دیر کوہستان کا سماجی ادارہ ”داراہ“

0 1,372

داراہ کو ہمارے ہاں وہ مقام حاصل ہے جو پشتونوں کے ہاں  ہجرہ کو یا پھر سندھیوں کے ہاں اوطاق کو حاصل ہے ـ یا پھر یوں کہنا ٹھیک رہےگا کہ ہم ہجرے کو گاؤری زبان، جوکہ  کوہستانی کے نام سے بھی مشہور ہے ، میں داراہ کہتے ہیں۔  پہلے زمانے میں چونکہ ہمارے ہاں گاؤں بھر کے گھر ایک ہی جگہ پر ہوتے تھے تو سب کا ایک مشترکہ دارااہ ہواکرتا تھا ۔ اب چونکہ گھر کسی ایک جگہ کی بجائے پورے علاقے میں جابجا بکھرے ہوئے ہیں تو اب وہ مشترکہ داراہ تو نہیں ہے لیکن ہر محلے یا خاندان کا ایک مشترکہ داراہ اب بھی موجود  ہوتاہے۔  داراہ کو ہم اپنے معاشرے کی پارلمینٹ بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ یہاں ہمارے تمام علاقائی مسائل پر بحث اور ان سے متعلق فیصلے کیے جاتے ہیں ـ۔

جرگہ کسی خاندان یا محلے کے داراہ میں بیٹھ کر افہام و تفہیم سے کسی بھی مسلئے کا حل خوش اسلوبی سے نکالتا ہے۔  ہمارے ہاں چونکہ اب تک شادی ہال یا اس قسم کی دوسری جگہیں نہیں ہیں تو غمی و شادی کی تقریبات اب بھی داراہوں میں منعقد کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ داراہ صحیح معنوں میں کمیونٹی سنٹر ہے۔  ہر رات کو یہاں پر گاؤں یا محلے کے تمام لوگ اکھٹے ہوجاتے ہیں،  ستار کی سریلی دھنوں پر گاؤری گیت سنتے ہیں،  بانسری پر لوک گیت بجائے جاتے ہیں۔  مزے مزے کی گپیں ہانکتے ہیں۔  لوگ ایک دوسرے کو کہانیاں سناتے ہیں۔ ان کہانیوں میں   لوک کہانیاں، مقامی تاریخی کہانیاں، جنگوں کے قصّے، دیومالائی  کہانیاں، پریوں دیوں کی کہانیاں اور شکار کھیلنے کی کہانیاں شامل ہوتی ہیں۔

