The aim of this magazine is to connect the communities of Hindu Kush, Himalaya, Karakorum and Pamir by providing them a common accessible platform for production and dissemination of knowledge.
شینا زبان اور اُس کا رسم الخط
شینا زبان اور اُس کا رسم الخط
(رازول کوہستانی)
شینا زبان ہندوستان اور پاکستان کے ایک دُشوار گزار اور وسیع جغرافیہ میں بولی جانے والی ہند آریائی زبانوں کے شمال مغربی گروہ کے ذیلی داردی گروہ کی ایک قدیم زبان ہے جو جموں کشمیر میں گریز، دراس، بٹالک، آزاد کشمیر کی نیلم وادی میں تاؤ بَٹ اور پُھلوائی، پاکستان میں پورے ضلع دیامر چلاس، نصف سے زائد گلگت کے حصّے، اسکردو کے بعض مقامات، ضلع غذر کے اکثر علاقے، ضلع اپر کوہستان کے نصف حصّے اور ضلع کولئی پالس کوہستان کے تمام ضلع میں بولی جاتی ہے۔ یہ موجودہ داردی زبانوں میں سب سے ذیادہ بولنے والی زبان ہے۔ اس زبان کے کئی لہجے پائے جاتے ہیں ۔ اس زبان کے بولنے والوں کی کئی بستیاں اور آبادیاں اپنے اصل جغرافیہ سے باہر پنجاب، سندھ اور خیبر پختون خوا کے بعض دوسرے علاقوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مردان، بٹگرام، کاغان اور اکا دکا ایسے دوسرے علاقے بھی ہیں جہاں اس زبان کے بولنے والے اپنی ماردی زبان بھول چکے ہیں اور اب پشتو، ہندکو یا پنجابی بولتے ہیں۔
اس زبان کے بعض مقامات کے لہجوں میں کافی بُعد بھی پایا جاتاہے۔ جدید تحقیقات نے لسانی شواہد اور فنی بنیاد پر یہ ثابت کیا ہے کہ شینا زبان کا لسانی ڈھانچہ اور صوتی عادات قبل از ہند آریائی لسانی گروہ سے تعلق رکھتی ہیں۔اس زبان میں ہندکو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، گوجری، بروشسکی، تبتی، بلتی ،سنسکرت، ہندی، کشمیری، فارسی اور عربی کے مستعار الفاظ بھی پائے جاتے ہیں۔ شینا چونکہ ایک داردی زبان ہے اس لئے اس کا اُشوجو، توروالی، انڈس کوہستانی، گباری، چھلسیؤ، گاؤری، بٹیڑی ، کلکوٹی ، کلاشہ، پالولا، کھوار اور اافغانستان میں بولی جانے والی زبانوں جیسے پشائی سے بھی زبانوں سے بھی کئی لغوی اور صوتی اشتراک ہے۔ تاہم بروشسکی کے ساتھ اس زبان کا اتنا لسانی اشتراک نہیں جتنا داردی زبانوں سے ہے۔
اس زبان میں علی آوازوں کا نظام سُر اور تان کا حامل ہے۔ سُر میں اتار چڑاؤ سے معنوی امتیاز پیداہوتا ہے۔ اس زبان میں آج کل نثر، ڈرامہ، نظم، قواعد، لغات اور کئی دوسرے موضوعات پر لکھا جا رہا ہے تا ہم اس کا متفقہ رسم الخط ابھی تک اختیار نہیں کیا جا سکاگو کہ اس کے لیے جاری تیاریاں قابل ستائش ہیں۔ اس زبان کا لوک ادب کافی زرخیز ہے۔لوک گیت،داستانیں، لوک کہانیاں، پہیلیاں، اکھان اور منتر (دم) کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں ۔
