سوات کوہستان میں تعلیمی صورت حال۔۔ حوّا کی بیٹیاں زیور تعلیم سے محروم

0 1,308

یہ رپورٹ تین مہینوں دسمبر2014ء، مارچ اور اپریل 2015 ء میں کی گئی سروے پر مبنی ہے جسے

 ادارہ برائے تعلیم و ترقی کے چھ سوشل ارگنائزرز نے کی تھی۔ یہ سروے ہر سکول اور گاؤں میں جاکر کی گئی۔ سروے میں چھ مختلفquestionnaires   استعمال کیے گئے جن کے ذریعے ان سوشل ارگنائزرز نے گا‌‌ؤں، گاؤں اور ہر سکول جاکر کر معلومات اکھٹے کیے۔

یہ رپورٹ اُن معلومات کا تجزیہ ہے جو آپکی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے تاکہ ہم اپنے علاقے کے مسائل خصوصاً تعلیمی مسائل سے آگاہ ہوں اور ان کے حل کے لئے اپنی کوششوں کو تیز کریں۔  اس رپورٹ کا مقصد عوام کے ساتھ ساتھ ریاست اور حکومت کو بھی بیدار کرنا ہے تاکہ وہ اس پسماندہ علاقے کی ترقی پر توجہ دے۔ اب چونکہ انتخابی مہم جاری ہے اس لئے اس رپورٹ کی اہمیت مزید بڑھا جاتی ہے تاکہ اس کے ذریعے یہاں سے الیکشن امیدوار اور سیاسی پارٹیوں اس صورت حال کا نوٹس لیں اور ساتھ ساتھ عوام بھی اس تعلیمی زبوں حالی کو اپنے ووٹ کے ذریعے تبدیل کرنے کا ارادہ کریں۔

”اقراء۔ سوات کوہستان تعلیمی مہم“

     IQRA(Improving Quality, Retention and Access) Swat-Kohistan Education Campaign

 اقراء۔ سوات  کوہستان تعلیمی مہم علاقے میں متّحرک سماجی تنظیم ادارہ برائے تعلیم و ترقی ”IBT“   نےترتیب دیاہے اور پاکستان میں قومی سطح پر تعلیم کی بہتری کے لئے سرگرم مہم ”الف اعلان“ کے تعاون سے سوات کوہستان میں تعلیم کی ابتر صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے شروع کیا ہے۔ یہ مہم فی الوقت چھ یونین کونسلز میں جاری ہے کیونکہ یہ یونین کونسلز  سوات کے پسماندہ ترین علاقوں میں شامل ہیں۔ اس مہم کے تحت ادارہ والدین، اساتذہ، نوجوانوں، سول سوسائٹی، محکمہ تعلیم اور حکومت سے مل کر علاقے میں ہر سطح کی تعلیمی صورت حال میں بہتری لانے کی کوشش ہے۔ ادارہ برائے تعلیم و ترقی نے روایتی سماجی  ادارے جرگہ ” یرک“  کو منّظم کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ یہ قدیم سماجی ادارہ  علاقے کی مجموعی تعلیمی  اور مربوط ترقی کے لئے اپنی کوششوں کو بروئے کار لائے۔ اس کے ساتھ ساتھ سکول کی سطح پر والدین اور اساتذہ کی تنظیموںParents Teachers Councils کو بھی متحرک اور منظم کیا جاتاہے تاکہ وہ اپنی بنیادی ذمہ داریوں کا ادراک کر سکے۔ اس سلسلے میں اب تک  35 سے ذیادہ چھوٹے بڑے جرگے اور پیرنٹس ٹیچرز کونسلز کی تربیت ہوچکی ہیں۔