وادی کمراٹ کا ایک گھر۔۔فوٹو کمراٹ ویلی

ایسے ہی ایک محفل میں محمد جان کاکا نے ریچھ کے ساتھ ہونے والے اپنی مشہور لڑائی کا قصہ سنایا ۔ بقول محمدجان کاکا ، ” موسم گرما کے ایک دن شام کو میرا بیل گھر نہیں آیا ۔ میں نے رات کو ادھر ادھر ڈھونڈا لیکن نہ ملا تو صبح سویرے میں اور مندل گھر سے نکلے اور جندری کے قریب جندری ڈب ( میدان ) پہنچے۔  راستے میں ہمیں کسی نے بتایا تھا کہ آپ کا بیل کل اس ڈب میں دیکھا گیا ہے۔ اس لیے ہمیں امید تھی کہ ہمیں زیادہ گھومنا نہیں پڑیگا اور یہی پہ ہمیں بیل مل جائے گا۔  موسم خوشگوار تھا اور سورج نیلے آسمان پر چمک رہا تھا۔ ڈب پہنچ کر میں نے مندل سے کہا کہ اب ہمیں الگ ہونا چاہیں اور بیل تلاش کرنا چاہیں۔  مندل مجھ سے الگ ہوکر ایک طرف کو جانے لگا اور میں دوسری طرف ۔  تھوڑی دیر چلنے کے بعد مجھے دور کسی جگہ جھاڑیوں میں کسی جانور کی حرکت محسوس ہوئی تو میں تیز تیز قدموں سے اس طرف جانے لگا۔  قریب پہنچنے اور بہت تلاش کرنے کے بعد بھی مجھے کچھ نظر نہیں آیا۔  میں وہی تھک ہار کر بیٹھ گیا اور مندل کو آواز دیکر بلایا ۔  مندل کے آنے تک میں نے آس پاس کی جھاڑیوں میں بیل تلاش کرنے کی بے سود کوشش کی لیکن بیل نے نہ ملنا تھا سو نہیں ملا۔  مندل نے آکر مجھ سے کہا کہ تم سامنے جیلاٹ ( ایک قسم کی جھاڑی جسے گاؤری میں جیلاٹ کہتے ہیں) میں گھس جاؤ  اور میں میدان کے اوپر والے طرف نکل جاتا ہوں امید ہے بیل یہاں ہوگا اور اگر یہاں نہ ملا تو پھر اگے جاکر ندی کے کنارے والے میدان میں ہوگا۔  میں جیلاٹ میں گھس گیا اور بیل کو ڈھونڈنے لگا ۔  تقریباً آدھا گھنٹہ چلنے کے بعد میں نے اپنے پشت کے طرف کسی جانور کی حرکت محسوس کی ۔  میں سمجھا یہ میرا بیل ہے۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک جسیم ریچھ سامنے تھاجو خونخوار نظروں سے مجھے گھور رہاتھا ۔  میں بلکل ساکت رہ گیا اور کلمہ پڑھنے لگا کیونکہ میں جہاں تھا وہاں سے بھاگنے کا کوئی راستہ بھی نہیں تھا۔ دائیں اور پشت کی طرف گھنی جھاڑیاں تھیں جن میں دوڑنا کیا ٹھیک سے چلنا بھی مشکل تھا ۔  سامنے کی طرف اس بلا نے راستہ روکا تھا اور بائیں جانب ایک ڈھلوان تھی۔  ریچھ نے بلا تامل مجھ پہ حملہ کیا۔ میں نے ڈھلوان کے طرف چھلانگ لگائی لیکن ریچھ کے نوکیلے پنجے میرے کمر میں گھس گئے ۔  میں بےبس ہوکر گرگیا۔   ریچھ غصّے سے دھاڑنے لگا ۔ میں نے ریچھ کے ساتھ دوبدو لڑنا شروع کیا اور کلہاڑی سے اس پر وار کرنا شروع کیے کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ مرنا ہے تو کیوں نہ لڑکر مرجاؤں ۔  میں چیخنے لگا اور ریچھ کے پنجوں سے خود کو بچانے لگا ـ چیخنے سے ریچھ اور بھی غصّہ ہوگیا اور زور زور سے دھاڑنے لگا۔ میں نے موقع پاکر ڈھلوان کی طرف دوڑلگادی لیکن ریچھ مجھ سے تیز تھا۔  اس  نے مجھ پردوبارہ  حملہ کیا۔ میں نے کچھ دیر تو کلہاڑی سے اس کا مقابلہ کیا لیکن بلا آخر زخموں سے چور چور ہوکر گرگیا ـ۔ بے ہوش ہونے سے پہلے میں نے ریچھ کے ہانپنے کی آواز سن لی جو میرے قریب کھڑاتھا۔  اس کے بعد مجھے گھر پر ہوش آیا۔  مندل نے میرے چیخنے اور ریچھ کے دھاڑنے کی آواز سن کر میری طرف دوڑ لگائی تھی۔  جب وہ میرے قریب پہنچا تو ریچھ مجھے مردہ سمجھ کر جا چکا تھا۔ پھر اس نے مجھے پیٹھ پر لادکر گھر لایا ۔  میں تقریباً تین مہینے بستر پر پڑا رہا ۔  ہسپتال یا ڈاکٹر وغیرہ تو اس وقت نہیں تھا تو گھر پر ہی طبیب صاحب نے میرا علاج کیا اور تین مہینے بعد میں چلنے کاقابل ہوا ۔“

 محمد جان کاکا کے پورے جسم پر اس لڑائی میں ملنے والے زخموں کے نشان  اب بھی موجود ہیں۔   اگر کوئی ان سے ان زخموں کے بارے میں پوچھے تو وہ پوری کہانی سناتے ہیں  اور کہتےہیں  کہ یہ انکا  دوسراجنم ہے ۔

 اسی طرح نیل اور میل کی کہانی بھی ہم نے ان محفلوں میں کئی بار سنی ہے۔ ایک اور مشہور واقعہ اس چترالی لڑکی کا بھی تھا جو چترال سے پہاڑی راستے کے ذریعے دیر کوہستان آرہی تھی کہ راستے میں برفباری کی وجہ سے اسے پورے پانچ مہینے بغیر خوراک کے ایک کوہستانی بانال یعنی گرمائی چراگاہ میں گزارنے پڑے۔  اس نے راکھ اور درختوں کے پتوں کو بطور خوراک استعمال کیا اور ہمت سے حالات کا مقابلہ کیا۔  پھر موسم بہار کے ابتداء میں وہ کچھ کوہستانی شکاریوں کو مل گئی۔  شروع میں تو شکاری بھی ڈر گئے کہ یہ چڑیل ہوگی  کیونکہ خوراک نہ ملنے اور موسم سرما کی برفباری اور سخت سردی کی وجہ سے وہ انسان کی بجائے کوئی اور ہی مخلوق لگ رہی تھی ۔  لڑکی کے چیخنے اور بولنے سے شکاری سمجھ گئے کہ کوئی لڑکی ہے۔ شکاریوں نے ڈرتے ڈرتے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ کہاں سے آئی ہو؟   اس نے کہا کہ میں آدم زاد ہوں  اور پھر اپنے بارے میں اور اس حادثے کے بارے میں بتایا کہ کس طرح اس نے پورا موسم سرما ایک بیابان جنگل میں ایک ڈیکیر ( گاؤری لوگوں کے گرمائی چراہ گاہ میں موسم گرما گزاارنے والے جھونپڑی نما ایک کمرے والا گھر )  میں گزارا اور کس طرح اس نے راکھ اور پتے کھاکر اپنے آپ کو زندہ رکھنے کی کوشش کی ۔ شکاریوں نے اسے ایک چادر میں لپیٹ کر اور پیٹھ پر لاد کر گاؤں لائے کیونکہ اس کا وزن انتہائی کم ہوگیا تھا اور کسی ننے مننے بچے کی طرح لگ رہی تھی ـ۔ گاؤں میں اس کا علاج کیا گیا اور چترال میں اس کے رشتہ داروں کے بارے میں معلوم کرکے انہیں پیغام پہنچایا کہ آپ کی بیٹی زندہ ہے۔   بعد میں جب وہ چلنے کی قابل ہوئی تو اسے چترال اس کے گھر پہنچایا گیا ۔

