شاعر حضرات لب و رخسار کے شکنجے میں بری طرح پھنسے ہوئے تھے اور بیشتر اب تک جکڑے ہوئے ہیں۔ برسوں پہلے برصغیر کے ادیبوں اور شعراء کے بارے میں لکھا جانے والا شعر ان کے لیے دہرایا جا سکتا ہے۔ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس
آہ بیچاروں کے اعصاب پر عورت ہے سواراقبال کا یہ شعر اس پورے منظر نامے کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ یہ حال دیگر بہت ساری زبانوں کا بھی ہے اور اس کے کئی وجوہات ہیں۔ اول یہ کہ خصوصاً یاسین میں غز ل گو یا شاعری کو لفنگا،لوفراور ناکام شخص تصور کیاجاتا ہے اور لوگ اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ دوم کچھ زندگی سے بیزار لوگ جو عملی زندگی میں ناکام ہیں، آوارہ گردی کرتے ہیں،ردیف قافیہ ملا کر البم تیار کرتے ہیں اور شاعر بن جاتے ہیں۔ یہاں یہ بھی بتا تا چلوں کہ زیادہ تر لوگ گلو کار کو ہی شاعر سمجھتے ہیں۔
سوم پڑھے لکھے حضرات اس میدان میں آنے سے کتراتے ہیں کہ لو گ انھیں بھی لفنگا، لوفر سمجھیں گے۔ دوسرے الفاظ میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ایک مافیانے قبضہ جمایا ہواہے۔ مگر پچھلے چند برسوں سے خوش قسمتی سے پڑھے لکھے نوجوانوں نے شاعری کے میدان میں قدم رکھنا شروع کیا ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری میں سماجی،سیاسی اور معاشرتی پہلوؤں اور مسائل کو اتنی خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ اسکی مثال بروشکی غزل کے ماضی میں کہیں نظرنہیں آتی۔
ادب کے ناقدین اور محققین کے مطابق غزل کے اشعار مضامین کو اختصار سے بیان کرنے میں مثالِ آپ ہیں اختصار پسندی تیزی سے فروغ پاتاہوا عالمی رویہ ہے۔ یہ بھی واضع ہے کہ ہر تخلیق اپنے سماج کی حدود میں رہ کر اظہارِ خیال کرتی ہے۔ مگر اس سماج کی وسعت کا تعین تخلیق کار کے فہم و ادراک کی وسعت کے بلند و پست اور وسیع و محدود ہونے پر ہے۔ ایک شخص کھڑکی کی جالی کی ڈیزائن پر غور کرتا ہے جبکہ دوسرے شخص اسی کھڑکی سے باہر تاحد نظر پھیلے منظر اور رواں زندگی میں امکانات کے نئے زاویے تلاش کررہا ہوتا ہے گویا تخلیقی اڑان ہر تخلیق کار کی مختلف ہوتی ہے۔
کسی معاشرے میں سماجی اور تہذیبی تبدیلی تخلیقِ اظہار میں تبدیلی سے عبارت ہے۔ فرد کا انفرادی شعو، سماج کے اجتماعی شعور پر اثر اندا ز ہوتا ہے۔ مگر اس تبدیلی کی بنیاد فراہم کرنے کے لیے تخلیق کار کا طاقت ور علمی اور دانش ورانہ پسِ منظر سے ہونے کے ساتھ ساتھ تبدیلی کے عوامل کے ادراک اور اس کے مابعد اثر پذیری کو سمجھنے والی بالغ نظری کا حامل ہونا ضروری ہے۔
خوش قسمتی سے بروشکی شاعری کا منظرنامہ آہستہ آہستہ تبدیل ہوتا جارہا ہے۔  توقع ہےکہ یہ چنگاری بروشکی

بروشسکی شاعر بشارت شفیع مرحوم۔۔ فوٹو مصنف

غزل کے مستقبل کو روشن کرنے میں اہم کردار ادا کریگی۔  گزشتہ چند سالوں میں یاسین میں بولی جانے والی شاعری میں بہت اچھی نظمیں اور غزلیں لکھی گئی ہیں۔ جس کا معیار کسی بھی ادب کی شاعری سے کم نہیں۔ ان نوجوان تخلیق کاروں میں نیت شاہ قلندر، آصف علی اشرف، شیرنادر شاہی، ریاض ساقی، محبوب جان یاسینی، گل نیاب کیسر، عابد علی شاہ، اشفاق، عاصم شکت، عبدلکریم، جمشید فگار، فخر الدین فانی،عمران، مقصود علی، دیدار علی، پیار علی و دیگر شامل ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ تمام شعراء ملک کے نامور درسگاہوں سے فارغ التحصیل ہیں۔ اس کی ایک مثال نوجوان شاعر ریاض ساقی ؔ کی یہ غزل ہے۔ یاد رہے کہ یہ جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل ہیں۔
اُن جی کا ین جا گوغا بخشندہ دوا جاجی
جا اَس یاٹے گو مہرے بلدہ دوا جاجیان دومر گُویا حق چے گُویاس باشا کا اپا
کھو نُشیر گُویا حق یایوم قاعدہ دوا جاجی(تم میری جان بھی لے لو تو قابل معافی ہے کیونکہ میرے کاندھوں پر تمہاری محبت کا بوجھ ہے۔ اس عہد میں اپنا حق چھین کر حاصل کیا جاتا ہے مانگ کر نہیں ملتا)
اُردو ادب کے محقیق کے مطابق غزل میں تفکر، حقیقت پسندی اور اظہار کی ہونا لازمی ہے یہ چیزیں بروشکی غزل میں بھی اب نظر آنے لگی ہیں۔ جیسا کہ بشارت شِفع اپنی شاعری میں انسان کی فطرت کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں۔