شینا زبان کو اردو رسم الخط میں لکھنے کی ابتدائی کوشش غالباً جناب محمد شُجاع ناموس نے 1956 ء میں ایک صغیم کتاب لکھ کر کی۔ اسی طرح بابا چھلاسی کے چند شعری مجموعے بھی الگ حروف میں شائع ہوئے۔ لیکن ان کے اس رسم الخط کو خاطر خواہ پزیرائی نہیں مل سکی۔ اُن کے بعد محمد امین ضیاء (1974ء) نے شعری مجموعہ “سان” اور اکبر حسین اکبر (1980ء) نے “سومولو رسول” کے عنوان سے کتابیں شائع کیں جن میں شینا زبان کے اضافی حروف کو سندھی زبان کی طرح چار نقطوں سے لکھا گیا۔ تاہم اس کے بعد بجائے چار نقطوں کی علامت کے ان مخصوص حروف کو دو ہموار زبر کی علامت سے لکھے جانے کو ترجیح دی جانے لگی اور اس میں متعدد شینا کتابیں ، قاعدے اور لُغات شائع ہوئے۔
1976ء میں جناب محمد امین ضیاء نے شینا زبان کی گِلیتی لہجے کا اردو میں گرائمر لکھا جو کافی کارآمد ثابت ہوا۔ گلیتی شینا میں شینا قاعدہ عبدالخالق تاج اور رحمت عزیر چترالی ، شینا کوہستانی میں رازول کوہستانی اور رُتھ لیلی شمٹ نے جبکہ مقبوضہ کشمیر کے گریزی شینا زبان میں محمد رمضان اور محمد شفیع ساگر نے شیناقاعدے شائع کئے۔ عربی رسم الخط میں مرتب ہونے والے یہ تمام شینا قاعدے شینا زبان کی ترقی اور رسم الخط کی بہتری کی طرف اوّلین کوششیں ہیں۔ 2004ء کے بعد گلگت اور انڈس کوہستان میں شینا زبان کے مخصوص حروف کو دو ہموار زبر کے ساتھ لکھنے کے ساتھ ساتھ چار نقطوں سے دوبارہ لکھا جانے لگا کیوں کہ ان حروف کے لئے یونی کوڈ موجود تھے جس سے شینا کی تحریر کے لیے کمپیوٹر پر کی بورڈ تیار کیا جا سکتا تھا۔ کارگل اور دراس میں بھی شاید ہموار دو زبر کی علامتوں سے چند کتابیں یا قاعدے شائع ہوئے۔ گریزی شینا کے لئے جناب مسعود سموں نے الگ سے اضافی حروف وضع کئے اور ش، چ پر اضافی گول دائرہ یا نقطہ لگا کر لکھنا شروع کیا۔ حال ہی میں انہوں نے گریزی شینا گرائمر کی کتاب شائع کی جس میں گریزی شینا رسم الخط اور قواعد سے متعلق مواد شامل ہے۔

نظامت تعلیمات گلگت بلتستان کے تحت طویل مشاورت اور آمادگی کے بعد 2017ء میں چار نقطوں کے اضافہ کو قبول کرتے ہوئےڇ متفقہ طور پر جماعت اوّل سے تیسری تک کی ابتدائی کتابوں کے مسودے یا قاعدہ تیا ر کئے گئے ہیں جو وفاقی حکومت سے منظوری کے بعد ڙگلگت بلتستان کے شینا علاقوں کےسکولوں میں پڑھائے جائیں گے۔ مقامی سطح پر علاقائی زبان میں تعلیم کو فروغ دینے کے لئے گلگت بلتستان کی حکومت نے 2015ء تا 2030ء کے دورانیہ کے لئے تعلیمی حکمت عملی وضع کی ہے جس کے تحت مرحلہ وار مقامی زبانوں کو سکولوں میں رائج کیا جائے گا۔ گلگت میں اس سلسلے میں عمدہ کوششیں اور فعال سرگرمی دیکھنے میں آتی ہے۔ اسی طرح انڈس کوہستان میں بھی شینا زبان کا کوہستانی لہجہ ابتدائی قاعدہ کے طور پر سکولوں میں پڑھائے جانے کی توقع ہے لیکن مقامی سطح پر کچھ فنی اور سیاسی اختلافات کی وجہ سے یہ معاملہ زیر التوا ہے۔

