The aim of this magazine is to connect the communities of Hindu Kush, Himalaya, Karakorum and Pamir by providing them a common accessible platform for production and dissemination of knowledge.
مدین ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے خلاف بحرین نمائندہ جرگہ/یرک اور بحرین اعلامیہ/عہد
’’مدین ہائیڈرو پاور پروجیکٹ اپنی موجودہ صورت میں اور بغیر فری، پرائر اینڈ انفارمڈ کنسلٹیشن (FPIC) کے، توروالی مقامی/اصل باشندوں کے لیے قابلِ قبول نہیں‘‘ یہ اعلان بحرین سوات میں توروالی قوم کی روایتی کونسل/یرک (جرگہ) نے 21 نومبر 2025ء کو بحرین میں کیا۔

توروالی بولنے والے علاقے، تحصیل بحرین سوات کے ہر گاؤں کی نمائندگی پر مشتمل روایتی جرگہ آج (21 نومبر) بحرین سوات میں ”دریائے سوات بچاؤ تحریک” کے زیرِ اہتمام مدعو کیا گیا تاکہ 207 میگا واٹ کے مدین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے حوالے سے عوامی مشاورت کی جائے۔ یہ منصوبہ ورلڈ بینک کے ’’خیبرپختونخوا ہائیڈرو پاور اینڈ انرجی پروگرام (KHRE)کے تحت فنڈڈ ہے اور اس پر عمل درآمد پختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (PEDO) کر رہی ہے۔
اس جرگے میں مذکورہ پراجیکٹ کے ’’ایریا آف انفلوئنس (AOI)‘‘ کے ہر گاؤں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ دیگر تمام توروالی بستیوں ، گاؤں ، مدین اور کالام کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

جرگہ کے نمایاں مقررین میں سابق صوبائی وزیر ملک محمد دیدار خان، ملک خوشید علی، ملک نثار احمد، ملک بخت مند، ایڈوکیٹ اقبال شاہ، ملک دوست محمد خان، راجہ ممتاز، ملک آصف شہزاد، ملک طاوس، حاجی معراج الدین، ملک نوازش علی، صدر بحرین ٹریڈ فیڈریشن خانزادہ خان، انعام اللہ، بخت نواز چموٹ، زبیر توروالی اور نوجوانوں کے نمائندگان طارق حسین زیب جعفر شاہ اور دیگر شامل تھے۔

ملک محمد دیدار خان نے کہا کہ توروالی عوام گزشتہ پندرہ ماہ سے اس منصوبے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ہمارا اصل فوکس اس منصوبے کے مالی مددگار، ورلڈ بینک، پر ہے جو کہ مقامی اصل باشندوں کے مطالبات کے حوالے سے بے حسی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور PEDO جیسے ٹھیکیدار ادارے کے حوالے کرکے عوام کو بس کے نیچے دھکیل رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عوام اس منصوبے کو اس کی موجودہ شکل میں کبھی قبول نہیں کریں گے کیونکہ ’’ترقی‘‘ کے نام پر PEDO نے جو کچھ دارال ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں کیا ہےلوگ اس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں۔

ملک خوشید نے جرگے کو بتایا کہ ورلڈ بینک جیسے ادارے اور ان کے مقامی نفاذ کنندگان یا پرائیویٹ سیکٹر ہمارے وسائل کو تباہ کر رہے ہیں جو عوام کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
ملک نثار احمد نے دریائے سوات بچاؤ تحریک کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک پچھلے سولہ مہینوں سے بہترین کام کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ منصوبہ اپنی موجودہ صورت میں کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ جب تک ہماری رضا مندی شامل نہ ہو ہم اس منصوبے کو بننے نہیں دیں گے۔
ایڈوکیٹ اقبال شاہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے استخراجی منصوبوں کے خلاف متحد ہو جائیں جو ان کے بنیادی حقوق؛ زمین، وسائل اور روزگار؛ کو پامال کرتے ہیں۔

انعام اللہ نے جرگے کو تحریک کے ایجنڈے اور بڑے مقصد سے آگاہ کیا اور بتایا کہ یہ تحریک کسی بیرونی فنڈنگ پر نہیں چل رہی بلکہ اس کے کارکنان اپنی قلیل ذاتی وسائل سے اسے چلا رہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ تحریک پورے ملک کے لیے مثال ہے۔

