کوئی بھی ثقافت خالص نہیں ہے

0 28

کوئی بھی ثقافت خالص نہیں ہے

تحریر: اینانا حماتی اطایا

1990 کی دہائی میں ایک طاقتور اور بظاہر بے مثال کہانی نے ایک پوری نسل کو اس کے تاریخی شعور سے محروم کر دیا تھا ۔ یہ کہانی، جو سرد جنگ کے خاتمے کے وقت گھڑی گئی تھی، یہ دعویٰ کرتی تھی کہ حقیقی یا تصوراتی سرحدوں کا وہ کردار اب ختم ہوا جو ماضی قریب میں ان کا ہوا کرتا تھا۔ انسان اب اپنے پرانے جغرافیوں یا شناختوں تک محدود نہیں رہے تھے ۔ اب وہ ایک ایسی نئی دنیا میں آباد تھے جو انسانی معاشرے کے نارمل ارتقاء سے کٹی ہوئی معلوم ہوتی تھی ۔

انسانی تاریخ کے اس تبدیلی والے لمحے کو بیان کرنے کے لیے ”عالمگیریت“ (گلوبلائزیشن) کی اصطلاح چنی گئی ۔ اس کے تحت کہا گیا  کہ کس طرح نئی ٹیکنالوجیز اور رابطے کے نیٹ ورکس نے اچانک انسانی برادریوں کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے اور انہیں لوگوں، خیالات، اشیاء اور ثقافتی اطوار کے ایک ایسے بے قابو بہاؤ کے لیے سازگار بنا دیا ہے جو عالمی معیشت کی مربوط منڈیوں میں آزادانہ حرکت کرتے ہیں  ۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں نئی اصطلاحات ابھریں جو نئے خدشات کا اظہار کرتی تھیں:  دنیا واقعی وہ ”گلوبل ولیج“ بن چکی تھی جس کی پیش گوئی مارشل میک لوہن نے 1960 کی دہائی میں کی تھی  لیکن یہ کثیر القومی کارپوریشنوں اور ‘عالم گیر آشرافیہ اشرافیہ ‘ کی تشکیل کردہ دنیا تھی جو ایک مشترکہ، غالب ‘عالمی انگریزی’ بولتے تھے اور انسانی ثقافتوں کی ایک ایسی تباہ کن ‘یکسانیت’ (یا ‘میک ڈونلڈائزیشن’) کی قیادت کر رہے تھے جس کے سامنے قومی سرحدیں بہت کمزور تھیں ۔

گزشتہ تین دہائیوں کے دوران، زیادہ تر لوگوں نے ہماری ‘عالمی’ دنیا کو ایک منحوس تقدیر کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ہے ۔  وقت اور فاصلے کے دم گھونٹتے ہوئے سمٹاؤ کے ساتھ  عالمگیریت نے ہمیں تاریخ کی منطق اور بہاؤ سے الگ کر دیا ہے  ۔  ہماری مشکوک اور ملی جلی شناختیں—جو مختلف ثقافتوں کے آمیزے سے پیوند کی گئی ہیں—ہمارے آباؤ اجداد کی ‘خالص’ روایات اور طرز زندگی سے متصادم نظر آتی ہیں ۔ ہم ان جگہوں کے لیے اجنبی بن گئے ہیں جنہیں  گھر کہتے تھے اور ان کے لباس، کھانے پینے یا ایک دوسرے سے بات چیت کرنے کے طریقوں سے بھی دور ہو گئے ہیں ۔ اور زندگی گزارنے کا کوئی نمونہ یا سیکھنے کے لیے کوئی تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے، عالمگیریت مخالف تحریکوں کی مسحور کن آوازیں ہمیں ایک کھوئے ہوئے، سنہرے ماضی کی محفوظ شناختوں اور حدود کی طرف واپس بلا رہی ہیں ۔

عالمگیریت کی یہ کہانی ہمارے دور کی سب سے کامیاب ڈراؤنی کہانی ہے ۔ اور تمام ڈراؤنی کہانیوں کی طرح، یہ ایک مغلوب کر دینے والے نامعلوم خوف کو ہوا دیتی ہے ۔لیکن یہ سب ایک دھوکہ ہے ۔ کوئی نئی عالمی دنیا وجود نہیں رکھتی ۔

ہمارا حال صرف اس لیے ایسا نظر آتا ہے کیونکہ ہم اپنا مشترکہ ماضی بھول چکے ہیں ۔ عالمگیریت کا آغاز 1990 کی دہائی یا گزشتہ ہزاریوں میں نہیں ہوا تھا ۔ اس قدیم مشترکہ تاریخ کو یاد کرنا ایک مختلف کہانی کی طرف لے جاتا ہے جو بہت پہلے شروع ہوتی ہے: بین الاقوامی سپلائی چینز، سمندری بادبانی جہازوں اور براعظموں پر پھیلی شاہراہِ ریشم کی آمد سے بھی بہت پہلے  عالمگیریت کی کہانی پوری انسانی تاریخ میں لکھی ہوئی ہے ۔ تو پھر ہم اس کہانی کو سمجھنے میں ہمیشہ اتنی غلطی کیوں کرتے ہیں؟

بہت سی تاریخی منڈیاں ہمارے موجودہ عالمی دور سے بہت پہلے قائم ہو چکی تھیں ۔ جب گروٹے مارکٹ نے قرون وسطیٰ کے آخری دور میں کام شروع کیا تھا تو وہاں ان اشیاء میں سے بہت کم موجود ہوتی ہوں گی جو آج گروننگن کی موجودہ بین الاقوامی برادری کے لیے دستیاب ہیں ۔ اس وقت، مارکیٹ آنے والے لوگ بھی کم اور قریبی علاقوں سے تعلق رکھتے ہوں گے جن میں سے زیادہ تر اب بھی اپنی علاقائی بولیاں بولتے تھے ۔ تاہم، 1493 میں، اس اور دیگر یورپی منڈیوں میں روزمرہ زندگی کے تصوراتی افق اچانک وسیع ہو گئے جب ایک غیر معمولی دریافت کی خبر گردش کرنے لگی:یورپ کے ساحلوں سے پرے ایک پہلے سے نامعلوم انسانی دنیا موجود تھی ۔ یہ ایک ایسی غیر متوقع اور بظاہر اتنی مختلف دنیا تھی کہ اس نے یورپیوں کے شعور کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا ۔