زیر نظر رپورٹ بھی اس مہم کا حصّہ ہے۔

سوات کوہستا ن/ وادی بحرین، کالام اور مدین

وادئ سوات کے خوبصورت ترین علاقوں بحرین، کالام اور مدین کی وادیوں کو سوات کوہستان کہا جاتا ہے۔ اس علاقے کو کوہستان کا نام ریاست سوات کے پہلے حکمران میاں گل عبدلودود المعروف بادشاہ صاحب نے دیا تھا۔ ان سے پہلے کی دستاویزات میں بھی اس علاقے کو سوات کوہستان کہا گیا ہے ۔ پشتو زبان کے مشہور شاعر اور سیاسی رہنما خوشحال خان خٹک نے بھی  اپنی کتاب ”سوات نامہ “ میں  سوات کوہستان  کا ذکر کیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اس علاقے کی پہاڑی حیثیت اور  الگ لسانی و کلتوری شناخت ہے۔پورے  سوات کوہستان کو چند قدیم کتابوں میں   ”توروال“ کہا گیا ہے۔ چند ایک میں پیا خوڑ تا کالام سرحد تک کے علاقے کو ”توروال“ کہا گیا ہے جبکہ کالام کے علاقے کو ”بشکارک“ کے نام سے موسم کیا گیا ہے۔

سوات کوہستان عموماًمدین سے مشرق اور شمال کی طرف وادیوں کو کہا جاتا ہے تاہم بعض روایات کے مطابق یہ پیا  خوڑسے  شروع ہوتا ہے اور چترال، غذر، دیر بالا اور آباسین کوہستان تک پھیلا ہوا ہے۔ لسانی طور پر سوات کوہستان بہت متنوع ہے۔ یہاں سوات کی قدیم ترین قومیتیں توروالی اور گاؤری کے علاوہ  گجر، پشتون، قشقاری ”کھوار“  اوراوشوجو بھی آباد ہیں۔ توورالی اور گاؤری قومیتوں کو اکثر کوہستانی کہا جاتا ہے جبکہ ایک دوسرے کو یہ لوگ ”توروال“ اور ”گؤ و“ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔  اگر سوات کوہستان کو پیا  خوڑتک مانا جائے تو یہاں کی آبادی ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ بنتی ہے۔ اگر اسے مدین سے اوپر کے علاقےبشمول وادئی اُلال ” چیل، بشیگرام اور شنکو“   کو  گردانا جائے تو اس کی آبادی ڈھائی لاکھ سے زیادہ بنتی ہے۔

کالام اور اتروڑ کے علاوہ سوات کوہستان کے دیگر علاقوں کو 1922 ء  تک ریاست سوات میں  شامل کیا گیا۔ کالام اور اتروڑ کے علاقے 1947 ء تک آزاد رہے کیونکہ ان پر دیر کے نواب اور چترال کے مہتر کا بھی دعویٰ تھا۔ پہلے یہ پورا علاقہ دو تحصیلوں پر مشتمل تھا ۔

اب نئے انتظامی طریقہ کار کے تحت یہ پورا علاقہ ایک سب ڈویژن پر مشتمل ہیں جس میں آٹھ یونین کونسلز بنادیے گئے ہیں۔ سب ڈویژن یا تحصیل کا ہیڈکوارٹر بحرین ہے۔

خیبر پختونخوا میں مئی 2015 ء کے مقامی حکومتوں کے انتخابات کے نتیجے میں پورے سوات ضلع میں 7 تحصیل بنادی گئی ہیں ان میں بحرین تحصیل رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑی ہے۔ ان انتخابات  کےنتیجے میں بحرین تحصیل کی اپنی میونسپل ایڈمنسٹریشنTehsil Municipal Administration   اور تحصیل کونسل ہوگی جس کے کل 13 ارکان ہونگے۔ پورے آٹھ یونین کونسلز میں حالیہ مقامی حکومتوں کے انتخابات میں  مجموعی طور تقریبًا 230 نمائندے منتخب ہوچکے ہیں۔

سوات کوہستان قدرتی حسن سے مالامال ہے۔ یہ پوری وادی سات خوبصورت ذیلی وادیوں اُلال ” چیل وادی“، درال، گورنال ” گورنئی“ ،  کمل” کیدام“ ، مینِکھال ” مانکیال“ ، اتروڑ اور اُوشو پرمشتمل ہے۔ اسی علاقے میں پاکستان کی چند مشہور جھیلیں  مہوڈنڈ، کنڈول، سیدگے، بشیگرام، شیطان گُوٹ اور درال ڈھان واقع ہیں۔

