The aim of this magazine is to connect the communities of Hindu Kush, Himalaya, Karakorum and Pamir by providing them a common accessible platform for production and dissemination of knowledge.
اباسین کوہستان :لوگ اور زبانیں ۔۔ایک مختصر جائزہ
کوہستان، خیبر پختونخوا کا آخری ضلع ہے جسے ن شمالی علاقہ جات یعنی گلگت بلتستان کا دروازہ کہلاتا ہے ۔ اب اسے انتظامی طور پر تین ضلعوں میں تقسیم کردیا ہے۔ لوئر کوہستان،کولئ پالس کوہستان اور ضلع کوہستان کے ناموں سے سرکاری کاغذات کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ اکثر و بیشتر علاقہ پہاڑی ہے لیکن وادیوں کے اندر خوبصورت درے ہیں جن تک سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے رسائی مشکل ہے۔ ایک وسیع رقبہ پردیودار جیسے قیمتی گھنے جنگلات ہیں۔ ہری بھری جڑی بوٹیاں اور چرند پرند ہیں۔ یہاں سے بڑی مقدار میں آخروٹ مارکیٹ تک پہنچتا ہے ۔ آج کل لوگ چلغوزوں سے کافی آمدن حاصل کر کے گزر بسر کرتے ہیں۔ پانی کے بھی وسیع ذخائر ہیں اور آج کل واپڈا اس سے استفادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جوکہ لوگوں کی زندگی پر مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔
یہاں کے لوگ سادہ اور محنت کش ہیں ۔ شلوار قمیص اور مخصوص قسم کی ٹوپی پکول زیب تن کرتے ہیں۔ سادہ خوراک کھاتے ہیں ۔ کھیتی باڑی اور مال مویشی پالنا یہاں کا بڑا ذریعہ آمدن رہا ہے۔اب تعلیم کا رجحان بڑھ رہا ہے اور ملازمتوں کے دروازے بھی کھلنا شروع ہو گئے ہیں۔ لوگ مذہبی رجحان رکھتے ہیں لیکن اپنی روایات اور رسم و رواج کے بڑے پابند ہیں۔ سیاسی طور پہ اپنا جنبہ یا ڈلہ ہوتی ہے جیسے مقامی طور پر اڑی کہا جاتا ہے ۔ شادی بیاہ اپنے قبیلے میں کرنا پسند کرتے ہیں۔ ذات پات کی سماجی برائی کافی حد تک مظبوط ہے۔ لوگ اپنی سے پست ذات پات والوں میں رشتہ کرنا پسند نہیں کرتے تاہم ضرورت کے مطابق پست طبقہ کی لڑکی سے شادی کی جاتی ہے۔ خوشی اور غمی کے مواقع ایک دوسرے کی بھر پور مدد کی جاتی ہے۔
مورخین کا ماننا ہے کہ کوہستانی نسلاً آریائی ہیں اور ایک ہزار سال قبل مسیح آکر اباسین کے آرپار آباد ہوگئے تھے۔ شروع شروع میں شکار ذریعہ معاش تھا لیکں جلد زراعت ذریعہ معاش بنا دیا ۔
کوہستان میں ذات پات کو نمایا ں مقام حاصل ہےیہاں کے قبائل ذات پات کے بندھنوں میں جکڑےہوےہیں۔بڑے خیل کے بعد چھوٹے اور ذیلی خیل ہیں ۔ لیکن اس نظام میں بنیادی تین بڑے گروہ ہیں۔ جیسے اُولسے، استانہ اور قصبی یا غیر اُولسے۔
لسانی طور پر دریا ئے سندھ کوہستان کو دو حصوں میں قدرتی طور پر تقسیم کرتا ہے ۔ مغربی جانب بنکڈ ، دوبیر، جیجال ، پٹن ،کیال ، سیواورکندیا میں کوہستانی زبان، جسے اباسین کوہستانی اور کوستئیں بھی کہتے ہیں، بولی جاتی ہے۔

مشرقی جانب شینا کوہستانی بولی جاتی ہے اس زبان پر رازول کوہستانی جیسے سکالر نے بہت کام کیا ہے آپ ”انڈس کوہستان “ میں لکھتے ہیں کہ شینا آریائی زبانوں کے ہند ایرانی گروہ کی ایک زبان ہے۔یہ زبان نصف ضلع کوہستان کے علاقہ مدخیل، کولئی، پالس، جالکوٹ، سازین اور ہربین میں بولی جاتی ہے۔یہ زبان چونکہ آریائی زبانوں کی شاخ ہے۔ مورخین کا کہنا ہے کہ آریوں کی آمد سے پہلے یہاں پیساچہ نامی ایک قوم آباد تھی۔ پیساچہ اور آریا کی ملاوٹ سے کافی زبانیں پیدا ہوئیں جن میں کوہستانی اور شینا بھی شامل ہیں۔ پروفیسر عثمان علی اس پر یوں روشنی ڈالتے ہیں ” پیساچہ قدیم بولیوں اور دردی بولیوں کی ملاوٹ سے کشمیری، کوہستانی ،شینا، کھوار کافی زبانیں پیدا ہوئیں“
ماہرین نے ان زبانوں کی خصوصیات کی بنیاد پر انہیں دردی زبانوں کا خانداں قرار دیا ہے ۔ اس وطن کا نام ابھی درد یا دردستان نہیں تھا نہ یہاں کے لوگ جانتے تھے کہ انہیں کوئی درد کہتا ہے ٕٕ۔ موصوف آگے چل کر لکھتے ہیں کہ پیساچہ بولنے والے لوگ جو کوہستان ، کشمیر ، داریل، تانگیر، گریز، چترال تک پھیل گئے تھے نے دردی زبانوں کےلئے خام مواد فراہم کیا ۔ کیونکہ پیساچہ زبانیں بعد میں وادی سندھ میں آنے والے لوگوں کےلئے کوئی اجنبی بھی نہ تھیں کیونکہ جب ان کےبھائی افغانستان اور ایران سے ہند آئے تو وہ بھی وہی بولیاں بولتے تھے جو ان کے بھائی بولتے ہوئے وادی سندھ میں آئے تھے ان دونوں بولیوں کا خمیر ایک ہی تھا۔
کوہستان میں ان دو بڑی زبانوں کے علاوہ اور بھی زبانیں بولنے والے موجود ہیں جیسے پشتو،بٹیڑی اور گوجری۔ گباری اورچھلیسو تقریبا معدوم ہوگئیں ہیں۔ گوجری بولنے والے کوہستان میں بکھرے ہوئے ہیں جبکہ بٹیڑی ایک یونین کونسل بٹیڑہ میں بولی جاتی ہے ۔ پشتو بولنے والوں کے بھی کوہستان میں دو تین گاوں

ہیں اور وہ اپنی لہجہ میں پشتو بولتے ہیں۔
کوہستانی زبان کے اپنے بھی کئی لہجے ہیں۔ پٹن اور سیو والوں کا لہجہ دوبیر اور کندیا سے والوں سے
مختلف ہے۔ اسی طرح بنکڈ ، جیجال اور کیال کا لہجہ بھی قدرے مختلف ہے۔
اباسین کوہستان اپنی خوبصورت وادیوں کے ساتھ ساتھ اپنی خوبصورت بولیوں اور لہجوں کی وجہ سے مشہور ہے۔