غونڈلے جی نِیانے چھیونی میما
گِری دُو تھاریس نیتے چھیو نی میما
سے گا می گیچامان بے اِسقایامان
چھینے فالو نوکووا دا دِیا کا
(فاختے کو مار گرا کر ہم خوش ہوتے ہیں، ہرن کو اس کے چھوٹے بچوں سے جدا کر کے خوشیاں مناتے ہیں۔ حتیٰ کہ چڑیا کی ننھی جان کو بھی نہیں بخشتے۔) اسے وجاہت شاہ نے اپنی گائیگی سے مذید خوبصورت بنایا ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ روایتی اور حسنِ جاناں کی تعریفوں سے ہٹ کر سماجی اور معاشرتی مسائل کو غزل میں جگہ دی جانے لگی ہے جسے بروشکی شاعری کا ارتقاء کہا جاتا ہے۔ اس میں اہم کردار بشارت شفیع کا ہے۔ نوجوان لکھاریوں کو بروشسکی ادب کی طرف راغب کرنے میں بشارت کا پہلا البم یہشنگ اکھیس مشعل راہ ثابت ہوا۔ نوجوان شاعروں میں ایک اور اہم نام آصف علی اشرف کا ہے۔  بروشسکی میں چھوٹی بحر کی غزلیں ناصر کاظمی کی یاد دلاتی ہیں۔ آصف اور شیرنادر شاہی نے نوجوانوں کے لیے راہ ہموار کیا ہے۔ آصف لکھتے ہیں

بروشسکی شاعر اصف علی اشرف۔۔فوٹو مصنف

کُوٹو جا کھن کوٹو جا کھن مائی می واہجم جیمل
گو سینم چھن گو سینم چھن مائی می واہجم جیمل

پیر اے لامن چے کھی راو راو اکومن
نے کا ارکھن نے کا ارکن مائی می واہجم جیمل
(تمہاری بات میں امید اور نیک شگون ہے۔ تم کہو تو میری جھونپڑی بھی محل میں تبدیک ہوجائے گی)

بروشسکی میں مزاحمتی شاعری کا رنگ شیر نادر شاہی کی شاعری میں نمایاں ہے۔ ان کی شاعری میں رومانوی رنگ نظر آتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں
ماتوم تھپ چھیریمی جا جی نی نی گون دوارچی می
البت جا بتھن یاٹا دمنے الچھی والچی می
(یہ گھٹاٹوپ اندھیرا کبھی نہ کبھی ختم ہو ہی جائے گی اور میری دھرتی میں بھی سورج ایک دن نکل آئے گا)
سن 2000 کی دہائی میں یاسین میں ان نوجوانوں کو اپنی مادری زبان کی طرف راغب کرنے میں بنیادی کردار مرحوم بشارت شفیع نے ادا کیا۔ زبان کی احیاء میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ اگر میں ان کو بروشسکی خصوصا یاسین میں بولی جانے والی بروشسکی کا مولوی عبدالحق کہوں تو بے نہ ہوگا۔ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوٗے نوجوان خوبصورت ادب تخلیق کر رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال نوجوان شاعر گل نیاب کے یہ اشعار ہیں۔

اَس دیووسین دال ایتن، جا چِت ایاتین
ہاٗے اکھی ہوبال اَتین، جا چِت ایاتین

جاکا اُن دوفاکوم اپم ہن چھاغا بم می
ٹر وے ہارانگ تال ایتن جا چِت ایاتین

اسی طرح ایک اور نوجوان شاعر عابد علی شاہ کے چند خوبصورت اشعار

الچی گَری دِیا بو اُن چھورومبا
جی ہارانگ جی دِیا بو ان چھورومبا

جا گمان تیس گُوچے یائے جا بتھنے
گوتے ویری دِیا بو اُن چھورومبا

راقم کی ایک غزل کے چند اشعار پیش خدمت ہیں

غیو غاسیچوم کا مہر ہنگ دُوا
چھیوے غاریچوم کا مہرِ ہنگ دوا

ننی موموس نیتے مُیو گندیچی
نُوقر ملچی چوم کا مہرِ ہنگ دوا

بتھن اے بونکی چے تاواہ اے گندی
تاپونگ شولی چوم کا مہر ہنگ دوا

(بچوں کی ہنسی میں مجھے محبت کا دھن سنائی دیتا ہے بالکل ویسا ہی دھن جو پرندون کی چہچہاہٹ میں ہے۔ ایک ماں کا غصے میں بچوں کو ڈانٹنا بھی محبت کا سر ہے۔ دھرتی کی مٹی چھونے کے لیے سبز پتوں کا زمین کی طرف سفر میں بھی محبت کی دھن بجتی سنائی دیتی ہے)
ان نوجوان شاعروں کی تخلیقات کو مدں ظر رکھ کر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ عہد پروشسکی شاعری کا ارتقائی دور ہے۔ جس میں اچھی اور معیاری شاعری لکھی جارہی ہے۔ اسی رفتار سے کام نثر پر بھی کیا جائے تو بروشسکی خطرے سے دوچار زبانوں کی فہرست سے نکل جائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...