ملک طاوس، ملک نوازش علی، حاجی معراج الدین، راجہ ممتاز اور دیگر نے اس منصوبے کو اپنے عوام کے لیے قتل سے متعارف کیا اور کہا کہ وہ اس سلسلے میں پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ہر حد تک جائیں گ۔ اس موقعے پر ضلعی زکا ت چئرمین ملک آصف علی شہزاد نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ وہ اور اس کی پارٹی اس تحریک کے ساتھ ہیں اور مدین ہائیڈرو پاور منصوبے جیسے ماحول دشمن اور معیشت قاتل پراجیکٹ کو قبول نہیں کرتے۔

نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے طارق حسین زیب اور جعفر شاہ نے کہا کہ دریائے سوات بچاؤ تحریک ان کے مستقبل کو بچا رہی اور اس کا ساتھ دینا نہ صرف ہماری ذمہ داری ہے بلکہ ہم پر فرض بھی ہے۔

زبیر توروالی نے دریائے سوات بچاؤ تحریک کی سرگرمیوں اور اس کی ورلڈ بینک، دیگر بین الاقوامی اداروں، PEDO اور حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ طویل مشاورت کی تاریخ پر ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے(ESIA) ماحولیاتی و سماجی اثرات کی تشخیصاور (RAP) ری سیٹلمنٹ ایکشن پلان) سمیت متعدد رپورٹوں میں PEDO اور ورلڈ بینک کی غلطیوں کو بے نقاب کیا اور بتایا کہ ورلڈ بینک اور PEDO خود ان غلطیوں کا اعتراف کر چکے ہیں اور ایک ’’ایکشن پلان‘‘ پر مذاکرات کے لیے متفق بھی ہوئے تھے۔انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ اس ایکشن پلان پر مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکے کیونکہ ورلڈ بینک سامنے آ کر بات ہی نہیں کرتا اور PEDO کے پاس ایسی مشاورت کی صلاحیت نہیں۔

انہوں نے جرگے کو آگاہ کیا کہ ورلڈ بینک نے اپنی ہی حفاظتی پالیسیاں اس منصوبے میں FPIC سے گریز اور توروالی مقامی باشندوں کی شناخت کی غلط ترجمانی کر کے پامال کی ہیں۔
آخر میں جرگے نے ایک عہد ’’مدین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے حوالے سے بحرین ڈیکلیریشن‘‘ منظور کیا اور اس پر دستخط کیے۔
اس ڈیکلیریشن کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
دریائے سوات کے تحفظ اور توروالی عوام کے حقوق کے حوالے سے بحرین ڈیکلیریشن
توروالی کمیونٹی کے بزرگوں کی جانب سے، وادی بحرین سوات
ہم، سوات کی بالائی وادی کے توروالی بزرگ اور نمائندگان جو اس سرزمین کے پہاڑوں، جنگلات، دریاؤں اور روایات کے امین ہیں، بحرین میں جمع ہوئے تاکہ مجوزہ مدین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور اس کے اثرات پر غور و خوض کیا جائے۔ اجتماعی مشاورت کے بعد ہم اپنے قدرتی اور ثقافتی ورثے کے دفاع میں یہ اعلان جاری کرتے ہیں جسے ہم آنے والی نسلوں کے لیے امانت سمجھتے ہیں۔

صدیوں سے توروالی قوم دریائے سوات کے بالائی خطے—بحرین سے کالام تک—کے کنارے آباد ہے۔ ہماری روزی روٹی، ہماری زبان، ہمارے گیت، اور ہماری شناخت اس دریا سے جڑی ہوئی ہے جسے ہم ’’گھین نھد‘‘—اپنی زندگی کی شہ رگ—سمجھتے ہیں۔ اس کے اردگرد کے جنگلات، چراگاہیں اور گلیشیئر ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہیں، جو ہمارے رواجی نظام، باہمی تعاون اور فطرت سے احترام کے رشتے میں گندھے ہوئے ہیں۔

2۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ترقی اور توانائی کا حصول پاکستان کے لیے ضروری ہے، مگر ایسی کوئی ترقی قابلِ قبول نہیں جو ہماری زندگی، زمین، زبان، اور ثقافت کے بنیادی حقوق کو پامال کرے جن کی ضمانت پاکستان کا آئین اور اقوامِ متحدہ کا ’’اعلانِ حقوقِ مقامی اقوام (UNDRIP)‘‘ دیتا ہے۔
مدین ہائیڈرو پاور پراجیک جو FPIC کے بغیر بنایا گیا ہے، ترقی نہیں بلکہ وسائل سے ہماری بے دخلی ہے۔ یہ دریائے سوات کے ماحولیاتی توازن کو بگاڑے گا، ہمارے روزگار کو تباہ کرے گا اور پہلے سے کمزور مقامی اقوام کو مزید حاشیے پر دھکیل دے گا۔

ہم اعلان کرتے ہیں کہ:
1۔ توروالی قوم اس خطے کی اصل اور مقامی قوم ہے۔ ہماری موجودگی جدید ریاست سے پہلے کی ہے۔ زمین، جنگلات اور پانیوں پر ہمارے حقوق تاریخی، اخلاقی اور اجتماعی ہیں۔ ہر ترقیاتی منصوبہ ان حقوق کو تسلیم کرے اور ہمیں بنیادی اسٹیک ہولڈر کے طور پر شامل کرے۔
2۔ کوئی منصوبہ اس وقت تک قبول نہیں جب تک ہماری حقیقی FPIC نہ لی جائے۔ مشاورت نمائشی یا جلد بازی میں نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمارے گاؤں میں، ہماری زبان میں، اور تمام دستاویزات کے درست ترجمے اور آزاد ماہرین کی مدد کے ساتھ ہونی چاہیے۔
3۔ ترقی وہ ہے جو تباہ نہ کرے بلکہ بہتر بنائے۔ اصل ترقی وہ ہے جو لوگوں کو بااختیار بنائے، ماحول کی حفاظت کرے اور مقامی ثقافت کو مضبوط کرے۔ وہ منصوبے جو کمپنیوں کو امیر اور مقامی لوگوں کو غریب چھوڑ دیں، ظالمانہ اور غیرپائیدار ہیں۔
4۔ حکومتِ پاکستان اور بین الاقوامی ادارے خصوصاً ورلڈ بینک اپنے ماحولیات اور مقامی عوامی حقوق کے تحفظ کے وعدے پورے کریں۔
ان سے انحراف ’’اعتماد شکنی‘‘ ہوگا اور نئے ناموں میں ’’نوآبادیاتی‘‘ استحصال کے مترادف ہوگا۔
5۔ دریائے سوات بچاؤ تحریک توروالی اور بالائی سوات کے دیگر پہاڑی لوگوں کی اجتماعی آواز کی نمائندہ پلیٹ فارم ہے۔ تمام متعلقہ ادارے اس تحریک سے نیک نیتی سے مذاکرات کریں۔
6۔ ہم ایسی متبادل ترقی کے حامی ہیں جو ماحولیاتی تحفظ، عوامی شراکت، ثقافتی تسلسل، اور انصاف پر مبنی ہو۔ ہائیڈرو پاور منصوبوں کو دوبارہ جانچا جائے—موسمیاتی تبدیلی، گلیشیائی نازکی اور مقامی پائیداری کے پیمانوں کو سامنے رکھتے ہوئے۔
7۔ ورلڈ بنک اپنی ذمہ داریوں سے پہلوتہی نہ کرے اور کھل کر شفاف طریقے سے مقامی توروالی آبادی سے مشاورت کرے۔
8۔ مدین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ہمیں اس کے موجودہ صورت میں ہر گز منظور نہیں۔
آخر میں، ہم اعلان کرتے ہیں کہ دریا کوئی استحصالی وسیلہ نہیں—یہ ہمارا رشتہ دار ہے، ایک مقدس امانت۔
ہم اس کے تحفظ کے لیے پُرامن اور مسلسل جدوجہد جاری رکھیں گے تاکہ انصاف ہو، ہمارے حقوق تسلیم ہوں، اور ہمارا دریا آزاد بہتا رہے۔
یہ اعلامیہ مقامی توروالی بزرگوں کی جانب سے مدین، وادی سوات، پاکستان میں منظور کیا گیا۔
تاریخ: 21 نومبر 2025