اس علاقے میں گرمیوں میں ملک کے ہر حصّے سے بڑی تعداد میں سیّاح آتے ہیں اور یہاں کی آمدن کا اہم ذریعہ بنتے ہیں۔تاہم پورے علاقے میں معیشت کا سب سے اہم ذریعہ اب بھی کھیتی باڑی ہے ۔ البتہ زمینیں کم ہونے کی وجہ سے یہ آمدن ناکافی ہوتی ہے اور ایک کثیر تعداد میں لوگ کمائی کی خاطر شہروں کا رُخ کرتے ہیں۔

رپورٹ کا خلاصہ

 اس رپورٹ کی چیدہ چیدہ باتیں

  1. پورے علاقے میں موجود سکولوں میں طالبات کے لئے سکولوں کی تعداد بہت کم ہے۔
  2. پورے چھ یونین کونسلوں میں طالبات کے لئے صرف ایک ہائی سکول یونین کونسل بحرین میں ہے۔ اسی طرح طالبات کے لئے ان چھ یونین کونسلوں میں صرف تین مڈل سکول ہیں اور ان میں بھی ایک پوری طرح غیر فعال ہے۔
  3. بحرین اور کالام کے بیچ تقریبًا نوّے ہزار آبادی میں طالبات کے لئے کوئی مڈل سکول نہیں ہے اسی طرح یونین کونسل بشیگرام بھی کسی ایسے سکول سے ابھی تک محروم ہے۔
  4. موجود پرائمری سکولوں میں داخل شدّہ طلباء و طالبات میں صرف 29 فیصد طالبات ہیں۔ جبکہ آبادی کے لحاظ سے اس علاقے میں ہر 100 بچّوں کے مقابلے میں 96 بچیّاں ہیں۔ صرف یونین کونسل بحرین اور یونین کونسل کالام میں تمام سکولوں میں طالبات کی یہ تعداد قدرے بہتر ہے۔
  5. مڈل اور ہائی کلاسز میں صرف بحرین یونین کونسل میں طالبات کی یہ تعداد قدرے بہتر ہے اور اس کا سہرا یہاں موجود نجی سکولوں اور واحد ہائی سکول کے سر ہے ورنہ یہاں بھی لڑکیوں کے لئے سرکاری سکولز بہت کم ہیں۔ دیگر یونین کونسلز میں پانچویں جماعت سے آگے یہ تعداد 7 فیصد کے لگ بھگ ہے۔
  6. یونین کونسلز بالاکوٹ، بشیگرام، مانکیال اور اتروڑ میں کوئی بھی لڑکی اعلٰی تعلیم حاصل نہیں کرسکتی کیونکہ یہاں کوئی سرکاری یا نجی تعلیمی ادارہ موجود نہیں۔
  7. جماعت پنجم تک پہنچتے پہنچتے تقریبًا سو ”100“  میں سے 90 طالبات اور 47 طلباء سکول چھوڑ جاتے ہیں۔
  8. یونین کونسل بحرین کے علاوہ دیگر پانچوں یونین کونسلز میں تقریبًا 100 فیصدلڑکیاں پانچویں جماعت سے آگے نہیں جاسکتیں۔
  9. یونین کونسلز اتروڑ، کالام اوربالاکوٹ کے گاؤں لائیکوٹ اور پشمال میں مئی تک سکولوں میں طلباء و طالبات کی حاضری نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے جس کی بڑی وجہ ان علاقوں سے موسمی ہجرت ہے جو یہاں کے لوگ ہر سال سردیوں میں کرتے ہیں۔
  10. پرائمری سکولوں کے مرد اساتذہ میں غیر حاضر رہنے کا رجحان ذیادہ ہے جو کہ 25 فیصد بنتی ہے۔ خواتین پرائمری اساتذہ میں یہ رجحان 20 فیصد ہے لیکن یونین کونسل بحرین میں یہ شرح 40  فیصد ہے جو کہ حیران کن بھی ہے۔
  11. علاقے میں مڈل اور ہائی سکولوں میں غیر مقامی اساتذہ کی تعداد 69 فیصد ہے ۔
  12. حیران کن طور پر یونین کونسل بحرین میں پرائمری سکولوں میں تعینات خواتین اساتذہ میں غیر مقامی اساتذہ کی شرح 60 فیصد ہے۔
  13. علاقے میں خواتین اساتذہ کی تعداد بہت کم ہے اور تقر یبًا لڑکیوں کے سارے پرائمری سکول ” ون ٹیچر“ سکولز ہیں۔ اوسطاً 84 طالبات کے لئے ایک استانی ہے۔ یونین کونسل بالاکوٹ، اتروڑ اور کالام میں یہ تناسب ایک استانی کے مقابلے میں بچّیوں کی تعداد باالترتیب 125 ، 108 اور 102 ہے۔
  14. علاقے میں خالی آسامیاں ابھی تک پُر نہیں کی گئیں۔ پرائمری سکولز کے مرد اساتذہ میں 35 فیصد، پرائمری سکولز کے خواتین اساتذہ کی 45 فیصد جبکہ مڈل و ہائی سکولز کے اساتذہ کی 34 فیصد آسامیاں خالی پڑی ہیں۔