کسی بھی علاقہ یا ملک کی مقامی یا چھوٹی زبانیں اُس وقت ہی بہتر نمو پا سکتی ہیں جب ان زبانوں کو خودبولنے والوں اور حکومت کی تائید، مشاورت اور قبولیت شامل ہو۔ کوئی زبان اس وقت ہی مٹنے سے بچ سکتی ہیں جب اُسے عام بول چال کی زبان بنایا جائے، اُسے سکول کی سطح پر رائج کیا جائے، اُس زبان کا لغوی سرمایہ اور لوک ادب محفوظ کو کیا جائے۔ اس کے لئے یقیناً چھوٹی چھوٹی کوششوں سے بڑے بڑے نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
ہمارے بہت سے دوست یہ خیال کرتے ہیں کہ شینا زبان کا مسئلہ صرف اضافی حروف کی اشکال کا ہے اور کچھ کا خیال ہے کہ گریز، دراس، کارگل، گلگت اور کوہستان میں الگ الگ اضافی حروف کے لکھنے کا عمل شینا زبان کے لئے سود مند نہیں۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ کوہستان اور گلگت ایک ہی صفحے پر ہیں اور رہے ہیں۔ پہلے دونوں ہموار دو زبر والی علامت کے ساتھ شینا زبان کی اضافی مُصمّتی آوازوں کو لکھتے تھے اور آج کل چار نقطوں کے اضافہ سے لکھ رہے ہیں البتہ گریزی شینا میں پہلے ذکر کیے گئے الگ اضافی حروف زیر استعمال ہیں۔
شینا زبان میں تحقیقی اور تخلیقی کام کرنے والے احباب کا ایک مسئلہ یا رکاوٹ یہ بھی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ کُھلے دل سے مکالمہ یا تبادلہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے وہ اپنے اپنے دائرہ میں مقید رہتے ہوئے اپنے اپنے انداز میں لکھنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا اُن کی زبان کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچتا۔جب تک مختلف لہجوں کے حامل افراد میں مکالمہ نہیں ہو گا تب تک بہتر اور پائدار فنی بنیاد اس زبان کو نہیں مل سکے گی۔ اس سلسلے میں وٹس اپ پر شینا بولنے والوں کا شینا بیاک کے نام سے ایک فورم پایا جاتا ہے جو نہایت کارآمد اور مفید ہے۔ اس فورم میں لداخ، کارگل، دراس، گریز، بلتستان، گلگت، غذر اور کوہستان کے ایسے افراد موجود ہیں جن کی مادری زبان شینا ہے اور یہ اپنی زبان کے الفاظ کے سرمائے کا ایک دوسرے سے تبادلہ کرتے ہیں۔ یہ فورم شینا بولنے والوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا ایک اہم زریعہ بھی ہے۔
شینا زبان میں لکھنے والے کسی بھی لہجہ سے تعلق رکھتے ہوں انہیں رسم الخط میں جدّت، دستیاب فنی اور تکنیکی مہارت، لسانیات سے متعلق ٹولز و تکنیک اور جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہو گا بصورت دیگر رسم الخط میں بے شمار فنی اغلاط کا امکان موجود رہے گا۔ نیچے دیئے گئے تین تحریری نمونوں میں تین الگ الگ طریقہ سے شینا زبان لکھی نظر آتی ہے۔