 کہا جاتا ہے کہ وہ گھر سے ناراض ہوکر دیر کوہستان کی طرف بلا کسی ارادے کے نکلی تھی۔  موسم صاف تھا تو اسے اندازہ نہیں ہوا کہ برف باری ہوگی۔  اس سال برفباری بھی وقت سے پہلے شروع ہوئی تھی ۔  اس کے گھر والے اسے مردہ سمجھ کر خیرات صدقات بھی کرچکے تھے۔ لیکن جب انہیں بتایا گیا کہ وہ زندہ ہے اور کس طرح اس نے ایک جنگل میں اکیلے تنہا پورا موسم سرما گزارا تو کسی نے یقین نہیں کیا۔ جب اس کے گھر والے دیر آکر اس سے ملے تو تب ان لوگوں نے یقین کیا کہ یہ سچ ہے ۔

 ان داراہوں میں صرف قصے کہانیاں ہی نہیں سنائی جاتیں  بلکہ مستقبل کے لئے منصوبے بھی بنائے جاتے ہیں اور حالات حاضرہ پر تبادلہ خیالات بھی کیا جاتا ہے۔ اب  کچھ لوگ لڈو کھیلتے ہیں تو کچھ لوگ تاش بھی کھیلتے ہیں۔ آخروٹ کے ساتھ چائے کا دور بھی چلتا ہے۔  موسم سرما میں یہاں انگیٹھیوں میں جسے ہم بیلر کہتے ہیں آگ جلائی جاتی ہے۔  ان انگیٹھیوں کے اردگرد بیٹھ کر لوگ آگ تاپتے ہیں اور رات گئے تک یہ محفلیں جاری رہتی ہیں۔ شادی بیاہ یا پھر کسی اور خوشی کے موقع پر ستار کے مجالس منعقد ہوتے ہیں ۔  مجلس اس روایتی رقص کو کہتے ہے جو پاکستان اور افغانستان کے داردی قبائل میں صدیوں سے  زندہ چلا ارہا   ہے۔  ان مجالس میں سرود یعنی ستار کے دُھن کے ساتھ ڈھول کےتاپ پر ایک شخص مخصوص  گاؤری  رقص کر تا ہے  جس کے مختلف انداز یہاں صدیوں سے رائج ہیں  جو خوشی کے اظہار سے بھرپور ہوتے ہیں اور جنھیں دیکھنا ایک پرمسرت تجربہ ہوتا ہے۔  یہ آج کا نہیں صدیوں پرانا لوک رقص ہے جس کی مقبولیت میں آج تک کوئی کمی نہیں آسکی۔ ہمارے ہاں چونکہ موسیقی سے  وابستہ پیشہ ور لوگ نہیں ہوتے اور نہ کوئی مخصوص شخص ستار یا ڈھول بجاتا ہے تو ہر خاص و عام فرد جسے ستار یا ڈھول بجانا اتا ہوں وہ بلا تفریق اس میں حصہ لیتا ہے۔  اسی طرح رقص کے لیے  بھی کوئی خاص بندہ مقرر نہیں ہوتا بلکہ جسے اس محفل میں چنا جاتا ہے  یا پھر جس کی مرضی ہو وہ رقص کرسکتا ہے۔ ان مجالس میں بوڑھوں بچوں سمیت ہر خاص و عام مرد اگر وہ چاہئے تو شریک ہوسکتا ہے ۔  یہاں کے قبائلی معاشرے میں اس رقص کو کافی اہمیت دی جاتی ہے اور اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا کیونکہ یہ ہمارا ثقافتی ورثہ ہے ۔

 داراہ میں جب کوئی مہمان آجائے تو اس کی مہمان نوازی اہل محلہ پر فرض ہوجاتی ہے چاہئے وہ ان میں سے کسی کا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔

 یہ داراہ ایک طرح کا درسگاہ بھی ہے کیونکہ یہاں نئی نسل زندگی گزارنے کے طریقے سیکھتی ہے۔نئی نسل اس داراہ میں شرکت کرکے مقامی سماجی قدروںاور رسوم سے اگاہ ہوجاتی ہے۔   ـ

اب داراہ میں نئی چیزیں بھی در ائی ہیں جن میں موبائل سب سے عام ہے۔ اسی طرح ان داراہوں میں اب ملکی سیاست پر بھی طبع ازمائی کی جاتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...