  15. علاقے میں لڑکیوں کے کل 55 پرائمری سکولوں میں سے 16 غیر فعال جبکہ 1 بغیر چھت کے اور 1 تباہ شدّہ ہے۔  اسی طرح پرائمری سکولز برائے طلباء میں 7 غیر فعال، 7 بغیر چھت کے اور2 تباہ شدّہ ہیں۔
  16. کئی سکولز کئی دہائیوں سے بغیر چھت کےہیں اور ابھی تک ان سکولوں کے لیے عمارت کا انتظام نہیں کیاگیا۔ اسی طرح سیلاب سے تباہ شدّہ یا متاثر ہ سکولوں کی بحالی بہت سست روی کی شکار ہے۔
  17. اتروڑ میں ہائیر سیکنڈری سکول کو حکومت ابھی تک فعال نہ بنا سکی۔ اسی طرح حکومتیں ہائی سکول بحرین کے علاوہ علاقے میں موجود دیگر چھ ہائی سکولوں میں سٹاف کی مکمل تعیناتی نہیں کرسکیں۔ ہائی سکول بحرین کو وعدوں کے باوجود ابھی تک ہائیر سیکنڈری سکول کا درجہ نہیں دیا گیا۔
  18. سوات کوہستان کے 82% فیصد لوگ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو پرائمری سکولوں میں بھیجنا چاہتے ہیں۔ صرف 05 فیصد لوگ لڑکیوں کی پرائمری تعلیم کو اپنے روایات یا عقیدے کےخلاف سمجھتے ہیں۔
  19. اسی طرح 83 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ لڑکیوں کو ثانوی سکولوں میں بھیجنا چاہئے جبکہ صرف 09 فیصد اس کو فحاشی یا روایات کے خلاف سمجھتے ہیں۔
  20. سروے کے دوران اکثر لوگوں نے شکوہ کیا کہ وہ لڑکیوں کو سکولوں میں بھیجنا چاہتے ہیں لیکن ان کے لئے سکول موجود نہیں ہیں۔
  21. طلباء کے لئے بیشتر پرائمری سکولوں میں ایک اُستاد تعینات ہے۔ اسی طرح  طالبات کے لئےتقریباً سارے سکولوں  میں ایک ہی اُستانی تعینات ہے۔
  22. خواتین اساتذہ نے کہا کہ ان کے لئے دور دراز سکولوں میں ڈیوٹی کے لئےجانا انتہائی مشکل ہے کیونکہ علاقہ پہاڑی ہے اور مناسب ٹرانسپورٹ موجود نہیں۔
  23. پرائمری سکولوں کی عمارتیں کسی صورت بھی مناسب نہیں۔ چند ایک شہری علاقے کے پرائمری سکولوں کے علاوہ باقی سارے سکولوں میں چھ کلاسز کے لیے صرف دو کمرے موجود ہیں۔ ۔
  24. اکثر پرائمری سکولوں میں چاردیواری موجود نہیں ۔ اس کی وجہ سے بھی بہت سارے والدین اپنی بیٹیوں کو سکولز نہیں بھیجنا چاہتے۔
  25. پیرنٹس ٹیچرز کونسلز کے اکثر سربراہان chairmen کو پتہ نہیں کہ سکول فنڈز کے اکاؤنٹس میں انکےدستخط بھی ہوتے ہیں۔
  26. اس طرح ان سربراہان کو اپنی ذمہ داریوں اور اختیارات کا بھی علم نہیں۔
  27. اساتذہ نے شکوہ کیا کہ سکولوں کا نصاب اور ذریعہ تعلیم بار بار بدلنے سے انکی صلاحیت اور طلباء و طالبات کے سیکھنے کا عمل بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
  28. کئی سکولوں میں غیرمقامی اساتذہ نے کہا کہ انہیں بچّوں اور بچّیوں کو سمجھانے میں دقت ہوتی ہے کیونکہ نہ وہ اور نہ یہ طلباء و طالبات ایکدوسرے کی زبان سجمھ سکتے ہیں۔
  29. کئی والدین اور اساتذہ نے گلہ کیا کہ حکومت اساتذہ کی نگرانی صرف انتظامی طور پر کر رہی ہے جبکہ اساتذہ کی پیشہ وارنہ صلاحیت اور کاردگی اور طلباء و طالبات کی قابلیت کو تسلسل کے ساتھ جانچنے کا کوئی موئثر طریقہ کار موجود نہیں۔
  30. بعض اساتذہ نے محکمے تعلیم کے آفسروں کی طرف سے ”غیر قانونی“ تبادلوں کا شکوہ کیا اور کہا کہ یہ آفیسرز اپنے منظور نظر افرااد کو اس طرح نوازتے ہیں جس سے دوسرے اساتذہ کو مشکلات کا سامنا ہوجاتا ہے۔