شینا زبان لکھنے والوں میں بعض کا خیال ہے کہ وہ قائم حروف جو حقیقی طور پر شینا زبان کی مصمّتی آوازوں کے قائم نہیں انہیں شینا املا سے ترک کیا جائے جیسے ث، خ، ص، ط، ظ، ض، ق، ف، ع۔ غ، ح۔ تاہم اکثریتی لکھنے والے ان قائم حروف کو شینا زبان کی موجودہ ابجد میں قائم رکھنے کے حامی ہیں۔ عربی ، فارسی اور اردو کے بے شمار الفاظ ایسے ہیں جو مذہبی، سماجی، ثقافتی اور تاریخی طور پر ہماری زبانوں کا حصّہ بن چکے ہیں۔
شینا زبان بولنے اور لکھنے والوں میں کچھ احباب ایسے بھی سامنے آئے ہیں جو شینا زبان سے تمام غیر شینا زخیرہ الفاظ کو یک سر ختم کرنے اور نکال باہر کرنے کے حامی ہیں یا اس پر کام کر رہے ہیں لیکن گریز، دراس، پھلوائی، گلگت اور کوہستان کے اکثریتی محققین اور لکھاری اس روش کے خلاف ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس کا طویل المدتی لسانی، ثقافتی، تاریخی اور مذہبی نقصان ہو گا اور ایسے لغوی زخیرہ الفاظ کو کسی صورت میں نہ نکالا جائے۔
میری نظر میں اصل مسئلہ صرف شینا زبان کی اضافی مصمّتی آوازوں کے قائم حروف کی اشکال کا ہی نہیں بلکہ اصل مسئلہ شینا زبان کے صوتی آہنگ اور صرفی جوڑوں کو درست اور فنی طریقوں سے سمجھنا اور لکھنا ہے جو کہ عام آدمی کے لئے کافی مشکل کام ہے۔ مصوّتی آوازوں کی سُروں اور تانوں کو اُن کی حقیقی تان یا سُر میں لکھنا یا ظاہر کرنا اور سمجھانا ایک مشکل امر ہے اور اسے حل ہونے میں ایک عرصہ لگے گا۔ شینا زبان کے الفاظ کی تان اور سُر کو Speech Analyzer پر ہی درست طریقہ سے دیکھا اور جانچا جا سکتا ہے اسے سمجھے اور جانے بغیر شینا الفاظ پر درست اعراب لگانا شاید ممکن نہ ہو اور یہی وہ مشکل کام ہے جس کا شینا زبان بولنے اور لکھنے والوں کو سامنا ہے۔ شینا زبان کی علّی آوازیں عموماً چار اقسام کی تان یا سُروں کی حامل ہیں یعنی الفاظ میں علّی آواز کا کوتاہ سُر، ہموار سُر، طویل درُوں سُر اور طویل برُوں سُر۔ اِن سُروں کو سمجھ کر اعراب لگانے سے ہی درست طور پر لفظ لکھا جا سکتا ہے۔ صوتی اعراب لگانے میں دو رائے پائی جاتی ہیں۔ ایک رائے کے مطابق صوتی اعراب لگانے کی ضرورت نہیں اس سے زبان میں املا کے مسائل میں اضافہ ہو گا اور پڑھنے والا ان اعراب سے مانوس نہیں ہو سکے گا جبکہ دوسری رائے کے مطابق صوتی اعراب لگائے بغیر کسی لفظ کو اُس کی درست آواز کے ساتھ پڑھنا ناممکن ہے۔
شینا زبان کے رسم الخط کے مسائل پر سوچتے اور بات کرتے ہوئے موجودہ دور میں لکھائی کے کمپیٹوٹر پروگراموں کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ آج کل کمپیوٹر میں کون کون سی سہولت دستیاب ہے تا کہ املا کے مسائل کو بخوبی حل کیا جا سکے۔
یہاں بعض شینا اور اردو کتابوں کا زکر کیا جاتا ہے جو اس سلسلے میں کی جانے والی اہم کوششوں میں شامل ہیں:
گریز، دراس اور کارگل میں شینا زبان پر مقامی تحقیق:
- احمد جوان کی حمد، نعت اور قصائد کی کتاب “چلو” 1989 میں شائع ہوئی۔
- رضا امجد کے دو شینا شعری مجموعے منظر عام پر آئے۔
- احمد جوان کا دوسرا شعری مجموعہ شائع ہوا۔
- رضا امجد کی کتاب ”جموں و کشمیر میں درد شین“ شائع ہوئی۔
- رضا امجدکا شینا شعری مجموعہ ”چنالو تکیار“ شائع ہوا۔
- شفیع ساگر نے امین ضیاء کے حروف تہجی کو دراسی شینا لہجہ میں استعمال کرکے ایک شینا کتابچہ شائع کیا۔
- شفیع ساگر کی کتاب “شینا لوک ادب” منظر عام پر آئی جس میں اہم لوک گیت و ادب شامل ہے۔
- مختار زاہد بڈگامی کی ایک اہم کتاب “تاریخ شینا زبان و ادب” شائع ہوئی۔
- چکٹ صاحب کی کتاب “گلستان شینا” شائع ہوئی۔
- پُشوں بآغ گلستان سعدی کا ترجمہ کیا جو کچھ ماہ پہلے شائع ہوا۔
- سیرتِ رسول اکرم ؐ سید سلیمان ندوی کی کتاب کا شینا ترجمہ مکمل ہوا یا ہونے والا ہے۔
- جناب امجد رضا امجد صاحب کی کتاب تعلمیات اسلامی جلد1 مکمل ہو چکی ہے۔
- محمد شفیع ساگر کی کتاب “شینا رسم الخط” شائع ہوئی۔
- شیخ غلام احمد شیخ کی کہاؤتوں کی کتاب “ مَلیکہ” شائع ہوئی۔
- مسعود سموں کی کتاب “شینا محاؤرآے گہ مثالے” 2016 میں شائع ہوئی۔
- مسعود سموں کی گریزی شینا گرائمر کی کتاب 2018 میں شائع ہوئی۔
- محمد رمضان نے گریزی شینا قاعدہ شائع کیا۔
گلگت ریجن میں شینا زبان کے متعلق اردو اور شینا میں جو کتابیں شائع ہوئیں ان میں سر فہرست ہیں:



- ڈاکٹر محمد شجاع ناموس کی صغیم کتاب “گلگت اور شینا زبان” جو 1956 میں شائع ہوئی۔
- محمد امین ضیاء کا شعری مجموعہ “سان” جو 1974 میں شائع ہوا۔
- محمد امین ضیاء کی کہاؤتوں کی کتاب “سوینو موریئے” 1978 میں شائع ہوئی۔
- محمد امین ضیاء کی کتاب “شینا قاعدہ اور گرائمر” 1976میں شائع ہوئی۔
- محمد امین ضیاء کی کتاب “شینا اُردو لُغت” 2010 میں شائع ہوئی۔
- اکبر حسین اکبر کی کتاب “سومولو رسول” 1980 میں شائع ہوئی۔
- اکبر حیسن اکبر کی کتاب “اُردو اور شینا کے مشترکہ الفاظ” 1992میں شائع ہوئی۔
- عبدالخالق تاج کا گلیتی شینا زبان کا “شینا قاعدہ” 1989میں شائع ہوا۔
- نصیر الدین چھلاسی کا شعری مجموعہ “ذاد سفر” شائع ہوا (تاریخ اشاعت معلوم نہیں)۔
- رحمت عزیز چترالی کا “شنا قاعدہ” جو غالباً ِ2017 یا کچھ اس سے قبل شائع ہوا۔
- گلیتی شینا لہجہ میں جماعت اوّل سے جماعت سوئم تک سکولوں کی ابتدائی کتابیں 2018ء میں تیار کی جا چکی ہیں۔
- عبدالخالق تاج نے اکادمی ادبیات کے تعاون سے شینا زبان میں نظم و نثر کی ایک کتاب شائع کی۔
- عبدالخالق تاج شینا زبان کی “تاج اللغات” مرتب کر رہے ہیں جو تکمیل کے مراحل میں ہے۔
- گلگت کے مظہر علی شینا لغت مرتب کر رہے ہیں جو بیک وقت شینا، اردو اور انگلش میں ہے۔
- شکیل احمد شکیل صاحب نے بھی اس سلسلے میں کافی فنی کوششیں کی ہیں ۔ انہوں نے کارلا روڈولف کے ساتھ ملکر کئی کتابیں لکھی ہیں ۔
