دیامر: نامعلوم کا غلبہ

حالیہ دنوں میں دیامر میں مسافر بس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا اور کئی لوگوں کو مارڈالا اور کئیوں کو زخمی کیا۔ یہ مضمون اس تناظر میں لکھا گیا ہے۔

0 41

دیامر: نامعلوم کا غلبہ

دیامر میں طلبا کا حال ہی میں شاہراہ قراقرم پر چلاس میں ہڈور کے قریب ہونے والی دہشت گردی کے خلاف یکجا ہوکر قتل و غارت گری کے خلاف آواز اٹھانا گلگت بلتستان کے اس غمزدہ اور خون آشام ماحول میں امید کی ایک کرن پیدا کرتی ہے۔ اگر اس کو باقاعدہ منظم کیا جاۓ تو یہ ایک نئے فکر اور سماجی تبدیلی کی داغ بیل ڈال سکتی ہے۔ دیامر میں ایک خاص مقصد کے تحت مزاحمت کی سیاست ختم کرکے مفاداتی سیاست کی روش ڈالی گئی ہے۔ اس لیے ہمیں جدید دور میں دیامر میں کوئی مزاحمتی تحریک نظر نہیں آتی ہے۔ اگر ہے تو دوست احبات میری اس لاعلمی کو دور کرسکتے ہیں۔

دیامر جس طرح کی صورتحال سے گزر رہا ہے اس کے لیے ہر معاملے کو ایک نئے نقطہ نظر سے دیکھنے اور سوچنے کی ضرورت ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب موجودہ نظام، ثقافت اور سیاست پر نقد ہو۔ اس لیے دو سطحوں پر نقد کا آغاز کرنا لازمی ہے۔ ایک ریاست کے موجودہ انتظام و انصرام کے خلاف اور دوسری اپنے معاشرے اور ثقافت میں موجود ان عناصر کے خلاف جو تبدیلی کی مزاحمت کرتے ہیں۔ اس طرح ہمیں ان خارجی و داخلی عناصر سے نجات پانے مدد ملے گی جنھوں نے معاشرے اور ذہن کو اہنے شکنجے میں رکھا ہے۔ جسمانی غلامی سے ذہنی غلامی بدتر ہوتی ہے۔ ان خارجی اور داخلی عناصر کی تنقید سے ایک نئے معاشرے اور سوچ کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے اور ذہنی غلامی سے نجات پایا جاسکتا ہے۔ ورنہ ہم اس ظالم نظام اور ثقافتی روایات کے منحوس چکر میں پھنس کر وہی چیزیں دہراتے رہینگے جو ہم پچھلی صدی سے کرتے آۓ ہیں۔

جس دو رخی تنقید کی یہاں بات ہورہی ہے اس کا بنیادی خیال فرانز فینن نے اپنی کتابوں “افتاگان خاک” اور “سیاہ جلد اور سفید نقاب” میں بیان کیا ہے۔ فینن الجیریا کی فرانس کی کالونیل نظام کے خلاف مسلح جدوجہد کے تناظر میں لکھ رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوآبادیاتی کالونی میں ایک ایسا طبقہ ہوتا ہے جو اپنے مفادات کالونیل طاقت کے ساتھ جوڈ تا ہے۔ یہ طبقہ آزادی، تبدیلی اور مقامی اختیار کے خلاف ہوتا ہے۔ یہ عموما تعلیم یافتہ، امیر، معاشرتی اثرورسوخ کا حامل اور مراعات یافتہ طبقہ ہوتا ہے۔ اس طبقے کو فرانز فینن “کومپراڈو comprador” کلاس یا طبقے کا نام دیتا ہے۔ فین الجزائر میں صرف کولونیل نظام اور غلام معاشرے اور سیاست پر تنقید پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر جدوجہد کی تجویز دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ استعماری کالونی میں صرف استعماری طاقت سے نجات پانے آدھی آزادی حاصل ہوگی۔ پوری آزادی اس وقت حاصل ہوگی، جب مزاحمتی تحریک مقامی کمپوروڈور طبقے کا قلع قمع کردیگی۔ اب وقت آگیا ہے کہ گلگت بلتستان بالعموم اور دیامر میں بالخصوص استعصالی نظام اور مقامی کمپوروڈور طبقے کے خلاف نقد اور جدوجہد کی جاۓ۔