ہمارے ‘خود’ (self) کے فلسفیانہ تصورات یورپیوں کی جانب سے ‘دوسرے پن’ (otherness) کو دریافت کرنے کے صدمے سے پیدا ہوئے تھے ۔

1492 میں کرسٹوفر کولمبس کے (بعد میں نام نہاد) ‘امریکہ’ پہنچنے کے بعد بنی نوع انسان نے چار صدیوں پر محیط عالمی انضمام کے ایک گہرے عمل کا تجربہ کیا جو سامراج، تجارت، مذہب، نقل و حرکت کی ایک نئی ثقافت اور روایت کی زنجیروں سے آزاد ہونے والے فکری تجسس کی مرہونِ منت تھا ۔ جیسے ہی بحری اور زمینی رابطوں کے محفوظ نیٹ ورکس قائم ہوئے، ‘پرانی’ اور ‘نئی’ دنیا کے لوگ انتہائی پرتشدد اور انقلابی طریقے سے ایک دوسرے کے قریب لائے گئے ۔ اس عمل نے اس چیز کا آغاز کیا جسے مورخ الفریڈ ڈبلیو کروسبی جونیئر نے 1972 میں ‘کولمبیئن ایکسچینج’ کا نام دیا:  جانوروں، پودوں اور بیماری پھیلانے والے خوردبینی جانداروں کی ایک وسیع  انسانی محرک کے تحت بین البراعظمی منتقلی جس نے زمین کے حیاتیاتی خدوخال اور اس کے باشندوں کی سماجی و اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا ۔

بہت سے مورخین کے لیے، تقریباً 1500 سے 1800 تک پھیلا ہوا یہ ‘ابتدائی جدید دور’ عالمگیریت کے پہلے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے ۔ ان کے مطابق، اسی دور نے پہلی عالمی سرمایہ دارانہ معیشت اور مربوط عالمی منڈی کو جنم دیا مقامی ثقافتوں اور نسلوں کے بے مثال اختلاط کا آغاز کیا اور ایک مشترکہ دنیا کے پہلے عالمی شعور کو واضح کیا ۔ یہ عمل اتنا طاقتور تھا کہ اس کے اثرات آج بھی ہماری خوراک، زبانوں، معیشتوں، سماجی اور قانونی نظاموں، سیاسی و فوجی طاقت کے بین الاقوامی توازن، اور سائنسی ڈھانچوں اور اداروں میں برقرار ہیں ۔ ابتدائی جدید دور نے ہمارے ‘خودی’ (self) کے فلسفیانہ تصورات کو بھی تشکیل دیا، جو یورپیوں کے لیے ‘دوسرے پن’ (otherness) کی دریافت کے صدمے سے پیدا ہوئے تھے ۔

لیکن یہ دور بھی انسانی تاریخ کا پہلا عالمی عہد نہیں تھا ۔ یہ خود بھی اس سے پہلے کی عالمی نقل و حرکت، مقابلوں اور تبادلوں کا نتیجہ تھا ۔ درحقیقت، ابتدائی جدید عالمگیریت محض ایک عام عمل کی ایک تیز رفتار قسط تھی جو دسیوں ہزار سالوں سے جاری ہے ۔

مجموعی انسانی یادداشت وقت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے ہونے والی ہماری ملاقاتوں کا ایک جزوی اور نامکمل ذخیرہ ہے ۔ ہم ان ملاقاتوں کو یاد رکھنے، بلکہ اس بات کو تسلیم کرنے میں بھی اچھے نہیں ہیں کہ ان ملاقاتوں نے ہمارے موجودہ معاشروں، ثقافتوں اور معیشتوں کو کس طرح تشکیل دیا ہے ۔ تو پھر ہم یہ کیسے بھول گئے؟

ماہر عمرانیات رولینڈ رابرٹسن کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے عالمگیریت کے نظریہ دان ‘گلوکلائزیشن’ (glocalisation) کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں تاکہ یہ بیان کیا جا سکے کہ مقامی ثقافتیں کس طرح عالمی منڈی کی مصنوعات کو جذب کرتی ہیں اور انہیں بظاہر کسی نئی چیز میں تبدیل کر دیتی ہیں ۔ اس عمل کے ذریعے، آنے والی اشیاء—ٹیکنالوجیز، خیالات، علامات، فنکارانہ انداز، سماجی طریقے یا ادارے—اس طرح ضم کر لیے جاتے ہیں کہ وہ ایک ایسی مخلوط تخلیق بن جاتے ہیں جو نئے معنی اختیار کر لیتی ہے ۔ ان تخلیقات کو پھر ثقافتی یا طبقاتی امتیاز کے نئے نشانات کے طور پر دوبارہ تعینات کیا جاتا ہے، جس سے مستعار لی گئی ثقافتی مصنوعات اجتماعی شعور میں اس حد تک جم جاتی ہیں کہ ان کی اصل پہچان مٹ جاتی ہے ۔ اور یوں عالمی مقامی بن جاتا ہے، اجنبی مانوس ہو جاتا ہے، اور ‘دوسرا’ ‘ہم’ بن جاتا ہے ۔ گلوکلائزیشن وہ طریقہ اور وجہ ہے جس کی وجہ سے ہم اجتماعی طور پر بھول جاتے ہیں ۔ ہماری تاریخ میں ہر ایک عالمگیریت کی یہی خاموش چال ہے: اس سے ہماری غفلت ہی اس کی کامیابی کا طریقہ اور نشان ہے ۔