اس کے علاوہ شکیل احمد شکیل اور شینا لینگوئج اینڈ کلچرل پروموشن سوسائٹی گلگت کے زیر اہتمام شینا زبان کے قواعد و ادب پر کئی کتابیں شائع ہوئیں۔ جن میں چند ایک یہ ہیں۔
- ۔ شینا۔اردو۔انگریزی بول چال
- شینا ورک بک/ شینا لکھنے کا قاعدہ
- الکھانو بژون
- ۔ گلگتی شینا میں پڑھنا لکھنا ایک تعارف، قابل ذکر ہیں۔
انڈس کوہستان کے شینا لہجہ میں جو کتابیں سامنے آئیں وہ یہ ہیں :

- مولانا ضیاء المرسلین کوہستانی مرحوم نے “قاعدہ کوہستانی مصدر حروف” کا کتابچہ شائع کیا۔
- رازول کوہستانی/رُتھ لیلی شمٹ نے “شینا متلہ” 1998 ء میں کوہستانی شینا کہاؤتیں شائع کیں۔
- . رازول کوہستانی/رُتھ لیلی شمٹ نے “شینا متلہ” رسم الخط کی تبدیلی اور اضافہ کےساتھ 2018 ءمیں اشاعت دوئم کے لئے کتاب مکمل کی۔
- رازول کوہستانی/رُتھ لیلی شمٹ نے کوہستانی شینا زبان کا “شینا قاعدہ” 1996 ء میں شائع کیا۔
- رازول کوہستانی کی “بُنیادی شینا کوہستانی اردو لُغت” 1999 میں شائع ہوئی۔
- رازول کوہستانی کی “شینا کوہستانی اُردُو لُغت” جو کہ تین جلدوں میں ہے 2018 ءمیں چار نقطوں والی اضافی علامات اور مصوّتی اعراب کے ساتھ مکمل کی جو اشاعت کے لئے تیار ہے۔
- رازول کوہستانی نے شینا کوہستانی میں “کوستان دہ ادویاتی گوڑیو روایتی استعمال” کے نام سے ایک کتابچہ 1998 ءمیں شائع کیا جس میں مقامی ادویاتی جڑی بوٹیوں اور ان کے استعمال سے متعلق لوک دانش کا مواد شامل ہے۔
- رازول کوہستانی نے ملک عبدالرؤف مرحوم کی تبلیغی کتاب “ شینا کوہستانی تبليغى کتابچہ” 2018 ءمیں مکمل اور شائع کی۔
ان کے علاوہ بھی کئی احباب ایسے ہوں گے جنہوں نے شینا زبان پر کام کیا لیکن مجھے اُن کا کام دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ ان تمام حوالوں کا مقصد یہ تھا کہ شینا زبان میں شینا کے متعلق اردو اور شینا زبان میں مقامی سطح پر خاطر خواہ کام ہوا ہے۔ شینا زبان کے متعلق جو تحقیقی کام دوسری زبانوں (انگلش، جرمن وغیرہ) میں ہوا ہے وہ اس سے الگ اور بہت کارآمد اور تکنیکی نوعیت کا ہے۔ اس قسم کی طبع شدہ کتابیں اس بحث میں شامل نہیں۔
کیا شینا زبان کے تمام لہجوں والے کسی ایک رسم الخط پر متفق یا قائم ہو سکیں گے یہ کہنا قبل از وقت اور کافی مشکل کام ہے۔ کیوں کہ زمینی اور جغرافیائی بُعد، لہجوں کی پیچیدگیاں، روزمرہ بول چال میں مختلف لغوی استعمال، مصادر سے بننے والے الفاظ کے افعال و تراکیب، افعال کے ساتھ جُڑی ضمیریں اور دوسرے صرفی جوڑوں کا استعمال، تعمیری کلمے بنانے کے لئے مادوں سے افعال اور اس کے مشتقات کا وضع کرنا وغیرہ جیسے کئی ایسے امور ہیں جنہیں حل ہونے میں کافی وقت درکار ہو گا اور اس کے لئے اس زبان کے اندر ہی سے اس کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔



