The aim of this magazine is to connect the communities of Hindu Kush, Himalaya, Karakorum and Pamir by providing them a common accessible platform for production and dissemination of knowledge.
گوَر اور گورباتی
پاکِستان کے ضلع چترال کے انتہائی جنوب میں واقع گاؤں ارندو (ہرَنُو) اور افغانِستان کے صوبہ کُنڑ میں واقع گاؤں نشاگام(پلاسگور)کے درمیان علاقے کو ماضی قریب میں گبرونگ یا گوَروم (گبروں یا گوَروں کا وطن) اوریہاں کے باشندوں کو گوَر اور ان کی زبان کو گوَرباتی کے نام سے جانا جاتا رہا ہے ۔
یہاں کے آس پاس رہنے والے مختلف اقوام کے لوگ ان کو مختلف ناموں سے پکارتے ہیں ۔گبرونگ یا گوَرُم کے شمال میں واقع نورستانی لوگ ان کو سترہ اور اپنا ہم قوم کہتے ہیں جبکہ یہاں کے پشتون ان لوگوں کو کوہستانی کہتے ہیں ۔ گوَرُم کے آس پاس آباد گوجر ان کے لیے گودیا کا نام استعمال کرتے ہیں ۔ چترال کے کھوار بولنے والے ان کو ارندوئی ، نارساتی اور زبان کو ارندویی وار یا نارساتی وار کہتے ہیں ۔
گوَر لوگ نورستان کے باشندوں کو شیخ ،کلاش کو کاسِیوا ،پشتون کو اوگان ،کھوار زبان والوں کو منگول کہتے

ہیں۔
گوار باتی بولنے والوں کا علاقہ پاکِستان میں ارندو گاؤں سے چار یا پانچ کلومیٹرجانب شمال مشرقی گاؤں لنگربٹ بالا سے شروع ہوکر ارندو گول، اصل گوَری نام ہرَنو گل ، وادی کے آخری حدود تک ہے جو کہ ارندو گاؤں سے شروع ہوکر مشرق کی طرف تیس یا چالیس کلومیٹر اندر جاکر بلند وبالا پہاڑوں اور چراگاہوں اور جنگلات پر مشتمل ہے ۔ اس کے مشرق میں ضلع دیر اور جنوب میں افغانستان سے متصل علاقے ہیں ۔ اس وادی میں بعدمیں گوجر اور مختلف پشتون قبائل نے رہائش اختیار کی ہے ۔
افغانِستان کی طرف دوکلام ، بِرکوٹ ،ناڑی ، ساؤ اور نِشاگام (پلاسگور) گوَر باتی گاؤں ہیں ۔ ان گاؤں میں بعد میں آنے والے پشتون وغیرہ قبائل اور افغانستان کی قومی اور ذریعہ تعلیم کی زبان پشتو سے متاثر ہوکر گوَرباتی کی جگہ پشتو زبان بولی جاتی ہے ۔ نشاگام میں چند گھروں کے علاہ پورے گاؤں والے گوَرباتی بُھلا کر پشتو زبان اختیار کرچُکے ہیں۔ یہی حالت ناڑی گاؤں کی ہوگئی تھی لیکن گذشتہ چند سالوں سے گاؤں کے نوجوانوں اور تعلیم یافتہ لوگوں کی کوششوں سے مردہ زبان نے حیات نو حاصل کی ہے ۔ پاکستان کے گوَروں کی طرح کُنڑ کے گوَر بھی ہموار قطعات اور جنگلات کے اصل مالکان ہیں ۔
اس زبان کو ماہرین لسانیات نے ہند آریائی کے درد گروپ میں شمار کیا ہے۔ 47فی صد شمشتی اور42 فی صد دمیلی سے یکسانیت رکھتی ہے۔
گوَر باتی بولنے والے لوگ ہمیشہ سے بحرانی حالت اور شورشوں کا سامنا کرتے آئے ہیں اور ان کا علاقہ مختلف قوتوں کے درمیان زور آزمائی کا میدان رہنے کی وجہ سے متاثر ہوتا ایا ہے۔ یہ لوگ دو ملکوں میں بٹے رہنے کی وجہ سے اور آذادانہ میل جول نہ رکھنے کی بنا پر بھی ان کی زبان کی طرقی کی رفتار انتہائی سُست ہے ۔ زبان کی طرقی کے لیے دونوں ممالِک کے تعلیم یافتہ لوگوں کی نشستیں ہونا انتہائی ضروری ہے۔
اس زبان میں افغانستان میں چند کتابیں چھپ چُکی ہیں ۔ پاکستان کی طرف ارندو میں ایک فہرست الفاظ اور گوَر قاعدہ چھپ چُکا ہے۔اس زبان کی رسم الخط اور دوسرے مسائل کے حل کے لیے دونوں ملکوں کے اہل علم لوگوں کو مل کر مسائل کا حل نکالنا چاہئے۔