سفارشات/ مطالبات

”اقرء۔ سوات کوہستان تعلیمی مہم “کے دوران علاقے کے  کثیر تعداد میں لوگوں، والدین، اساتذہ، علاقے میں سرگرم مقامی سیاسی رہنماؤں، سول سوسائٹی اور جرگوں میں شامل آفراد کے ساتھ مسلسل رابطہ اور اجلاس ہوتے رہے۔ ان اجلاسوں میں ہر بار شرکاء سے علاقے کے تعلیمی مسائل کے حل کے بارے پوچھا گیا۔ انہوں نے مختلف موقعوں پر جو تجاویز دیے ان  سفارشات اور مطالبات کا خلاصہ  یہاں پیش کیا جارہا ہے۔

  1. ”اقراء۔ سوات کوہستان تعلیمی مہم “ کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنا چاہئے۔ اس مہم میں خواتین کو بھی شامل کیا جائے۔
  2. علاقے میں لڑکیوں کے پرائمری سکولوں کی تعداد کو کم ازکم لڑکوں کے پرائمری سکولوں کی تعداد کے برابر کیا جائے۔
  3. علاقے کے سارے بڑے گاؤوں میں طالبات کے لئے مڈل سکولز بنائے جائے۔ ان گاؤں میں چیل، شنکو، بشیگرام، ساتال، آئین، لگن، درولئی، گورنئی، توروال، کیدام، رامیٹ، مانکیال، بالاکوٹ، بڈئی، لائیکوٹ، پشمال، بیون، آشورون، کس کالام، مٹلتان، گبرال، گلش آباد اتروڑ اور گجر گبرال شامل ہیں۔
  4. ہر یونین کونسل میں کم از کم ایک ہائی سکولز لڑکیوں کے لیے بنایا جائے۔
  5. اسی طرح بحرین اورکالام  میں طالبات کے لئے ڈگری کالجز قائم کیے جائے۔
  6. ہائی سکولز برائے طلباء کے سکولوں کی تعداد کو دوگنا کیا جائے۔
  7. سوات کوہستان کے پورے علاقے کو ”ہارڈ ایریا“ قرار دیا جائے اور یہاں تعلیمی اداروں میں تقرر ی کے معیار کو نرم کرکے مقامی لوگوں کو بھرتی کیا جائے۔ اسی طرح اعلیٰ تعلیم کے صوبائی  اداروں میں یہاں کے طلباء و طالبات کے لیے کوٹاquota  مختص کیا جائے۔
  8. موجودہ خواتین اساتذہ کی تعیناتی گاؤں کی سطح پر کی جائے۔ یونین کونسل کی سطح پر بھی تعیناتی ان کے لئے آمدورفت کے مسائل پیدا کرتی ہے کیونکہ یہ سارے یونین کونسلز رقبے میں بہت پھیلے ہوئے ہیں۔
  9. ساری خالی آسامیوں کو جلد سے جلد پُر کیے جائے۔ ”ون ٹیچر سکولوں “ میں فوراً مزید سٹاف بھرتی کیا جائے۔
  10. پرائمری سکولوں کی عمارتوں کو کم از کم 7 کمروں پر توسیع دی جائے۔
  11. لوگوں نے کہا کہ تعلیم ابھی تک انکی اہم ترجیح نہیں بنی ورنہ وہ تعلیمی مسائل پر بھی اس طرح جرگے کرتے جس طرح وہ انتخابات کے دوران یا پھر جنگلات سے حاصل شدّہ رائلٹی کے لیے کرتے ہیں۔ انہوں نے سفارش کی کہ ”اقراء۔ تعلیمی مہم “ کو اُس وقت تک جاری رکھنا چاہئے جب تک علاقے کے لوگوں میں تعلیم سب سے اہم ترجیح  نہ بن جائے۔