ہر نسل عالمی تبادلوں کی وراثت کو اپنے قبضے میں لیتی ہے اور اسے اپنی بنا کر نئے سرے سے ڈھالتی ہے ۔ اپنے پیشروؤں کے چھوڑے ہوئے ان اثرات کو اپنے اجتماعی شعور سے کھود کر نکالنا کوئی ایسا کام نہیں ہے جسے کرنے کی طرف ہماری فطرت مائل ہو ۔ یہ یادآوری اور خود فہمی کا ایک ایسا عمل ہے جو ہماری شناختوں کو غیر مستحکم کر سکتا ہے کیونکہ یہ ان عملوں کے خلاف جاتا ہے جو ان شناختوں کو اصلیت (authenticity) عطا کرتے ہیں ۔

ثقافتی مصنوعات تیزی سے پیچیدہ ہوتی ہوئی رابطے کی ٹیکنالوجیز کے ذریعے کرہ ارض پر سفر کرتی رہی ہیں ۔

اپنی شناخت کے ذرائع کو کھود کر نکالنا ہماری اس عادت کی وجہ سے مزید مشکل ہو جاتا ہے کہ ہم صرف حال کی انفرادیت پر توجہ مرکوز کرتے ہیں ۔ موجودہ عالمی لمحے کی جزئیات تک خود کو محدود کر کے، ہم عالمگیریت کے گہرے ماضی کے واضح ترین مظاہر کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ انسانی تہذیب کی ان وسیع اور وضاحتی خصوصیات پر غور کریں: ہمارے چند عالمی مذاہب، تحریری ابلاغ کا ہمارا غالب نمونہ، اور سماجی طرز عمل کے ہمارے وسیع پیمانے پر مشترکہ اخلاقی اصول ۔ ہماری بقا کے (تقریباً) عالمگیر زرعی طریقے، اور ہمارے واحد غذائی اور نفسیاتی نظام پر غور کریں جو نشاستہ دار فصلوں (بشمول گندم، مکئی، چاول)، پالتو جانوروں (گائے، مرغیاں) اور مائع محرکات (کافی، چینی) کی ایک حیرت انگیز طور پر قلیل تعداد پر مبنی ہے جو پوری دنیا میں یکساں طور پر استعمال کیے جاتے ہیں ۔ یہ خصوصیات ہمارے موجودہ ‘عالمی دور’ سے ہزاروں سال پہلے کی ہیں ۔ اور یہ کہاجا سکتا ہے کہ یہ انسانی ثقافت کی زیادہ بنیادی خصوصیات اور عالمگیریت کی زیادہ نمائندہ مثالیں ہیں ۔

ایسے عالمی مظاہر ایک دہرائے جانے والے پیٹرن کی پیروی کرتے ہیں جسے ہم اپنی پوری تاریخ میں آسانی سے پہچان سکتے ہیں جس میں ثقافتی مصنوعات رابطے کی تیزی سے پیچیدہ ہوتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے کرہ ارض پر سفر کرتی رہی ہیں ۔ انٹرنیٹ سے پہلے ہوائی جہاز اور کنٹینر جہاز آئے؛ ان سے پہلے الیکٹرک ٹیلی گراف، ریلوے، بھاپ کے جہاز، پرنٹنگ پریس، اخبارات، چھوٹے بادبانی جہاز (caravels)، تحریری نظام، رتھ، اور گھوڑے اور اونٹ آئے ۔ ان سب سے پہلے قدیم ترین تصویری علامات اور پتھر کے زمانے (Palaeolithic Age) کے پہلے سمندری جہاز آئے ۔

رابطے کی ہر نئی ٹیکنالوجی نے نقل و حرکت اور تبادلے کے راستے کھولے یا وسیع کیے ہیں جس سے عالمگیریت کے ایسے ادوار تخلیق ہوئے جنہوں نے انسانی شعور میں دیرپا نقوش چھوڑے ہیں ۔ ان راستوں پر سماجی میل جول نے مقامی زبانوں کو عالمی زبانوں اور ‘لنگوا فرینکا’ (رابطے کی زبانوں) میں بدل دیا۔ جیسے فرانسیسی، عربی، کلاسیکی چینی، ناہواتل، مایا، یونانی یا اکدی اور اس عمل نے بین الثقافتی تعلقات کو سہل اور تیز تر بنایا ۔ نتیجے کے طور پر، تبادلے کے ہر تاریخی دور میں مادی ثقافت، نظریات اور ایجادات زیادہ آسانی سے گردش کرنے کے قابل ہوئیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ‘قبل از تاریخ’ کے زیورات اور ٹی شرٹس دونوں پوری دنیا میں پھیل گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ توحید اور طوفانِ نوح کی کہانی اتنی مختلف جگہوں پر نمودار ہوئی ہے ۔ اور یہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ کیوں کچھ نظریات، جیسے ‘نظریہ اخلاط’ یا ‘کوانٹم میکانکس’، دنیا کو سمجھنے کے مشترکہ طریقے بن گئے ہیں ۔

ہمارے وجود کے لیے اہمیت رکھنے والا کوئی بھی ثقافتی نظام عالمی بننے کے اس عمل سے بچ نہیں پاتا ۔ ان غذائی نظاموں پر غور کریں جو ہماری زندگی اور پکوان کے طریقوں کو سہارا دیتے ہیں ۔ جب ہم آلو کو ‘روایتی’ یورپی کھانوں یا آئرلینڈ کے قحط سے جوڑتے ہیں  تو ہم اس کی ‘اینڈین’ (جنوبی امریکہ) اصل اور ان عالمی ارسال  کو بھول جاتے ہیں جنہوں نے آخر کار اسے پوری دنیا کے گھریلو باورچی خانوں اور فاسٹ فوڈ ریستورانوں میں ہر جگہ دستیاب کر دیا ۔ ایسی ہی بھولی بسری کہانیاں دیگر عالمی بنیادی غذاؤں کے بارے میں بھی سنائی جا سکتی ہیں جن میں امریکہ سے شروع ہونے والے ٹماٹر اور مکئی، مشرقی ایشیا اور افریقہ سے چاول، اور جنوب مغربی ایشیا کی گندم، جو اور زیتون شامل ہیں ۔ یہی بھول چوک وہ وجہ ہے جس کی بنا پر کئی مقامی پکوانوں کی نشانیاں، جیسے فرانسیسی شراب یا امریکی ہیمبرگر، آسانی سے قومی شناخت کے علامتوں اور افسانوں میں بدل جاتی ہیں ۔ ‘مقامی’ انگور اور مویشی جو آج عالمی منڈی میں بھرے ہوئے ہیں ان عالمی ہجرتوں کی آخری پیداوار ہیں جو نیولتھک دور (Neolithic Age) میں ہی شروع ہو گئی تھیں ۔