اب بعض لوگ روایات کا راگ الاپیں گے۔ لیکن یہ ایک عذر لنگ ہے کیونکہ روایات ایک خاص تاریخی تناظر میں خاص ضروریات کے تحت معرض وجود آئیں تھیں۔ آج روایات کو کلی طور پر اپنایا نہیں جاسکتا ہے۔ بلکہ ان کی رد اور رد تشکیل کرکے ایک نئے مقامی نظام حکومت کی طرف بڑھا جاسکتا ہے۔دیامر کی ایک مضبوط دانش وارانہ تاریخ رہی ہے۔ اب دیامر کے دانشور رہمنائی کرسکتے ہیں کہ کون سی روایات ایک عضو معصل کی طرح ان کے ساتھ جڑے ہوۓ ہیں اور کن کو ایک مقامی نظام میں تبدیلی کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے۔

یقینا مقامی روایات کو توڑنا آسان نہیں مگر نامکن بھی نہیں۔ ہم روایات کے خلاف جدوجہد کی مثالیں اپنے ہی تاریخی تناظر سے اٹھا کر دیکھتے ہیں۔ دیامر میں تاریخی طور پر قبائلی نظام رہا ہے، اور مختلف علاقوں کا انتظام و انصرم قبائلی کونسل کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ اس نظام میں سب قبائل کو یکساں مقام حاصل تھا۔ چونکہ اس میں لوگوں کے اوپر سواۓ جسٹیرو کے کوئی حکمران نہیں ہوتا تھا اسی لیے داریل، تانگیر اور کوہستان کو مساوات پر مبنی اور ریپبلکن یا بغیر سر کے (acephalous) ریاستیں یا معاشرے کہا جاتا تھا۔ دیامر کے برخلاف گلگت بلتستان اور چترال کے مختلف علاقوں میں راجگی کا نظام رہا ہے جس میں ریاست کاسربراہ یا ہیڈ میر، مہتر یا راجہ ہوتا تھا۔ یہ راجگی نظام صدیوں سے قائم تھا۔ اس نظام نے معیشیت اور معاشرے کے انتظام و انصرام کو چلانے میں مدد کی۔ مگر بیسویں صدی میں جدیدیت اور اس کے نظام، معیشیت اور خیالات کے آتے ہی اس نظام کو سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ چونکہ راجوں کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، اس لیے ان کے رویے اور عوام کے ساتھ سلوک مزید سخت ہوگۓ۔ اسی سختی کی وجہ سے جدیدیت کو مسترد کیا گیا۔ جدیدیت کے لیے راہ راجوں نے نہیں بلکہ مزاحمتی تحریکوں نے راہ ہموار کی۔ اس کی واضع مثالیں نگر، ہنزہ اور پنیال میں ملتی ہے۔ پنیال میں ۱۹۵۰ کے عشرے میں مقامی راجگی نظام کے خلاف جدوجہد اور مظاہروں میں آدھے درجن سے اوپر لوگ مارے گئے۔ نگر میں ۱۹۷۰ میں چھلت میں راجے کے خلاف مظاہرے میں ۹ افراد کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ اسی طرح 1960 کی دہائی میں ہنزہ نگر لبریشن موومنٹ نے میر آف ہنزہ اور نگر کے خلاف زبردست تحریک چلائی اور اس کے رہمناوں نے قید و بند اور ٹارچر کی صعوبتیں برداشت کیں۔ یہ روایات کے خلاف بغاوت کی ایک مثال ہے۔ راجگی نظام کے ساتھ یہ بغاوتیں اس لیے ہوئیں کہ یہ نظام ایک زمان کے اندر جمود کا شکار ہوگیا تھا اور ہر تبدیلی کے خلاف اور عوام کی خوشحالی میں رکاوٹ بن گیا تھا۔ ہنزہ میں میر نظیم خان سکول کھولنے کا سخت مخالف تھا۔ ہنزہ کا عام آدمی تو دور کی بات، وزیر کے بیٹے کو بھی نظیم خان نے پڑھنے کی اجازت نہیں دی۔ ٹائی صرف شاہی خاندان کا بندہ ہی پہن سکتا تھا۔ یہی صورتحال نگر اور پنیال میں تھی۔ اس جبر اور علم دشمن نظام سے نجات جدوجہد کرکے ہی ملی۔ موجودہ دور میں گلگت بلتسان میں سیاسی حقوق کے حوالے سے سیاسی تحریکیں باباجان اور نواز ناجی کی شکل میں موجود ہیں، مگر دیامر میں ایسی مزاحمت لیڈر نظر نہیں آتے۔

ہمارے دیامر کے دوست گلہ کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے دوسرے علاقوں کے لوگ دیامر کو بدنام کرتے ہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ دیامر وہ علاقہ ہے جس کی خونیں جڑیں شمشال سے لیکر کر چترال، سوات اور کشمیر تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخی طور پر دیامر کے لوگ دروں بین تھے اور مواقعوں کی تلاش میں رہتے تھے۔ وہ کبھی اپنے خول میں نہیں رہتے تھے۔ داریل اور چلاس کو گلگت بلتستان کی تہذیب کی ماں ایسے ہی نہیں کہا جاتا ہے۔ بیسویں صدی میں ہنزہ کا میر تعلیم کی مخالفت کررہا تھا۔ اس کے برخلاف داریل میں دو ہزار سال پہلے بدھ مت کی یونیورسٹی تھی۔ دیامر والوں کو تارخی طور پر سب سے موبائل لوگ کہا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے دیامر کے لوگوں کے گکگت بلتستان کے دوسرے علاقوں کے لوگوں کے ساتھ سب سے زیادہ خونی رشتے ہیں۔ خود میرے آبا واجداد داریل سے ہجرت کرکے ہنزہ میں آباد ہوۓ تھے۔ یہ رشتے دیامر کو دوسرے علاقوں کو جوڈنے کا ایک ذریعے فراہم کرتی ہے۔ یوں دیامر گلگت بلتستان میں جڑت کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ چیز دوسرے علاقوں میں نہیں ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر کیا ہوا کہ اس طرح کے باہر کی طرف دیکھنے والے لوگ اندرون بین ہوگۓ اور باہر کی دنیا سے منہ موڈ لیا؟ کیا وجہ ہے داریل بدھ مت یونیورسٹی کے وارث سکولوں کو جلا رہے ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ جن کا خون گلگت بلتستان کے ہر علاقے کے لوگوں کے رگوں میں دوڑتا ہے، وہ اہنے ہی بھائیوں کے خون کے پیاسے ہوگئے؟ کیا وجہ ہے کہ خونی رشتے خونخوار تعلق میں تبدیل ہوگئے؟ ان سوالوں کا جوابات دیامر کے دانشور ہی دے سکتے ہے۔ کچھ لوگ عذر پیش کرینگے کہ خون کا کھیل خارجی عناصر کھیلتے ہیں۔ گو کہ اس میں حقیقت ہے مگر چوک چوراہوں میں جو لوگ ہزاروں کا مجمع جمع کرکے قراقرم ہائی وے پر قتل کی دھمکی دیتے ہیں، اور ان کی دھمکیوں پر لبیک کہنے والے تو ہمارے اپنے ہی گھروں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب ہنزہ، نگر اور پنیال میں لوگ اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کررہے تھے تو ان کو پتہ تھا کہ وہ کس کے خلاف جدوجہد کررہے تھے۔ وہ راجے اور ان کے حواری تھے۔ جدوجہد کسی کے خلاف ہوتی ہے۔ ہم دشمن پہچانے بغیر کیسے جدوجہد کرسکتے ہیں؟ دیامر میں پتہ ہی نہیں ے کس کے خلاف ہم بات اور جدوجہد کررہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ اندرونی و بیرونی عناصر کا باقاعدہ شناخت کرکے ان کا نام دیا جانا چاہیۓ۔ ہم اندرونی و بیرونی بلاوں سے تب نجات حاصل کرسکتے ہیں جب ہم ان کو پہچان لیں۔ ورنہ ہم نامعلوم دشمن کی تلاش میں رہینگے، اور نامعلوم افراد خون کی ہولی کھلتے رہینگے اور یوں

ہم یہ صدی بھی جھوٹی کہانیوں کے سہارے نامعلوم دشمنوں کی غلامی میں گزارینگے۔

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...