  12. اساتذہ کی قابلیت بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کی تربیت کے بغیرتعلیمی معیار بہتر نہیں ہوگا۔ اساتذہ کی اکثریت انگریزی زبان پڑھانے میں دقت محسوس کرتی ہے۔ ان کی یہ قابلیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔
  13. مانکیال، کالام اور اتروڑ میں ہائیرسیکنڈری سکولوں میں فوری طور پرسٹاف کی کمی کو پورا کیا جائے۔
  14. ہائی سکول بحرین کو ہائیر سیکنڈری سکول بنا کر یہاں انٹر کی سطح پر سائنس کی کلاسیں شروع کیے جائے۔
  15. سکولوں کے سالانہ مرمت فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنائے جائے۔
  16. موسمی ہجرت کرنے والے اتروڑ، کالام ، لائیکوٹ اور پشمال کے بچّوں اور بچّیوں کے لیے علاقے میں کہیں بورڈنگ سکول قائم کیا جائے تاکہ ان بچّوں کی تعلیم متاثر نہ ہو۔
  17. ابتدائی دو کلاسوں میں یہاں کے بچّوں اور بچّیوں کو تعلیم ان کی مادری زبان میں دی جائے۔ اس کے لئے ادارہ برائے تعلیم و ترقی کے کام سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
  18. یونین کونسل بحرین میں فوری طور پر ساتال کے مقام پر ایک ہائی سکول قائم کیا جائے۔

ہم حکومت کے ساتھ مختلف ملکی و غیر ملکی سماجی تنظیموں سے استدعا کرتے ہیں کہ وہ بھی اس علاقے میں سکولوں کی تعمیر کرے۔ اسی طرح علاقے میں موجود صاحب ثروت لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ علاقے میں نجی تعلیمی ادارے قائم کریں۔

کیا ہی اچھا ہو کہ مقامی لوگ جنگلات سے رائلٹی اور اجارے کی صورت میں حاصل شدّہ رقوم کو تعلیمی اداروں کی تعمیر میں لگائے۔

رپورٹ کی تفصیلات

علاقے میں سکولوں کی کل تعداد

پرائمری، مڈل اور ہائی سکولوں میں طلبا و طالبات کی تعداد کا موازنہ

اساتذہ اور طلباء و طالبات کا تناسب

 طلباء  میں پرائمری  سکول چھوڑنے کا رجحان

یونین کونسل بحرین میں طلباء ا طالبات میں مڈل و ہائی سکول چھوڑنے کا رجحان

یونین کونسل بالاکوٹ کے طلباء و طالبات میں مڈل و ہائی سکول چھوڑنے کا رجحان

یونین کونسل بشیگرام کے طلباء و طالبات میں مڈل و ہائی سکول چھوڑنے کا رجحان

یونین کونسل کالام کے مڈل و ہائی سکولوں میں طلباء و طالبات میں سکول چھوڑنے کا رجحان

یونین کونسل مانکیال کے مڈل و ہائی سکولوں میں طلباء و طالبات میں سکول چھوڑنے کا رجحان

یونین کونسل اتروڑ  کے مڈل و ہائی سکولوں میں طلباء و طالبات میں سکول چھوڑنے کا رجحان

سوات کوہستان کے سکولوں میں طلباء و طالبات کی غیر حاضری

اساتذہ کی غیر حاضریاں

 غیر مقامی اساتذہ کا تناسب

منظور شدّہ خالی آسامیاں

لوگوں کے لڑکیوں کی  تعلیم کےبارے تصّور

سوات کوہستان کے چھ یونین کونسلز میں ہم نے 1085 افراد سے چار سوالات پوچھے۔  سوالات یہ تھے۔

1 ۔ کیا آپ اپنی بیٹیوں/ بہنوں کو سکول بھیجنا چاہتے ہیں؟

2 ۔ آپ اپنی بیٹیوں/ بہنوں کو کیوں سکول بھیجنا نہیں چاہتے؟

3۔ کیا آپ اپنی بیٹیوں/ بہنوں کو مڈل اور ہائی سکول بھیجنا چاہتے ہیں؟

 4 ۔ آپ اپنی بیٹیوں/ بہنوں کو مڈل اور ہائی سکول کیوں نہیں بھیجنا چاہتے؟

ان سوالات کے جوابات سے اخذ کیے گئے  نتائج

سوات کوہستان کی آبادی میں مردوں اور خواتین کا تناسب

  مرد      بہ نسبت    خواتین = 100 : 96

یعنی سوات کوہستان میں سو مردوں کے مقابلے میں  چھیانویں خواتین ہیں۔ اسی طرح سو بچّوں کے مقابلے میں چھیانویں بچّیاں ہیں۔

سماجی کارکن اور محقیق

  1. انجینئر رضوان توروالی۔۔۔ یونین کونسل بحرین
  2. اصغر خان، اجمل خان۔۔۔۔ یونین کونسل بالاکوٹ
  3. غفران اللّلہ۔۔۔۔ یونین کونسل بشیگرام
  4. انجینئرامجد علی ۔۔۔۔ یونین کونسل کالام
  5. ضیاء الرّحمٰن، آفتاب خان۔۔ یونین کونسل مانکیال
  6. سعید روشن۔۔۔۔۔ یونین کونسل اتروڑ

تجزیہ و تحریر

زیبر توورالی

اشاعت:

یہ رپورٹ ادارہ برائے تعلیم و ترقی  IBT  نے  الف اعلان کے مالی تعاون سے تیار کرائی ہے۔ یہ رپورٹ ادارہ برائے تعلیم و ترقی کی ملکیت ہے اور اس کے کاپی رائیٹس صرف ادارہ برائے تعلیم و ترقی اور الف اعلان کے پاس ہیں۔

سنہ اشاعت

اگست 2015 ء بحرین سوات۔

ادارہ برائے تعلیم و ترقی  (IBT)

ادارہ برائے تعلیم و ترقی سوات کوہستان میں سرگرم غیر سرکاری، غیر منافع بخش غیر سیاسی تنظیم ہے جس کو یہاں کے مقامی نوجوانوں نے 2007 ء میں بنائی ہے۔ یہ پوری طرح مقامی لوگوں پر مشتمل ہے۔ ادارے کے مقاصد میں تعلیم اور علاقے کی مربوط و پائدار ترقی شامل ہیں۔ ادارہ علاقہ سوات کوہستان اور پورے شمالی پاکستان میں بولی جانے والی   ”چھوٹی“  زبانوں اور ثقافتوں کے تحفظ، ترویج اور ترقی کے لئے  بھی کام کرتا ہے۔ ادارہ علاقے کی ترقی میں بلا کسی لسانی، مذہبی، فرقہ وارانہ ، سیاسی اور نسلی تعصب کے اپنا حصّہ ڈالتا ہے۔ ادارے کا مرکزی دفتر بحرین میں ہی موجود ہے۔

نوٹ

 گزشتہ دو سالوں میں خیبر پختونخوا کی سابقہ حکومت نے پرائمری سکولوں میں آساتذہ کی نئی بھرتیاں کی ہی جس کی وجہ سے علاقے میں آساتذہ کی تعداد میں بہتری ائی ہے۔ اسی طرح اسی حکومت نے پرائمری سکولوں میں سہولیات پر خاطر خواہ رقم خرچ کی ہے۔ جس کی وجہ سے امید ہے کہ یہاں پرائمری سکولوں کی طبعی حالت بہتر ہوئی ہوگی۔ مدیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • یہ سروے مارچ، اپریل میں کی گئی
Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...