شناخت کے جن ثقافتی نشانات—اپنے پکوان، مذاہب، زبانوں اور سماجی آداب—کی ہم سب سے زیادہ شدت سے حفاظت کرتے ہیں  وہ درحقیقت ماضی کی عالمگیریتوں کی پیداوار ہیں ۔ جب ہم ایسے ثقافتی نشانات کو اپنی شناخت کے ‘اصلی’ عناصر کے طور پر مناتے ہیں تو ہم درحقیقت اپنی مشترکہ انسانی ثقافت کا جشن منا رہے ہوتے ہیں، جو ملاقاتوں اور تبادلوں کے ایک طویل سلسلے سے پیدا ہوئی ہے ۔

عالمگیریت پوری انسانی تاریخ میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ یہ استقامت کے اس درجے کا مظاہرہ کرتی ہے کہ اسے انسانی معاشرے کے ارتقاء کے لیے بنیادی  عمل ہونا چاہیے ۔ محض ایک طرزِ زندگی یا عالمی نقطہ نظر—یا اشرافیہ کی ایجاد—ہونے کے بجائے، عالمگیریت کو اس بڑے پیمانے کے عمل کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے جس کے ذریعے انسانی ثقافت ارتقاء پاتی ہے اور خود کو برقرار رکھتی ہے ۔ ‘ثقافت’ (Culture) وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم نے اپنے بدلتے ہوئے ماحول کے مطابق خود کو ڈھالا ہے تاکہ اپنی بقا کو برقرار رکھ سکیں اور پھل پھول سکیں ۔ ‘ثقافتیں’ (Cultures)، جمع کے صیغے میں، مختلف اوقات اور مقامات پر انسانی ثقافت کے مخصوص مظاہر ہیں ۔ یہ دو زمرے—انسانی ثقافت اور مختلف ثقافتیں—حیاتیاتی تصور ‘جینوٹائپ’ (ہمارا بنیادی کوڈ) اور ‘فینوٹائپ’ (اس کے مختلف اظہار) کے تقریباً برابر ہیں ۔ ہماری عالمگیریتوں کی تاریخ دراصل اس بات کی تاریخ ہے کہ کس طرح انسانی ثقافت کے ‘فینوٹائپک’ تغیرات نے گردش کی اور مجموعی طور پر ہمارے ثقافتی ‘جینوٹائپ’ کو تبدیل کر دیا ۔

اخراج پسندی (Exclusionist) اور عالمگیریت مخالف جذبات انہی زمروں کے درمیان الجھن سے پیدا ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر، قومی یا علاقائی پکوان، جو کسی کی شناخت میں فخر کے احساس کو جنم دیتے ہیں اور دوسروں کے کھانوں کے لیے نفرت یا حقارت کے جذبات پیدا کرتے ہیں محض ایک عالمگیر انسانی طرزِ عمل یعنی ‘کھانا پکانے’ کی مختلف شکلیں ہیں جو ہمیں تمام دیگر انواع سے ممتاز کرتا ہے ۔ کھانا پکانا ہماری نوع کی ‘شناخت’ کے لیے غیر معمولی اہمیت کی حامل صفت ہے ۔ یہ بات کم اہم ہے کہ مختلف ثقافتیں اس کے اجزاء  (ingredients) کو کیسے استعمال کرتی ہیں ۔

ایجاد اہمیت رکھتی ہے، لیکن ان دریافتوں کی ‘گردش’ ، ترسیل اور ابلاغ بھی اتنی ہی اہم ہے۔

مقامی ثقافتوں کی انفرادیت محض پیمانے کا ایک دھوکہ ہے ۔ جب طویل مدتی تناظر میں دیکھا جائے تو ان کی سرحدیں دھندلا جاتی ہیں اور ایک دوسرے میں ضم ہو جاتی ہیں ۔ لیکن کسی فرد یا نسل کا شعور اتنا وسیع نہیں ہوتا کہ وہ اس گہری زمانیت (temporality) کا احاطہ کر سکے جس میں انسانی ثقافت آباد ہے ۔ اور اسی لیے ہم بھول جاتے ہیں ۔

ہمیں پڑھائی جانے والی قومی تاریخیں بھی ثقافتی نقل و حرکت کی اس طویل کہانی کو مٹا دیتی ہیں ۔ وہ جدت طرازی کی ان کہانیوں پر توجہ مرکوز کرتی ہیں جو تخلیق کے لمحات پر زور دیتی ہیں ۔ حقیقت میں، آغاز اور خالص ایجاد کی کہانیاں بہت کم ہیں ۔ اس کے برعکس گردش اور اپنائے جانے کی کہانیاں کثرت سے موجود ہیں اور ہماری مشترکہ تاریخ کا کہیں زیادہ دلچسپ اور درست احوال پیش کرتی ہیں ۔ پہیے پر غور کریں، جو مختلف شکلوں، مواد اور سائز میں محض چند بار ہی ایجاد ہوا ۔ ان میں سے صرف ایک یا بہت کم مثالیں غیر معمولی اور دیرپا اثرات کے ساتھ عالمی سطح پر پھیلیں ۔ حروفِ تہجی کو دیکھیں: یہ صرف ایک بار ایجاد ہوا، غالباً 1700 قبل مسیح (یا اس سے بھی پہلے) کے آس پاس، لیکن سینکڑوں بار مختلف رسم الخط کے ذریعے اسے اپنایا گیا  اور اب یہ ہمارے عالمی مواصلاتی نظام کی بنیاد فراہم کرتا ہے ۔ ان کہانیوں میں ایجاد اہمیت رکھتی ہےلیکن اتنی ہی اہمیت ان دریافتوں کی گردش (circulation) کی بھی ہے ۔

ہماری ثقافت ‘کوزموپولیٹن’ (آفاقی) ہے کیونکہ ہم ایک آفاقی نوع ہیں 8۔ سقراط اور تھامس پین کے الفاظ میں، ہم دنیا کے شہری ہیں، قوموں کے نہیں ۔ جس چیز نے ہمیں جسمانی اور ثقافتی طور پر پھلنے پھولنے کا موقع دیا ہے وہ ہماری ‘جڑوں کا ہونا’ نہیں بلکہ ہماری ‘نقل و حرکت’ (mobility) ہے ۔ اس کے بغیر، ہم کب کے ناپید ہو چکے ہوتے ۔

نقل و حرکت کے لیے نقل مکانی کی آزادی درکار ہے ۔ یہ وہ بنیادی حق ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں کیونکہ ہماری توجہ ان قیمتی آزادیوں پر ہوتی ہے جو ہمیں حال ہی میں ملی ہیں جیسے فکر، عقیدہ اور اظہار کی آزادی۔ آزادانہ نقل مکانی نے ہماری بقا کو یقینی بنایا اور ہمیں اس سیارے پر پھلنے پھولنے کا موقع دیا جس پر رہنے کے لیے ہم اصل میں اتنے وسیع پیمانے پر موزوں نہیں تھے ۔ اس قیمتی حق کو بھول جانا ‘جڑوں والے فرق’ کے غالب نظریے کے سامنے سر تسلیم خم کرنا آسان بنا دیتا ہے ۔

ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ ‘جڑوں’ کے ہونے کا مطلب گھر کا ہونا ہے ۔ اس کا مطلب ایک مخصوص جگہ اور لوگوں سے تعلق رکھنا ہےجسے فطری طور پر ایک اعلیٰ درجے کی اچھائی سمجھا جاتا ہے ۔ شہری ریاستیں، قومی ریاستیں اور علاقائیت پر مبنی دیگر سیاسی نظام اکثر ‘جڑوں’ اور مستقل سکونت کو مقدس بناتے ہیں جبکہ نقل و حرکت کی اہمیت کو کم کرتے، اسے کنٹرول کرتے یا اسے غیر قانونی قرار دیتے ہیں ۔ وہ گہری نفرت جو اکثر خانہ بدوشوں، تارکین وطن، بے وطن لوگوں، بے گھر پناہ گزینوں اور ‘سفر کرنے والی’ برادریوں کے خلاف کی جاتی ہے اسی تادیبی علاقائی نظریے کی علامت ہے جسے ‘وطن’ کا تصور مسلسل دوبارہ پیدا کرتا رہتا ہے ۔ ایسی ہی دشمنی نام نہاد عالمگیروں یا ‘آفاقی اشرافیہ’ کے خلاف ظاہر ہوتی ہے جو اپنا وقت، اثاثے اور مفادات کہیں اور لگاتے ہیں اور آخر کار ایسی اقدار اور طرزِ زندگی اپنا لیتے ہیں جو ان کے اصل مقامات پر ناقابلِ شناخت ہوتے ہیں ۔ سابق برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے کے الفاظ میں ”اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ دنیا کے شہری ہیں، تو آپ کہیں کے بھی شہری نہیں ہیں“۔

مے کے جواب میں، فلسفی کوامے انتھونی اپیا نے نوٹ کیا کہ ‘کوزموپولیٹنزم’ (آفاقیت)، جیسا کہ قدیم یونان میں اس کا تصور کیا گیا تھا  شہریت کے تصور اور عمل کے منافی نہیں تھا ۔ اپیا کو یہ بات مضحکہ خیز لگی کہ آفاقی لوگ ایک ایسے وقت میں ‘شک کا نشانہ’ بن گئے ہیں جب ان کی وسیع شہریت اور اجتماعی عمل کا انسانی اخلاق ہی وہ چیز ہے جس کی ہمارے دور کے عالمی چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے ضرورت ہے ۔ یہ دوسروں کی فلاح و بہبود کے لیے ذمہ داری کا ایک ایسا احساس ہے جو قومی اور ثقافتی اختلافات سے بالاتر ہے ۔

ہماری تاریخ مسلسل بہاؤ کی تاریخ ہے کیونکہ لوگ کرہ ارض پر گھومتے رہےجس سے ہزاروں سالوں میں آبادیاں اور ثقافتیں آپس میں ملتی رہیں۔

لیکن یہ طنز مزید گہرا ہے ۔ ماہرینِ ماحولیات ‘کوزموپولیٹن’ کی اصطلاح ان انواع کے لیے استعمال کرتے ہیں جو پورے سیارے پر پھیلی ہوئی ہیں ۔ سیاہ گینڈا صرف افریقہ تک محدود ہے اور ہم بھی کبھی ایسے ہی تھے ۔ لیکن ‘پیریگرائن فالکن’ (شاہین) آفاقی ہے اور ہم بھی ویسے ہی بن گئے ۔ یہ ماحولیاتی آفاقیت، اپنے انسانی ہم منصب کی طرح، اپنی ظاہری ضد یعنی ‘مستقل سکونت’ کے منافی نہیں ہے ۔ ہم بیک وقت اپنی نسل کی وہ پہلی نوع ہیں جس نے ایک جگہ ٹک کر رہنا اور مستقل گھر بنانا سیکھا اور وہ پہلی نوع بھی جس نے پورے سیارے کو آباد کرنا سیکھا ۔ ہم نے ایسا بار بار خود کو اور اپنے گھروں کو منتقل کر کے کیااور ہم میں سے کروڑوں اب بھی ایسا ہی کرتے ہیں ۔

بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (IOM) کے مطابق، 2020 میں زندہ رہنے والے ہر 30 میں سے ایک شخص مہاجر تھا ۔ اس تعداد میں اضافے کی توقع ہے کیونکہ آبادیاں غربت، ماحولیاتی انحطاط اور مقامی مسلح تنازعات سے فرار حاصل کر رہی ہیں یا محض ایک غیر متناسب خوشحال عالمی معیشت میں بہتر ذریعہ معاش کی تلاش میں ہیں ۔ یہ نقل و حرکت نئی نہیں ہے:  ماضی کی عالمگیریتوں میں بعض اوقات اس سے بھی بڑی ہجرتیں شامل رہی ہیں ۔ ہماری تاریخ مسلسل بہاؤ کی تاریخ ہے کیونکہ لوگ ہزاروں سالوں سے کرہ ارض پر حرکت کرتے رہے جس سے آبادیاں اور ثقافتیں آپس میں ملتی رہیں ۔ یہ بھولی بسری عالمی کہانی اب بھی ان آثارِ قدیمہ اور جینیاتی ریکارڈز میں پڑھی جا سکتی ہے جو ہمارے آباؤ اجداد اپنے پیچھے چھوڑ گئے ۔

انسانی نقل مکانی کا سلسلہ بہت گہرا ہے اور اس کے معنی بھی اتنے ہی گہرے ہیں ۔ پتھر کے زمانے (Palaeolithic Age) کے دوران ہماری پہلی آفاقی ‘اوڈیسی’ (طویل سفر) 200,000 سے تقریباً 15,000 سال پہلے تک جاری رہی اور اس کا نقشہ ہماری آفاقی تبدیلی کی غیر معمولی کہانی سناتا ہے ۔ جن راستوں پر ہم دنیا بھر میں گھومے، وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کس طرح ایک ایسی نوع، جو افریقہ کے مخصوص خطے تک محدود تھی اور جس کے اپنے اصل گھر میں شدید موسمی تبدیلیوں سے بچنے کے امکانات کم تھے اس نے کامیابی کے ساتھ متنوع ماحول والے پورے سیارے کو آباد کیا ۔ ہماری علاقائی ثقافتیں اس حیرت انگیز سفر کی شاہکار تخلیقات ہیں جو اس وقت پیدا ہوئیں جب ہم نے اپنی مشترکہ انسانی ثقافت کو متنوع ماحول کے مطابق ڈھالا اور راستے میں ملنے والے دیگر مسافروں کی ایجادات کا جواب دیا ۔

آخر کار، تاریخ اور وقت کی گہرائی میں، ہم سب مہاجر ہیںاور ہمیشہ سے رہے ہیں ۔ کیونکہ نقل و حرکت ہمارے ماحولیاتی اور سماجی ماحول سے پیدا ہونے والے وجودی خطرات کا ایک دفاعی جواب ہے ۔ اسی طرح ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی عزتِ نفس کو برقرار رکھتے ہیں جب ہماری زندگی کے حالات ناقابلِ برداشت اور ظالمانہ ہو جاتے ہیں ۔ جبری مستقل سکونت اور جبری نقل مکانی دونوں ایسی خرابیاں ہیں جو گھر بنانے کے اس عمل کی نفی کرتی ہیں—جس کے ذریعے ہمیں ‘تعلق’ کا احساس ملتا ہے ۔

تاہم، وقتاً فوقتاً ہماری نقل مکانی، اختلاط اور تبادلے کی فطری میلان گہری بے چینیوں کو جنم دیتی ہے ۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ عالمگیریت کا تجربہ ہمیشہ ان سماجی اداکاروں کی جانب سے ‘یہاں اور ابھی’ (موجودہ لمحے) میں کیا جاتا ہے جو ماضی کی نقل و حرکت اور ثقافتی آمیزش کو بھول چکے ہوتے ہیں ۔ انہی وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والی بے چینیوں کی بدولت ہمیں پاسپورٹ اور سفری پابندیاں، نسلی بنیادوں پر الگ تھلگ شہری ڈیزائن اور مخلوط شادیوں کے ساتھ ساتھ مخصوص کھانوں، کتابوں اور فیشن پر پابندی جیسی ایجادات دیکھنی پڑیں ۔ یہ اقدامات بالآخر ناکام ہو جاتے ہیں ۔ مکئی کے ٹورٹیا (tortillas) پر غور کریں جس کے بارے میں ابتدائی جدید دور کے ہسپانوی کبھی یہ یقین رکھتے تھے کہ یہ عیسائی جسم اور روح کے لیے وجودی اور روحانی خطرہ ہے ۔ آج ‘غیر عیسائی’ مکئی ہماری روزمرہ کی عالمی ثقافت کا حصہ بن چکی ہےاور عیسائیت خود اب ایک عالمی مذہب ہے، باوجود اس کے کہ شروع میں اس کے ماننے والوں پر مظالم ڈھائے گئے اور اس کے نظریات پر پابندی لگائی گئی ۔

عالمگیریت مخالف جذبات اکثر مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتے ہیں جنہیں ملا کر طاقتور نظریاتی بیانیے تیار کیے جا سکتے ہیں ۔ 1686 میں، فرانس نے ہندوستانی سوتی کپڑے پر پابندی لگا دی کیونکہ اس کے قومی ٹیکسٹائل کی صنعت پر نقصان دہ معاشی اثرات پڑ رہے تھے ۔ لیکن ان کی بے پناہ مقبولیت کا مقابلہ کرنے کے لیے، سرکاری پروپیگنڈے نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ کپڑے فرانسیسی عوام کی روح پر اخلاقی طور پر نقصان دہ اثرات مرتب کرتے ہیں ۔ موجودہ دور کی عالمگیریت مخالف بے چینیاں اور دنیا کو ‘ڈی-گلوبلائز’ (عالمگیریت سے پاک) کرنے کے مطالبات بھی اسی طرح کے بیانیوں پر مشتمل ہیں جو ہمارے عہد کے مبینہ طور پر بے مثال ‘کثیر جہتی بحران’ (polycrisis) میں مزید شدت اختیار کر گئے ہیں، جس میں کہا جاتا ہے کہ سیاسی، نظریاتی، ماحولیاتی، معاشی اور فوجی بحران ہماری سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک جگہ جمع ہو رہے ہیں ۔

عالمگیریت مخالف تحریکیں حال ہی میں انتہائی بائیں بازو سے انتہائی دائیں بازو کی طرف منتقل ہو گئی ہیں تاہم، ہمارا دور اپنی جبلت میں کوئی منفرد نہیں ہے اور اس لیے ہم اس بارے میں بے خبر نہیں ہیں کہ ایک آنے والے عالمی زوال کے عمومی بیانیے کی تشخیص کیسے کی جائے اور اس کا جواب کیسے دیا جائے ۔ سترہویں صدی کا نام نہاد ‘عمومی بحران’ (General Crisis) ہمارے اپنے دور سے حیرت انگیز طور پر مشابہت رکھتا ہے اور ہمارے وقت کے لیے انمول اسباق فراہم کرتا ہے ۔ اس صدی نے دنیا کے تقریباً تمام خطوں میں سیاسی انقلابات اور جنگوں کی ایک بے مثال تعداد دیکھی ۔ یہ سماجی بے چینی ‘لٹل آئس ایج’ (Little Ice Age) کے غیر مستحکم ماحول میں پروان چڑھی، جو عالمی ٹھنڈک کا ایک دور تھا جو کم از کم سولہویں سے تقریباً انیسویں صدی تک رہا جس نے خوراک کی پیداوار میں خلل اور وبائی امراض کے پھیلاؤ کے ذریعے عالمی معیشت کو متاثر کیا ۔ عمومی بحران کی اس ظاہری ‘چھوت’ نے، جس کی تصدیق شمالی نصف کرے کے مبصرین نے کی اور جسے عالمی معلوماتی نیٹ ورکس نے منتقل کیا اداسی اور افسردگی کا ایک ایسا مشترکہ احساس پیدا کیا جس نے ہر جگہ دنیا کے خاتمے کی پیشین گوئیوں اور قیامت خیز تصورات کو تقویت دی ۔ ایسا لگتا تھا کہ اس افراتفری کی وجہ دنیا کا بے مثال باہمی تعلق تھا ۔ نتیجے کے طور پر، بالآخر علاقائی تہذیبوں کے قدامت پسند عقائد کی طرف واپسی اور بیرونی اثرات سے زیادہ تحفظ کے مطالبات کے لیے آوازیں اٹھیں ۔ ایسی عالمگیریت مخالف سوچ کا ایک ابتدائی اور انتہائی ردعمل جاپان کی ‘ساکوکو’ (sakoku) پالیسی تھیجو تقریباً مکمل تنہائی کی پالیسی تھی، جس کا آغاز 1633 میں ہوا اور دو صدیوں بعد بہت کم کامیابی کے ساتھ ختم ہوئی ۔

ہمارے اپنے ہم عصر دور میں، عالمگیریت مخالف تحریکیں حال ہی میں قومی اور عالمی سیاست کے انتہائی بائیں بازو سے انتہائی دائیں بازو کی طرف منتقل ہو گئی ہیں ۔ عالمی معیشت کی مقامی سطح پر محسوس کی جانے والی ناانصافیوں اور عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خلل انگیز اثرات کے خلاف جائز ناراضگی کو اب عالمگیریت کے سماجی اور ثقافتی پہلوؤں کے خلاف غصے کی شکل دی جا رہی ہے ۔ ‘شناخت پسندی’ (Identitarianism)، ایک ایسا سیاسی نظریہ جو محدود طور پر تصور کی گئی ‘مغربی’ نسلوں اور ثقافتوں کے تحفظ پر زور دیتا ہے  مقامی شکایات کو متحرک کرنے کا سب سے آسان اور مؤثر طریقہ بن گیا ہے اور ان کا رخ ہر اس چیز کی طرف موڑ دیا جاتا ہے جسے اندرونی طور پر تکلیف اٹھانے والوں کی فلاح و بہبود کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے ۔ قوم پرستی کا بدصورت دور واپس آ گیا ہے ۔

کیا قوم پرست شناخت پسندی وہ اخلاق ہے جسے ہم آنے والی صدی میں اپنے مشترکہ وجودی خطرات کا سامنا کرنے کے لیے استعمال کریں گے ؟ کیوں نہیں ہوگا؟ کیا کسی کو شک ہے کہ قومی سرحدوں کو ایک بار پھر مقدس جسمانی حدود میں بدل دیا جائے گا اور اپنے گھروں کی ماحولیاتی، معاشی یا فوجی تباہی سے بھاگنے والوں کے خلاف سختی سے ان کا دفاع کیا جائے گا ؟ کیا ہمیں شک ہے کہ انتہائی (بد)نیتی پر مبنی فصیح آوازیں ‘اجنبی تارکین وطن’ اور موسمیاتی پناہ گزینوں پر حب الوطنی کی گولیوں کا نشانہ لینے کے جواز میں ابھریں گی ؟ اور یہ کہ رہنما کہیں گے کہ ان بے گھر افراد کو ان کی تعداد، ان کی ثقافتوں اور ان کی طرف سے ہماری محفوظ زندگیوں—ہماری ‘شناخت’—کو لاحق خطرے کی وجہ سے جگہ نہیں دی جا سکتی ؟

اجنبیوں سے خوف (xenophobic) پر مبنی عالمی نظریات کے عروج کے پیش نظر ایسے منظرنامے بہت زیادہ ممکن ہیں جیسے کہ ‘عظیم تبدیلی’ (Great Replacement) کا سازشی نظریہ جس میں تصور کیا جاتا ہے کہ اشرافیہ—جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ یہودی اور دیگر اقلیتیں ہیں—نام نہاد مقامی سفید فام یورپیوں کو بظاہر زیادہ اور خطرناک تولیدی صلاحیت رکھنے والی دیگر آبادیوں سے بدلنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں ۔ یہ نسلی نظریات خطرناک حد تک ‘نسل’ کے بارے میں عوامی غلط فہمی کے ساتھ جڑ جاتے ہیں جیسا کہ ڈی این اے ‘آباؤ اجداد کے ٹیسٹ’ (ancestry tests) کے حالیہ جنون سے ظاہر ہوتا ہے ۔ ڈی این اے کا ‘شناخت’ سے بہت کم تعلق ہے جیسا کہ سماجی اور سیاسی نظریات نے اسے گھڑا ہے  بلکہ اس کا جسمانی اور سماجی جغرافیہ سے بہت زیادہ تعلق ہے ۔ ہمارے جینز انسانی موافق نقل و حرکت، اور ان سفروں، بھرپور ملاقاتوں اور رشتہ داریوں کا نتیجہ ہیں جو نقل مکانی کی آزادی نے دسیوں ہزار سالوں میں ممکن بنائیں ۔ ہمارا جینوم ہماری پوری کہانی نہیں سناتا لیکن جو کہانی یہ سناتا ہے وہ دیکھاتی ہے کہ کس طرح ماضی کی عالمگیریتوں نے ہمیں وہ بنایا جو ہم آج ہیں ۔

ہم کثرت (plurality) کو بقا کے لیے خطرہ کیسے سمجھ سکتے ہیں اور اپنی مشترکہ انسانی ثقافت کی وسعت کو کیوں نہیں دیکھ سکتے ؟ جب ہم اختلاف کے ضدی نظریے سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے سے جڑنے کے طریقے تلاش کرتے ہیں، تو ہمیں شناخت کے بارے میں اپنی موجودہ سائنسی اور تاریخی تفہیم کے مستقبل میں ہونے والے بدترین بگاڑ اور ہیرا پھیری کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے ۔ آج کچھ انسانوں میں چند ایسے جینز پائے جاتے ہیں جو ان کے ‘پلیسٹوسین’ (Pleistocene) دور کے آباؤ اجداد نے ہمارے یوریشیائی ‘نیانڈرتھل’ اور ‘ڈینسووان’ کزنوں کے ساتھ اختلاط سے حاصل کیے تھے، جن سے ‘ہومو سیپینز’ کی کچھ برادریوں کا آمنا سامنا اپنے آفاقی پھیلاؤ کے سفر کے دوران ہوا تھا ۔ ہمارے درمیان اس طرح کے جینیاتی فرق کی مستقبل میں ان لوگوں کی طرف سے کیا تشریح کی جا سکتی ہے اور اسے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے جو شناخت پسندی کو اس کے احمقانہ یا مہلک ترین نتائج تک پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں ؟ کیا وہ یہ اعلان کر سکتے ہیں کہ کچھ انسان اتنے ‘خالص’ نہیں ہیں کہ وہ اس مکمل آزادی، سلامتی اور وقار سے لطف اندوز ہو سکیں جسے ہم بنی نوع انسان کے فطری حقوق تسلیم کرتے ہیں ؟ یا کیا وہ اس کے برعکس، نیانڈرتھل یا ڈینسووان جین کو یوریشیائی ‘امتیاز’ کے نشان کے طور پر بلند کر سکتے ہیں تاکہ نسلی برتری کے ایسے بیانیے دوبارہ تخلیق کیے جا سکیں جو کبھی اس آثارِ قدیمہ کی سوچ پر حاوی تھے جس میں ان انسانی فوسلز کو مبینہ طور پر زیادہ ‘ترقی یافتہ’ سمجھا جاتا تھا جو اپنی نوع کے اصل افریقی گھروں سے سب سے زیادہ دور پائے گئے تھے ؟

ماہرینِ قدیم حیاتیات جو پورے ‘ہومو’ (Homo) گروہ کے لیے ‘انسان’ کا لیبل استعمال کرنے پر اصرار کرتے ہیں، جبکہ ‘جدید انسان’ کی اصطلاح اس سلسلے کے زندہ بچ جانے والے نمائندوں (یعنی ہم) کے لیے مخصوص رکھتے ہیں  وہ غالباً سائنسی درجہ بندیوں میں نظریاتی ہیرا پھیری کے خطرات کو دوسروں سے بہتر سمجھتے ہیں ۔ لیکن خیالات کی اس کھلی منڈی میں، جہاں فکر اور اظہار کی آزادی کے نام پر نظریات کا آزادانہ بہاؤ ہوتا ہےہم خود کو اور ایک دوسرے کو ایسے خطرات سے کیسے بچا سکتے ہیں اگر ہم اب بھی کثرت (plurality) کو بقا کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور اپنی مشترکہ انسانی ثقافت کی وسعت اور ثروت کو نہیں دیکھ پاتے؟

ہم ایک دوسرے کے خلاف جو جنگیں لڑتے ہیں، وہ سب دراصل خانہ جنگیاں ہیں ۔ جب تک ہم انہیں اس طرح تسلیم نہیں کرتے وہ ایسے المیے بنے رہیں گے جنہیں ہم فطری سمجھ کر قبول کرتے ہیں یا وہ ہولناکیاں ہوں گی جن کا ہم ان عظیم نظریات کے نام پر جشن منائیں گے جو ہمیں ان بلند بانگ آوازوں کے ذریعے بیچے جاتے ہیں جو ہمارے خوف کو تو بہت اچھی طرح جانتے ہیں (لیکن ہماری دنیا اور ہماری تاریخ کی وسعت سے بہت کم واقف ہیں) ۔ ہم ہمیشہ سے عالمی (global) رہے ہیں اور یہی ہماری مشترکہ شناخت ہے۔ یہ دنیا میں ایک خاندان کے طور پر رہنے اور باقی رہنے کا ہمارا منفرد طریقہ ہے۔ ہم اپنی انسانیت اور ثقافت میں جس چیز کی بھی قدر کرتے ہیں، وہ ہمارے عالمی اسفار اور ملاقاتوں ہی سے تراشی گئی ہے۔ انھی کے ذریعے، ہم یہ کہانی لکھتے رہیں گے کہ ہم ‘ہم’ کیسے بنتے ہیں ۔

To read the essay in English please go to this link: https://aeon.co/essays/there-are-no-pure-cultures-we-have-always-been-global

Print Friendly, PDF & Email
تبصرے
Loading...